آج تم یاد بے حساب آئے!زبیدہ آپا نامور شیف و ماہر امور خانہ داری (2018-1945ء)

آج تم یاد بے حساب آئے!زبیدہ آپا نامور شیف و ماہر امور خانہ داری (2018-1945ء)

اسپیشل فیچر

تحریر :


٭... 4 اپریل 1945ء کو حیدر آباد دکن میں پیدا ہوئیں، اصل نام زبیدہ طارق تھا۔
٭... قیام پاکستان کے بعد ان کا خاندان کراچی منتقل ہوا۔
٭...وہ 9 بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹی تھیں۔
٭...ان کا تعلق پاکستان کے ادبی اور فنکار گھرانے سے تھا،ان کے خاندان میں سبھی اعلیٰ پائے کے فنکار، ادیب اور مصور تھے۔ نامور ڈرامہ نگار فاطمہ ثریا بجیا، عالمی شہرت یافتہ شاعرہ زہرہ نگاہ اور ڈیزائنر صغریٰ کاظمی ان کی بہنیں اور پاکستان کے نامور ادیب انور مقصود ان کے بڑے بھائی تھے۔
٭...کھانوں کی منفرد تراکیب اور گھریلو ٹوٹکوں سے شہرت حاصل کرنے والی زبیدہ طارق ہر جگہ ''زبیدہ آپا‘‘ کے نام سے پہچانی جاتی تھیں۔
٭... 1990ء کی دہائی میں میڈیا میں کام کرنا شروع کیا اور بہت جلد ہی اپنے گھریلو ٹوٹکوں اور مزیدار کھانوں کی تراکیب کے باعث وہ پاکستان بھر میں مقبول ہو گئیں۔
٭... وہ کئی عشروں تک پاکستان کے مختلف ٹی وی چینلز پر ککنگ شوز کرتی رہیں۔
٭... وہ بہت عرصے تک ریڈیو سے بھی منسلک رہیں۔
٭...زبیدہ طارق اپنی رنگ برنگی ساڑھیوں، چوڑیوں اور اپنے منفرد رکھ رکھاؤ کے باعث خواتین میں بے پناہ مقبولیت رکھتی تھیں۔
٭... ان کاٹی وی شو ''ہانڈی‘‘‘ شائقین میں کافی مقبول رہا، اس شو پر وہ شائقین کے سوالات کے جوابات دیتیں، جبکہ ان کے مسائل پر اپنے ٹوٹکے بھی بتاتی نظر آتی تھیں۔
٭... کھانے پکانے کے ساتھ ساتھ وہ امور خانہ داری میں بھی ماہر تھیں، مختلف مسائل کے حل کیلئے ان کے گھریلو ٹوٹکے بہت مشہور ہوئے۔
٭...عرصہ دراز کھانے پکانے اور امور خانہ داری سے متعلق ٹی وی شوز کا حصہ رہیں جبکہ اسی سے متعلق کئی کتابوں کی مصنفہ بھی تھیں۔
٭...4جنوری 2018ء میں ان کا انتقال 72 برس کی عمر میں کراچی میں ہوا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
2025ء کی ریکارڈ توڑ کلیکشنز

