پریزرویٹو:کینسر اور ذیابیطس کے خدشات

پریزرویٹو:کینسر اور ذیابیطس کے خدشات

اسپیشل فیچر

تحریر : محمد حذیفہ


بازاروں میں دستیاب زیادہ تر پیک شدہ اور تیار شدہ غذاؤں میں مختلف کیمیائی مادے(پریزرویٹو) شامل ہوتے ہیں جن کا بنیادی مقصد خوراک کو خراب ہونے سے بچانا، شیلف لائف بڑھانا اور ذائقے اور رنگ کو برقرار رکھنا ہوتا ہے مگر حالیہ سائنسی تحقیقات نے پریزرویٹوز کے بارے میں سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔فرانس میں ہونے والی دو بڑی تحقیقات، جو عالمی شہرت یافتہ سائنسی جرائد بی ایم جے (BMJ) اور نیچر کمیونیکیشنز (Nature Communications) میں شائع ہوئیں، اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ خوراک میں استعمال ہونے والے بعض عام پریزرویٹو کینسر اور ٹائپ ٹو ذیابیطس کے خطرے میں اضافہ کر سکتے ہیں۔یہ مطالعات ایک جاری تحقیقی منصوبے کا حصہ ہیں جس میں ایک لاکھ سے زائد فرانسیسی شہریوں نے شرکت کی۔ شرکا سے طویل عرصے تک ان کی روزمرہ خوراک، مشروبات اور طرزِ زندگی سے متعلق تفصیلات حاصل کی جاتی رہیں۔ ان معلومات کی بنیاد پر ماہرین نے مختلف پریزرویٹوز اور بیماریوں کے درمیان ممکنہ تعلقات کا تجزیہ کیا۔
پراسیسڈ گوشت میں چھپا خطرہ
تحقیق کے مطابق سوڈیم نائٹرائٹ اور نائٹریٹس،جو عام طور پر ساسیجز اور دیگر پراسیس شدہ گوشت میں پریزرویٹو کے طور پر استعمال ہوتے ہیں ، مختلف اقسام کے کینسر سے منسلک پائے گئے ہیں۔ ان میں مجموعی کینسر کے ساتھ ساتھ چھاتی اور پروسٹیٹ کینسر بھی شامل ہیں۔سب سے مضبوط تعلق سوڈیم نائٹرائٹ اور پروسٹیٹ کینسر کے درمیان دیکھا گیا جس میں خطرے میں تقریباً ایک تہائی اضافہ سامنے آیا۔ تاہم محققین نے یہ بھی واضح کیا کہ یہ اضافہ اب بھی محدود نوعیت کا ہے۔
خاص طور پر جب اس کا موازنہ تمباکو نوشی جیسے عوامل سے کیا جائے جو کینسر کے خطرے کو کئی گنا بڑھا دیتے ہیں۔دوسری تحقیق میں خوراک کے پریزرویٹوز اور ٹائپ ٹو ذیابیطس کے درمیان تعلق واضح ہوتا ہے۔ اس میں پوٹاشیم سوربیٹ کا جائزہ لیا گیا ہے جو خوراک اور مشروبات میں پھپھوندی اور بیکٹیریا کی افزائش روکنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔تحقیق کے مطابق اس پریزرویٹو کے زیادہ استعمال سے ذیابیطس کے خطرے میں دو گنا تک اضافہ دیکھا گیا۔ان تحقیقات کی نگرانی کرنے والی فرانسیسی ماہر ِ وبائیات کے مطابق ان نتائج کا یہ مطلب نہیں کہ پریزرویٹو والی خوراک کھاتے ہی کوئی شخص بیماری میں مبتلا ہو جائے گا۔اصل مسئلہ فوری نقصان نہیں بلکہ طویل مدت میں ان مادوں کی زیادہ مقدار سے پیدا ہونے والے خطرات ہیں۔انہوں نے عوام کو مشورہ دیا کہ کم سے کم پراسیس شدہ خوراک کو ترجیح دی جائے۔کنگز کالج لندن کے غذائی ماہر ٹام سینڈرز نے تجویز دی کہ نائٹریٹس اور نائٹرائٹس والی غذاؤں پر صحت سے متعلق انتباہی لیبل لگانے پر غور کیا جا نا چاہیے ۔
آگاہی اور توازن
یہ تحقیقات خوف پیدا کرنے کے بجائے شعور اجاگر کرتی ہیں۔ جدید دور میں پریزرویٹو سے مکمل اجتناب شاید ممکن نہ ہو مگر ان کا بے جا استعمال صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔تازہ اور قدرتی غذا، سبزیوں اور پھلوں کا زیادہ استعمال اور انتہائی پراسیس شدہ خوراک سے پرہیز وہ اقدامات ہیں جو نہ صرف کینسر اور ذیابیطس بلکہ کئی دیگر بیماریوں کے خطرات کو بھی کم کر سکتے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
14 جنوری ورلڈ لاجک ڈے:عقل،دلیل اور سچ کی عالمی ضرورت

