پریزرویٹو:کینسر اور ذیابیطس کے خدشات
اسپیشل فیچر
بازاروں میں دستیاب زیادہ تر پیک شدہ اور تیار شدہ غذاؤں میں مختلف کیمیائی مادے(پریزرویٹو) شامل ہوتے ہیں جن کا بنیادی مقصد خوراک کو خراب ہونے سے بچانا، شیلف لائف بڑھانا اور ذائقے اور رنگ کو برقرار رکھنا ہوتا ہے مگر حالیہ سائنسی تحقیقات نے پریزرویٹوز کے بارے میں سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔فرانس میں ہونے والی دو بڑی تحقیقات، جو عالمی شہرت یافتہ سائنسی جرائد بی ایم جے (BMJ) اور نیچر کمیونیکیشنز (Nature Communications) میں شائع ہوئیں، اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ خوراک میں استعمال ہونے والے بعض عام پریزرویٹو کینسر اور ٹائپ ٹو ذیابیطس کے خطرے میں اضافہ کر سکتے ہیں۔یہ مطالعات ایک جاری تحقیقی منصوبے کا حصہ ہیں جس میں ایک لاکھ سے زائد فرانسیسی شہریوں نے شرکت کی۔ شرکا سے طویل عرصے تک ان کی روزمرہ خوراک، مشروبات اور طرزِ زندگی سے متعلق تفصیلات حاصل کی جاتی رہیں۔ ان معلومات کی بنیاد پر ماہرین نے مختلف پریزرویٹوز اور بیماریوں کے درمیان ممکنہ تعلقات کا تجزیہ کیا۔
پراسیسڈ گوشت میں چھپا خطرہ
تحقیق کے مطابق سوڈیم نائٹرائٹ اور نائٹریٹس،جو عام طور پر ساسیجز اور دیگر پراسیس شدہ گوشت میں پریزرویٹو کے طور پر استعمال ہوتے ہیں ، مختلف اقسام کے کینسر سے منسلک پائے گئے ہیں۔ ان میں مجموعی کینسر کے ساتھ ساتھ چھاتی اور پروسٹیٹ کینسر بھی شامل ہیں۔سب سے مضبوط تعلق سوڈیم نائٹرائٹ اور پروسٹیٹ کینسر کے درمیان دیکھا گیا جس میں خطرے میں تقریباً ایک تہائی اضافہ سامنے آیا۔ تاہم محققین نے یہ بھی واضح کیا کہ یہ اضافہ اب بھی محدود نوعیت کا ہے۔
خاص طور پر جب اس کا موازنہ تمباکو نوشی جیسے عوامل سے کیا جائے جو کینسر کے خطرے کو کئی گنا بڑھا دیتے ہیں۔دوسری تحقیق میں خوراک کے پریزرویٹوز اور ٹائپ ٹو ذیابیطس کے درمیان تعلق واضح ہوتا ہے۔ اس میں پوٹاشیم سوربیٹ کا جائزہ لیا گیا ہے جو خوراک اور مشروبات میں پھپھوندی اور بیکٹیریا کی افزائش روکنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔تحقیق کے مطابق اس پریزرویٹو کے زیادہ استعمال سے ذیابیطس کے خطرے میں دو گنا تک اضافہ دیکھا گیا۔ان تحقیقات کی نگرانی کرنے والی فرانسیسی ماہر ِ وبائیات کے مطابق ان نتائج کا یہ مطلب نہیں کہ پریزرویٹو والی خوراک کھاتے ہی کوئی شخص بیماری میں مبتلا ہو جائے گا۔اصل مسئلہ فوری نقصان نہیں بلکہ طویل مدت میں ان مادوں کی زیادہ مقدار سے پیدا ہونے والے خطرات ہیں۔انہوں نے عوام کو مشورہ دیا کہ کم سے کم پراسیس شدہ خوراک کو ترجیح دی جائے۔کنگز کالج لندن کے غذائی ماہر ٹام سینڈرز نے تجویز دی کہ نائٹریٹس اور نائٹرائٹس والی غذاؤں پر صحت سے متعلق انتباہی لیبل لگانے پر غور کیا جا نا چاہیے ۔
آگاہی اور توازن
یہ تحقیقات خوف پیدا کرنے کے بجائے شعور اجاگر کرتی ہیں۔ جدید دور میں پریزرویٹو سے مکمل اجتناب شاید ممکن نہ ہو مگر ان کا بے جا استعمال صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔تازہ اور قدرتی غذا، سبزیوں اور پھلوں کا زیادہ استعمال اور انتہائی پراسیس شدہ خوراک سے پرہیز وہ اقدامات ہیں جو نہ صرف کینسر اور ذیابیطس بلکہ کئی دیگر بیماریوں کے خطرات کو بھی کم کر سکتے ہیں۔