2025ء کی ریکارڈ توڑ کلیکشنز

2025ء کلیکشنز کے شوقین افراد کیلئے ایک یادگار سال رہا، جہاں دنیا بھر میں لوگوں نے محض شوق کو باقاعدہ ریکارڈ میں بدل دیا۔ کہیں بڑی عالمی فرنچائزز سے وابستہ اشیاء جمع کی گئیں تو کہیں بظاہر معمولی اور نایاب چیزوں نے عالمی توجہ حاصل کی۔ اس سال مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے کلیکٹرز نے اپنی جمع کردہ اشیاء کی باضابطہ گنتی کروا کر یہ ثابت کیا کہ ان کے مجموعے دنیا میں سب سے بڑے ہیں۔ ان منفرد اور دلچسپ کلیکشنز نے نہ صرف شوق کی انتہا کو نمایاں کیا بلکہ یہ بھی دکھایا کہ لگن اور تسلسل کس طرح ایک عام شوق کو عالمی ریکارڈ میں بدل سکتا ہے۔ آئیے اس سال کلیکٹرز کی جانب سے قائم کیے گئے چند نمایاں ریکارڈز پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔اینٹوں کی سب سے بڑی کلیکشنامریکی باشندے کلیم رائنکیمائر (Clem Reinkemeyer ) کے اوکلاہوما کے شہر ٹلسا میں واقع گودام میں ایک نہایت منفرد کلیکشن محفوظ ہے۔ 87 سالہ کلیم گزشتہ 40 برسوں کے دوران 8,882 مختلف اینٹیں جمع کر چکے ہیں، جن میں سے ہر ایک اپنی ایک الگ کہانی بیان کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی چیز کو جمع کرنا آہستہ آہستہ انسان کو اپنے اندر کھینچ لیتا ہے۔ اینٹوں کی بات مجھے اس لیے پسند آئی کہ ان کے نام ہوتے ہیں اور آپ انہیں تاریخی طور پر مختلف مقامات سے جوڑ سکتے ہیں، اور یہی بات مجھے ہمیشہ دلچسپ لگتی رہی۔ یہ ذرا غیر معمولی ضرور ہے، لیکن مجھے یہ بہت پسند ہے۔منیئنز کی یادگاری اشیاء اپریل 2025ء میں آسٹریلوی خاتون لیزل بینیے (Liesl Benecke) کو معلوم ہوا کہ دنیا میں سب سے زیادہ منیئنز کی یادگاری اشیاء انہی کے پاس ہیں۔ فلم ''ڈسپی کیبل می‘‘ (Despicable Me ) کے یہ ننھے پیلے کردار انہیں اس قدر پسند ہیں کہ گزشتہ 15 برسوں میں وہ ان کی 1,035 اشیا جمع کر چکی ہیں۔ انہوں نے ایک منیئن کا ٹیٹو بھی بنوا رکھا ہے اور پیار سے انہیں ''منیئن لیڈی‘‘ کہا جانے لگا ہے۔ لیزل کے مطابق میر ی بیٹی کہتی ہے کہ منیئنز رکھنے کیلئے مجھے ایک اور گھر کی ضرورت ہے، لیکن مجھے ان کی خوبصورت، چمکتی پیلی مسکراہٹوں کے درمیان رہنا بہت پسند ہے۔ وہ میرے گھر کے ہر کمرے میں اور ہر خالی دیوار پر موجود ہیں۔ایگ کپس کی سب سے بڑی کلیکشنجولائی 2025ء میں ہمیں معلوم ہوا کہ سپین کی خاتون ماریا جوسے فوسٹر (María José Fuster) گزشتہ 50 برسوں سے انڈے رکھنے کے کپ جمع کر رہی ہیں۔ جب انہوں نے عالمی ریکارڈ کیلئے باضابطہ درخواست دینے کی غرض سے اپنی کلیکشن کی مکمل گنتی کی تو ان کے پاس 15,485 ایگ کپ موجود تھے۔ ماریا نے اپنی تمام کلیکشن کو ایک آن لائن بلاگ میں باقاعدہ درجہ بندی کر رکھا ہے، جہاں ان کے پاس موجود ہر منفرد ڈیزائن کی فہرست موجود ہے۔کروکس جوتوں کی کلیکشنستمبر میں ہماری ملاقات امریکہ کے ''کروک کنگ‘‘ ڈوگی سینڈ ٹائیگر ( Doogie Sandtiger ) سے ہوئی، جو بچپن ہی سے عالمی ریکارڈ بنانے کا خواب دیکھ رہے تھے۔ اپنی کلیکشن میں 3,500 سے زائد جوڑوں پر مشتمل کروکس جوتوں کے ساتھ، انہوں نے بالآخر اپنی خواہشوں کی فہرست کا یہ خواب پورا کر لیا۔ ڈوگی نے فوسٹر کیئر میں پرورش پائی اور خاندان کی مسلسل ننتقلی کے باعث وہ کبھی فیتے باندھنا سیکھ ہی نہ سکے۔ ابتدائی جوانی میں یہ بات ان کیلئے باعثِ جھجک بن گئی، چنانچہ وہ بغیر فیتوں والے کروکس جوتوں کی جانب مائل ہو گئے۔ انہیں یہ جوتے اس قدر پسند آئے کہ انہوں نے زیادہ سے زیادہ جوڑے جمع کرنے کا ارادہ کر لیا۔ انہوں نے این بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں ان کے بارے میں زیادہ کچھ نہیں جانتا تھا، بس اتنا کہ لوگ انہیں بدصورت سمجھتے تھے، لیکن مجھے ان میں فن نظر آیا چنانچہ اسی دن میں نے اپنا پہلا جوڑا خریدا۔پولی پاکٹ کی اشیاء اکتوبر 2025ء میں امریکہ کی یوٹیوبر کرچی (Kerchie) نے اپنی شاندار پولی پاکٹ کلیکشن ہمارے ساتھ شیئر کی۔ بچپن میں انہیں ان کھلونوں سے بے پناہ محبت ہو گئی تھی اور وہ گھنٹوں ایک ننھی سی خیالی دنیا میں کھوئی رہتی تھیں۔ جوانی میں انہوں نے اسی محبت کو دوبارہ زندہ کیا اور انٹرنیٹ پر تلاش و جستجو کے ذریعے پولی پاکٹ کی سب سے بڑی کلیکشن جمع کر لی، مجموعی طور پر 534 مختلف اشیاء۔گزرا برس 2025ء کلیکشنز کیلئے واقعی یادگار رہا، جہاں دنیا بھر کے افراد نے اپنی دلچسپی اور محبت کو ریکارڈ کی شکل دی۔ چاہے یہ اینٹوں کا منفرد مجموعہ ہو، کروکس کے جوتوں کا جنون یا منیئنز اور پولی پاکٹ کے چھوٹے کرداروں کا شوق، ہر کلیکشن نے ایک کہانی بیان کی اور اپنے مالک کی لگن اور جوش کو ظاہر کیا۔ اب 2026ء کے آغاز پر یہ سوال ہر شوقین کیلئے دلچسپی کا باعث ہے، کیا آپ بھی کسی چیز کی کلیکشن شروع کریں گے؟ شاید یہی وہ لمحہ ہو جب چھوٹی شوقین عادتیں بڑے ریکارڈز میں تبدیل ہو جائیں اور آپ کا شوق دنیا کے سامنے اپنی پہچان بنائے۔ ہر کلیکشن، چاہے جتنا بھی معمولی لگے، ایک یادگار لمحے اور کامیابی کی علامت بن سکتی ہے۔ یہ 2026ء کا آغاز ہے،وقت ہے، اپنے شوق کو جیت کی راہ دکھانے کا اور اپنی منفرد کلیکشن کے ساتھ دنیا کو حیران کرنے کا۔