14 جنوری ورلڈ لاجک ڈے:عقل،دلیل اور سچ کی عالمی ضرورت

ہر سال 14 جنوری کو دنیا بھر میں ورلڈ لاجک ڈے (World Logic Day) منایا جاتا ہے، جسے یونیسکو نے باقاعدہ طور پر تسلیم کیا ہے۔ اس دن کا بنیادی مقصد منطق (Logic)، تنقیدی سوچ (Critical Thinking) اور معقول استدلال کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے تاکہ افراد اور معاشرے جذبات، تعصبات اور غلط معلومات کے بجائے عقل و دلیل کی بنیاد پر فیصلے کر سکیں۔ آج کے پیچیدہ اور تیز رفتار دور میں جہاں معلومات کی بھرمار ہے مگر سچ تک رسائی مشکل ہو چکی ہے ورلڈ لاجک ڈے کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔منطق کیا ہے؟منطق دراصل سوچنے کا وہ منظم طریقہ ہے جس کے ذریعے ہم دلائل کو پرکھتے ہیں، نتائج اخذ کرتے ہیں اور سچ اور جھوٹ میں فرق کرتے ہیں۔ یہ صرف فلسفے تک محدود نہیں بلکہ سائنس، ریاضی، قانون، صحافت، ٹیکنالوجی، سیاست اور روزمرہ زندگی کے فیصلوں میں بھی بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ منطقی ذہن جذبات سے بالاتر ہو کر حقائق کو دیکھتا ہے اور ثبوت کی بنیاد پر رائے قائم کرتا ہے۔ورلڈ لاجک ڈے کا پس منظرنومبر 2019ء میں یونیسکو نے بین الاقوامی کونسل برائے فلسفہ اور انسانی علوم (CIPSH) کے اشتراک سے ہر سال 14 جنوری کوورلڈ لاجک ڈے منانے کا اعلان کیا۔ اس دن کو منانے کا فیصلہ اس لیے کیا گیا کہ جدید دنیا میں عقلی مکالمہ کمزور پڑتا جا رہا ہے‘ سوشل میڈیا، افواہوں اور سازشی نظریات اور جذباتی بیانیوں نے منطق کو پس منظر میں دھکیل دیا ہے۔ ورلڈ لاجک ڈے ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انسانی ترقی کا انحصار صرف ٹیکنالوجی پر نہیں بلکہ سوچ کے معیار پر بھی ہے۔ یہ دن فلسفی کرٹ گوڈل(Kurt Gödel) کی سالگرہ کے قریب بھی آتا ہے، جو منطق اور ریاضی کے عظیم مفکر مانے جاتے ہیں۔سائنس اور ٹیکنالوجی میں منطقسائنس کی بنیاد ہی منطق پر ہے۔ تجربہ، مشاہدہ اور نتیجہ یہ سب منطقی ترتیب کے بغیر ممکن نہیں۔ اسی طرح کمپیوٹر سائنس، آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور پروگرامنگ میں لاجک بنیادی ستون کی حیثیت رکھتی ہے۔ اگر منطق نہ ہو تو جدید ٹیکنالوجی کا تصور بھی ممکن نہیں۔ ورلڈ لاجک ڈے اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ سائنسی ترقی عقل و دلیل کی مرہونِ منت ہے۔تعلیمی نظام میں منطق کو مرکزی حیثیت حاصل ہونی چاہیے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں رٹاسسٹم کو ترجیح دی جاتی ہے جس میں سوال اٹھانے، دلیل دینے اور تجزیہ کرنے پر کوئی توجہ نہیں۔ منطقی تعلیم طلبہ کو نہ صرف بہتر طالب علم بناتی ہے بلکہ ذمہ دار شہری بھی تیار کرتی ہے۔ ایسے افراد فیصلے کرتے وقت جذبات کے بجائے حقائق کو ترجیح دیتے ہیں اور اختلافِ رائے کو برداشت کرنا سیکھتے ہیں۔میڈیا، سیاست اور منطقمیڈیا اور سیاست میں منطقی سوچ کی کمی کے نتائج ہم روز دیکھتے ہیں۔ سنسنی خیزی، نیم سچائیاں اور جذباتی نعروں نے عوامی مکالمے کو نقصان پہنچایا ہے۔ منطقی صحافت وہ ہے جو خبر کو سیاق و سباق کے ساتھ پیش کرے اور سوال اٹھائے ۔ اسی طرح سیاست میں منطق پر مبنی مباحث جمہوریت کو مضبوط بنا سکتے ہیں۔غلط معلومات کیخلاف ڈھالآج کا سب سے بڑا چیلنج غلط معلومات اور جھوٹی خبروں کا پھیلاؤ ہے، جبکہ ایک منطقی ذہن ہر خبر کو فوراً قبول نہیں کرتا بلکہ اس کے ماخذ، شواہد اور مقصد کو پرکھتا ہے۔ ورلڈ لاجک ڈے اس شعور کو فروغ دیتا ہے کہ ہر وائرل ہونے والی بات سچ نہیں ہوتی، اور سچ تک پہنچنے کے لیے سوال کرنا ضروری ہے۔معاشرتی ہم آہنگی اور برداشتمنطق صرف سوچنے کا طریقہ نہیں بلکہ برداشت سکھانے کا ذریعہ بھی ہے۔ جب لوگ دلیل سننے اور دینے کے عادی ہوں تو اختلاف دشمنی میں نہیں بدلتا۔ منطقی مکالمہ معاشرے میں رواداری، برداشت اور امن کو فروغ دیتا ہے۔ مختلف نظریات کے باوجود ایک دوسرے کو سننا اور سمجھنا ہی مہذب معاشرے کی علامت ہے۔پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں ورلڈ لاجک ڈے کی اہمیت دوچند ہو جاتی ہے۔ یہاں جذباتی بیانیے، تعصبات اور افواہیں اکثر عقل پر غالب آ جاتی ہیں۔ اگر تعلیمی اداروں، میڈیا اور پالیسی سازی میں منطقی سوچ کو فروغ دیا جائے تو معاشرتی مسائل، انتہاپسندی اور عدم برداشت میں واضح کمی آ سکتی ہے۔ورلڈ لاجک ڈے ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ ترقی کا راستہ صرف جذبات یا طاقت سے نہیں بلکہ عقل، دلیل اور سچائی سے ہو کر گزرتا ہے۔ منطقی معاشرہ وہی ہوتا ہے جہاں سوال کرنا جرم نہیں بلکہ حق سمجھا جاتا ہے، جہاں اختلاف کو برداشت کیا جاتا ہے اور فیصلے ثبوت کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں۔ آج کے الجھن سے بھرے دور میں منطق ہی وہ روشنی ہے جو ہمیں سچ کی طرف لے جا سکتی ہے۔14 جنوری کو منایا جانے والا ورلڈ لاجک ڈے دراصل ایک دن نہیں بلکہ ایک سوچ، ایک رویہ اور ایک عالمی ضرورت کی یاد دہانی ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

