آج کا دن

آج کا دن

اسپیشل فیچر

تحریر :


وانزی کانفرنس ''فائنل سلوشن‘‘
20 جنوری 1942 ء کو نازی جرمنی کے دارالحکومت برلن کے قریب ایک علاقے وانزی (Wannsee) میں ایک خفیہ اجلاس میں نازی جرمنی کے اعلیٰ حکام نے یورپ بھر میں موجود یہودیوں کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی کی۔اس اجلاس کی صدارت رائن ہارڈ ہائیڈرِش نے کی جو ایس ایس (SS) کا ایک اعلیٰ افسر تھا جبکہ مختلف سرکاری محکموں کے نمائندے اس میں شریک تھے۔ کانفرنس کا بنیادی مقصد یہ طے کرنا تھا کہ یورپ میں موجود تقریباً ایک کروڑ دس لاکھ یہودیوں کو کس طرح مرحلہ وار ختم کیا جائے۔ اس منصوبے کو ''فائنل سلوشن‘‘ کا نام دیا گیا۔
کینیڈی کی حلف برداری
20 جنوری 1961ء کو جان ایف کینیڈی نے امریکہ کے 35ویں صدر کی حیثیت سے حلف اٹھایا۔ وہ اس وقت امریکہ کے سب سے کم عمر منتخب صدر تھے اور ان کی آمد کو امریکی سیاست میں ایک نئی نسل اور نئی سوچ کی علامت سمجھا گیا۔کینیڈی کی حلف برداری کی تقریب اس لیے بھی تاریخی حیثیت رکھتی ہے کہ ان کی تقریر کو امریکی تاریخ کی بہترین تقاریر میں شمار کیا جاتا ہے۔ ان کا مشہور جملہ تھا ''یہ مت پوچھیں کہ آپ کا ملک آپ کے لیے کیا کر سکتا ہے بلکہ یہ پوچھیں کہ آپ اپنے ملک کے لیے کیا کر سکتے ہیں‘‘۔کینیڈی کے دور میں کیوبا میزائل بحران، خلائی دوڑ اور نسلی امتیاز کے خلاف تحریک جیسے اہم واقعات پیش آئے۔
ریگن کی حلف برداری
20 جنوری 1981ء کو رونالڈ ریگن نے امریکہ کے 40ویں صدر کی حیثیت سے حلف اٹھایا۔ ریگن کی حلف برداری کے ساتھ ہی امریکہ میں قدامت پسند سیاست کا ایک نیا دور شروع ہوا۔ انہوں نے معیشت میں ریگن اکنامکس کے نام سے مشہور پالیسی متعارف کرائی جس میں ٹیکسوں میں کمی، سرکاری اخراجات میں کنٹرول، اور آزاد منڈی پر زور دیا گیا۔خارجہ پالیسی کے میدان میں ریگن نے سوویت یونین کے خلاف سخت مؤقف اپنایا ۔ بعد میں انہی کے دور میں سرد جنگ کے خاتمے کی بنیاد پڑی، خاص طور پر مخائیل گورباچوف کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے۔
اوباما کی پہلی حلف برداری
20 جنوری 2009ء کو باراک حسین اوباما نے امریکہ کے 44ویں صدر کے طور پر حلف اٹھایا۔ وہ امریکہ کے پہلے سیاہ فام صدر تھے۔اوباما نے ایسے وقت میں اقتدار سنبھالا جب امریکہ شدید معاشی بحران اور افغانستان و عراق کی جنگوں میں الجھا ہوا تھا۔ اپنی تقریر میں انہوں نے اتحاد، امید اور تبدیلی کا پیغام دیا۔ ان کا نعرہYes, we can دنیا بھر میں مقبول ہوا۔اوباما کی حلف برداری نے خاص طور پر نوجوانوں اور اقلیتوں میں سیاسی شعور اور اعتماد کو فروغ دیا۔
آذربائیجان کا ''بلیک جنوری‘‘
20 جنوری 1990ء کو آذربائیجان کی تاریخ کا ایک المناک دن پیش آیا، جسے بلیک جنوری کہا جاتا ہے۔ اس دن سوویت فوج نے دارالحکومت باکو میں داخل ہو کر آزادی کے حق میں مظاہرے کرنے والے شہریوں پر طاقت کا شدید استعمال کیا۔ سوویت قیادت کا مقصد آذربائیجان میں بڑھتی قوم پرست تحریک کو کچلنا تھا، مگر اس کے برعکس یہ واقعہ آزادی کی تحریک کو مزید مضبوط کر گیا۔بلیک جنوری نے سوویت یونین کی کمزوری کو بھی بے نقاب کیا اور چند ہی برسوں بعد آذربائیجان نے مکمل آزادی حاصل کر لی۔ آج بھی 20 جنوری کو آذربائیجان میں قومی سوگ کا دن منایا جاتا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
ڈائنوسار کے آخری دن:نئی تحقیقات کیا بتاتی ہیں؟

