دیوارِ چین: انسانی عزم اور تاریخ کا عظیم شاہکار
اسپیشل فیچر
دنیا کے سات عجوبوں کا جب بھی ذکر ہوتا ہے تو ذہن میں سب سے پہلا نام دیوارِ چین کا آتا ہے۔ یہ چین کی ہزاروں سالہ تاریخ، دفاعی حکمتِ عملی اور انسانی عزم و ہمت کی وہ داستان ہے جو زمین کے سینے پر ہزاروں میل تک پھیلی ہوئی ہے۔
دیوارِ چین کی تعمیر کا آغاز کسی ایک بادشاہ یا دور میں نہیں ہوا۔ اس کی بنیاد ساتویں صدی قبل مسیح میں رکھی گئی تھی جب چین مختلف چھوٹی ریاستوں میں بٹا ہوا تھا۔ ان ریاستوں نے اپنے دفاع کیلئے چھوٹی چھوٹی دیواریں تعمیر کر رکھی تھیں۔ تاریخ کا اہم موڑ تب آیا جب چن شی ہوانگ (Qin Shi Huang) نے 221 قبل مسیح میں چین کو متحد کیا اور اسے سلطنت کی شکل دی۔ اس نے بکھری ہوئی دیواروں کو جوڑنے اور عظیم فصیل بنانے کا حکم دیا تاکہ شمال سے آنے والے منگول اور دیگر خانہ بدوش حملہ آوروں کا راستہ روکا جا سکے۔
دیوار کی موجودہ شکل جو ہم آج دیکھتے ہیں، وہ زیادہ تر منگ خاندان (Ming Dynasty) (1368-1644) کی مرہونِ منت ہے۔ چن خاندان نے ابتدائی مٹی اور لکڑی کی دیواریں بنائیں۔ ہان خاندان نے دیوار کو مزید وسعت دی تاکہ شاہراہِ ریشم کی حفاظت کی جا سکے۔ منگ خاندان کے دور میں دیوار کو پتھروں، اینٹوں اور چونے سے پختہ کیا گیا اور جابجا واچ ٹاورز (Watchtowers) تعمیر کیے گئے۔
اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ دیوارِ چین سیدھی لکیر ہے جبکہ حقیقت میں یہ مختلف شاخوں، پہاڑی سلسلوں اور قدرتی رکاوٹوں کا مجموعہ ہے۔ 2012ء میں چینی محکمہ آثارِ قدیمہ کے جامع سروے کے مطابق دیوارِ چین کی کل لمبائی 21,196 کلومیٹر (13,171 میل) ہے۔ یہ فاصلہ زمین کے کل محیط کے آدھے سے بھی زیادہ ہے۔
اس دیوار کی تعمیر میں اس دور کے بہترین انجینئرنگ کے نمونے ملتے ہیں۔ اس دور میں مٹیالے ڈھانچے سے اینٹوں تک جب پتھر میسر نہیں تھے، وہاں مٹی کو دبا کر دیوار بنائی گئی اور جہاں پہاڑ تھے وہاں وہیں کے پتھر تراش کر لگائے گئے۔
اس کے علاوہ دلچسپ تاریخی حقیقت یہ ہے کہ اینٹوں کو جوڑنے کیلئے جو مسالہ استعمال ہوا، اس میں چپچپے چاولوں کا آٹا ملایا گیا تھا۔ اسی وجہ سے یہ دیوار آج سینکڑوں سال بعد بھی مضبوط کھڑی ہے۔
دیوار کی اوسط بلندی 6 سے 8 میٹر ہے، جبکہ اس کی چوڑائی اتنی ہے کہ اس پر 5 گھڑ سوار یا 10 پیادہ سپاہی ایک ساتھ چل سکتے ہیں۔ دیوارِ چین مکمل کمیونیکیشن سسٹم تھا۔ دیوار پر ہزاروں واچ ٹاورز بنے ہوئے تھے جہاں سپاہی پہرہ دیتے تھے۔
دشمن کے حملے کی صورت میں دن کے وقت دھوئیں اور رات کے وقت آگ کے ذریعے ایک ٹاور سے دوسرے ٹاور تک پیغام پہنچایا جاتا تھا۔ یوں چند گھنٹوں میں دارالحکومت تک خبر پہنچ جاتی تھی۔
اس دیوار کی تعمیر کے پیچھے لاکھوں انسانوں کا خون اور پسینہ شامل ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس کی تعمیر میں تقریباً 10 لاکھ مزدوروں نے حصہ لیا، جن میں قیدی، سپاہی اور عام کسان شامل تھے۔ سخت موسم، بھوک اور تھکن کی وجہ سے لاکھوں افراد لقمہ اجل بن گئے۔ قدیم لوک داستان کے مطابق، بہت سے مزدوروں کو دیوار کے اندر ہی دفن کر دیا گیا تھا، اسی لیے اسے دنیا کا طویل ترین قبرستان بھی کہا جاتا ہے۔
سائنس اور معلومات کے اس دور میں بھی کچھ غلط فہمیاں عام ہیں۔ کیا یہ خلا سے نظر آتی ہے؟ ناسا کے مطابق، انسانی آنکھ سے دیوارِ چین کو خلا یا چاند سے دیکھنا ناممکن ہے کیونکہ اس کا رنگ زمین سے ملتا جلتا ہے۔ البتہ لو ارتھ آربٹ سے کیمرے کی مدد سے اسے دیکھا جا سکتا ہے۔
کیا یہ مسلسل دیوار ہے؟ جی نہیں، یہ ٹکڑوں میں بٹی ہوئی ہے، کہیں پہاڑ دفاع کا کام دیتے ہیں اور کہیں خندقیں کھودی گئی ہیں۔
دیوارِ چین دنیا کا سب سے بڑا سیاحتی مرکز ہے۔ بیجنگ کے قریب بدالنگ کا حصہ سب سے زیادہ مشہور ہے جہاں ہر سال لاکھوں سیاح آتے ہیں۔ تاہم، قدرتی کٹاؤ، موسمی تبدیلیوں اور انسانی مداخلت کی وجہ سے دیوار کا تقریباً 30فیصد حصہ غائب ہو چکا ہے یا کھنڈرات میں بدل چکا ہے۔ چینی حکومت اب اس کے تحفظ کیلئے بڑے پیمانے پر اقدامات کر رہی ہے۔
دیوارِ چین انسانی عزم کی وہ مثال ہے جو ہمیں بتاتی ہے کہ جب انسان کچھ کر گزرنے کا ارادہ کر لے تو پہاڑوں کی چوٹیوں پر بھی راستے بنا لیتا ہے۔ یہ دیوار ہمیں چین کے شاندار ماضی، ان کی دفاعی صلاحیتوں اور محنت کی عظمت کی یاد دلاتی ہے۔ یہ پوری انسانیت کا ایسا اثاثہ ہے جسے آنے والی نسلوں کیلئے محفوظ رکھنا ضروری ہے۔ دیوارِ چین کو یونیسکو (UNESCO) نے 1987 میں عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کیا تھا۔