بڑھتے سیلاب اور پیاسا پاکستان
اسپیشل فیچر
کبھی پنجاب اور سندھ کے تقریباً ہر گائوں میں ایک جوہڑ ضرور ہوتا تھا۔ یہ صرف پانی کا تالاب نہیں بلکہ گائوں کی زندگی کا مرکز ہوتا تھا۔ بارش کا پانی یہیں جمع ہوتا، مویشی سیراب ہوتے، پرندے بسیرا کرتے، کنول کے پھول پانی کی سطح پر لہراتے اور زمین کے نیچے موجود آبی ذخائر بھی انہی جوہڑوں کے ذریعے دوبارہ بھر جاتے تھے۔ وقت بدلا، ترقی کے نام پر زمین کا استعمال بدل گیا، ٹیوب ویل عام ہو گئے، آبادی پھیلتی گئی اور یہ جوہڑ ماضی کا قصہ بنتے چلے گئے۔
آج پاکستان ایک ایسے ماحولیاتی بحران سے دوچار ہے جس پر ابھی تک سنجیدگی سے توجہ نہیں دی گئی۔ یہ بحران ملک کے ویٹ لینڈز، یعنی قدرتی آبی اور دلدلی علاقوں کے تیزی سے ختم ہونے کا ہے۔ یہی وہ قدرتی نظام ہیں جو سیلاب کی شدت کم کرتے ہیں، زیرزمین پانی کو دوبارہ بھرنے میں مدد دیتے ہیں، آلودگی کو قدرتی انداز میں صاف کرتے ہیں اور ہزاروں اقسام کے جانوروں اور پرندوں کو زندگی فراہم کرتے ہیں۔
پاکستان خوش قسمت ممالک میں شمار ہوتا ہے جہاں قدرت نے بے شمار ویٹ لینڈز عطا کیے۔ ملک میں بین الاقوامی اہمیت کے حامل 19 رامسر ویٹ لینڈز موجود ہیں جن میں دریائے سندھ کے سیلابی میدان، شمالی علاقوں کی خوبصورت جھیلیں اور سندھ کے ساحلی مینگرووز شامل ہیں۔ مگر افسوس کہ شہری آبادی میں اضافہ، زرعی تجاوزات، صنعتی آلودگی، دریائوں میں پانی کی کمی اور موسمیاتی تبدیلی نے ان قدرتی نعمتوں کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سب سے بڑی غلط فہمی یہ رہی کہ ویٹ لینڈز کو اکثر غیر استعمال شدہ یا بیکار زمین سمجھ لیا گیا، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ یہ علاقے قدرتی اسفنج کی طرح کام کرتے ہیں۔ جب بارشیں زیادہ ہوں تو اضافی پانی جذب کر لیتے ہیں اور خشک موسم میں آہستہ آہستہ وہی پانی زمین اور ماحول کو واپس فراہم کرتے ہیں۔ اگر یہ نظام موجود نہ ہو تو سیلاب زیادہ تباہ کن اور خشک سالی شدید تر ہو جاتی ہے۔
پاکستان کے دیہی معاشرے میں جوہڑ اسی قدرتی نظام کا اہم حصہ تھے۔ کنول اور دیگر آبی پودے پانی کو قدرتی طور پر صاف کرتے جبکہ زمین کے اندر پانی کا ذخیرہ مسلسل بڑھتا رہتا۔ بزرگ آج بھی یاد کرتے ہیں کہ ان جوہڑوں میں صرف پانی نہیں بلکہ ایک مکمل ماحولیاتی نظام آباد تھا۔پھر ٹیوب ویلوں کا دور آیا۔ کسانوں نے زیرزمین پانی پر انحصار بڑھا لیا، خاص طور پر شمسی توانائی سے چلنے والے ٹیوب ویلوں کے بعد پانی نکالنا مزید آسان ہو گیا۔ جب ہر کھیت میں ٹیوب ویل لگ گیا تو جوہڑ غیر ضروری محسوس ہونے لگے۔ ان کی صفائی بند ہوئی، دیکھ بھال ختم ہوئی اور بالآخر کئی جوہڑ مٹی سے بھر دیے گئے یا ان پر مکانات تعمیر کر دیے گئے۔ اس تبدیلی نے ایک ایسا نقصان پہنچایا جس کا احساس آج ہو رہا ہے۔ زیرزمین پانی تو مسلسل نکالا جاتا رہا مگر اسے دوبارہ بھرنے والے قدرتی ذرائع ختم ہوتے گئے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہو چکا ہے جہاں زیرزمین پانی تیزی سے کم ہو رہا ہے۔