پانی پت کی تیسری جنگ14 جنوری 1761ء کوپانی پت کی تیسری جنگ لڑی گئی۔ یہ جنگ افغان حکمران احمد شاہ ابدالی اور مرہٹہ سلطنت کے درمیان ہوئی۔ اس وقت مرہٹے تقریباً پورے ہندوستان پر غلبہ حاصل کر چکے تھے اور دہلی تک ان کی عملداری تھی۔جنگ میں دونوں جانب سے لاکھوں فوجی شریک تھے۔ شدید سردی، رسد کی کمی اور طویل محاصرے نے مرہٹہ فوج کو کمزور کر دیا۔ بالآخر احمد شاہ ابدالی کی افواج نے فیصلہ کن حملہ کر کے مرہٹوں کو شکست دی۔ مارٹن لوتھر کی پیدائش14 جنوری 1929ء کو امریکہ میں مارٹن لوتھر کنگ جونیئر پیدا ہوئے جو بعد میں دنیا کے عظیم ترین انسانی حقوق رہنماؤں میں شمار ہوئے۔ وہ نسلی امتیاز کے خلاف جدوجہد کی علامت بنے اور سیاہ فام امریکیوں کو مساوی حقوق دلانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔مارٹن لوتھر کنگ نے اپنی جدوجہد میں عدم تشدد کے فلسفے کو اپنایا۔ ان کی مشہور تقریر''I Have a Dream‘‘ آج بھی انصاف اور مساوات کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ 1964 میں انہیں نوبیل امن انعام دیا گیا۔ اگرچہ 1968 میں انہیں قتل کر دیا گیا، لیکن ان کی جدوجہد آج بھی دنیا بھر میں انسانی حقوق کی تحریکوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔پہلی جوہری آبدوز 14 جنوری 1954ء کو امریکہ نے جوہری توانائی سے چلنے والی دنیا کی پہلی آبدوز یو ایس ایس نیو ٹلس کو سمندر میں اتارا۔یہ واقعہ فوجی اور سائنسی تاریخ میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس سے قبل آبدوزیں محدود وقت تک ہی پانی کے اندر رہ سکتی تھیں لیکن جوہری ری آبدوز طویل مدت تک بغیر ابھرے سمندر میں سفر کر سکتی ہے۔ اس ایجاد نے بحری جنگی حکمتِ عملی کو مکمل طور پر بدل دیا۔سرد جنگ کے دور میں یہ ٹیکنالوجی امریکہ کے لیے سٹریٹیجک برتری کا سبب بنی۔ 1958ء میں نیوٹلس نے شمالی قطب کے نیچے سے گزر کر ایک تاریخی کارنامہ انجام دیا۔پہلی سپر باؤل کا انعقاد14 جنوری 1967ء کو امریکہ میں پہلی مرتبہ سپر باؤل فٹبال میچ کھیلا گیا۔ یہ مقابلہ گرین بے پیکرز اور کنساس سٹی چیفس کے درمیان ہوا جس میں گرین بے پیکرز نے کامیابی حاصل کی۔ابتدا میں اس میچ کو اتنی بڑی اہمیت حاصل نہیں تھی لیکن وقت کے ساتھ سپر باؤل امریکہ میں کھیلوں کا سب سے بڑا تہوار بن گیا۔ آج یہ ایونٹ صرف کھیل تک محدود نہیں بلکہ موسیقی، تفریح، اشتہارات اور معیشت کا بڑا مرکز بن چکا ہے۔سپر باؤل کے دوران نشر ہونے والے اشتہارات دنیا کے مہنگے ترین اشتہارات میں شمار ہوتے ہیں۔ کیسابلانکا کانفرنس کا آغاز14 جنوری 1943ء کو دوسری جنگِ عظیم کے دوران کیسابلانکا کانفرنس کا آغاز ہوا۔ یہ اہم اجلاس مراکش کے شہر کیسابلانکا میں منعقد ہوا جس میں امریکی صدر فرینکلن ڈی روزویلٹ اور برطانوی وزیراعظم ونسٹن چرچل شریک ہوئے۔اس کانفرنس میں اتحادی افواج کی جنگی حکمتِ عملی پر غور کیا گیا اور فیصلہ کیا گیا کہ جرمنی اور اس کے اتحادیوں سے غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا جائے گا۔ کیسابلانکا کانفرنس کے فیصلوں کی بنیاد پر بعد میں یورپ میں بڑے فوجی حملے کیے گئے جن میں اٹلی پر حملہ بھی شامل تھا۔