ڈائنوسار کے آخری دن:نئی تحقیقات کیا بتاتی ہیں؟

ڈائنوسار کی معدومی ہمیشہ سے سائنسی دنیا کا ایک پُراسرار اور بحث طلب موضوع رہی ہے۔ برسوں تک یہ تصور عام رہا کہ ڈائنوسار اپنی زندگی کے آخری دور میں بتدریج کمزور ہو چکے تھے، اُن کی انواع گھٹ رہی تھیں اور وہ کسی بڑے قدرتی سانحے سے پہلے ہی زوال کا شکار تھے۔ تاہم ایک حالیہ سائنسی تحقیق نے اس نظریے کو یکسر بدل دیا ہے۔ اس تحقیق کے مطابق ڈائنوسار اپنی معدومی سے عین قبل نہ صرف زندہ اور متحرک تھے بلکہ ماحولیاتی طور پر مکمل طور پر مستحکم بھی تھے۔یہ تحقیق معروف سائنسی جریدے Science میں شائع ہوئی ہے، جس کی تفصیل سائنس اور ٹیکنالوجی کی ویب سائٹ SciTechDailyنے شائع کی۔ تحقیق میں شمال مغربی نیو میکسیکو کے ایک اہم فوسل مقام کرٹ لینڈ فارمیشن کے نیشوبیٹو ممبر (Naashoibito member) سے حاصل ہونے والے شواہد کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔ یہ وہ چٹانی تہیں ہیں جو تقریباً چھ کروڑ60 لاکھ سال پرانی ہیں، یعنی وہی دور جب زمین پر ایک عظیم الشان شہابیے کے ٹکرانے سے ڈائنوسار کا اچانک خاتمہ ہوا۔اس تحقیق کا سب سے اہم نتیجہ یہ ہے کہ ڈائنوسار اپنی آخری سانسوں میں نہیں تھے بلکہ وہ بھرپور انداز میں زندگی گزار رہے تھے۔ فوسلز سے پتا چلتا ہے کہ اُس دور میں مختلف اقسام کے گوشت خور اور گھاس خور ڈائنوسار موجود تھے جن میں ٹائرینوسارس جیسے بڑے شکاری اور ٹرائیسراٹاپس جیسے چرنے والے جانور شامل تھے۔ یہ حیاتیاتی تنوع اس بات کا ثبوت ہے کہ ڈائنوسار کی آبادی صحت مند تھی اور ماحولیاتی نظام متوازن تھا۔ماضی میں سائنسدانوں نے فوسل ریکارڈ میں کمی کو ڈائنوسار کے زوال کی علامت سمجھا مگر نئی تحقیق کے مطابق یہ کمی دراصل فوسل محفوظ ہونے کے عمل کی وجہ سے تھی۔ یعنی جہاں فوسلز کم ملے وہاں یہ نتیجہ اخذ کر لیا گیا کہ جانور بھی کم ہو گئے تھے، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس تھی۔جدید تحقیق کے طریقےاس نئی تحقیق میں سائنسدانوں نے جدید ریڈیومیٹرک ڈیٹنگ اور چٹانی تہوں کے تفصیلی تجزیے سے کام لیا۔ اس سے یہ تعین کیا گیا کہ دریافت ہونے والے ڈائنوسار فوسلز شہابیے کے زمین سے ٹکرانے سے صرف چند لاکھ سال پہلے کے ہیں، جو ارضیاتی وقت کے پیمانے پر لمحوں کے برابر ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ڈائنوسار تقریباً آخری لمحے تک زمین پر حکمرانی کر رہے تھے۔تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اس وقت زمین پر مختلف بائیو پروونسز (bioprovinces) موجود تھے یعنی ایسے خطے جہاں درجہ حرارت اور ماحول کے مطابق مختلف اقسام کے ڈائنوسار پائے جاتے تھے۔ یہ صورتحال کسی عالمی ماحولیاتی بحران کی نہیں بلکہ ایک فعال اور متنوع دنیا کی عکاسی کرتی ہے۔شہابیے کا فیصلہ کن کرداریہ تحقیق ایک بار پھر اس نظریے کو تقویت فراہم کرتی ہے کہ ڈائنوسار کی معدومی کی بنیادی وجہ وہی عظیم شہابیے کا ٹکراؤ تھا جو آج کے میکسیکو کے علاقے یوکاتان (Yucatán) میں ہوا۔ اس ٹکراؤ کے نتیجے میں زمین پر شدید زلزلے، آتش فشانی سرگرمیاں، سونامی اور فضامیں گرد و غبار کے بادل چھا گئے جنہوں نے سورج کی روشنی کو روک دیا۔ اس کے بعد درجہ حرارت میں اچانک کمی، پودوں کی تباہی اور خوراک کے سلسلے کے ٹوٹنے سے ڈائنوسار سمیت بے شمار جاندار ختم ہو گئے۔نئی تحقیق یہ واضح کرتی ہے کہ اگر یہ شہابیے کا حادثہ پیش نہ آتا تو ممکن ہے کہ ڈائنوسار مزید لاکھوں سال تک زمین پر حکمرانی کرتے رہتے۔ممالیہ جانوروں کا عروجتحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈائنوسار کے خاتمے کے بعد زمین کا ماحولیاتی نظام تیزی سے بدلا۔ تقریباً تین لاکھ سال کے اندر اندر ممالیہ جانوروں نے ان خالی ماحولیاتی کرداروں کو سنبھالنا شروع کر دیا جو ڈائنوسار کے جانے سے پیدا ہوئے تھے۔ یہی عمل آگے چل کر انسان کے ظہور کی بنیاد بنا۔سائنسی تاریخ میں اہم تبدیلییہ تحقیق نہ صرف ڈائنوسار کے بارے میں ہمارے تصور کو بدلتی ہے بلکہ یہ بھی واضح کرتی ہے کہ فوسل ریکارڈ کو سمجھنے میں احتیاط کی ضرورت ہے۔ کسی دور میں فوسلز کی کمی کا مطلب لازمی طور پر حیاتیاتی زوال نہیں ہوتا۔ یہ دریافت مستقبل میں دیگر معدوم انواع کے مطالعے کے لیے بھی نئے سوالات اور نئے راستے کھولتی ہے۔ ڈائنوسار کی کہانی اب ایک طویل، سست اور کمزور انجام کی نہیں رہی بلکہ یہ ایک طاقتور، کامیاب اور متنوع حیات کی کہانی ہے جسے ایک اچانک اور تباہ کن کائناتی حادثے نے لمحوں میں ختم کر دیا۔ سائنس کی یہ نئی تعبیر ہمیں یاد دلاتی ہے کہ زمین کی تاریخ میں تبدیلیاں اکثر اچانک اور غیر متوقع ہوتی ہیں اور شاید یہ سبق آج کے انسان کے لیے بھی سب سے اہم ہے۔

