6صدیوں پرانا بحری’’عجوبہ‘‘ ڈنمارک کے قریب سمندر کی تہہ سے دریافت
اسپیشل فیچر
ڈنمارک کے ساحل کے قریب سمندر کی تہہ سے برآمد ہونے والا چھ سو سال پرانا عہد وسطیٰ کا دیوہیکل ''سپر جہاز‘‘ ماہرین آثارقدیمہ اور تاریخ دانوں کیلئے حیرت اور تجسس کا باعث بن گیا ہے۔ اسے اب تک دریافت ہونے والا سب سے بڑا قرونِ وسطیٰ کا بحری جہاز قرار دیا جا رہا ہے، جو اس دور کی بحری طاقت، انجینئرنگ مہارت اور تجارتی سرگرمیوں پر نئی روشنی ڈالتا ہے۔ یہ غیر معمولی دریافت نہ صرف یورپی بحری تاریخ کو ازسرِنو سمجھنے میں مدد دے گی بلکہ عہدوسطیٰ میں سمندری سفر اور جنگی حکمت عملیوں کے بارے میں کئی اہم سوالات کے جوابات بھی فراہم کرے گی۔
ڈنمارک کے قریب دریافت ہونے والایہ جہاز تقریباً 600 سال پرانا ''کاگ‘‘ (Cog) قسم کا ایک غیر معمولی طور پر بڑا بحری جہاز ہے، جو قرونِ وسطیٰ میں سامانِ تجارت لے جانے کیلئے استعمال ہوتا تھا۔ اندازہ ہے کہ اس کی لمبائی تقریباً 28 میٹر (92 فٹ)، چوڑائی 9 میٹر (30 فٹ) اور اونچائی 6 میٹر (20 فٹ) تھی، جبکہ یہ قریباً 300 ٹن (3 لاکھ کلوگرام) سامان لے جانے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ یہ دریافت اسے دنیا کا اب تک دریافت ہونے والا سب سے بڑا کاگ جہاز بناتی ہے اور 1400ء کی دہائی میں سمندری زندگی کے بارے میں بے مثال معلومات فراہم کرتی ہے۔
یہ جہاز جس چینل میں ملا، اس کے نام پر اسے ''سویلگٹ 2‘‘ (Svælget 2) کہا گیا ہے۔ یہ غیر معمولی حد تک محفوظ حالت میں ہے اور اس میں رِگنگ (رسیوں، کیبلز اور سازوسامان کا نظام جو بوجھ اٹھانے اور منتقل کرنے کیلئے استعمال ہوتا ہے) کے آثار بھی موجود ہیں۔ غوطہ خوروں نے رنگ شدہ لکڑی کے برتن، جوتے، کنگھیاں اور تسبیح کے دانے بھی دریافت کئے ہیں، جو جہاز پر موجود عملے کی روزمرہ زندگی کی جھلک پیش کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ لکڑی سے بنے ایک مکمل اسٹرن کیسل (پچھلا محفوظ ڈیک) کے وسیع آثار بھی ملے ہیں، جہاں عملہ پناہ لے سکتا تھا اور نسبتاً محفوظ رہتا تھا۔
کھدائی کے سربراہ اوٹو اُلڈم (Otto Uldum) نے کہا کہ یہ دریافت بحری آثارِ قدیمہ کیلئے ایک سنگ میل ہے۔ یہ سب سے بڑا کاگ جہاز ہے جس کے بارے میں ہم جانتے ہیں، اور یہ ہمیں عہدِ وسطیٰ کے سب سے بڑے تجارتی جہازوں کی تعمیر اور ان پر موجود زندگی کو سمجھنے کا ایک منفرد موقع فراہم کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق کاگ جہاز ایک نہایت مؤثر قسم کا بحری جہاز تھا، جسے بھاری بھرکم سامان سے لدا ہونے کے باوجود بھی حیرت انگیز طور پر بہت کم عملہ چلا سکتا تھا۔ یہ بات ڈنمارک کے وائکنگ شپ میوزیم کے ماہرین نے بتائی ہے۔ یہ جہاز اس مقصد کیلئے تیار کیے جاتے تھے کہ موجودہ نیدرلینڈز سے اسکیگن (Skagen) کے خطرناک سمندری راستے کو عبور کرتے ہوئے آبنائے ساؤنڈ کے ذریعے بحیرہ بالٹک کے تجارتی شہروں تک پہنچا جا سکے۔ یہ ملبہ 13 میٹر کی گہرائی میں کھود کر نکالا گیا، جہاں یہ ان قدرتی قوتوں سے محفوظ رہا جو عام طور پر ساحل کے قریب جہازوں کو تباہ کر دیتی ہیں۔ ریت کی ایک تہہ نے اس جہاز کو غیر معمولی حد تک تحفظ فراہم کیا، جس کے نتیجے میں ایسے آثارِ قدیمہ دستیاب ہوئے جو اس سے قبل کبھی دستاویزی شکل میں سامنے نہیں آئے تھے۔ ان میں کیسلز بھی شامل ہیں، یعنی جہاز کے دونوں سروں پر لکڑی سے بنے اونچے چبوترے، جن کا ذکر تو بے شمار تاریخی تصویروں میں ملتا ہے، لیکن آج تک عملی طور پر دریافت نہیں ہو سکے تھے۔
اوٹو اُلڈم نے کہا کہ ہمارے پاس کیسلز کی بہت سی تصاویر موجود ہیں، لیکن وہ کبھی دریافت نہیں ہوئیں، کیونکہ عام طور پر جہاز کا صرف نچلا حصہ ہی محفوظ رہتا ہے۔ اس بار ہمارے پاس اس کا ٹھوس آثارِ قدیمہ کا ثبوت موجود ہے۔ایک اور بڑی حیرت اس جہاز میں اینٹوں سے بنے باورچی خانے کی دریافت تھی، جو ڈنمارک کے پانیوں سے ملنے والا اپنی نوعیت کا سب سے قدیم نمونہ ہے۔اسی حصے میں ماہرین آثارقدیمہ کو کانسی کے برتن، مٹی کے پیالے اور مچھلی و گوشت کی باقیات بھی ملیں۔اوٹو الڈم نے کہا کہ ڈنمارک کے پانیوں سے ملنے والے کسی بھی قرونِ وسطیٰ کے جہاز میں ہم نے اس سے پہلے اینٹوں کا بنا باورچی خانہ نہیں دیکھا۔یہ جہاز پر موجود غیر معمولی سہولت اور نظم و ضبط کی عکاسی کرتا ہے۔
سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ یہ عظیم الجثہ جہاز آخر کیا سامان لے جا رہا تھا، تاہم اب تک محققین کو اس کے کارگو کا کوئی نشان نہیں ملا۔جہاز کا نچلا حصہ ڈھکا ہوا نہیں تھا، اس لیے نمک سے بھرے ڈرم یا کپڑے کی گٹھڑیاں ڈوبتے وقت پانی میں بہہ گئی ہوں گی۔ ماہرین کے مطابق لکڑی کے ساتھ بھی یہی معاملہ رہا ہوگا۔جہاز میں بیلَسٹ (وزنی سامان جو توازن کیلئے رکھا جاتا ہے) کی عدم موجودگی سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ جہاز بھاری تجارتی سامان سے پوری طرح بھرا ہوا تھا۔
کارگو کی عدم موجودگی کے باوجود ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ''سویلگٹ 2‘‘ ایک تجارتی جہاز تھا۔ اوٹو الڈم نے نتیجہ اخذ کرتے ہوئے کہاکہ اب ہم بلا شبہ جانتے ہیں کہ کاگ جہاز اس قدر بڑے بھی ہو سکتے تھے، اور اس طرز کے جہاز کو اپنی انتہا تک پہنچایا جا سکتا تھا۔''سویلگٹ 2‘‘ ہمیں تاریخ کی پہیلی کا ایک ٹھوس ٹکڑا فراہم کرتا ہے اور یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ اس دور میں، جب بین الاقوامی تجارت کی اصل قوت سمندری سفر تھا، ٹیکنالوجی اور معاشرہ کس طرح ساتھ ساتھ ترقی کر رہے تھے۔