 جین زی اور تعلیمی بحران :تنقیدی سوچ اور تجزیاتی صلاحیت کے چیلنجز

جین زی اور تعلیمی بحران :تنقیدی سوچ اور تجزیاتی صلاحیت کے چیلنجز

حالیہ برسوں میں تعلیمی اداروں اور اساتذہ کیلئے ایک نیا چیلنج پیدا ہوا ہے۔ جین زی( 1997ء اور 2012ء کے درمیان پیدا ہونے والے) کے طلباکی پڑھنے اور سمجھنے کی صلاحیت میں کمی نے نہ صرف تعلیمی معیار کے حوالے سے سوالات پیدا کیے ہیں بلکہ اس سے مستقبل کے کریئر اور سماجی ترقی پر بھی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ 'Fortune‘میگزین کے ایک تازہ آرٹیکل کے مطابق ماہرینِ تعلیم نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ جین زی کے طلبااکثر نصابی مواد کو خود سے سمجھنے یا تجزیہ کرنے میں مشکلات کا سامنا کرتے ہیں ۔اساتذہ کی رائے میں، کئی طلباایسے ہیں جن کی پڑھنے کی صلاحیت نمایاں طور پر کمزور ہے۔ یہ کمی صرف تنقیدی سوچ یا تجزیاتی صلاحیت کی کمی نہیں بلکہ الفاظ کو صحیح طور پر سمجھنے اور جملوں کی گہرائی میں جانے کی صلاحیت سے متعلق ہے۔ بہت سے طلبا نصابی کتب کو خود سے پڑھ کر سمجھنے کے بجائے خلاصے یا امدادی نوٹس پر انحصار کرتے ہیں جو صرف ظاہری معلومات فراہم کرتے ہیں لیکن اصل معنی اور گہرائی تک پہنچنے میں مددگار نہیں۔یہ رجحان تعلیمی اداروں میں اساتذہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ اساتذہ مجبور ہو کر کلاس روم میں مواد کو بار بار دہراتے ہیں، اہم جملوں اور پیراگراف کی وضاحت کرتے ہیں اور بعض اوقات نصاب کو آسان زبان میں پیش کرنے پر مجبور ہیں۔ ان کے مطابق یہ اقدامات تعلیمی معیار کو کم کرنے کے لیے نہیں بلکہ طلباکی بنیادی صلاحیتیں بہتر بنانے کے لیے ہیں تاکہ وہ بعد میں زیادہ پیچیدہ نصاب اور تحقیقی مواد کو سمجھ سکیں۔تعلیمی رویوں میں تبدیلیاساتذہ کی ایک بڑی تعداد کے مطابق وہ اپنی تدریسی حکمت عملی میں تبدیلی لا رہے ہیں مثال کے طور پر کچھ اساتذہ نصاب کو چھوٹے حصوں میں تقسیم کر کے پڑھاتے ہیں، کلاس میں سوالات کے ذریعے طلبا کی سمجھ بوجھ کو پرکھتے ہیں اور مواد کی وضاحت کے لیے جدید تدریسی ٹولز جیسے ویڈیو اور انٹرایکٹو گیمز کا استعمال کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ طلباکو اعتماد دینے کے لیے بعض اساتذہ گریڈز کے دباؤ کو کم کر کے انہیں زیادہ پرسکون ماحول فراہم کر رہے ہیں۔یہ اقدامات اس بات کی علامت ہیں کہ تعلیم کا مقصد صرف امتحان میں کامیابی نہیں بلکہ طلباکی تفہیم، تجزیہ اور علمی سوچ کو فروغ دینا بھی ہے۔ تاہم یہ بھی واضح ہے کہ اگر پڑھنے کی صلاحیت میں کمی برقرار رہی تو یہ بعد میں نہ صرف تعلیمی بلکہ پیشہ ورانہ زندگی میں بھی مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔جین زی کی عادات اور سماجی تبدیلیاںماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ جین زی کی پڑھنے کی صلاحیت میں کمی کی وجہ صرف تعلیمی اداروں کی ناکامی نہیں بلکہ معاشرتی اور ثقافتی تبدیلیاں بھی ہیں۔ حالیہ سروے کے مطابق تقریباً نصف امریکی افراد نے 2025ء میں ایک بھی کتاب نہیں پڑھی اور نوجوانوں کی پڑھنے کی عادات سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہیں۔ اس کا تعلق موبائل فون، سوشل میڈیااور فوری معلومات کے رجحان سے ہے جو طویل اور پیچیدہ مواد کو سمجھنے کی عادت کو کمزور کر رہا ہے۔اس کے علاوہ جین زی کے نوجوانوں میں خود اعتمادی کی کمی اور اضطراب کے مسائل بھی بڑھ گئے ہیں۔ اساتذہ کے مطابق یہ عوامل پڑھنے کے عمل کو مزید مشکل بنا دیتے ہیں۔ طلباجب پڑھنے کی عادت سے محروم ہوں تو وہ اکثر شارٹ نوٹس، خلاصے یا AI کی مدد پر انحصار کرتے ہیں جس سے اصل علمی مواد سے دوری بڑھتی ہے۔تعلیمی اور پیشہ ورانہ مستقبل پر اثراتاساتذہ اور ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ اگر اس رجحان پر قابو نہ پایا گیا تو جین زی کی تعلیم اور مستقبل میں کیریئر کی تیاری پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ پڑھنے کی صلاحیت نہ صرف تعلیمی کامیابی بلکہ سماجی فہم اور تنقیدی سوچ کے لیے بھی بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ وہ طلباجو کتابوں اور تحقیقی مواد کو گہرائی سے نہیں پڑھ پاتے وہ معاشرتی اور پیشہ ورانہ مواقع سے بھی پیچھے رہ سکتے ہیں۔جین زی کی تعلیمی صلاحیت بہتر بنانے کے لیے تجاویزپڑھنے کی عادت کو فروغ دینا: والدین اور اساتذہ کو چاہیے کہ ابتدائی عمر سے طلباکو کتابیں پڑھنے کی عادت ڈالیں۔ کہانیاں، ناول اور معلوماتی کتابیں بچوں کو سوچنے اور سوال کرنے کی صلاحیت بڑھاتی ہیں۔ نصابی مواد کو مرحلہ وار سمجھانا: اساتذہ کو چاہیے کہ نصاب کو چھوٹے حصوں میں تقسیم کریں، اہم نکات پر توجہ دیں اور کلاس میں سوالات کے ذریعے طلباکی سمجھ بوجھ کو جانچیں۔ تکنیکی وسائل کا مناسب استعمال: ویڈیوز، پوڈکاسٹس اور انٹرایکٹو ایپلی کیشنز کا استعمال طلباکو پیچیدہ مواد کو سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے مگر یہ ضروری ہے کہ یہ صرف معاون ٹول کے طور پر استعمال ہوں نہ کہ متبادل کے طور پر۔ تنقیدی سوچ اور تجزیاتی صلاحیت : اساتذہ کو طلباکو سوالات کرنے اور خود سے جواب تلاش کرنے کی تربیت دینی چاہیے۔ اس سے نہ صرف تعلیمی صلاحیت بہتر ہوگی بلکہ پیشہ ورانہ زندگی کے لیے بھی تیاری ہوگی۔ اعتماد اور ذہنی سکون کی اہمیت: طلباکو اضطراب کم کرنے اور خود اعتمادی بڑھانے کے لیے کلاس روم میں پرسکون ماحول فراہم کرنا ضروری ہے۔ جب طلبا غیر ضروری دباؤ سے آزاد ہوں تو وہ بہتر طریقے سے پڑھ سکتے ہیں اور سوچ سکتے ہیں۔جین زی کے طلباکی پڑھنے کی صلاحیت میں کمی کا مسئلہ تعلیمی معیار، سماجی شعور اور مستقبل کی پیشہ ورانہ تیاری پر اثر ڈال رہا ہے۔اگرچہ اساتذہ نے اپنی تدریسی حکمت عملیوں میں تبدیلیاں کی ہیں تاکہ طلباکو بہتر تربیت دی جا سکے لیکن یہ مسئلہ صرف تعلیمی اداروں کے ذریعے حل نہیں ہو سکتا۔ والدین، معاشرہ اور خود طلباکو بھی ذمہ داری لینا ہوگی۔اگر ابتدائی عمر سے کتاب پڑھنے کی عادت ڈالیں، نصاب کو مرحلہ وار سمجھیں، تکنیکی وسائل کو مؤثر استعمال کریں اور تنقیدی سوچ اور اعتماد کو فروغ دیں تو جین زی نہ صرف تعلیمی معیار میں بہتری لاسکتے ہیں بلکہ مستقبل میں سماجی اور پیشہ ورانہ میدان میں بھی کامیاب ہو سکتے ہیں۔

