دنیا کی چند منفرد بادشاہتیں
اسپیشل فیچر
بادشاہت دراصل شخصی حکمرانی کی ابتدائی شکل کا نام ہے۔زمانہ قدیم کے انسان نے جب پہاڑوں ، جنگلوں اور غاروں سے نکل کر گروہ تشکیل دئیے تو اسے منظم رہنے کیلئے معاشرہ تشکیل کرنا پڑا۔ قبل از تاریخ کے ادوار میں بھی انسانی گروہ یا قبیلے کسی ایسے اجتماعی طریقے سے منظم ہوئے ہوںگے جس کی قیادت کسی ایک شخص کے ہاتھ میں ہو گی۔ جیسے جیسے انسانی تہذیب و تمدن پنپتی چلی گئی لوگوں پر حکمرانی کا نظام بھی منظم ہوتا چلا گیا اور یہیں سے دنیا کی منظم اور مربوط تہذیبیں بھی وجود میں آتی گئیں ۔ریاستیں غیر معمولی وسعت اختیار کرتی گئیں اور بادشاہت کا نظام تیزی سے پھیلتا چلا گیا۔وقت کے ساتھ ساتھ علم و حکمت ، فکرو فلسفہ کی ترقی کے ساتھ نئے سیاسی اور سماجی نظریات نے جنم لیا تو بادشاہتیں سمٹنے لگیں۔
اگرچہ بادشاہت کا زوال اتنا آسانی سے بھی نہیں ہوا۔کچھ خطوں میں خونی انقلاب بھی آئے۔لیکن اس سب کے باوجود ایسی اقوام بھی تھیں جنہوں نے جمہوریت کو تو گلے لگایا لیکن بادشاہت سے بھی کنارہ کشی نہیں کی۔اس کی سب سے بڑی مثال برطانیہ کی دی جا سکتی ہے۔
پہلی اور دوسری جنگ عظیم نے اس روئے زمین کا نہ صرف نقشہ بلکہ بہت سے خطوں کا جغرافیہ بھی بدل ڈالا۔ان جنگوں کے بعد کئی بڑی سلطنتیں ان خطوں تک سمٹ گئیں جہاں سے ان کا آغاز ہوا تھا۔ ان میں سلطنت عثمانیہ کا نام نمایاں ہے۔اسی طرح فرانس اور برطانیہ کی نو آبادیات کی مثال بھی ہمارے سامنے ہے جہاں ایک صدی قبل آزادی کی تحریک چلی اور بیشتر ریاستیں آزادی سے ہمکنار ہوئیں۔
افریقہ اور ایشیاء میں 1945ء اور 1960ء کے درمیان نو آبادیاتی طاقتوں کو شکست دے کر 35 سے زائد نئی ریاستیں قائم ہوئیں۔ سوویت یونین اتحاد سے ٹوٹنے کے بعد 15 نئی ریاستوں کی شکل میں بکھر گیا ۔ایسا بھی نہیں ہے کہ دنیا سے بادشاہت کا خاتمہ ہو گیا بلکہ دوسری جنگ عظیم کے بعد عرب خطے میں ماضی کی روایات کا تسلسل جاری رہا اور اس طرح کئی خاندانی ریاستوں نے جنم لیا۔یہ تسلسل صرف خطہ عرب تک ہی محدود نہ تھا بلکہ اس کے علاوہ بھی دنیا میں کئی ایسی بادشاہتیں اور شاہی خاندان ہیں جو ابھی تک اپنا وجود برقرار رکھے ہوئے ہیں۔صرف یہی نہیں بلکہ دنیا میں کچھ ایسی ریاستیں بھی ہیں جہاں شاہی حکمرانوں کو صرف اعزازی حیثیت حاصل ہے اور کچھ ایسی ریاستیں بھی ہیں جہاں شاہی حکمران صرف آئینی دائرے کے اندر ہی اپنے اختیارات کا استعمال کر سکتے ہیں۔ ان ریاستوں میں انتظامی اختیارات منتخب اداروں کو تفویض کر دئیے گئے ہیں ،انہیں آئینی بادشاہت کہا جاتا ہے، اس کی مثال برطانیہ کی بادشاہت کی ہے۔
دنیا کے نقشے میں ایسی بادشاہتوں کی بھی کمی نہیں ہے جہاں قدیم روایات کے مطابق اب بھی مکمل اختیارات شاہی خاندانوں کے پاس ہی ہیں۔ اس کی ایک بڑی مثال عرب ریاستوں کی ہے۔ مشرق وسطی اور شمالی افریقہ کی عرب ریاستوں کی تعداد 22 ہے۔ ان میں سے آٹھ ممالک یعنی سعودی عرب ، مراکش، اردن، متحدہ امارات ، عمان ، کویت،قطر اور بحرین میں ابھی تک خاندانی بادشاہتیں قائم ہیں۔
'' ورلڈ پاپولیشن ریویو‘‘ کے مطابق دنیا کے 26 شاہی خاندانوں میں سے 12 یورپ میں ہیں۔ ذیل میں ہم دنیا کی چند منفرد اور دلچسپ بادشاہتوں کا ذکر کرتے ہیں۔
برطانیہ:سب سے بڑی بادشاہت
