آج کا دن
اسپیشل فیچر
''ایپل ون‘‘ کمپیوٹر کی ایجاد
معروف موبائل ساز کمپنی کا مشہور زمانہ ''ایپل ون‘‘ کمپیوٹر1976ء میں آج کے دن بنایا گیا۔''ایپل ون‘‘ دراصل ایپل کمپیوٹر کے نام سے جاری کیا گیا تھالیکن بعد میں اس کا نام ایپل ون رکھ دیا گیا۔یہ ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر تھا۔اسے سٹیو ووزنیاک نے ڈیزائن کیا تھا۔ کمپیوٹر کو فروخت کرنے کا خیال ووزنیاک کے دوست اور شریک بانی سٹیو جابز نے پیش کیا۔'' ایپل ون‘‘ ایپل کمپنی کی پہلی پروڈکٹ تھا اور اس کی تخلیق کیلئے مالی اعانت کیلئے جابز نے اپنی واحد موٹرائزڈمائیکرو بس کو چند سو ڈالر میں فروخت کیا ۔
''اپالو13‘‘کی چاند کی جانب پرواز
1970ء میں آج کے دن معروف خلائی مشن ''اپالو 13‘‘ نے چاند کی طرف اڑان بھری۔ اس مشن کے دوران خلائی جہاز میں 3خلاباز سوار تھے۔ ''اپالو 13‘‘ کو حادثے کا سامنا اس وقت کرنا پڑاجب اس میں موجود ایک آکسیجن ٹینک میں دھماکہ ہوا۔ٹینک کے پھٹنے سے ''اپالو13‘‘ میں متعدد تکنیکی خرابیاں پیدا ہو گئیں۔ ''اپالو 13‘‘ چھ دن بعد اپنے عملے کے ہمراہ واپس آگیا اور خوش قسمتی سے عملے کے کسی بھی فرد کو کوئی نقصان نہیں پہنچا ۔
انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کا قیام
1919ء کو آج کے دن انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کا قیام عمل میں آیا۔ انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن اقوام متحدہ کا مخصوص ادارہ ہے جو بین الاقوامی سطح پر مزدوروں کے حقوق اور محنت و مشقت کے متعلق کام کرتا ہے اور اس بات کو یقینی بناتے کی کوشش کرتا ہے کہ دنیا میں کہیں بھی مزدوروں کے ساتھ کسی قسم کی زیادتی نہ کی جائے۔ اس ادارے کا مرکزی دفتر سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں قائم ہے۔ اس کے مرکزی دفتر کے علاوہ سیکرٹریٹ بھی قائم ہے جو عالمی دفتر برائے محنت کے نام سے موسوم ہے۔
امریکہ کا بوخن کیمپ پر حملہ
دوسری عالمی جنگ کے دوران امریکہ نے بوخن والڈ حراستی کیمپ پر حملہ کرکے وہاں موجود قیدیوں کو آزاد کروایا۔بوخن والڈ جولائی 1937ء میں جرمنی کے شہر ویمار کے قریب پہاڑی پر قائم کیا گیا ایک نازی حراستی کیمپ تھا۔ اس وقت کی جرمن سرحدوں میں یہ سب سے بڑا حراستی کیمپ تھااور یہاں پر قیدیوں کی بہت بڑی تعداد موجود تھی ۔یہاں پر قید لوگوں کو یورپ اور سوویت یونین سے لایا گیا تھا جن میں زیادہ تر بیمار، معذور اور کمزور افراد تھے۔ ان تمام قیدیوں سے اسلحہ ساز فیکٹریوں میں جبری طور پر کام کروایا جا رہا تھا۔
امیر عبداللہ کا تاریخی اقدام
1921ء میں عبداللہ اوّل بن الحسین نے نو قائم شدہ برطانوی زیر سرپرستی علاقے ٹرانس جارڈن میں پہلی مرکزی حکومت قائم کی۔ یہ اقدام اس خطے میں باقاعدہ نظم و نسق کے قیام کی جانب ایک اہم پیش رفت تھا۔ برطانوی حکومت کی سرپرستی میں قائم ہونے والی اس حکومت نے انتظامی ڈھانچے کو مضبوط کیا اور مقامی سطح پر حکمرانی کے نظام کو منظم کیا۔ بعد ازاں یہی علاقہ ترقی کرتے ہوئے موجودہ اردن کی شکل اختیار کر گیا، اور امیر عبداللہ اس کے پہلے حکمران اور بانی کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