پورس،سکندر اور معرکہ جھلم:فتح، وقار اور مزاحمت کی کہانی

پورس،سکندر اور معرکہ جھلم:فتح، وقار اور مزاحمت کی کہانی

پنجاب کی سرزمین صدیوں سے تہذیب، ثقافت اور جدوجہد کی علامت رہی ہے۔ دریائے جہلم، چناب، راوی، بیاس اور ستلج کے درمیان پھیلا یہ خطہ قدیم زمانے میں برصغیر کی تاریخ کا ایک نہایت اہم مرکز تھا۔ اگرچہ ''پنجاب‘ ‘کا نام بعد کے فارسی ادوار میں رائج ہوا تاہم یہ علاقہ بہت پہلے سے طاقتور ریاستوں، جنگجو قبائل اور عظیم تہذیبوں کا گہوارہ رہا ہے۔اسی سرزمین سے ایک ایسا کردار ابھرا جس کا نام تاریخ میں ہمیشہ جرأت، خودداری اور مزاحمت کی علامت کے طور پر لیا جاتا ہے۔ یہ تھاراجہ پورس۔راجہ پورس کون تھا؟یونانی مورخین اریان، پلوٹارک اور ڈیودورس کے مطابق پورس ایک مقامی حکمران تھا جو ''پورو‘‘ یا ''پوروَو‘‘ قبیلے سے تعلق رکھتا تھا۔ اس کی سلطنت دریائے جہلم (Hydaspes) اور دریائے چناب (Acesines) کے درمیان واقع تھی۔ بعد کے ادوار میں بعض مورخین نے اسے جاٹ، راجپوت یا گجر قبائل سے جوڑنے کی کوشش بھی کی تاہم ان نسبتوں کے بارے میں قطعی تاریخی شواہد دستیاب نہیں۔قدیم ہندو کتاب رِگ وید میں ''پورو‘‘ نامی قبیلے کا ذکر ضرور ملتا ہے مگر اس قبیلے اور راجہ پورس کے درمیان براہِ راست تعلق کو یقینی طور پر ثابت نہیں کیا جا سکتا۔ البتہ یہ بات طے ہے کہ پورس اپنے وقت کا ایک طاقتور اور خود مختار حکمران تھا۔سکندر کی پنجاب کی طرف پیش قدمی327 قبلِ مسیح میں مقدونیہ کا فاتح سکندرِ اعظم فارس کو زیر کرنے کے بعد برصغیر کی طرف بڑھا۔ اس وقت پنجاب مختلف چھوٹی ریاستوں اور قبائلی سرداروں میں منقسم تھا۔ ٹیکسلا کے حکمران امبھی (آمبھی) نے سکندر سے اتحاد کر لیا مگر راجہ پورس نے اطاعت قبول کرنے سے انکار کر دیا اور مقابلے کا فیصلہ کیا۔یوں326 قبلِ مسیح میں دریائے جہلم کے کنارے وہ معرکہ برپا ہوا جسے تاریخ Battle of the Hydaspes کے نام سے جانتی ہے۔ جدید محققین کے مطابق یہ جنگ موجودہ ضلع منڈی بہاؤالدین اور جہلم کے درمیان کسی مقام پر لڑی گئی۔ اگرچہ اس کی حتمی جگہ پر اختلاف موجود ہے۔یونانی ماخذ کے مطابق راجہ پورس کی فوج میں ہزاروں پیادہ، ہزاروں سوار اور جنگی ہاتھی شامل تھے جو اُس جنگ کا سب سے خوفناک ہتھیار تھے۔ اس کے برعکس سکندر کی فوج تعداد میں کم تھی اور اس کے پاس ہاتھی نہیں تھے البتہ جنگی حکمت عملی کا تجربہ غیر معمولی تھا۔سکندر نے ایک طوفانی رات میں چالاکی سے دریا عبور کیا اور اچانک حملہ کر دیا۔ جنگ کے آغاز میں ہی پورس کا ایک بیٹا مارا گیا مگر اس کے باوجود پورس نے خود میدان میں ڈٹ کر مقابلہ کیا۔یہ جنگ کئی گھنٹوں تک جاری رہی۔ ابتدا میں پورس کے ہاتھیوں نے سکندر کی فوج میں خوف پھیلا دیا، مگر بعد ازاں یونانی فوج نے نیزوں اور تیراندازی کے ذریعے ہاتھیوں کو بدحواس کر دیا جس سے پورس کی صفوں میں انتشار پھیل گیا۔ شدید زخمی ہونے کے بعد راجہ پورس گرفتار کر لیا گیا۔ایک بادشاہ کا جوابگرفتاری کے بعد سکندر نے پورس سے پوچھا''تمہارے ساتھ کیا سلوک کیا جائے؟‘‘پورس کا مختصر مگر تاریخ ساز جواب دیا: ''وہی جو ایک بادشاہ دوسرے بادشاہ کے ساتھ کرتا ہے۔‘‘یہ جواب سکندر کو اس قدر متاثر کر گیا کہ اُس نے نہ صرف پورس کی جان بخشی بلکہ اس کی سلطنت بھی واپس لوٹا دی اور اسے اپنے زیرِ اثر ایک خود مختار حکمران کے طور پر برقرار رکھا۔سکندر کی آخری بڑی جنگ جہلم کی یہ جنگ سکندرِ اعظم کی آخری بڑی جنگ ثابت ہوئی۔ اس کے بعد جب وہ دریائے ستلج کی طرف بڑھنا چاہتا تھا تو اس کی فوج نے مزید پیش قدمی سے انکار کر دیا۔ تھکے ہوئے اور مسلسل جنگوں سے نڈھال سپاہیوں نے واپس لوٹنے پر زور دیا اور یوں سکندر کو واپسی کا فیصلہ کرنا پڑا۔323 قبلِ مسیح میں بابل میں سکندرِ اعظم کا انتقال ہو گیا۔راجہ پورس کا انجامراجہ پورس کے آخری ایام کے بارے میں تاریخی روایات واضح نہیں۔ بعض یونانی ماخذ کے مطابق 317 قبل مسیح کے قریب سکندر کے ایک یونانی جرنیل نے اُسے قتل کر دیا تاہم اس بارے میں مکمل یقین سے کچھ کہنا مشکل ہے۔تاریخ کا خاموش بابیہ ایک دلچسپ حقیقت ہے کہ سکندرِ اعظم کی ہندوستانی مہم کا ذکر مقامی قدیم ہندوستانی ماخذ میں بہت کم یا نہ ہونے کے برابر ملتا ہے۔ اگر یونانی مورخین نے اس مہم کو قلم بند نہ کیا ہوتا تو شاید جہلم والی تاریخی جنگ جیسا عظیم واقعہ تاریخ کے صفحات میں محفوظ نہ رہ پاتا۔بہر حال راجہ پورس اور سکندرِ اعظم کا یہ معرکہ آج بھی اس حقیقت کی یاد دلاتا ہے کہ طاقت سے زیادہ وقار، خودداری اور مزاحمت تاریخ میں زندہ رہتی ہے۔ پنجاب کی سرزمین نے ایک ایسے بادشاہ کو جنم دیا جس نے دنیا کے سب سے بڑے فاتح کے سامنے بھی سر نہیں جھکایا اور یہی اس کی اصل فتح تھی۔