لوہڑی :پنجابی ثقافت، لوک گیتوں اور رسومات کا تہوار

لوہڑی :پنجابی ثقافت، لوک گیتوں اور رسومات کا تہوار

جنوری کی ٹھنڈی رات، کھلے آسمان تلے دہکتا الاؤ، ڈھول کی تھاپ اور لوک گیتوں کی گونج ‘یہ منظر پنجاب کے قدیم تہوار لوہڑی کا ہے جو ہر سال 13 جنوری کو منایا جاتا ہے۔ لوہڑی محض ایک موسمی یا تفریحی تقریب نہیں بلکہ پنجابی تہذیب، زرعی سماج، اجتماعی خوشی اور شکرگزاری کی ایک زندہ علامت ہے۔ پنجاب ایک زرعی خطہ رہا ہے اور یہاں کے بیشتر تہوار فصلوں اور موسموں سے جڑے ہوئے ہیں۔ لوہڑی کا تعلق خاص طور پر گندم کی فصل سے ہے۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب گندم کھیتوں میں جوان ہو رہی ہوتی ہے اور کسان آنے والی فصل کی امید میں قدرت کا شکر ادا کرتے ہیں۔ اسی لیے لوہڑی کو کسانوں کا تہوار بھی کہا جاتا ہے۔ قدیم زمانے میں سورج کو زندگی کی علامت سمجھا جاتا تھا اور لوہڑی دراصل سورج کی حرارت، روشنی اور نئے زرعی چکر کے آغاز کا جشن ہے۔لوہڑی کی سب سے نمایاں اور مرکزی رسم الاؤ جلانا ہے۔ شام کے وقت گاؤں، محلوں اور کھلے میدانوں میں لکڑیاں جمع کر کے آگ جلائی جاتی ہے۔ مونگ پھلی، مکئی کے دانے اور گڑ ڈال کا مرونڈا بنایا جاتا ہے جو فصل کی برکت اور خوشحالی کی علامت کے طور پر تقسیم کیا جاتا ہے جبکہ الاؤ سردی کے خاتمے اور نئی امید کی علامت سمجھا جاتا ہے۔لوہڑی کا ذکر لوک گیتوں کے بغیر ادھورا ہے۔ اس موقع پر گایا جانے والا سب سے مشہور گیت پنجابی لوک ہیرو دلا بھٹی سے منسوب ہے جسے بچے اور بڑے سب مل کر گاتے ہیں:سندریے مندریے ؍تیرا کون وچارہ ؍دلا بھٹی والا ہو؍دلے دی دھی ویاہی؍ سیر شکّر پائی ۔یہ گیت دلا بھٹی کی بہادری، سخاوت اور مظلوموں کی مدد کی یاد دلاتا ہے۔ روایت کے مطابق بچے ٹولیوں کی صورت میں گھروں کے دروازوں پر جا کر یہ گیت گاتے ہیں اور بدلے میں مونگ پھلی، گجک، ریوڑیاں یا کچھ رقم وصول کرتے ہیں۔ یہ روایت نہ صرف تفریح کا ذریعہ ہے بلکہ بچوں میں اجتماعی سرگرمی اور ثقافتی شعور کو بھی فروغ دیتی ہے۔ لوہڑی کے موقع پر ڈھول اور بھنگڑا خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ نوجوان الاؤ کے گرد بھنگڑا ڈال کر اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہیں جبکہ خواتین مخصوص پنجابی بولیاں گاتی ہیں۔ دیہی علاقوں میں بزرگ لوک کہانیاں سناتے ہیں، جن میں دلا بھٹی، ہیر رانجھا اور دیگر لوک کرداروں کا ذکر ملتا ہے۔ اس طرح لوہڑی نسل در نسل ثقافت کی منتقلی کا ذریعہ بھی بنتی ہے۔لوہڑی کی ایک اہم روایت نئی شادی یا بچے کی پیدائش پر خصوصی لوہڑی منانا ہے۔ جن گھروں میں نئی دلہن آئی ہو یا پہلا بچہ پیدا ہوا ہو وہاں لوہڑی بڑے اہتمام سے منائی جاتی ہے۔ دلہن کو مٹھائیاں، کپڑے اور تحائف دیے جاتے ہیں جبکہ نومولود کے لیے دعائیں کی جاتی ہیں۔ اس رسم کا مقصد خوشی کو خاندان اور برادری کے ساتھ بانٹنا ہوتا ہے۔کھانے پینے کے بغیر لوہڑی کا تصور ممکن نہیں۔ اس دن مکئی کی روٹی اور سرسوں کا ساگ خصوصی طور پر تیار کیا جاتا ہے جبکہ گجک، ریوڑیاں، مونگ پھلی، تل اور گڑ ہر دسترخوان کا حصہ ہوتے ہیں۔ یہ غذائیں سرد موسم کے مطابق توانائی بخش سمجھی جاتی ہیں اور پنجابی ذائقوں کی پہچان ہیں۔دیہی پنجاب میں لوہڑی آج بھی اپنی اصل روح کے ساتھ منائی جاتی ہے۔ شہری علاقوں میں اگرچہ لوہڑی کی شکل کچھ حد تک بدل گئی ہے تاہم ثقافتی تنظیمیں، تعلیمی ادارے اور پنجابی برادری اس تہوار کو ثقافتی دن کے طور پر مناتی ہے۔ لوہڑی کے پروگرام، بھنگڑا، لوک گیت اور پنجابی لباس اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ روایت اب بھی زندہ ہے۔پاکستان میں لوہڑی کو سرکاری سطح پر وہ مقام حاصل نہیں جو بھارتی پنجاب میں ہے مگر اس کے باوجود یہ تہوار پنجابی شناخت کی علامت کے طور پر منایا جاتا ہے۔ یہ ہمیں اپنی جڑوں، زمین اور اجتماعی اقدار کی یاد دلاتا ہے۔لوہڑی کا اصل پیغام اتحاد، شکرگزاری اور خوشی بانٹنے کا ہے۔ ایک ہی الاؤ کے گرد امیر و غریب، چھوٹے بڑے سب کا اکٹھا ہونا معاشرتی ہم آہنگی کی خوبصورت مثال ہے۔ آج کے تیز رفتار اور مادہ پرستی کے دور میں لوہڑی جیسے تہوار انسان کو سادگی، روایت اور رشتوں کی اہمیت یاد دلاتے ہیں۔ لوہڑی صرف ایک رات کا جشن نہیں بلکہ پنجاب کی روح، کسان کی محنت اور لوک ثقافت کا آئینہ ہے۔ جب تک الاؤ جلتے رہیں گے اور لوک گیت گونجتے رہیں گے، تب تک لوہڑی زندہ رہے گی اور اس کے ساتھ پنجابی تہذیب کی گرمائش بھی۔