ایک دور تھا جب برطانیہ بارے یہ ضرب المثل مشہور تھی کہ سلطنت برطانیہ اتنی وسیع ہے کہ یہاں سورج کبھی غروب نہیں ہوتا۔تاہم وقت کے ساتھ ساتھ یہ بادشاہت برطانیہ کے جزائر تک محدود ہوتی چلی گئی۔ البتہ اعزازی طور پر آج بھی برطانوی فرمانروا آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور کینیڈا سمیت دنیا کے 15 ممالک اور خطوں کا سربراہ مملکت ہے۔56 ممالک اورخطوں پر مشتمل دولت مشترکہ کی تنظیم کی سربراہی بھی برطانوی شاہی حکمران کے پاس ہے۔
سب سے چھوٹی بادشاہت
یورپ میں اٹلی کے شہر روم کے اندر قائم شہری ریاست ویٹیکن نہ صرف کیتھولک چرچ کا مرکز ہے بلکہ رقبے اور آبادی کے لحاظ سے دنیا کا سب سے چھوٹا ملک ہے۔ویٹیکن پر کیتھولک چرچ کے سربراہ پوپ ہی حکمران ہوتے ہیں۔ یہ ایک مطلق العنان حکومت ہے۔کیونکہ پوپ کی تبدیلی یا انتقال کی صورت میں نیا پوپ ہی اس ریاست کا سربراہ ہو گا۔
جاپان :دنیا کی سب سے قدیم بادشاہت
جاپان اس وقت دنیا کے نقشے میں سب سے قدیم اور سب سے طویل بادشاہت رکھنے والے ملک کی حیثیت سے جانا جاتا ہے۔دستیاب معلومات اور روایات کے مطابق شہنشاہ جمو نے 660 قبل مسیح میں جاپان میں بادشاہت کی بنیاد رکھی تھی۔شہنشاہ جمو کے بعد اب تک ان کے 126 وارث تخت نشینی کا مزہ چکھ چکے ہیں۔نسل در نسل منتقل ہوتی بادشاہت اب خاتمے کے قریب ہے۔دوسری جنگ عظیم کے بعد جاپان کو اپنے سیاسی نظام میں تبدیلیاں کرنا پڑیں۔ 1947 میں نیا آئین بناتو اس میں نظام حکومت سے بادشاہت کا عمل دخل ختم کر دیا گیا البتہ بادشاہت کی اعزازی حیثیت برقرار رکھی گئی۔ نئے آئین کی رو سے بادشاہ پر ایک سے زائد شادیاں کرنے پرپابندی ہے۔وارث نہ ہونے کی صورت میں شاہی خاندان کے لڑکا گودلے کر اسے جانشین بنانے پر بھی پابندی لگا دی گئی۔
ایک ملک نو بادشاہ
ملائشیا کی تاریخ اس حوالے سے منفرد ہے کہ اس نے لمبے عرصے تک پرتگیزیوں، جاپانیوں اور برطانیہ کے حملے اور نو آبادیاتی دور دیکھا ہے۔ اس دوران وہاں مقامی سرداروں کی مختلف ریاستیں وجود میں آئیں جو رفتہ رفتہ شاہی خاندانوں کا روپ دھارتی چلی گئیں۔1957ء میں برطانیہ سے آزادی کے بعد یہاں نو شاہی خاندانوں کی ایک مشترکہ بادشاہت قائم کر دی گئی جواپنی اپنی ریاستوں کے حکمران ہیں جن کو نسل در نسل بادشاہت منتقل ہوتی رہتی ہے۔ملائشیا میں بادشاہ کی ذمہ داریوں میں یہ شامل ہوتا ہے کہ وہ جمہوریت کو فروغ دے۔
کمبوڈیا کی منتخب بادشاہت
کمبوڈیا میں بادشاہت کا باقاعدہ آغاز68 عیسوی میں ہوا تھا۔ اس بادشاہت کی سب سے دلچسپ اور منفرد بات یہ ہے کہ دنیا کے بیشتر ممالک کے برعکس کمبوڈیا کی بادشاہت کی بنیاد کسی مرد کی بجائے ایک عورت نے ڈالی تھی جو دو دو ہزار سالوں سے جاری ہے۔ بادشاہت کے اعتبار سے کمبوڈیا دنیا میں اپنی نوعیت کا ایک منفرد ملک ہے، یہاں پر بادشاہ کا آئین کے مطابق باقاعدہ انتخاب ہوتا ہے۔ اس مرتبہ کیلئے عمر تیس سال سے زیادہ ہونا ضروری ہے۔
عمان : قدیم ترین مسلم بادشاہت
اگرچہ عرب ممالک کی زیادہ تر بادشاہتیں دو تین سو سال پرانی ہوں نگی لیکن عمان ، مسلم دنیا کی قدیم ترین بادشاہت کا اعزاز رکھتا ہے جو سن 751 عیسوی سے جاری ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ عمان کا دور حاضر میں بھی ان چند ایک بادشاہتوں میں شمار ہوتا ہے جہاں سلطان کو مکمل اختیارات حاصل ہیں اور آج بھی سلطنت کی تمام سیاسی و انتظامی اختیارات کا مرکز بادشاہ ہے۔ ماضی میں عمان کی بادشاہت سلطان کے بڑے بیٹے کو منتقل ہوتی رہی ہے لیکن بعد ازاں عمان کے دستور میں تبدیلی کے ذریعے جانشینی کا طریقہ بدل دیا گیا جس کے ذریعے سلطان کی موت کے تین دن کے اندر شاہی کونسل نئے سلطان کا انتخاب کرتی ہے۔