ماحول بچانے کا نیا نسخہ!  گوشت کھائیں اعتدال کے ساتھ

ماحول بچانے کا نیا نسخہ! گوشت کھائیں اعتدال کے ساتھ

ماحولیات کے تحفظ پر جاری عالمی بحث میں سائنس دانوں کی ایک تازہ تحقیق نے سب کو چونکا دیا ہے، جس میں مکمل طور پر گوشت ترک کرنے کے بجائے اعتدال کی راہ اپنانے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر لوگ ہفتے میں صرف ایک برگر کھائیں اور مجموعی طور پر گوشت کے استعمال میں نمایاں کمی کریں تو یہ قدم کرہ ارض کیلئے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔ اس غیر معمولی تجویز نے ماحولیاتی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ جہاں حد سے زیادہ گوشت کا استعمال ماحولیاتی آلودگی اور گرین ہاؤس گیسوں میں اضافے کا سبب بنتا ہے، وہیں محدود مقدار میں مویشی پالنا حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور قدرتی ماحولیاتی توازن کو برقرار رکھنے میں مثبت کردار ادا کرتا ہے۔ یہ تحقیق اس سوال کو جنم دیتی ہے کہ آیا ماحول بچانے کا حل مکمل پرہیز میں ہے یا دانشمندانہ اعتدال میں؟سائنس دانوں نے انکشاف کیا ہے کہ لوگوں کی خوراک سے گوشت کو مکمل طور پر نکال دینے کے بجائے اگر ہفتے میں ایک برگر کھایا جائے تو یہ کرہ ارض کیلئے ماحولیاتی طور پر فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔یونیورسٹی آف ایڈنبرا کے ماہرین کے مطابق اگر برطانیہ جیسے ملک میں گوشت کے استعمال کو تقریباً 90 فیصد تک کم کر دیا جائے تو مویشی پالنے سے پیدا ہونے والی خطرناک گرین ہاؤس گیسوں میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ گوشت کو مکمل طور پر ترک کر دینا حیاتیاتی تنوع (بائیو ڈائیورسٹی) پر منفی اثر ڈال سکتا ہے، کیونکہ پرندوں اور چمگادڑوں کی خوراک بننے والے کیڑے بڑی حد تک گائے کے گوبر سے پرورش پاتے ہیں۔محققین کے مطابق مثال کے طور پر 700 کلوگرام وزنی ایک گائے کی پیدا کردہ کھاد اتنے کیڑوں کی افزائش کر سکتی ہے جو 30 ابابیلوں کی خوراک کیلئے کافی ہوں۔یونیورسٹی آف ایڈنبرا سے تعلق رکھنے والے الفی گیتھورن ہارڈی (Alfy Gathorne-Hardy)کے مطابق عام طور پر ہم گوشت کی پیداوار کو اس زاویے سے دیکھتے ہیں کہ ماحولیاتی حدود کے اندر ہم کتنا گوشت برداشت کر سکتے ہیں۔ لیکن اب ہمیں یہ احساس ہو رہا ہے کہ کچھ مقدار میں گوشت کا استعمال ماحول کیلئے واضح طور پر مثبت کردار ادا کرتا ہے۔اسی لیے ہم بیانیہ بدلنے کی کوشش کر رہے ہیں یعنی ''ہم کتنا برداشت کر سکتے ہیں‘‘ سے ہٹ کر یہ سوال کہ ''ہمیں واقعی کتنا گوشت درکار ہے‘‘۔انہوں نے کسانوں کی ناراضی کا خطرہ بھی مول لیا، جب یہ تجویز دی کہ گائے کے گوشت کی پیداوار کیلئے استعمال ہونے والے موجودہ 13 ملین ہیکٹر رقبے میں سے 40 لاکھ ہیکٹر زمین کو پھلیاں (بینز) اگانے کیلئے استعمال کیا جا سکتا ہے، تاکہ میتھین گیس کی مقدار کم کی جا سکے، جو گائے اور بھیڑوں سے خارج ہونے والی ایک خطرناک گرین ہاؤس گیس ہے۔ان کی تحقیق کا مقصد یہ جاننا تھا کہ حیاتیاتی تنوع (بائیو ڈائیورسٹی) کو برقرار رکھنے کیلئے گائے کے گوبر کی کتنی مقدار موزوں ہے۔تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ چمگادڑیں جنہیں رات کے وقت انفرا ریڈ کیمروں کے ذریعے ریکارڈ کیا گیاان کھیتوں میں جہاں گائے کا گوبر موجود تھا، ان کھیتوں کے مقابلے میں چار گنا زیادہ خوراک حاصل کرنے کیلئے آتی تھیں جہاں گائیں موجود نہیں تھیں۔مزید یہ کہ اگر کھیت میں گائیں بھی موجود ہوں تو چمگادڑوں کے وہاں آنے کے امکانات بارہ گنا زیادہ ہو جاتے ہیں۔ یہ تحقیق اس مؤقف کی تائید کرتی ہے کہ گوشت کا کم استعمال ماحولیاتی فوائد کا باعث بن سکتا ہے۔ 

