پورس،سکندر اور معرکہ جھلم:فتح، وقار اور مزاحمت کی کہانی
اسپیشل فیچر
پنجاب کی سرزمین صدیوں سے تہذیب، ثقافت اور جدوجہد کی علامت رہی ہے۔ دریائے جہلم، چناب، راوی، بیاس اور ستلج کے درمیان پھیلا یہ خطہ قدیم زمانے میں برصغیر کی تاریخ کا ایک نہایت اہم مرکز تھا۔ اگرچہ ''پنجاب‘ ‘کا نام بعد کے فارسی ادوار میں رائج ہوا تاہم یہ علاقہ بہت پہلے سے طاقتور ریاستوں، جنگجو قبائل اور عظیم تہذیبوں کا گہوارہ رہا ہے۔اسی سرزمین سے ایک ایسا کردار ابھرا جس کا نام تاریخ میں ہمیشہ جرأت، خودداری اور مزاحمت کی علامت کے طور پر لیا جاتا ہے۔ یہ تھاراجہ پورس۔
راجہ پورس کون تھا؟
یونانی مورخین اریان، پلوٹارک اور ڈیودورس کے مطابق پورس ایک مقامی حکمران تھا جو ''پورو‘‘ یا ''پوروَو‘‘ قبیلے سے تعلق رکھتا تھا۔ اس کی سلطنت دریائے جہلم (Hydaspes) اور دریائے چناب (Acesines) کے درمیان واقع تھی۔ بعد کے ادوار میں بعض مورخین نے اسے جاٹ، راجپوت یا گجر قبائل سے جوڑنے کی کوشش بھی کی تاہم ان نسبتوں کے بارے میں قطعی تاریخی شواہد دستیاب نہیں۔قدیم ہندو کتاب رِگ وید میں ''پورو‘‘ نامی قبیلے کا ذکر ضرور ملتا ہے مگر اس قبیلے اور راجہ پورس کے درمیان براہِ راست تعلق کو یقینی طور پر ثابت نہیں کیا جا سکتا۔ البتہ یہ بات طے ہے کہ پورس اپنے وقت کا ایک طاقتور اور خود مختار حکمران تھا۔
سکندر کی پنجاب کی طرف پیش قدمی
327 قبلِ مسیح میں مقدونیہ کا فاتح سکندرِ اعظم فارس کو زیر کرنے کے بعد برصغیر کی طرف بڑھا۔ اس وقت پنجاب مختلف چھوٹی ریاستوں اور قبائلی سرداروں میں منقسم تھا۔ ٹیکسلا کے حکمران امبھی (آمبھی) نے سکندر سے اتحاد کر لیا مگر راجہ پورس نے اطاعت قبول کرنے سے انکار کر دیا اور مقابلے کا فیصلہ کیا۔یوں326 قبلِ مسیح میں دریائے جہلم کے کنارے وہ معرکہ برپا ہوا جسے تاریخ Battle of the Hydaspes کے نام سے جانتی ہے۔ جدید محققین کے مطابق یہ جنگ موجودہ ضلع منڈی بہاؤالدین اور جہلم کے درمیان کسی مقام پر لڑی گئی۔ اگرچہ اس کی حتمی جگہ پر اختلاف موجود ہے۔یونانی ماخذ کے مطابق راجہ پورس کی فوج میں ہزاروں پیادہ، ہزاروں سوار اور جنگی ہاتھی شامل تھے جو اُس جنگ کا سب سے خوفناک ہتھیار تھے۔ اس کے برعکس سکندر کی فوج تعداد میں کم تھی اور اس کے پاس ہاتھی نہیں تھے البتہ جنگی حکمت عملی کا تجربہ غیر معمولی تھا۔سکندر نے ایک طوفانی رات میں چالاکی سے دریا عبور کیا اور اچانک حملہ کر دیا۔ جنگ کے آغاز میں ہی پورس کا ایک بیٹا مارا گیا مگر اس کے باوجود پورس نے خود میدان میں ڈٹ کر مقابلہ کیا۔یہ جنگ کئی گھنٹوں تک جاری رہی۔ ابتدا میں پورس کے ہاتھیوں نے سکندر کی فوج میں خوف پھیلا دیا، مگر بعد ازاں یونانی فوج نے نیزوں اور تیراندازی کے ذریعے ہاتھیوں کو بدحواس کر دیا جس سے پورس کی صفوں میں انتشار پھیل گیا۔ شدید زخمی ہونے کے بعد راجہ پورس گرفتار کر لیا گیا۔
ایک بادشاہ کا جواب
گرفتاری کے بعد سکندر نے پورس سے پوچھا''تمہارے ساتھ کیا سلوک کیا جائے؟‘‘پورس کا مختصر مگر تاریخ ساز جواب دیا: ''وہی جو ایک بادشاہ دوسرے بادشاہ کے ساتھ کرتا ہے۔‘‘یہ جواب سکندر کو اس قدر متاثر کر گیا کہ اُس نے نہ صرف پورس کی جان بخشی بلکہ اس کی سلطنت بھی واپس لوٹا دی اور اسے اپنے زیرِ اثر ایک خود مختار حکمران کے طور پر برقرار رکھا۔
سکندر کی آخری بڑی جنگ
جہلم کی یہ جنگ سکندرِ اعظم کی آخری بڑی جنگ ثابت ہوئی۔ اس کے بعد جب وہ دریائے ستلج کی طرف بڑھنا چاہتا تھا تو اس کی فوج نے مزید پیش قدمی سے انکار کر دیا۔ تھکے ہوئے اور مسلسل جنگوں سے نڈھال سپاہیوں نے واپس لوٹنے پر زور دیا اور یوں سکندر کو واپسی کا فیصلہ کرنا پڑا۔323 قبلِ مسیح میں بابل میں سکندرِ اعظم کا انتقال ہو گیا۔
راجہ پورس کا انجام
راجہ پورس کے آخری ایام کے بارے میں تاریخی روایات واضح نہیں۔ بعض یونانی ماخذ کے مطابق 317 قبل مسیح کے قریب سکندر کے ایک یونانی جرنیل نے اُسے قتل کر دیا تاہم اس بارے میں مکمل یقین سے کچھ کہنا مشکل ہے۔
تاریخ کا خاموش باب
یہ ایک دلچسپ حقیقت ہے کہ سکندرِ اعظم کی ہندوستانی مہم کا ذکر مقامی قدیم ہندوستانی ماخذ میں بہت کم یا نہ ہونے کے برابر ملتا ہے۔ اگر یونانی مورخین نے اس مہم کو قلم بند نہ کیا ہوتا تو شاید جہلم والی تاریخی جنگ جیسا عظیم واقعہ تاریخ کے صفحات میں محفوظ نہ رہ پاتا۔بہر حال راجہ پورس اور سکندرِ اعظم کا یہ معرکہ آج بھی اس حقیقت کی یاد دلاتا ہے کہ طاقت سے زیادہ وقار، خودداری اور مزاحمت تاریخ میں زندہ رہتی ہے۔ پنجاب کی سرزمین نے ایک ایسے بادشاہ کو جنم دیا جس نے دنیا کے سب سے بڑے فاتح کے سامنے بھی سر نہیں جھکایا اور یہی اس کی اصل فتح تھی۔