آج کا دن

آج کا دن

لیتھوانیا کا وِلنِیئس قتلِ عام 13 جنوری 1991ء کو لیتھوانیا میں ایک المناک واقعہ پیش آیا جسے Vilnius Massacre کہا جاتا ہے۔ اس دن سوویت یونین کی فوج نے لیتھوانیا کی دارالحکومت ولنیئس میں پرامن آزادی پسند مظاہرین پر حملہ کیا۔ سوویت افواج اور بلیٹسٹا فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا جس کے نتیجے میں چودہ شہری ہلاک اور سو سے زائد زخمی ہوئے۔یہ واقعہ نہ صرف لیتھوانیا بلکہ پورے مشرقی یورپ میں سویت کے خلاف آزادی کی تحریک کے لیے تحریک کا باعث بنا، بالآخر 1991 میں لیتھوانیا نے اپنی آزادی حاصل کی۔ رہوڈز اوپیرا ہاؤس کی تباہی 13 جنوری 1908ء کو امریکہ کے شہر بویرو ٹاؤن پنسلوانیا کے اوپیرا ہاؤس میں شدید آتشزدگی سے تقریباً 171 افراد ہلاک ہو گئے۔اوپیرا ہاؤس اس وقت ایک اہم تفریحی مقام تھا جہاں تھیٹر شو، میوزیکل پرفارمنس اور دیگر عوامی اجتماعات ہوتے تھے۔یہ واقعہ امریکی تاریخ میں سرکاری اور عوامی عمارات میں حفاظتی انتظامات کی ناقص صورتحال کی واضح مثال کے طور پر یاد رکھا جاتا ہے۔ اس کے بعد سے فائر سیفٹی قواعد و ضوابط سخت کیے گئے ، عوامی مقامات میں ایگزٹ راستوں، فائر الارم اور حفاظتی تربیت کو لازمی قرار دیا گیا۔ چیلیانوالہ کی لڑائی 13 جنوری 1849ء کو چیلیانوالہ (ضلع منڈی بہائوالدین) میں سکھوں اور برطانوی فوج کے درمیان ایک بڑی جنگ ہوئی جس میں شیر سنگھ کی کمان میں سکھ فوج نے غیر معمولی بہادری کا مظاہرہ کیا ۔ انگریز فوج کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا۔ اس شکست کی اطلاع ملتے ہی برطانیہ میں صف ماتم بچھ گئی اورکمانڈر انچیف لارڈ ہیوگ گف کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ ملکہ وکٹوریہ نے کمانڈر انچیف کو واپس بلانے کا اعلان کر دیا اورچارلس نیپئر کو جو اس سے پہلے سندھ اور بلوچستان فتح کر چکا تھا لارڈ گف کی جگہ کمانڈر انچیف مقرر کرکے بھیجا۔ ڈیٹا سِگما تھیٹا سوسائٹی کا قیام13 جنوری 1912 کو امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں موجودہاورڈ یونیورسٹی میں افریقی نژاد امریکی خواتین کی سب سے بڑی سوشل اور فلاحی تنظیم Delta Sigma Thetaکا قیام عمل میں آیا۔یہ سوسائٹی ایک ایسا پلیٹ فارم تھی جو تعلیم، سماجی خدمت، برابری اور انسانی حقوق کے لیے وقف تھی۔ جس وقت یہ تنظیم بنی اس وقت امریکہ میں نسلی امتیازاور سماجی ناانصافی عروج پر تھی۔ ڈیٹا سِگما تھیٹا نے خواتین کو نہ صرف تعلیم کے لیے آگے بڑھایا بلکہ حق رائے دہی، صحت، اقتصادی مواقع اور برادری کی ترقی جیسے اہم موضوعات پر بھی کام کیا۔نیشنل جیوگرافک سوسائٹی کا قیام13 جنوری 1888 کو واشنگٹن ڈی سی میں نیشنل جیوگرافک کا قیام عمل میں آیا۔یہ سوسائٹی دنیا کی سب سے قدیم اور معتبر جیوگرافیکل تنظیموں میں سے ایک ہے جس کا مقصد زمین، انسان، قدرتی ماحول، دنیا کے مختلف خطوں اور ثقافتوں کی سائنسی تحقیق کو فروغ دینا تھا۔ اس کی بنیاد محققین، سائنسدانوں اور مفکرین نے رکھی تاکہ دنیا کی پیچیدگیوں کو سمجھنے اور لوگوں تک مفید معلومات پہنچانے میں کردار ادا کیا جا سکے۔نیشنل جیوگرافک میگزین، ڈاکومنٹری فلمیں، تحقیقاتی منصوبے اور جغرافیائی ایجوکیشن پروگرام تحقیق اور مشاہدے کا بہترین ذریعہ فراہم کرتے ہیں۔