 6صدیوں پرانا  بحری’’عجوبہ‘‘ ڈنمارک کے قریب سمندر کی تہہ سے دریافت

6صدیوں پرانا بحری’’عجوبہ‘‘ ڈنمارک کے قریب سمندر کی تہہ سے دریافت

ڈنمارک کے ساحل کے قریب سمندر کی تہہ سے برآمد ہونے والا چھ سو سال پرانا عہد وسطیٰ کا دیوہیکل ''سپر جہاز‘‘ ماہرین آثارقدیمہ اور تاریخ دانوں کیلئے حیرت اور تجسس کا باعث بن گیا ہے۔ اسے اب تک دریافت ہونے والا سب سے بڑا قرونِ وسطیٰ کا بحری جہاز قرار دیا جا رہا ہے، جو اس دور کی بحری طاقت، انجینئرنگ مہارت اور تجارتی سرگرمیوں پر نئی روشنی ڈالتا ہے۔ یہ غیر معمولی دریافت نہ صرف یورپی بحری تاریخ کو ازسرِنو سمجھنے میں مدد دے گی بلکہ عہدوسطیٰ میں سمندری سفر اور جنگی حکمت عملیوں کے بارے میں کئی اہم سوالات کے جوابات بھی فراہم کرے گی۔ڈنمارک کے قریب دریافت ہونے والایہ جہاز تقریباً 600 سال پرانا ''کاگ‘‘ (Cog) قسم کا ایک غیر معمولی طور پر بڑا بحری جہاز ہے، جو قرونِ وسطیٰ میں سامانِ تجارت لے جانے کیلئے استعمال ہوتا تھا۔ اندازہ ہے کہ اس کی لمبائی تقریباً 28 میٹر (92 فٹ)، چوڑائی 9 میٹر (30 فٹ) اور اونچائی 6 میٹر (20 فٹ) تھی، جبکہ یہ قریباً 300 ٹن (3 لاکھ کلوگرام) سامان لے جانے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ یہ دریافت اسے دنیا کا اب تک دریافت ہونے والا سب سے بڑا کاگ جہاز بناتی ہے اور 1400ء کی دہائی میں سمندری زندگی کے بارے میں بے مثال معلومات فراہم کرتی ہے۔یہ جہاز جس چینل میں ملا، اس کے نام پر اسے ''سویلگٹ 2‘‘ (Svælget 2) کہا گیا ہے۔ یہ غیر معمولی حد تک محفوظ حالت میں ہے اور اس میں رِگنگ (رسیوں، کیبلز اور سازوسامان کا نظام جو بوجھ اٹھانے اور منتقل کرنے کیلئے استعمال ہوتا ہے) کے آثار بھی موجود ہیں۔ غوطہ خوروں نے رنگ شدہ لکڑی کے برتن، جوتے، کنگھیاں اور تسبیح کے دانے بھی دریافت کئے ہیں، جو جہاز پر موجود عملے کی روزمرہ زندگی کی جھلک پیش کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ لکڑی سے بنے ایک مکمل اسٹرن کیسل (پچھلا محفوظ ڈیک) کے وسیع آثار بھی ملے ہیں، جہاں عملہ پناہ لے سکتا تھا اور نسبتاً محفوظ رہتا تھا۔کھدائی کے سربراہ اوٹو اُلڈم (Otto Uldum) نے کہا کہ یہ دریافت بحری آثارِ قدیمہ کیلئے ایک سنگ میل ہے۔ یہ سب سے بڑا کاگ جہاز ہے جس کے بارے میں ہم جانتے ہیں، اور یہ ہمیں عہدِ وسطیٰ کے سب سے بڑے تجارتی جہازوں کی تعمیر اور ان پر موجود زندگی کو سمجھنے کا ایک منفرد موقع فراہم کرتا ہے۔ماہرین کے مطابق کاگ جہاز ایک نہایت مؤثر قسم کا بحری جہاز تھا، جسے بھاری بھرکم سامان سے لدا ہونے کے باوجود بھی حیرت انگیز طور پر بہت کم عملہ چلا سکتا تھا۔ یہ بات ڈنمارک کے وائکنگ شپ میوزیم کے ماہرین نے بتائی ہے۔ یہ جہاز اس مقصد کیلئے تیار کیے جاتے تھے کہ موجودہ نیدرلینڈز سے اسکیگن (Skagen) کے خطرناک سمندری راستے کو عبور کرتے ہوئے آبنائے ساؤنڈ کے ذریعے بحیرہ بالٹک کے تجارتی شہروں تک پہنچا جا سکے۔ یہ ملبہ 13 میٹر کی گہرائی میں کھود کر نکالا گیا، جہاں یہ ان قدرتی قوتوں سے محفوظ رہا جو عام طور پر ساحل کے قریب جہازوں کو تباہ کر دیتی ہیں۔ ریت کی ایک تہہ نے اس جہاز کو غیر معمولی حد تک تحفظ فراہم کیا، جس کے نتیجے میں ایسے آثارِ قدیمہ دستیاب ہوئے جو اس سے قبل کبھی دستاویزی شکل میں سامنے نہیں آئے تھے۔ ان میں کیسلز بھی شامل ہیں، یعنی جہاز کے دونوں سروں پر لکڑی سے بنے اونچے چبوترے، جن کا ذکر تو بے شمار تاریخی تصویروں میں ملتا ہے، لیکن آج تک عملی طور پر دریافت نہیں ہو سکے تھے۔اوٹو اُلڈم نے کہا کہ ہمارے پاس کیسلز کی بہت سی تصاویر موجود ہیں، لیکن وہ کبھی دریافت نہیں ہوئیں، کیونکہ عام طور پر جہاز کا صرف نچلا حصہ ہی محفوظ رہتا ہے۔ اس بار ہمارے پاس اس کا ٹھوس آثارِ قدیمہ کا ثبوت موجود ہے۔ایک اور بڑی حیرت اس جہاز میں اینٹوں سے بنے باورچی خانے کی دریافت تھی، جو ڈنمارک کے پانیوں سے ملنے والا اپنی نوعیت کا سب سے قدیم نمونہ ہے۔اسی حصے میں ماہرین آثارقدیمہ کو کانسی کے برتن، مٹی کے پیالے اور مچھلی و گوشت کی باقیات بھی ملیں۔اوٹو الڈم نے کہا کہ ڈنمارک کے پانیوں سے ملنے والے کسی بھی قرونِ وسطیٰ کے جہاز میں ہم نے اس سے پہلے اینٹوں کا بنا باورچی خانہ نہیں دیکھا۔یہ جہاز پر موجود غیر معمولی سہولت اور نظم و ضبط کی عکاسی کرتا ہے۔ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ یہ عظیم الجثہ جہاز آخر کیا سامان لے جا رہا تھا، تاہم اب تک محققین کو اس کے کارگو کا کوئی نشان نہیں ملا۔جہاز کا نچلا حصہ ڈھکا ہوا نہیں تھا، اس لیے نمک سے بھرے ڈرم یا کپڑے کی گٹھڑیاں ڈوبتے وقت پانی میں بہہ گئی ہوں گی۔ ماہرین کے مطابق لکڑی کے ساتھ بھی یہی معاملہ رہا ہوگا۔جہاز میں بیلَسٹ (وزنی سامان جو توازن کیلئے رکھا جاتا ہے) کی عدم موجودگی سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ جہاز بھاری تجارتی سامان سے پوری طرح بھرا ہوا تھا۔کارگو کی عدم موجودگی کے باوجود ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ''سویلگٹ 2‘‘ ایک تجارتی جہاز تھا۔ اوٹو الڈم نے نتیجہ اخذ کرتے ہوئے کہاکہ اب ہم بلا شبہ جانتے ہیں کہ کاگ جہاز اس قدر بڑے بھی ہو سکتے تھے، اور اس طرز کے جہاز کو اپنی انتہا تک پہنچایا جا سکتا تھا۔''سویلگٹ 2‘‘ ہمیں تاریخ کی پہیلی کا ایک ٹھوس ٹکڑا فراہم کرتا ہے اور یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ اس دور میں، جب بین الاقوامی تجارت کی اصل قوت سمندری سفر تھا، ٹیکنالوجی اور معاشرہ کس طرح ساتھ ساتھ ترقی کر رہے تھے۔

