آج کا دن
اسپیشل فیچر
وانزی کانفرنس ''فائنل سلوشن‘‘
20 جنوری 1942 ء کو نازی جرمنی کے دارالحکومت برلن کے قریب ایک علاقے وانزی (Wannsee) میں ایک خفیہ اجلاس میں نازی جرمنی کے اعلیٰ حکام نے یورپ بھر میں موجود یہودیوں کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی کی۔اس اجلاس کی صدارت رائن ہارڈ ہائیڈرِش نے کی جو ایس ایس (SS) کا ایک اعلیٰ افسر تھا جبکہ مختلف سرکاری محکموں کے نمائندے اس میں شریک تھے۔ کانفرنس کا بنیادی مقصد یہ طے کرنا تھا کہ یورپ میں موجود تقریباً ایک کروڑ دس لاکھ یہودیوں کو کس طرح مرحلہ وار ختم کیا جائے۔ اس منصوبے کو ''فائنل سلوشن‘‘ کا نام دیا گیا۔
کینیڈی کی حلف برداری
20 جنوری 1961ء کو جان ایف کینیڈی نے امریکہ کے 35ویں صدر کی حیثیت سے حلف اٹھایا۔ وہ اس وقت امریکہ کے سب سے کم عمر منتخب صدر تھے اور ان کی آمد کو امریکی سیاست میں ایک نئی نسل اور نئی سوچ کی علامت سمجھا گیا۔کینیڈی کی حلف برداری کی تقریب اس لیے بھی تاریخی حیثیت رکھتی ہے کہ ان کی تقریر کو امریکی تاریخ کی بہترین تقاریر میں شمار کیا جاتا ہے۔ ان کا مشہور جملہ تھا ''یہ مت پوچھیں کہ آپ کا ملک آپ کے لیے کیا کر سکتا ہے بلکہ یہ پوچھیں کہ آپ اپنے ملک کے لیے کیا کر سکتے ہیں‘‘۔کینیڈی کے دور میں کیوبا میزائل بحران، خلائی دوڑ اور نسلی امتیاز کے خلاف تحریک جیسے اہم واقعات پیش آئے۔
ریگن کی حلف برداری
20 جنوری 1981ء کو رونالڈ ریگن نے امریکہ کے 40ویں صدر کی حیثیت سے حلف اٹھایا۔ ریگن کی حلف برداری کے ساتھ ہی امریکہ میں قدامت پسند سیاست کا ایک نیا دور شروع ہوا۔ انہوں نے معیشت میں ریگن اکنامکس کے نام سے مشہور پالیسی متعارف کرائی جس میں ٹیکسوں میں کمی، سرکاری اخراجات میں کنٹرول، اور آزاد منڈی پر زور دیا گیا۔خارجہ پالیسی کے میدان میں ریگن نے سوویت یونین کے خلاف سخت مؤقف اپنایا ۔ بعد میں انہی کے دور میں سرد جنگ کے خاتمے کی بنیاد پڑی، خاص طور پر مخائیل گورباچوف کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے۔
اوباما کی پہلی حلف برداری
20 جنوری 2009ء کو باراک حسین اوباما نے امریکہ کے 44ویں صدر کے طور پر حلف اٹھایا۔ وہ امریکہ کے پہلے سیاہ فام صدر تھے۔اوباما نے ایسے وقت میں اقتدار سنبھالا جب امریکہ شدید معاشی بحران اور افغانستان و عراق کی جنگوں میں الجھا ہوا تھا۔ اپنی تقریر میں انہوں نے اتحاد، امید اور تبدیلی کا پیغام دیا۔ ان کا نعرہYes, we can دنیا بھر میں مقبول ہوا۔اوباما کی حلف برداری نے خاص طور پر نوجوانوں اور اقلیتوں میں سیاسی شعور اور اعتماد کو فروغ دیا۔
آذربائیجان کا ''بلیک جنوری‘‘
20 جنوری 1990ء کو آذربائیجان کی تاریخ کا ایک المناک دن پیش آیا، جسے بلیک جنوری کہا جاتا ہے۔ اس دن سوویت فوج نے دارالحکومت باکو میں داخل ہو کر آزادی کے حق میں مظاہرے کرنے والے شہریوں پر طاقت کا شدید استعمال کیا۔ سوویت قیادت کا مقصد آذربائیجان میں بڑھتی قوم پرست تحریک کو کچلنا تھا، مگر اس کے برعکس یہ واقعہ آزادی کی تحریک کو مزید مضبوط کر گیا۔بلیک جنوری نے سوویت یونین کی کمزوری کو بھی بے نقاب کیا اور چند ہی برسوں بعد آذربائیجان نے مکمل آزادی حاصل کر لی۔ آج بھی 20 جنوری کو آذربائیجان میں قومی سوگ کا دن منایا جاتا ہے۔