آج کا دن

آج کا دن

برج خلیفہ کا افتتاح4جنوری2010ء کو دبئی میں قائم دنیا کی سب سے بلند عمارت برج خلیفہ کا افتتاح ہوا۔افتتاح سے قبل اسے برج دبئی کے نام سے بھی جانا جاتا تھا۔اس کی اونچائی 829.8میٹر ہے۔اس کی تعمیر کا آغاز2004ء میں ہوا اور بیرونی حصہ پانچ سال میں مکمل ہوا۔برج خلیفہ کو تعمیر کرنے کا مقصد دبئی کو بین الاقوامی شناخت فراہم کرنا تھا تاکہ دنیا بھر کے سیاح اس عمارت کو دیکھنے کیلئے دبئی کا رخ کریں۔یوٹاہ امریکی ریاست بنا1896ء میں آج کے روزامریکی ریاست یوٹاہ کو باضابطہ طور پر ریاستہائے متحدہ امریکا کی 45ویں ریاست کا درجہ حاصل ہوا۔ ریاست بننے کے بعد یوٹاہ نے امریکا کی مغربی توسیع، معدنی وسائل، زراعت اور بعد ازاں صنعتی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ آج یوٹاہ اپنی قدرتی خوبصورتی، قومی پارکوں اور تیزی سے بڑھتی ہوئی معیشت کے باعث ایک نمایاں امریکی ریاست شمار ہوتی ہے۔سپرٹ روورخلائی جہاز ''سپرٹ روور‘‘4جنوری 2004ء کو مریخ کی سطح پر کامیابی کے ساتھ اترا۔اس خلائی جہاز کا نام امریکی خلائی ادارے ناسا کے زیر اہتمام طلبہ کے مضمون نویسی کے مقابلے کے ذریعے رکھا گیا تھا۔یہ خلائی جہاز2009ء میں ایک ریت کے ڈھیر میں پھنس گیا جس کی وجہ سے اس کی بیٹری چارچنگ میں بہت مشکلات پیش آئیں اور زمین پر موجود کنٹرول روم کے ساتھ اس کا آخری رابطہ 22 مارچ 2010ء کو ہوا لیکن اس وقت تک یہ اپنا مشن مکمل کر چکا تھا ۔سکھر ٹرین حادثہسکھر ریل حادثہ 4 جنوری 1990ء کو صوبہ سندھ میں سکھر کے قریب پیش آیا۔ بہاؤالدین زکریا ایکسپریس ملتان سے کراچی جا رہی تھی اور ٹرین میں1408افراد کی گنجائش تھی جبکہ گنجائش سے کہیں زیادہ مسافر سوار تھے۔یہ ٹرین سامنے سے آنے والی مال بردار ٹرین سے ٹکرا گئی، جس سے ٹرین کی اگلی تین بوگیاں مکمل طورپر تباہ ہو گئیں۔اس حادثے میں 307 افراد جاں بحق جبکہ تقریباً700 شدید زخمی ہوئے۔اس حادثے کو پاکستانی تاریخ کا بدتریں ٹرین حادثہ سمجھا جاتا ہے۔برما آزاد ہوا4جنوری 1948ء کو برما (موجودہ میانمار) نے برطانیہ سے آزادی حاصل کر کے ایک خودمختار جمہوریہ کے طور پر عالمی نقشے پر اپنی شناخت قائم کی۔ یہ آزادی طویل جدوجہد، سیاسی تحریکوں اور عوامی قربانیوں کا نتیجہ تھی۔ برطانوی نوآبادیاتی دور کے خاتمے کے بعد برما کے عوام کو پہلی بار اپنے سیاسی، معاشی اور سماجی مستقبل کے فیصلے خود کرنے کا موقع ملا۔ٹرپل الائنسٹرپل الائنس ایک دفاعی معاہدہ تھا جس پر 4جنوری1717ء کو ڈچ ریپبلک، فرانس اور برطانیہ کے درمیان سپین کے خلاف دستخط کئے گئے تاکہ1713ء سے1715ء تک ہونے والے امن کے یوٹریکٹ معاہدے کو برقرار رکھنے کی کوشش کی جاسکے۔تینوں ریاستوں کو سپین کے یورپ میں سپر پاور بننے پر تشویش تھی۔ اسی تشویش کے نتیجے میں عسکریت پسندی ہوئی اور شہریوں کو بہت زیادہ تباہی کا سامنا کرنا پڑا۔ 