دیوارِ چین: انسانی عزم اور تاریخ کا عظیم شاہکار

دیوارِ چین: انسانی عزم اور تاریخ کا عظیم شاہکار

دنیا کے سات عجوبوں کا جب بھی ذکر ہوتا ہے تو ذہن میں سب سے پہلا نام دیوارِ چین کا آتا ہے۔ یہ چین کی ہزاروں سالہ تاریخ، دفاعی حکمتِ عملی اور انسانی عزم و ہمت کی وہ داستان ہے جو زمین کے سینے پر ہزاروں میل تک پھیلی ہوئی ہے۔دیوارِ چین کی تعمیر کا آغاز کسی ایک بادشاہ یا دور میں نہیں ہوا۔ اس کی بنیاد ساتویں صدی قبل مسیح میں رکھی گئی تھی جب چین مختلف چھوٹی ریاستوں میں بٹا ہوا تھا۔ ان ریاستوں نے اپنے دفاع کیلئے چھوٹی چھوٹی دیواریں تعمیر کر رکھی تھیں۔ تاریخ کا اہم موڑ تب آیا جب چن شی ہوانگ (Qin Shi Huang) نے 221 قبل مسیح میں چین کو متحد کیا اور اسے سلطنت کی شکل دی۔ اس نے بکھری ہوئی دیواروں کو جوڑنے اور عظیم فصیل بنانے کا حکم دیا تاکہ شمال سے آنے والے منگول اور دیگر خانہ بدوش حملہ آوروں کا راستہ روکا جا سکے۔دیوار کی موجودہ شکل جو ہم آج دیکھتے ہیں، وہ زیادہ تر منگ خاندان (Ming Dynasty) (1368-1644) کی مرہونِ منت ہے۔ چن خاندان نے ابتدائی مٹی اور لکڑی کی دیواریں بنائیں۔ ہان خاندان نے دیوار کو مزید وسعت دی تاکہ شاہراہِ ریشم کی حفاظت کی جا سکے۔ منگ خاندان کے دور میں دیوار کو پتھروں، اینٹوں اور چونے سے پختہ کیا گیا اور جابجا واچ ٹاورز (Watchtowers) تعمیر کیے گئے۔اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ دیوارِ چین سیدھی لکیر ہے جبکہ حقیقت میں یہ مختلف شاخوں، پہاڑی سلسلوں اور قدرتی رکاوٹوں کا مجموعہ ہے۔ 2012ء میں چینی محکمہ آثارِ قدیمہ کے جامع سروے کے مطابق دیوارِ چین کی کل لمبائی 21,196 کلومیٹر (13,171 میل) ہے۔ یہ فاصلہ زمین کے کل محیط کے آدھے سے بھی زیادہ ہے۔اس دیوار کی تعمیر میں اس دور کے بہترین انجینئرنگ کے نمونے ملتے ہیں۔ اس دور میں مٹیالے ڈھانچے سے اینٹوں تک جب پتھر میسر نہیں تھے، وہاں مٹی کو دبا کر دیوار بنائی گئی اور جہاں پہاڑ تھے وہاں وہیں کے پتھر تراش کر لگائے گئے۔ اس کے علاوہ دلچسپ تاریخی حقیقت یہ ہے کہ اینٹوں کو جوڑنے کیلئے جو مسالہ استعمال ہوا، اس میں چپچپے چاولوں کا آٹا ملایا گیا تھا۔ اسی وجہ سے یہ دیوار آج سینکڑوں سال بعد بھی مضبوط کھڑی ہے۔ دیوار کی اوسط بلندی 6 سے 8 میٹر ہے، جبکہ اس کی چوڑائی اتنی ہے کہ اس پر 5 گھڑ سوار یا 10 پیادہ سپاہی ایک ساتھ چل سکتے ہیں۔ دیوارِ چین مکمل کمیونیکیشن سسٹم تھا۔ دیوار پر ہزاروں واچ ٹاورز بنے ہوئے تھے جہاں سپاہی پہرہ دیتے تھے۔دشمن کے حملے کی صورت میں دن کے وقت دھوئیں اور رات کے وقت آگ کے ذریعے ایک ٹاور سے دوسرے ٹاور تک پیغام پہنچایا جاتا تھا۔ یوں چند گھنٹوں میں دارالحکومت تک خبر پہنچ جاتی تھی۔اس دیوار کی تعمیر کے پیچھے لاکھوں انسانوں کا خون اور پسینہ شامل ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس کی تعمیر میں تقریباً 10 لاکھ مزدوروں نے حصہ لیا، جن میں قیدی، سپاہی اور عام کسان شامل تھے۔ سخت موسم، بھوک اور تھکن کی وجہ سے لاکھوں افراد لقمہ اجل بن گئے۔ قدیم لوک داستان کے مطابق، بہت سے مزدوروں کو دیوار کے اندر ہی دفن کر دیا گیا تھا، اسی لیے اسے دنیا کا طویل ترین قبرستان بھی کہا جاتا ہے۔سائنس اور معلومات کے اس دور میں بھی کچھ غلط فہمیاں عام ہیں۔ کیا یہ خلا سے نظر آتی ہے؟ ناسا کے مطابق، انسانی آنکھ سے دیوارِ چین کو خلا یا چاند سے دیکھنا ناممکن ہے کیونکہ اس کا رنگ زمین سے ملتا جلتا ہے۔ البتہ لو ارتھ آربٹ سے کیمرے کی مدد سے اسے دیکھا جا سکتا ہے۔ کیا یہ مسلسل دیوار ہے؟ جی نہیں، یہ ٹکڑوں میں بٹی ہوئی ہے، کہیں پہاڑ دفاع کا کام دیتے ہیں اور کہیں خندقیں کھودی گئی ہیں۔دیوارِ چین دنیا کا سب سے بڑا سیاحتی مرکز ہے۔ بیجنگ کے قریب بدالنگ کا حصہ سب سے زیادہ مشہور ہے جہاں ہر سال لاکھوں سیاح آتے ہیں۔ تاہم، قدرتی کٹاؤ، موسمی تبدیلیوں اور انسانی مداخلت کی وجہ سے دیوار کا تقریباً 30فیصد حصہ غائب ہو چکا ہے یا کھنڈرات میں بدل چکا ہے۔ چینی حکومت اب اس کے تحفظ کیلئے بڑے پیمانے پر اقدامات کر رہی ہے۔دیوارِ چین انسانی عزم کی وہ مثال ہے جو ہمیں بتاتی ہے کہ جب انسان کچھ کر گزرنے کا ارادہ کر لے تو پہاڑوں کی چوٹیوں پر بھی راستے بنا لیتا ہے۔ یہ دیوار ہمیں چین کے شاندار ماضی، ان کی دفاعی صلاحیتوں اور محنت کی عظمت کی یاد دلاتی ہے۔ یہ پوری انسانیت کا ایسا اثاثہ ہے جسے آنے والی نسلوں کیلئے محفوظ رکھنا ضروری ہے۔ دیوارِ چین کو یونیسکو (UNESCO) نے 1987 میں عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کیا تھا۔