دیہات سے شہروں کی طرف ہجرت نے بھی اس مسئلے کو مزید بڑھا دیا۔ پہلے جوہڑ پورے گائوں کی مشترکہ ذمہ داری ہوتے تھے، مگر جب آبادی منتشر ہوئی تو اجتماعی نظام بھی ٹوٹ گیا۔ نتیجتاً بہت سے جوہڑوں کو رہائشی اور زرعی زمین میں تبدیل کر دیا گیا۔ یہی صورتحال بڑے شہروں کے گرد موجود قدرتی ویٹ لینڈز کے ساتھ بھی پیش آئی، جہاں ہائوسنگ سوسائٹیز اور سڑکوں نے قدرتی آبی راستوں کو ختم کر دیا۔ایک اور مسئلہ آلودگی کا ہے۔ ماضی میں دیہات کا فضلہ جوہڑوں میں آتا تھا جہاں قدرتی حیاتیاتی عمل اسے کافی حد تک صاف کر دیتا تھا، مگر جدید دور کے پلاسٹک، کیمیائی مادوں اور صنعتی فضلے نے اس قدرتی نظام کی صلاحیت کو ختم کر دیا۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ان قدرتی آبی ذخائر کو بحال کرنے کے بجائے انہیں ہی ختم کر دیا گیا، جس کے نتیجے میں آج بغیر صاف کیا گیا گندا پانی براہِ راست نہروں اور دریائوں میں شامل ہو رہا ہے۔
ویٹ لینڈز کی تباہی کا سب سے بڑا اثر موسمیاتی تبدیلی کے تناظر میں سامنے آ رہا ہے۔ دریائوں کے کنارے موجود قدرتی سیلابی میدان پہلے اضافی پانی کو جذب کر لیتے تھے، مگر اب ان پر بند، سڑکیں اور آبادیاں قائم ہو چکی ہیں۔ اسی طرح سندھ کے ساحلی علاقوں میں موجود مینگرووز کے جنگلات بھی تیزی سے سکڑ رہے ہیں۔ دریائے سندھ سے میٹھے پانی کی کم ہوتی مقدار اور سمندر کے بڑھتے ہوئے دبائو نے ان جنگلات کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت صرف کنکریٹ کے ڈیموں، بندوں اور مہنگے منصوبوں پر انحصار کرنے کے بجائے قدرتی نظام کو بحال کرنے پر توجہ دے تو کم لاگت میں زیادہ مؤثر نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ اسی سوچ کے تحت ''ری چارج پاکستان‘‘ جیسے منصوبے شروع کیے گئے ہیں، جن کا مقصد ویٹ لینڈز کی بحالی، قدرتی سیلابی میدانوں کی حفاظت اور زیرزمین پانی کی ری چارجنگ کو فروغ دینا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس مسئلے کا حل مکمل طور پر نیا نہیں بلکہ ہماری اپنی روایات میں موجود ہے۔ اگر دیہی علاقوں کے پرانے جوہڑ دوبارہ بحال کر دیے جائیں، ان پر قبضے ختم کیے جائیں اور مقامی آبادی کو ان کی دیکھ بھال میں شریک کیا جائے تو نہ صرف زیرزمین پانی کی سطح بہتر ہو سکتی ہے بلکہ سیلابی خطرات بھی کم کیے جا سکتے ہیں۔
اصل ضرورت سوچ بدلنے کی ہے۔ جب تک ویٹ لینڈز کو بیکار زمین سمجھا جاتا رہے گا، ان کا تحفظ ممکن نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ زمین نہیں بلکہ پانی، ماحول، زراعت، جنگلی حیات اور انسانی زندگی کے محافظ ہیں۔ آج اگر ہم نے ان قدرتی آبی نظاموں کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش نہ کی تو آنے والی نسلوں کو صرف پانی کی کمی ہی نہیں بلکہ زیادہ تباہ کن سیلاب، بڑھتی ہوئی آلودگی اور شدید موسمی خطرات کا سامنا بھی کرنا پڑے گا۔قدرت نے پاکستان کو پانی محفوظ رکھنے کے بے شمار قدرتی طریقے عطا کیے تھے، مگر ہم نے ترقی کے نام پر انہی محافظوں کو ختم کر دیا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم ایک بار پھر جوہڑوں، دلدلی علاقوں، سیلابی میدانوں اور مینگرووز کی اہمیت کو سمجھیں۔ کیونکہ جب ویٹ لینڈز ختم ہوتے ہیں تو صرف تالاب خشک نہیں ہوتے، بلکہ ایک پوری قوم اپنی قدرتی حفاظتی ڈھال سے محروم ہو جاتی ہے۔