آج تم یاد بے حساب آئے!مینا شوری من موہنی صورت والی اداکارہ (1921-1987ء)
اسپیشل فیچر
٭...1921ء میں پنجاب کے ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوئیں، اصل نام خورشید جہاں تھا۔
٭...وہ 40ء اور50ء کی دہائی میں ہندوستان اور پاکستان کی مشہور ترین ہیروئن تھیں۔
٭...فلمی کریئر کا آغازبھارت میں سہراب مودی کی فلم ''سکندر‘‘ سے ہوا۔
٭...1949ء میں ہدایتکار روپ کے شوری کی فلم ''ایک تھی لڑکی‘‘ میں جلوہ گر ہوئیں جوزبردست کامیابی سے ہمکنار ہوئی۔ اس فلم کے گیت''لارا لپا لارا لپا لائی رکھدا‘‘ نے مقبولیت کے ریکارڈ قائم کیے۔ اس فلم کے بعد انہوں نے روپ کے شوری سے شادی کرلی اور پھر انہیں مینا شوری کے نام سے پکارا جانے لگا۔
٭... انہوں نے پرتھوی راج اورموتی لال جیسے اداکاروں کے ساتھ کام کیا۔وہ بھارتی فلمی صنعت کی سب سے زیادہ خوش لباس ہیروئن تھیں ۔
٭...مینا شوری نے پاکستان میں 54فلموں میں کام کیا اور اپنی صلاحیتوں کے خوب جوہر دکھائے۔
٭...انہوں نے ہیروئن، سائیڈ ہیروئن اور ویمپ کے کردار ادا کیے۔ کئی فلموں میں ماں کا کردار بھی ادا کیا۔
٭...1956ء میں انورکمال پاشا کی فلم ''سرفروش‘‘ میں صبیحہ اور سنتوش کے ساتھ مینا شوری کی کارکردگی کو بھی پسند کیاگیا۔ ان پر عکسبد ہونے والا گیت ''تیری الفت میں صنم دل نے بہت درد سہے‘‘ بہت مقبول ہوا۔
٭...وہ اردواور پنجابی دونوں زبانوں کی فلموں میں یکساں مہارت سے کام کرتی تھیں۔
٭...مینا شوری کی ذاتی زندگی مصائب و آلام کا شکار رہی۔پانچ شادیاں کیں۔ پہلی شادی روپ کے شوری، پھر ظہور راجہ، علی ناصر اور رضامیر سے بھی شادی کی۔ آخری شادی انہوں نے اسد بخاری سے کی جو اپنے وقت کے معروف اداکار اور فلمساز تھے۔
٭...آخری عمر میں وہ سخت مالی تنگدستی کا شکار رہیں۔ فلمی صنعت نے بھی انہیں فراموش کردیا تھا اور وہ بالکل تنہا ہوچکی تھیں۔
٭...9 فروری1987ء کو انہوں نے داعی اجل کو لبیک کہا۔وہ ہندوستان اور پاکستان کی فلمی صنعت کا ایسا کردار تھیں جنہیں ہمیشہ یادرکھا جائے گا۔
مقبول پاکستانی فلمیں
سرفروش، ستاروں کی دنیا، گل فروش، گلشن، تین اور تین، پھول اور کانٹے، موسیقار، مہمان، بیداری،
موسیقار، جگا، بچہ جمورا، بہروپیا، جمالو، خاموش رہو، ترانہ، الزام، ناجو، اک سی ماں، امام دین گوہاویہ ، بڑا آدمی
مقبول بھارتی فلمیں
سکندر، ایک تھی لڑکی، شری متی 420، آگ کا دریا ، پتھروں کے سوداگر، شہر سے دور، پت جھڑ، چمن