ڈائنوسار کے آخری دن:نئی تحقیقات کیا بتاتی ہیں؟
اسپیشل فیچر
ڈائنوسار کی معدومی ہمیشہ سے سائنسی دنیا کا ایک پُراسرار اور بحث طلب موضوع رہی ہے۔ برسوں تک یہ تصور عام رہا کہ ڈائنوسار اپنی زندگی کے آخری دور میں بتدریج کمزور ہو چکے تھے، اُن کی انواع گھٹ رہی تھیں اور وہ کسی بڑے قدرتی سانحے سے پہلے ہی زوال کا شکار تھے۔ تاہم ایک حالیہ سائنسی تحقیق نے اس نظریے کو یکسر بدل دیا ہے۔ اس تحقیق کے مطابق ڈائنوسار اپنی معدومی سے عین قبل نہ صرف زندہ اور متحرک تھے بلکہ ماحولیاتی طور پر مکمل طور پر مستحکم بھی تھے۔یہ تحقیق معروف سائنسی جریدے Science میں شائع ہوئی ہے، جس کی تفصیل سائنس اور ٹیکنالوجی کی ویب سائٹ SciTechDailyنے شائع کی۔ تحقیق میں شمال مغربی نیو میکسیکو کے ایک اہم فوسل مقام کرٹ لینڈ فارمیشن کے نیشوبیٹو ممبر (Naashoibito member) سے حاصل ہونے والے شواہد کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔ یہ وہ چٹانی تہیں ہیں جو تقریباً چھ کروڑ60 لاکھ سال پرانی ہیں، یعنی وہی دور جب زمین پر ایک عظیم الشان شہابیے کے ٹکرانے سے ڈائنوسار کا اچانک خاتمہ ہوا۔اس تحقیق کا سب سے اہم نتیجہ یہ ہے کہ ڈائنوسار اپنی آخری سانسوں میں نہیں تھے بلکہ وہ بھرپور انداز میں زندگی گزار رہے تھے۔ فوسلز سے پتا چلتا ہے کہ اُس دور میں مختلف اقسام کے گوشت خور اور گھاس خور ڈائنوسار موجود تھے جن میں ٹائرینوسارس جیسے بڑے شکاری اور ٹرائیسراٹاپس جیسے چرنے والے جانور شامل تھے۔ یہ حیاتیاتی تنوع اس بات کا ثبوت ہے کہ ڈائنوسار کی آبادی صحت مند تھی اور ماحولیاتی نظام متوازن تھا۔ماضی میں سائنسدانوں نے فوسل ریکارڈ میں کمی کو ڈائنوسار کے زوال کی علامت سمجھا مگر نئی تحقیق کے مطابق یہ کمی دراصل فوسل محفوظ ہونے کے عمل کی وجہ سے تھی۔ یعنی جہاں فوسلز کم ملے وہاں یہ نتیجہ اخذ کر لیا گیا کہ جانور بھی کم ہو گئے تھے، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس تھی۔
جدید تحقیق کے طریقے
اس نئی تحقیق میں سائنسدانوں نے جدید ریڈیومیٹرک ڈیٹنگ اور چٹانی تہوں کے تفصیلی تجزیے سے کام لیا۔ اس سے یہ تعین کیا گیا کہ دریافت ہونے والے ڈائنوسار فوسلز شہابیے کے زمین سے ٹکرانے سے صرف چند لاکھ سال پہلے کے ہیں، جو ارضیاتی وقت کے پیمانے پر لمحوں کے برابر ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ڈائنوسار تقریباً آخری لمحے تک زمین پر حکمرانی کر رہے تھے۔تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اس وقت زمین پر مختلف بائیو پروونسز (bioprovinces) موجود تھے یعنی ایسے خطے جہاں درجہ حرارت اور ماحول کے مطابق مختلف اقسام کے ڈائنوسار پائے جاتے تھے۔ یہ صورتحال کسی عالمی ماحولیاتی بحران کی نہیں بلکہ ایک فعال اور متنوع دنیا کی عکاسی کرتی ہے۔
شہابیے کا فیصلہ کن کردار
یہ تحقیق ایک بار پھر اس نظریے کو تقویت فراہم کرتی ہے کہ ڈائنوسار کی معدومی کی بنیادی وجہ وہی عظیم شہابیے کا ٹکراؤ تھا جو آج کے میکسیکو کے علاقے یوکاتان (Yucatán) میں ہوا۔ اس ٹکراؤ کے نتیجے میں زمین پر شدید زلزلے، آتش فشانی سرگرمیاں، سونامی اور فضامیں گرد و غبار کے بادل چھا گئے جنہوں نے سورج کی روشنی کو روک دیا۔ اس کے بعد درجہ حرارت میں اچانک کمی، پودوں کی تباہی اور خوراک کے سلسلے کے ٹوٹنے سے ڈائنوسار سمیت بے شمار جاندار ختم ہو گئے۔نئی تحقیق یہ واضح کرتی ہے کہ اگر یہ شہابیے کا حادثہ پیش نہ آتا تو ممکن ہے کہ ڈائنوسار مزید لاکھوں سال تک زمین پر حکمرانی کرتے رہتے۔
ممالیہ جانوروں کا عروج
تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈائنوسار کے خاتمے کے بعد زمین کا ماحولیاتی نظام تیزی سے بدلا۔ تقریباً تین لاکھ سال کے اندر اندر ممالیہ جانوروں نے ان خالی ماحولیاتی کرداروں کو سنبھالنا شروع کر دیا جو ڈائنوسار کے جانے سے پیدا ہوئے تھے۔ یہی عمل آگے چل کر انسان کے ظہور کی بنیاد بنا۔
سائنسی تاریخ میں اہم تبدیلی
یہ تحقیق نہ صرف ڈائنوسار کے بارے میں ہمارے تصور کو بدلتی ہے بلکہ یہ بھی واضح کرتی ہے کہ فوسل ریکارڈ کو سمجھنے میں احتیاط کی ضرورت ہے۔ کسی دور میں فوسلز کی کمی کا مطلب لازمی طور پر حیاتیاتی زوال نہیں ہوتا۔ یہ دریافت مستقبل میں دیگر معدوم انواع کے مطالعے کے لیے بھی نئے سوالات اور نئے راستے کھولتی ہے۔ ڈائنوسار کی کہانی اب ایک طویل، سست اور کمزور انجام کی نہیں رہی بلکہ یہ ایک طاقتور، کامیاب اور متنوع حیات کی کہانی ہے جسے ایک اچانک اور تباہ کن کائناتی حادثے نے لمحوں میں ختم کر دیا۔ سائنس کی یہ نئی تعبیر ہمیں یاد دلاتی ہے کہ زمین کی تاریخ میں تبدیلیاں اکثر اچانک اور غیر متوقع ہوتی ہیں اور شاید یہ سبق آج کے انسان کے لیے بھی سب سے اہم ہے۔