آج کا دن
اسپیشل فیچر
کیوٹو پروٹوکول کا نفاذ
2005ء میں آج کے روز ماحولیاتی تحفظ سے متعلق عالمی معاہدہ کیوٹو پروٹوکول باضابطہ طور پر نافذ العمل ہوا، جس کی اہم وجہ روس کی جانب سے اس کی توثیق تھی۔ اس معاہدے کا بنیادی مقصد صنعتی ممالک کو گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی کا پابند بنانا تھا تاکہ عالمی حدت (گلوبل وارمنگ) اور موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے خطرات کو روکا جا سکے۔ کیوٹو پروٹوکول کے تحت کاربن ڈائی آکسائیڈ سمیت دیگر مضر گیسوں کے اخراج کیلئے مخصوص اہداف مقرر کیے گئے۔
انقلاب کیوبا اور فیدل کاسترو
16فروری 1959ء کو فیدل کاسترو انقلاب کیوبا کے نتیجے میں ملک کا صدر بنا۔ انہوں نے آتے ہی ملک میں بڑھتی قیمتوں اور کرائیوں میں کمی لانے کا فیصلہ کیا اور اراضیاں سرکاری تحویل میں لے کر کسانوں میں تقسیم کر دیں۔1962ء میں کاسترو نے ممکنہ امریکی جارحیت کیخلاف سوویت یونین کو ملک میں میزائل نصب کرنے کی اجازت دی۔2008ء میں اپنے منصب سے علیحدہ ہوئے ۔
فرعون توتن خامون
16فروری1923ء میں مشہور برطانوی ماہر آثارِ قدیمہ ہاورڈ کارٹر نے مصر کی وادیٔ ملوک میں واقع قدیم مصری فرعون توتن خامون کے مقبرے کے سب سے اہم حصے، یعنی تدفینی حجرے کی مہر کو کھولا۔ حجرے میں فرعون کا سونے سے بنا تابوت، قیمتی زیورات، مذہبی علامات اور روزمرہ استعمال کی اشیاء موجود تھیں، جو قدیم مصری تہذیب، ان کے عقائد، فن تعمیر کو سمجھنے میں بے حد مددگار ثابت ہوئیں۔
ترکی: ہوا بازی کی صنعت کا قیام
1925ء میں آج کے دن ترکی میں ہوا بازی کی صنعت کا قیام عمل میں لایا گیا۔ ہر قسم کی ہوا بازی کے فروغ کیلئے مصطفی کمال اتاترک کی ہدایت پر ''ترک جمعیت برائے طیارہ سازی‘‘ قائم کی گئی۔ جسے 1935ء میں تبدیل کر کے ''ادارہ برائے ترک ہوا بازی‘‘ کا نام دیا گیا۔ انجینئر صلاح الدین رشید نے پہلی بار طیارے کے تمام پرزہ جات مقامی طور پر تیار کرنے میں بھی کامیابی حاصل کی۔
امریکہ کا ٹوکیو پر حملہ
1945ء میں آج کے روز جنگ عظیم دوئم کے دوران امریکہ نے ٹوکیو پر فضائی حملہ کیا۔ اس جنگ کا باقاعدہ آغاز یکم ستمبر 1939ء کو ہوا، جب پولینڈ پر جرمنی حملہ آور ہوا اور برطانیہ نے جرمنی کے خلاف اعلان جنگ کر دیا۔ اس جنگ میں 61ممالک نے حصہ لیا۔ دو شہروں پر ایٹمی حملہ کے بعد 14 اگست کو جاپان نے ہتھیار ڈال دیے جس کے بعد 1945ء میں اس جنگ کا خاتمہ ہوا۔
مصر میں بادشاہت کا قیام
16 فروری 1923 کو مصر کا پہلا آئین نافذ کیا گیا، جس نے بادشاہ فؤاد اول کی قیادت میں ایک آئینی بادشاہت کی بنیاد رکھی۔28 فروری 1922ء کو برطانیہ نے مصر کو آزاد مملکت تسلیم کرتے ہوئے آزاد کر دیا تھا۔مصر 1882ء سے برطانوی قبضے میں تھا، حالانکہ رسمی طور پر یہ سلطنت عثمانیہ کا حصہ تھا۔مصر کو جزوی آزادی ملی تھی کیونکہ برطانیہ نے سوئز کینال، دفاع، اقلیتوں کے حقوق اور سوڈان پر کنٹرول برقرار رکھاتھا۔