مائونٹ ایورسٹ پر کوڑے کا مسلہ برقرار

مائونٹ ایورسٹ پر کوڑے کا مسلہ برقرار

کوہ پیمائوں کی بددیانتی، کوڑا اٹھانے کی سکیم ختم کر دی گئی دنیا کی سب سے بلند چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ کو کوڑے سے پاک کرنے کا منصوبہ ناکام، 2014ء میں شروع کیا گیا منصوبہ ختم کر دیا گیا ۔ اس اسکیم کے تحت ہر کوہ پیما کو 4ہزار ڈالر جمع کروانے پڑتے تھے، جو صرف اس صورت میں واپس ملتے اگر وہ کم از کم 8 کلوگرام کوڑا واپس لاتے۔ لیکن بددیانت کوہ پیما نیچے کے کیمپوں سے کوڑا جمع کر کے واپس آ جاتے تھے، جس کی وجہ سے پہاڑ پرکچرے کا مسئلہ برقرار رہا۔ سگارماتھا پولوشن کنٹرول کمیٹی(Sagarmatha Pollution Control Committee) کے مطابق زیادہ تر کچرا اونچے کیمپوں پر چھوڑا جاتا ہے، جس میں آکسیجن کی بوتلیں، خیمے اور پیک شدہ کھانے پینے کے ڈبے شامل ہیں۔مائونٹ ایورسٹ کو کچرے سے پاک کرنے کا پروگرام 2014ء میں شروع کیا گیا تھا اور اس کے تحت جو بھی کوہ پیمائی کیلئے پہاڑ کی چوٹی تک جاتا، اسے4 ہزارڈالر جمع کروانے پڑتے، جو صرف اسی صورت میں واپس ملتے اگر وہ کم از کم 8 کلوگرام کوڑا اپنے ساتھ نیچے لاتے۔اس اسکیم کا مقصد پہلے آنے والے کوہ پیماوں کے چھوڑے ہوئے کوڑے، جیسے آکسیجن کے سلنڈر اور انسانی فضلہ کو صاف کرنا تھا۔تاہم 11 سال بعد بھی کوڑے کا مسئلہ ''ختم نہیں ہوا‘‘۔ کچھ کوہ پیما نظام کو چکمہ دے کر نیچے کے کیمپوں سے کوڑا جمع کر لیتے تھے، بجائے اس کے کہ وہ اونچے کیمپوں سے جمع کریں۔تشرنگ شرپا(Tshering Sherpa) چیف ایگزیکٹو آفیسر سگارماتھا پولوشن کنٹرول کمیٹی (SPCC) کے مطابق اونچے کیمپوں سے لوگ صرف آکسیجن کی بوتلیں واپس لاتے ہیں۔ پیک شدہ کھانے اور مشروبات کے ڈبے زیادہ تر وہاں چھوڑ دیے جاتے ہیں۔ماؤنٹ ایورسٹ نیپال کے کھمبو علاقے میں واقع سگارماتھا نیشنل پارک میں آتا ہے۔ چند برسوں کے دوران پارک میں آنے والے سیاحوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے، خاص طور پر 2014ء سے 2017ء کے تین سال کے دوران یہ تعداد دگنی ہو گئی۔ یہ سیاح نیپالی حکومت اور مقامی معیشت کیلئے لاکھوں ڈالر کی آمدنی لاتے ہیں، لیکن ساتھ ہی وہ بہت زیادہ فضلہ بھی چھوڑ جاتے ہیں۔ ہر سال حیران کن تصاویر میں کیمپوں کو بکھرے ہوئے خیمے، چھوڑا ہوا سامان اور انسانی فضلہ نظر آتا ہے۔سگارماتھا پولوشن کنٹرول کمیٹی (SPCC) صرف ہر سال جمع کیے گئے کچرے کی مقدار ریکارڈ کرتی ہے، اس لیے موجودہ وقت میں پہاڑ پر موجود فضلے کا کوئی سرکاری تخمینہ موجود نہیں ہے۔ تاہم، 2020ء کی ایک تحقیق میں پیش گوئی کی گئی تھی کہ پچھلے 60 سالوں میں ایورسٹ پر تقریباً 50 ٹن ٹھوس فضلہ جمع ہو چکا ہے۔ 