نیند سے بیماریوں کی پیشگوئی AI پروگرام ’’سلیپ ایف ایم ‘‘ متعارف

نیند سے بیماریوں کی پیشگوئی AI پروگرام ’’سلیپ ایف ایم ‘‘ متعارف

ڈیمینشیا، دل کے دورے، فالج اور کینسر کے خطرے کی پیش گوئی کرنے کی صلاحیتایک خراب رات کی نیند کا مطلب صرف اگلے دن تھکن اور آنکھوں کی سْستی نہیں ہے، بلکہ یہ مستقبل میں آنے والی بعض بیماریوں کے بارے میں بھی اشارے دے سکتی ہے۔ جدید سائنس نے نیند کے رازوں کو سمجھنے میں ایک نیا انقلاب برپا کر دیا ہے۔ ایک ایسا پروگرام تیار کیا گیا ہے جو صرف ایک رات کی نیند کے ڈیٹا کی بنیاد پر آپ کے ڈیمینشیا، دل کے دورے، فالج اور کینسر کے خطرے کی پیش گوئی کر سکتا ہے، وہ بھی تشخیص سے سالوں قبل۔ اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے سائنسدانوں کی تحقیق کے مطابق، یہ ماڈل نیند کے دوران دماغی لہروں، دل کی دھڑکن، سانس اور دیگر حیاتیاتی عوامل کا تجزیہ کر کے مستقبل کی ممکنہ بیماریوں کی نشاندہی کرتا ہے۔سائنسدانوں نے ایک نیا مصنوعی ذہانت (AI) پروگرام تیار کیا ہے جو صرف ایک رات کی نیند کے ڈیٹا کی بنیاد پر ڈیمینشیا، دل کے دورے، فالج اور کینسر کے خطرے کی پیش گوئی کر سکتا ہے ۔اس ماڈل کو ''سلیپ ایف ایم‘‘ (SleepFM) کا نام دیا گیا ہے اور اسے 65ہزار شرکاء کے 5لاکھ 85ہزارگھنٹوں کے نیند کے ڈیٹا پر تربیت دی گئی ہے۔یہ ڈیٹا پولیسومنوگرافی (polysomnography) نامی نیند کے جائزے سے حاصل کیا گیا، جو دماغی لہروں، آنکھوں کی حرکت، پٹھوں کی سرگرمی، دل کی دھڑکن، سانس لینے اور آکسیجن کی سطح کو ریکارڈ کرتا ہے۔اسٹینفورڈ یونیورسٹی کی ٹیم نے پولیسومنوگرافی کے ڈیٹا کا موازنہ الیکٹرانک ہیلتھ ریکارڈز سے کیا، جن میں سے کچھ 25 سال پر محیط تھے۔انہوں نے دریافت کیا کہ 130 مختلف بیماریوں کا اندازہ مریض کے نیند کے ڈیٹا کی بنیاد پر معقول درستگی کے ساتھ لگایا جا سکتا ہے۔ماڈل کی پیش گوئیاں خاص طور پر کینسر، حمل کے دوران پیچیدگیاں، گردش خون کی بیماریاں اور ذہنی عوارض کیلئے درست ثابت ہوئیں۔مصنف جیمز زو(James Zou) کے مطابق ''سلیپ ایف ایم‘‘ بنیادی طور پر نیند کی زبان سیکھ رہا ہے۔ ہمیں خوشی ہوئی کہ مختلف بیماریوں کیلئے یہ ماڈل معلوماتی اور کارآمد پیش گوئیاں کر سکتا ہے۔یہ پروگرام ہر بیماری کے زمرے کیلئے ایک عددی قدر دیتا ہے جو ''سی انڈکس‘‘ (C-index ) کہلاتا ہے۔ڈاکٹر زو کے مطابق تمام ممکنہ افراد کے جوڑوں کیلئے، ماڈل یہ درجہ بندی کرتا ہے کہ کون کس مرض کا پہلے شکار ہو گا۔''سلیپ ایف ایم‘‘ کو پارکنسن کی بیماری کی پیش گوئی میں 89 فیصد درست، ڈیمینشیا میں 85 فیصد درست اور دل کے دورے میں 81 فیصد درست پایا گیاہے۔ یہ ماڈل چھاتی اور پروسٹیٹ کینسر کی پیش گوئی میں بالترتیب 87 اور 89 فیصد درست نکلا، اور موت کے خطرے کی پیش گوئی میں بھی 84 فیصد درستگی حاصل کی گئی۔اگرچہ موجودہ نیند کے مطالعات میں خصوصی طبی آلات کی ضرورت ہوتی ہے، ٹیم کا کہنا ہے کہ ان کے نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ مستقبل میں پولیسومنوگرافی ایک طاقتور ابتدائی تشخیص کا آلہ بن سکتی ہے۔ ٹیم نے یہ بھی دریافت کیا کہ اگرچہ دل کی علامات گردش خون کی بیماریوں کیلئے سب سے زیادہ معلوماتی تھیں، دماغی سرگرمی کے سگنلز ذہنی اور عصبی حالات کیلئے بہتر تھے اور سانس کے سگنلز تنفسی عوارض کی پیش گوئی میں زیادہ معاون ثابت ہوئے۔ تاہم، بہترین مجموعی نتائج وہی آئے جو تمام اقسام کے سگنلز کو ملا کر استعمال کیے گئے۔ڈاکٹر زو نے کہاکہ اس تحقیق میں ہماری تکنیکی پیش رفت یہ ہے کہ ہم نے مختلف ڈیٹا ماڈالٹیز ( data modalities )کو ہم آہنگ کرنا سیکھا تاکہ یہ سب ایک زبان سیکھ کر ایک ساتھ کام کر سکیں۔ہم مصنوعی ذہانت (AI) کی پیش گوئیوں کو مزید بہتر بنانے کے طریقے تلاش کر رہے ہیں، ممکن ہے کہ اس میں ویئر ایبل آلات جیسے ایپل واچ کا ڈیٹا بھی شامل کیا جائے۔جریدے Nature Medicine میں لکھتے ہوئے محققین نے کہا کہ نیند ایک بنیادی حیاتیاتی عمل ہے جس کے جسمانی اور ذہنی صحت پر وسیع اثرات ہیں، تاہم بیماریوں کے ساتھ اس کے پیچیدہ تعلق کو ابھی تک پوری طرح نہیں سمجھا جا سکا۔ایک رات کی نیند کے ڈیٹا سے ''سلیپ ایف ایم‘‘130 مختلف حالتوں کی درست پیش گوئی کرتا ہے، جس کا ''سی انڈکس‘‘ کم از کم 0.75 ہے۔یہ تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ فاؤنڈیشن ماڈلز ملٹی ماڈل نیند کے ریکارڈنگز سے نیند کی زبان سیکھ سکتے ہیں، جو بڑے پیمانے پر، کم لیبل والے تجزیے اور بیماری کی پیش گوئی کو ممکن بناتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی ٹیکنالوجی نہ صرف بیماریوں کی بروقت شناخت ممکن بناتی ہے بلکہ علاج اور احتیاطی تدابیر کے نئے مواقع بھی فراہم کرتی ہے۔