کتا وفادار جانور !

کتا وفادار جانور !

علم الحیوانات کے پروفیسروں سے پوچھا، سلوتریوں سے دریافت کیا، خود سرکھپاتے رہے لیکن کبھی سمجھ میں نہ آیا کہ آخر کتوں کافائدہ کیا ہے؟ گائے کو لیجئے، دودھ دیتی ہے، بکری کو لیجئے، دودھ دیتی ہے اور مینگنیاں بھی۔ یہ کتے کیا کرتے ہیں؟ کہنے لگے کہ، ''کتا وفادار جانور ہے‘‘۔ اب جناب وفاداری اگر اسی کا نام ہے کہ شام کے سات بجے سے جو بھونکنا شروع کیا تو لگاتار بغیر دم لئے صبح کے چھ بجے تک بھونکتے چلے گئے، تو ہم لنڈورے ہی بھلے۔کل ہی کی بات ہے کہ رات کے کوئی گیارہ بجے ایک کتے کی طبیعت جو ذرا گدگدائی تو انہوں نے باہر سڑک پر آکر ''طرح‘‘ کا ایک مصرع دے دیا۔ ایک آدھ منٹ کے بعد سامنے کے بنگلے میں ایک کتے نے مطلع عرض کر دیا۔ اب جناب ایک کہنہ مشق استاد کو جو غصہ آیا ایک حلوائی کے چولہے میں سے باہر لپکے اور بھنا کے پوری غزل مقطع تک کہہ گئے۔ اس پر شمال مشرق کی طرف سے ایک قدر شناس کتے نے زوروں کی داد دی۔ اب تو حضرت وہ مشاعرہ گرم ہواکہ کچھ نہ پوچھیے۔کمبخت بعض تو دو غزلے، سہ غزلے لکھ لائے تھے۔ کئی ایک نے فی البدیہہ قصیدے کے قصیدے پڑھ ڈالے۔ وہ ہنگامہ گرم ہوا کہ ٹھنڈا ہونے میں نہ آتا تھا۔ ہم نے کھڑکی میں سے ہزاروں دفعہ ''آرڈر آرڈر‘‘ پکارا لیکن کبھی ایسے موقعوں پر پردھان کی بھی کوئی نہیں سنتا۔ اب ان سے کوئی پوچھئے کہ میاں تمہیں کوئی ایسا ہی ضروری مشاعرہ کرنا تھا تو دریا کے کنارے کھلی ہوا میں جاکر طبع آزمائی کرتے یہ گھروں کے درمیان آکر سوتوں کو ستانا کونسی شرافت ہے؟اورپھر ہم دیسی لوگوں کے کتے بھی کچھ عجیب بدتمیز واقع ہوئے ہیں۔ اکثر تو ان میں ایسے قوم پرست ہیں کہ پتلون کوٹ کو دیکھ کر بھونکنے لگ جاتے ہیں۔ خیر یہ تو ایک حد تک قابل تعریف بھی ہے۔ اس کا ذکر ہی جانے دیجیے۔ اس کے علاوہ ایک اور بات ہے یعنی ہمیں بارہا ڈالیاں لے کر صاحب لوگوں کے بنگلوں پر جانے کا اتفاق ہوا، خدا کی قسم ان کے کتوں میں وہ شائستگی دیکھی ہے کہ عش عش کرتے لوٹ آئے ہیں۔جوں ہی ہم بنگلے کے اندر داخل ہوئے، کتے نے برآمدے میں کھڑے کھڑے ہی ایک ہلکی سی ''بخ‘‘ کردی اور پھر منہ بند کرکے کھڑا ہو گیا۔ ہم آگے بڑھے تو اس نے بھی چار قدم آگے بڑھ کر ایک نازک اور پاکیزہ آواز میں پھر ''بخ‘‘ کردی۔ چوکیداری کی چوکیداری موسیقی کی موسیقی۔ ہمارے کتے ہیں کہ نہ راگ نہ سر، نہ سر نہ پیر۔ تان پہ تان لگائے جاتے ہیں۔ بیتالے کہیں کے۔ نہ موقع دیکھتے ہیں، نہ وقت پہچانتے ہیں۔ بس گلے بازی کئے جاتے ہیں۔ گھمنڈ اس بات پر ہے کہ تان سین اسی ملک میں تو پیدا ہوا تھا۔اس میں شک نہیں کہ ہمارے تعلقات کتوں سے ذرا کشیدہ ہی رہے ہیں لیکن ہم سے قسم لے لیجئے جو ایسے موقع پر ہم نے کبھی ستیا گرہ سے منہ موڑا ہو۔ شاید آپ اس کو تعلّی سمجھیں لیکن خدا شاہد ہے کہ آج تک کبھی کسی کتے پر ہاتھ اٹھ ہی نہ سکا۔ اکثر دوستوں نے صلاح دی کہ رات کے وقت لاٹھی، چھڑی ضرور ہاتھ میں رکھنی چاہیے کہ دافع بلیات ہے، لیکن ہم کسی سے خواہ مخواہ عداوت پیدا نہیں کرنا چاہتے۔کتے کے بھونکتے ہی ہماری طبعی شرافت ہم پر اس درجہ غلبہ پا جاتی ہے کہ آپ ہمیں اگر اس وقت دیکھیں تو یقیناً یہی سمجھیں گے کہ ہم بزدل ہیں۔ شاید آپ اس وقت یہ بھی اندازہ لگا لیں کہ ہمارا گلا خشک ہوا جاتا ہے۔ یہ البتہ ٹھیک ہے۔ ایسے موقع پر کبھی گانے کی کوشش کروں تو کھرج کے سروں کے سوا اور کچھ نہیں نکلتا۔ اگر آپ نے بھی ہم جیسی طبیعت پائی ہو تو آپ دیکھیں گے کہ ایسے موقع پر آیت الکرسی آپ کے ذہن سے اتر جائے گی۔ اس کی جگہ آپ شاید دعائے قنوت پڑھنے لگ جائیں۔بعض اوقات ایسا اتفاق بھی ہوا ہے کہ رات کے دو بجے چھڑی گھماتے تھیٹر سے واپس آ رہے ہیں اور ناٹک کے کسی نہ کسی گیت کی طرز ذہن میں بٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں، چونکہ گیت کے الفاظ یاد نہیں اور نومشقی کا عالم بھی ہے اس لئے سیٹی پر اکتفا کی ہے کہ بے سرے بھی ہوگئے، تو کوئی یہی سمجھے گا انگریزی موسیقی ہے۔ اتنے میں ایک موڑ پر سے جو مڑے تو سامنے ایک بکری بندھی تھی۔ ذرا تصور ملاحظہ ہو۔آنکھوں نے اسے بھی کتا دیکھا۔ ایک تو کتا اور پھر بکری کی جسامت کا۔ گویا بہت ہی کتا۔ بس ہاتھ پاؤں پھول گئے۔ چھڑی کی گردش دھیمی ہوتے ہوتے ایک نہایت ہی نامعقول زاویے پر ہوا میں کہیں ٹھہر گئی۔ سیٹی کی موسیقی بھی تھرتھرا کر خاموش ہوگئی لیکن کیا مجال جو ہماری تھوتھنی کی مخروطی شکل میں ذرا بھی فرق آیا ہو۔گویا ایک بے آواز لے ابھی تک نکل رہی تھی۔طب کا مسئلہ ہے کہ ایسے موقعوں پر اگر سردی کے موسم میں بھی پسینہ آجائے تو کوئی مضائقہ نہیں، بعد میں پھر سوکھ جاتا ہے۔

حکایت سعدیؒ:وائے حسرتا!

حکایت سعدیؒ:وائے حسرتا!

بقول شیخ سعدی ایک شب ایام جوانی میں کچھ دوست باہم مل کر خوش گپیوں میں مصروف تھے کہ ہمارا ایک ہمدم بوڑھا بھی آ گیا۔ ایک نوجوان نے بڑے میاں کو خاموش پا کر کہا کہ آپ کس سوچ میں غلطاں ہیں، ہنسی ٹھٹھول سے اپنے دل کا بوجھ ہلکا کریں۔بوڑھے نے ایک سرد آہ بھر کر کہا کہ برخوردار! صبا کے جھونکوں سے جھومنا ان درختوں کو ہی زیبا دیتا ہے جن کی شاخیں پتوں سے لدی ہوئی ہوں، بوڑھا درخت جنبش کرے تو ٹوٹ جاتا ہے۔ شب جوانی کی سحر ہونے پر ہوس کو سر کے نہاں خانوں سے نکال دینا ہی بہتر ہے۔ میری جوانی دیوانی فضول کاموں میں ختم ہوگئی۔ فضول خواہشات نے مجھے دین سے غافل رکھا۔ وائے افسوس کسی استاد نے اپنے شاگرد سے کہا تھا:''وائے حسرتا! وقت ختم ہو گیا اور کام ابھی باقی ہے‘‘۔حاصل کلام :بڑھاپے میں کم از کم انسان کو لہو و لعب سے اجتناب کرنا چاہیے۔ زندگی کا انجام بہرحال موت ہے۔ اس فانی زندگی کے مقابلے میں غیر فانی زندگی کے لیے اچھے اعمال کرنا ضروری ہیں۔