ماحول بچانے کا نیا نسخہ! گوشت کھائیں اعتدال کے ساتھ
اسپیشل فیچر
ماحولیات کے تحفظ پر جاری عالمی بحث میں سائنس دانوں کی ایک تازہ تحقیق نے سب کو چونکا دیا ہے، جس میں مکمل طور پر گوشت ترک کرنے کے بجائے اعتدال کی راہ اپنانے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر لوگ ہفتے میں صرف ایک برگر کھائیں اور مجموعی طور پر گوشت کے استعمال میں نمایاں کمی کریں تو یہ قدم کرہ ارض کیلئے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔ اس غیر معمولی تجویز نے ماحولیاتی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ جہاں حد سے زیادہ گوشت کا استعمال ماحولیاتی آلودگی اور گرین ہاؤس گیسوں میں اضافے کا سبب بنتا ہے، وہیں محدود مقدار میں مویشی پالنا حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور قدرتی ماحولیاتی توازن کو برقرار رکھنے میں مثبت کردار ادا کرتا ہے۔ یہ تحقیق اس سوال کو جنم دیتی ہے کہ آیا ماحول بچانے کا حل مکمل پرہیز میں ہے یا دانشمندانہ اعتدال میں؟
سائنس دانوں نے انکشاف کیا ہے کہ لوگوں کی خوراک سے گوشت کو مکمل طور پر نکال دینے کے بجائے اگر ہفتے میں ایک برگر کھایا جائے تو یہ کرہ ارض کیلئے ماحولیاتی طور پر فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔یونیورسٹی آف ایڈنبرا کے ماہرین کے مطابق اگر برطانیہ جیسے ملک میں گوشت کے استعمال کو تقریباً 90 فیصد تک کم کر دیا جائے تو مویشی پالنے سے پیدا ہونے والی خطرناک گرین ہاؤس گیسوں میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ گوشت کو مکمل طور پر ترک کر دینا حیاتیاتی تنوع (بائیو ڈائیورسٹی) پر منفی اثر ڈال سکتا ہے، کیونکہ پرندوں اور چمگادڑوں کی خوراک بننے والے کیڑے بڑی حد تک گائے کے گوبر سے پرورش پاتے ہیں۔محققین کے مطابق مثال کے طور پر 700 کلوگرام وزنی ایک گائے کی پیدا کردہ کھاد اتنے کیڑوں کی افزائش کر سکتی ہے جو 30 ابابیلوں کی خوراک کیلئے کافی ہوں۔
یونیورسٹی آف ایڈنبرا سے تعلق رکھنے والے الفی گیتھورن ہارڈی (Alfy Gathorne-Hardy)کے مطابق عام طور پر ہم گوشت کی پیداوار کو اس زاویے سے دیکھتے ہیں کہ ماحولیاتی حدود کے اندر ہم کتنا گوشت برداشت کر سکتے ہیں۔ لیکن اب ہمیں یہ احساس ہو رہا ہے کہ کچھ مقدار میں گوشت کا استعمال ماحول کیلئے واضح طور پر مثبت کردار ادا کرتا ہے۔اسی لیے ہم بیانیہ بدلنے کی کوشش کر رہے ہیں یعنی ''ہم کتنا برداشت کر سکتے ہیں‘‘ سے ہٹ کر یہ سوال کہ ''ہمیں واقعی کتنا گوشت درکار ہے‘‘۔
انہوں نے کسانوں کی ناراضی کا خطرہ بھی مول لیا، جب یہ تجویز دی کہ گائے کے گوشت کی پیداوار کیلئے استعمال ہونے والے موجودہ 13 ملین ہیکٹر رقبے میں سے 40 لاکھ ہیکٹر زمین کو پھلیاں (بینز) اگانے کیلئے استعمال کیا جا سکتا ہے، تاکہ میتھین گیس کی مقدار کم کی جا سکے، جو گائے اور بھیڑوں سے خارج ہونے والی ایک خطرناک گرین ہاؤس گیس ہے۔
ان کی تحقیق کا مقصد یہ جاننا تھا کہ حیاتیاتی تنوع (بائیو ڈائیورسٹی) کو برقرار رکھنے کیلئے گائے کے گوبر کی کتنی مقدار موزوں ہے۔تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ چمگادڑیں جنہیں رات کے وقت انفرا ریڈ کیمروں کے ذریعے ریکارڈ کیا گیاان کھیتوں میں جہاں گائے کا گوبر موجود تھا، ان کھیتوں کے مقابلے میں چار گنا زیادہ خوراک حاصل کرنے کیلئے آتی تھیں جہاں گائیں موجود نہیں تھیں۔مزید یہ کہ اگر کھیت میں گائیں بھی موجود ہوں تو چمگادڑوں کے وہاں آنے کے امکانات بارہ گنا زیادہ ہو جاتے ہیں۔ یہ تحقیق اس مؤقف کی تائید کرتی ہے کہ گوشت کا کم استعمال ماحولیاتی فوائد کا باعث بن سکتا ہے۔