آج کا دن
اسپیشل فیچر
برج خلیفہ کا افتتاح
4جنوری2010ء کو دبئی میں قائم دنیا کی سب سے بلند عمارت برج خلیفہ کا افتتاح ہوا۔افتتاح سے قبل اسے برج دبئی کے نام سے بھی جانا جاتا تھا۔اس کی اونچائی 829.8میٹر ہے۔اس کی تعمیر کا آغاز2004ء میں ہوا اور بیرونی حصہ پانچ سال میں مکمل ہوا۔برج خلیفہ کو تعمیر کرنے کا مقصد دبئی کو بین الاقوامی شناخت فراہم کرنا تھا تاکہ دنیا بھر کے سیاح اس عمارت کو دیکھنے کیلئے دبئی کا رخ کریں۔
یوٹاہ امریکی ریاست بنا
1896ء میں آج کے روزامریکی ریاست یوٹاہ کو باضابطہ طور پر ریاستہائے متحدہ امریکا کی 45ویں ریاست کا درجہ حاصل ہوا۔ ریاست بننے کے بعد یوٹاہ نے امریکا کی مغربی توسیع، معدنی وسائل، زراعت اور بعد ازاں صنعتی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ آج یوٹاہ اپنی قدرتی خوبصورتی، قومی پارکوں اور تیزی سے بڑھتی ہوئی معیشت کے باعث ایک نمایاں امریکی ریاست شمار ہوتی ہے۔
سپرٹ روور
خلائی جہاز ''سپرٹ روور‘‘4جنوری 2004ء کو مریخ کی سطح پر کامیابی کے ساتھ اترا۔اس خلائی جہاز کا نام امریکی خلائی ادارے ناسا کے زیر اہتمام طلبہ کے مضمون نویسی کے مقابلے کے ذریعے رکھا گیا تھا۔یہ خلائی جہاز2009ء میں ایک ریت کے ڈھیر میں پھنس گیا جس کی وجہ سے اس کی بیٹری چارچنگ میں بہت مشکلات پیش آئیں اور زمین پر موجود کنٹرول روم کے ساتھ اس کا آخری رابطہ 22 مارچ 2010ء کو ہوا لیکن اس وقت تک یہ اپنا مشن مکمل کر چکا تھا ۔
سکھر ٹرین حادثہ
سکھر ریل حادثہ 4 جنوری 1990ء کو صوبہ سندھ میں سکھر کے قریب پیش آیا۔ بہاؤالدین زکریا ایکسپریس ملتان سے کراچی جا رہی تھی اور ٹرین میں1408افراد کی گنجائش تھی جبکہ گنجائش سے کہیں زیادہ مسافر سوار تھے۔یہ ٹرین سامنے سے آنے والی مال بردار ٹرین سے ٹکرا گئی، جس سے ٹرین کی اگلی تین بوگیاں مکمل طورپر تباہ ہو گئیں۔اس حادثے میں 307 افراد جاں بحق جبکہ تقریباً700 شدید زخمی ہوئے۔اس حادثے کو پاکستانی تاریخ کا بدتریں ٹرین حادثہ سمجھا جاتا ہے۔
برما آزاد ہوا
4جنوری 1948ء کو برما (موجودہ میانمار) نے برطانیہ سے آزادی حاصل کر کے ایک خودمختار جمہوریہ کے طور پر عالمی نقشے پر اپنی شناخت قائم کی۔ یہ آزادی طویل جدوجہد، سیاسی تحریکوں اور عوامی قربانیوں کا نتیجہ تھی۔ برطانوی نوآبادیاتی دور کے خاتمے کے بعد برما کے عوام کو پہلی بار اپنے سیاسی، معاشی اور سماجی مستقبل کے فیصلے خود کرنے کا موقع ملا۔
ٹرپل الائنس
ٹرپل الائنس ایک دفاعی معاہدہ تھا جس پر 4جنوری1717ء کو ڈچ ریپبلک، فرانس اور برطانیہ کے درمیان سپین کے خلاف دستخط کئے گئے تاکہ1713ء سے1715ء تک ہونے والے امن کے یوٹریکٹ معاہدے کو برقرار رکھنے کی کوشش کی جاسکے۔تینوں ریاستوں کو سپین کے یورپ میں سپر پاور بننے پر تشویش تھی۔ اسی تشویش کے نتیجے میں عسکریت پسندی ہوئی اور شہریوں کو بہت زیادہ تباہی کا سامنا کرنا پڑا۔