2022ء میں نیپالی فوج نے رپورٹ دی کہ اس نے ایورسٹ اور اس کے اردگرد کے پہاڑوں سے تقریباً 34 ٹن فضلہ ہٹایا، جو 2021ء میں 27.6 ٹن تھا۔ اس بڑھتے ہوئے مسئلے سے نمٹنے کیلئے 2014ء میں کوڑا جمع کرنے کی اسکیم متعارف کرائی گئی، جو ایورسٹ کے بیس کیمپ سے آگے جانے والے کوہ پیمائوں پر لاگو کی گئی۔محکمہ سیاحت کے ایک اہلکار مدھوسودن برلاکوتی کے مطابق حکام ایسے کوہ پیمائوں کے خلاف قانونی کارروائی کریں گے جو اس اصول پر عمل نہ کریں۔ حکومت نے مائونٹ ایورسٹ کو صاف کرنے کیلئے فیصلہ کیا ہے کہ ہر کوہ پیما اپنے ذاتی کچرے کے علاوہ کم از کم آٹھ کلو کوڑا واپس لے آئے۔ نیپالی حکام کے مطابق، 11 سالہ اس پروگرام کے دوران زیادہ تر جمع کروائی گئی رقم کوہ پیماوں کو واپس کر دی گئی۔ تاہم، اگرچہ کوہ پیما مطلوبہ 8 کلو کوڑا واپس لاتے، وہ خود دراصل اس سے کہیں زیادہ کچرا جمع کر لیتے تھے۔ شرپا کے مطابق، ہر اوسط کوہ پیما چھ ہفتوں کی کوہ پیمائی کے دوران تقریباً 12 کلو (26 پاؤنڈ) کچرا پیدا کرتا ہے۔ اس کے علاوہ اونچے کیمپوں میں کوئی حکام موجود نہیں تھے جو یہ دیکھیں کہ کوہ پیما کیا کر رہے ہیں یا وہ کیا کچرا چھوڑ رہے ہیں۔ کھمبو آئس فال کے اوپر والے چیک پوائنٹ کے علاوہ، کوہ پیماوں کی سرگرمیوں کی کوئی نگرانی نہیں ہے۔اس مسئلے سے مستقل طور پر نمٹنے کیلئے، حکام اب کوہ پیماوں کیلئے ایک نیا اصول متعارف کروا رہے ہیں ''ایک ناقابل واپسی صفائی فیس تقریباً 4ہزار ڈالر‘‘۔ یہ رقم کیمپ ٹو میں ایک چیک پوائنٹ قائم کرنے اور ماؤنٹ رینجرز تعینات کرنے کیلئے استعمال کی جائے گی، جو پہاڑ کے اوپر جا کر کوڑا جمع کرنے کی نگرانی کریں گے۔میونسپلٹی کے چیئرپرسن منگما شرپا نے بتایا کہ شرپا کمیونٹی برسوں سے اس تبدیلی کا مطالبہ کر رہی ہے۔ ہم اس پورے عرصے میں اسکیم کی مؤثریت پر سوال اٹھا رہے تھے کیونکہ ہمیں کسی بھی شخص کے خلاف کوئی کارروائی کرتے ہوئے علم نہیں تھا جس نے اپنا کوڑا واپس نہ لایا ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ اور پہلے کوئی مخصوص فنڈ موجود نہیں تھا، لیکن اب یہ ناقابل واپسی فیس ایک فنڈ کے قیام کا سبب بنے گی جو ہمیں یہ تمام صفائی اور نگرانی کے کام کرنے کے قابل بنائے گی۔ ماؤنٹ ایورسٹ پر کتنا کچرا ہے؟٭...ہر سال تقریباً 900 سے ایک ہزار ٹن کچرا سگارماتھا نیشنل پارک میں لایا جاتا ہے۔٭...اندازاً 50 ٹن کچرا مائونٹ ایورسٹ بیس کیمپ سے اوپر موجود ہے۔٭...کیمپ ون سے کیمپ فور کے درمیان 1 سے 3 ٹن انسانوں کا چھوڑاہوا کچرا ہے۔٭... 2023ء کے بہار کے موسم میں بیس کیمپ سے 75 ٹن کچرا برآمد ہوا۔٭...ہر سال قریب کے گڑھوں میں اندازاً 20 ٹن کچرا ڈالا جاتا ہے۔٭...نیشنل پارک میں 100 سے 120 کے درمیان کھلے کوڑے کے گڑھے موجود ہیں۔

