چار صدور، ایک پہاڑ ، قومی وحدت کی داستاندنیا میں کچھ یادگاریں ایسی ہوتی ہیں جو محض پتھر یا اینٹوں کا مجموعہ نہیں ہوتیں بلکہ پوری قوم کی تاریخ، نظریات اور جدوجہد کی علامت بن جاتی ہیں۔ امریکہ کی ریاست ساؤتھ ڈکوٹا کی بلیک ہلز پہاڑیوں میں واقع ماؤنٹ رش مور بھی ایسی ہی ایک عظیم الشان یادگار ہے، جہاں پہاڑ کی بلند و بالا چٹانوں پر چار امریکی صدور کے چہرے تراش کر انہیں ابدی دوام بخشا گیا ہے۔ یہ سنگی شاہکار نہ صرف فن تعمیر اور مجسمہ سازی کا نادر نمونہ ہے بلکہ امریکی قومی تشخص، جمہوری اقدار اور تاریخی ارتقا کی بھرپور عکاسی بھی کرتا ہے۔امریکہ کی ریاست ساؤتھ ڈکوٹا کی بلیک ہلز پہاڑیوں میں واقع ماؤنٹ رش مور دنیا کے مشہور ترین قومی یادگاروں میں شمار ہوتا ہے۔یہ مشہور قومی یادگار پہاڑ کی گرینائٹ چٹان کو تراش کر بنائی گئی ہے۔ جس پر چار ممتاز صدورجارج واشنگٹن (George Washington)، تھومس جیفرسن (Thomas Jefferson)، تھیوڈور روز ویلٹ(Theodore Roosevelt) اور ابراہم لنکن(Abraham Lincoln) کے 60 فٹ (18 میٹر) بلند سروں کی نقش گری کی گئی ہے۔ ان صدور کا انتخاب بالترتیب قوم کی بنیاد، توسیع، ترقی اور تحفظ کی نمائندگی کے طور پر کیا گیا۔یہ عظیم الشان سنگی مجسمے نہ صرف امریکہ کی سیاسی تاریخ کی نمائندگی کرتے ہیں بلکہ قومی وحدت، جمہوریت اور آزادی کی علامت بھی سمجھے جاتے ہیں۔ماؤنٹ رش مور ہر سال دو ملین (20 لاکھ) سے زائد سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔ یادگاری پارک کا رقبہ 1,278 ایکڑ (تقریباً 2 مربع میل) پر محیط ہے، جبکہ پہاڑ کی بلندی سطح سمندر سے 5725 فٹ (1745 میٹر) ہے۔بورگلم (Borglum)نے ماؤنٹ رش مور کا انتخاب جزوی طور پر اس لیے کیا کیونکہ یہ جنوب مشرق کی سمت رخ کیے ہوئے ہے، جس سے زیادہ سے زیادہ دھوپ حاصل ہوتی ہے۔ اس یادگار کا خیال ساؤتھ ڈکوٹا کے ریاستی مورخ ڈوان رابنسن نے پیش کیا تھا۔ ابتدا میں رابنسن چاہتے تھے کہ اس مجسمے میں امریکی مغرب کے ہیروز جیسے لیوس(Lewis) اور کلارک(Clark)، ان کی رہنما ساکاگاویہ (Sacagawea)، ریڈ کلاؤڈ( Red Cloud)، بفیلو بل کوڈی (Buffalo Bill Cody)اور کریزی ہارس(Crazy Horse) کو شامل کیا جائے۔ تاہم بورگلم نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ یادگار علاقائی کے بجائے قومی سطح کی ہونی چاہیے اور یوں چار صدور کا انتخاب کیا گیا۔ساؤتھ ڈکوٹا سے تعلق رکھنے والے امریکی سینیٹر پیٹر نوربیک نے اس منصوبے کی سرپرستی کی اور وفاقی فنڈنگ حاصل کی۔ تعمیراتی کام 1927ء میں شروع ہوا اور صدور کے چہرے 1934ء سے 1939ء کے درمیان مکمل کیے گئے۔ مارچ 1941ء میں بورگلم کے انتقال کے بعد ان کے بیٹے لنکن نے تعمیراتی منصوبے کی قیادت سنبھالی۔ ابتدا میں ہر صدر کو سر سے کمر تک دکھانے کا ارادہ تھا، مگر فنڈز کی کمی کے باعث 31 اکتوبر 1941ء کو تعمیر روک دی گئی، اور صرف جارج واشنگٹن کے مجسمے میں ٹھوڑی سے نیچے کچھ تفصیل موجود ہے۔ماؤنٹ رش مور کی یہ یادگار اس زمین پر تعمیر کی گئی جو 1870ء کی دہائی میں سیوکس قوم ( Sioux Nation) سے لے لی گئی تھی۔ سیوکس آج بھی اس زمین کی واپسی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ 1980ء میں امریکی سپریم کورٹ نے'' United States v. Sioux Nation of Indians‘‘ مقدمے میں فیصلہ دیا کہ بلیک ہلز کا قبضہ غیر منصفانہ تھا اور بطور معاوضہ 102 ملین ڈالر دینے کا حکم دیا۔ تاہم سیوکس قوم نے رقم لینے سے انکار کرتے ہوئے زمین کی واپسی کا مطالبہ برقرار رکھا ہے۔ یہی تنازع آج بھی جاری ہے، جس کے باعث بعض ناقدین اس یادگار کو ‘‘منافقت کا مزار'' بھی قرار دیتے ہیں۔مجموعی طور پر ماؤنٹ رش مور ایک ایسا فن پارہ ہے جو سنگِ گراں میں تراشی گئی تاریخ کی کتاب کی مانند ہے۔ یہ یادگار آنے والی نسلوں کو ماضی کی جدوجہد، قیادت اور قومی تعمیر کے اسباق یاد دلاتی رہے گی۔