علم کی طاقت

علم کی طاقت

ہم اکثر یہ مقولہ سنتے ہیں کہ علم طاقت ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ اس فقرے میں صرف آدھا سچ پوشیدہ ہے۔ دراصل علم بذاتِ خود طاقت نہیں بلکہ اہلیت کی طاقت ہے۔ علم کی اصل قوت اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب اسے تعمیری اور بامقصد انداز میں استعمال کیا جائے۔ بدقسمتی سے بہت سے لوگ محرومیِ ذہانت کا شکار ہوتے ہیں، یعنی وہ علم کے بارے میں درست طرزِ فکر نہیں رکھتے۔ایک مرتبہ کسی نے عظیم سائنس دان آئن سٹائن سے سوال کیا کہ ایک میل میں کتنے فٹ ہوتے ہیں؟۔آئن سٹائن نے جواب دیا: ''مجھے معلوم نہیں۔ میں اپنے دماغ کو ایسی معلومات سے کیوں بھر وں جنہیں میں محض دو منٹ میں کسی مستند کتاب سے حاصل کر سکتا ہوں؟‘‘۔ اس جواب میں آئن سٹائن نے ہمیں ایک گہرا سبق دیا۔ اس نے واضح کیا کہ انسانی ذہن کا اصل کام محض حقائق کو یاد رکھنا نہیں بلکہ سوچنا، سمجھنا اور مسائل تک رسائی کے طریقے جاننا ہے۔مشہور صنعت کار ہنری فورڈ کو ایک مقدمے کے سلسلے میں شکاگو کی عدالت میں پیش ہونا پڑا۔ دورانِ سماعت عدالت نے اس سے چند عمومی معلومات پر مبنی سوالات کیے، مثلاً: بینی ڈکٹ کون تھا؟ جنگ انقلاب کب ہوئی؟،ہنری فورڈ چونکہ زیادہ تعلیم یافتہ نہیں تھا، اس لیے وہ ان سوالوں کے جواب نہ دے سکا۔ اس نے عدالت سے کہا: ‘‘مجھے ان سوالوں کے جواب معلوم نہیں، لیکن میں صرف پانچ منٹ میں ایسا شخص تلاش کر سکتا ہوں جویہ تمام جوابات دے دے‘‘۔ہنری فورڈ عام معلومات اکٹھی کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتا تھا، اس کی توجہ اس بات پر تھی کہ اہم معلومات کیسے حاصل کی جائیں، نہ کہ یہ کہ ہر بات ذہن میں محفوظ رکھی جائے۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی انسان محض معلومات کے ذخیرے کی حیثیت سے قیمتی ہوتا ہے؟حال ہی میں، میں نے اپنے ایک دوست کے ساتھ نہایت دلچسپ شام گزاری۔ وہ ایک نوجوان ہے اور اس کی تخلیقی صلاحیتیں تیزی سے نکھر رہی ہیں۔ وہ کئی ہفتوں تک ایک ٹیلی وژن کوئز پروگرام میں شریک رہا، جہاں وہ مختلف موضوعات پر سوالوں کے جواب دیتا تھا۔ اس نے بتایا کہ ایک بار ارجنٹائن کے ایک پہاڑ سے متعلق سوال پر پروگرام کے میزبان نے میری طرف دیکھ کر پوچھا: تمہارے خیال میں اس سوال کا جواب دینے والے کو کتنا معاوضہ ملنا چاہیے؟ میں نے جواب دیا: تین سو ڈالر سے ایک سینٹ بھی زیادہ نہیں۔ کیونکہ میں تین سو ڈالر میں ایک عمدہ انسائیکلوپیڈیا خرید سکتا ہوں۔ ایسے سوالوں کیلئے تو محض دو ڈالر کی جنتری ہی کافی ہے، جس میں یہ معلومات آسانی سے تلاش کی جا سکتی ہیں۔اس نے بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا:مجھے ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جو مسائل حل کر سکیں، جو نئے اور بہتر آئیڈیاز سوچ سکیں۔ میرے اردگرد ایسے افراد بھی ہیں جو خواب دیکھتے ہیں اور پھر ان خوابوں کو عملی شکل بھی دے سکتے ہیں۔ ایک تخلیقی سوچ رکھنے والا شخص میرے ساتھ مل کر دولت پیدا کر سکتا ہے، لیکن محض عام معلومات رکھنے والا انسان ایسا نہیں کر سکتا۔

آج تم یاد بے حساب آئے!ناشاد  باکمال موسیقار(1981-1923ء)

آج تم یاد بے حساب آئے!ناشاد باکمال موسیقار(1981-1923ء)

٭... 11جولائی 1923ء کو دہلی میں پیدا ہوئے۔ ٭...اصل نام شوکت علی ہاشمی تھا۔٭...ابتدائی تعلیم دہلی کے مقامی ہائی سکول سے حاصل کی، بانسری بجانا بھی سیکھی۔٭...1940ء میں ممبئی کا رخ کیااور مختلف ناموں سے فلموں کی موسیقی دی اور پھر ناشاد کے نام سے گیتوں کی دُھنیں تخلیق کیں۔ ٭... انہیں نامور موسیقار نوشاد کا نعم البدل بنانے کی کوشش کی گئی لیکن ایسا نہ ہو سکا ۔٭... ان کی جو بھارتی فلمیں مقبول ہوئیں ان میں ''دادا، نغمہ، سب سے بڑا روپیہ، شہزادہ،جواب، بارہ دری،بڑا بھائی، زندگی یا طوفان اورروپ لیکھا ‘‘ شامل ہیں۔٭... 1964ء میں پاکستان آئے اور موسیقار نثار بزمی اور ماسٹر غلام حیدر کے معاون کی حیثیت سے کام کیا۔ ٭...پاکستان میں بطور موسیقار ناشاد نے سب سے پہلے ہدایتکار نخشب کی فلم '' مہ خانہ‘‘ کی موسیقی دی۔٭...ناشاد نے مجموعی طور پر 60فلموں کی موسیقی ترتیب دی۔ ٭... جن پاکستانی فلموں کی موسیقی دی ان میں ''مہ خانہ، پھر صبح ہوگی، ہم دونوں، تم ملے پیار ملا، سالگرہ، چاند سورج، افشاں، بہارو پھول برسائو، ایک رات، عظمت، آبرو، نیا راستہ، زینت، ملن، اور دیدار‘‘ قابل ذکر ہیں۔٭... ان کے اکثر نغمات سپرہٹ ثابت ہوئے۔ بعض گیتوں کی اتنی شاندار دھنیں بنائیں کہ دیگر موسیقاروں نے بھی ان کی بے حد تحسین کی۔٭... انہیں دوبار نگار ایوارڈ سے نوازا گیا۔1964ء میں فلم ''مہ خانہ‘‘ اور 1969ء میں فلم ''سالگرہ‘‘ کا دلکش میوزک دینے پر انہیں یہ ایوارڈ دیا گیا۔٭...انہوں نے ایک بھارتی خاتون سے شادی کی تھی اور ان کے 15بچے ہیں۔٭...ان کے بڑے بیٹے واجد علی ناشادمرحوم بھی موسیقار تھے۔ شاہد علی ناشاد اور اکبر ناشاد بھی موسیقار ہیں، ایک بیٹے امیر علی پلے بیک سنگر ہیں۔٭...اس بے مثل موسیقار کا 3جنوری 1981ء کو 57برس کی عمر میں انتقال ہوا۔ناشاد کے مقبول گیت(1)زندگی ہے یا کوئی طوفان( زندگی یا طوفان)(2)تصویر بناتا ہوں، تصویر نہیں بنتی(بارہ دری)(3)بھلا نہیں دینا(بارہ دری)(4)حال دل ان کو سنایا(مہ خانہ )(5)دیا رے دیا رے کانٹا چبھا( پھر صبح ہو گی)(6)لے آئی پھر کہاں پر (سالگرہ)(7)گوری کے سر پہ سج کے(تم ملے پیار ملا)(8)ان کی نظروں سے محبت کا(ہم دونوں)(9 )مجھے کر دے نہ دیوانہ(نیا راستہ)(10) ایسا پیار کرنے والا(ملن)(11)میرے دل کی ہے آواز (بہارو پھول برسائو)(12)یہ گھر میرا گلشن ہے(بہارو پھول برسائو)(13)زندگی میں تو سبھی (عظمت )(14)خدا کرے کہ محبت میں (افشاں )(15)اک بار چلے آئو (ایک رات )(16)رفتہ رفتہ وہ میری ہستی کا(زینت)(17)بن ترے رات تو کیا (آبرو)(18)نہ مہرباں نہ اجنبی (آبرو)٭٭٭