آج تم یاد بے حساب آئے!احمد رشدی عظیم پلے بیک گلو کار (1983-1934ء)
اسپیشل فیچر
٭...24اپریل 1934ء کو حیدر آباد دکن میں پیداہوئے، پورا نام سید احمد رشدی تھا۔
٭...ابتداء میں حیدرآباد دکن میں موسیقی کی ایک اکیڈمی میں داخلہ لیا۔بعد میں استاد نتھو خان سے کلاسیکی موسیقی کی تعلیم حاصل کی۔
٭...پاکستان آنے کے بعد موسیقی کے پروگرامز میں حصہ لینا شروع کیا۔ پھر ریڈیو پاکستان پر گانا شروع کر دیا۔
٭...انہوں نے اپنا پہلا غیر فلمی گانا ''بندر روڈ سے کیماڑی‘‘ گایاجو ریڈیو پاکستان کے شو ''بچوں کی دنیا‘‘ میں پیش کیاگیا۔ اس گانے کے بعد انہیں فلموں میں گیت گانے کی پیشکش کی گئی۔
٭...1954ء میں انہوں نے دیگر گلوکاروں کے ساتھ پاکستان کا قومی ترانہ ریکارڈ کرایا۔
٭...1956ء میں فلم ''انوکھی‘‘ کیلئے احمد رشدی کے گائے ہوئے نغمات بہت مشہور ہوئے۔
٭...1959ء میں فلم ''راز‘‘ میں بھی انہوں نے بہت دلکش گیت گائے جن میں ''چھلک رہی ہیں مستیاں‘‘ اور ''چل نہ سکے گی 420‘‘ بہت ہٹ ہوئے۔
٭...1961ء میں فلم ''سپیرن‘‘ کا گیت ''چاند سا مکھڑا گورا بدن‘‘ گایا جو بے پناہ مقبول ہوا۔ جس پر انہیں بہترین پلے بیک سنگر کا نگار ایوارڈ ملا۔
٭...1962ء میںمقبول عام گیت '' گول گپے والا آیا، گول گپے لایا‘‘ گایا،یہ گیت علائو الدین پر فلمبند کیا گیا۔
٭...1966ء میں فلم '' ارمان‘‘کا گیت ''کوکوکورینا‘‘ گایا۔ اس گیت نے پورے ملک میں دھوم مچا دی۔
٭...1950ء کی دہائی میں انہیں مقبولیت ملنا شروع ہوئی جو 1980ء تک جاری رہی۔
٭...وہ پاکستانی سینما کی تاریخ میں سب سے زیادہ فلمی گیت گانے والے گلوکار ہیں۔
٭... انہوں نے 583 فلموں کیلئے تقریباً 5ہزار گیت گائے۔ ان میں اردو، انگریزی، پنجابی، بنگالی، سندھی اور گجراتی زبان کے گیت شامل ہیں۔
٭...رشدی کو اونچے اور دھیمے سروں میں گانے پر مکمل دسترس حاصل تھی۔
٭...ان کے گائے ہوئے گیت وحید مراد، ندیم، محمد علی، سنتوش کمار، درپن، حبیب، رحمان، شاہد، قوی خان، غلام محی الدین اور راحت کاظمی پر پکچرائز کئے گئے۔
٭...1963ء میں فلم ''جوکر‘‘ کیلئے حبیب جالب کی غزل ''شوق آوارگی‘‘ اور فلم ''خاموش رہو‘‘ میں ''میں نہیں مانتا‘‘ گائی۔
٭...1970ء میں ندیم کی پہلی فلم ''چکوری‘‘ ریلیز ہوئی۔ احمد رشدی نے روبن گھوش کی موسیقی میںچار گیت گائے جو بہت مقبول ہوئے۔
٭...1983ء میں11اپریل کو یہ بے مثل گلوکار 48برس کی عمر میں انتقال کر گیا۔ ان کی موت دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی۔
مقبول گیت
(1)اے ابر کرم آج اتنا برس کے وہ جا نہ سکیں
(2)جان تمنا خط ہے تمہارا
(3)کچھ لوگ روٹھ کر بھی لگتے ہیں کتنے پیارے
(4)زندگی کے سفر میں اکیلے تھے ہم
(5)اکیلے نہ جانا ہمیں چھوڑ کر تم
(6)جب رات ڈھلی تم یاد آئے
(7)کوئی یوں بھی روٹھتا ہے
(8)اے ماں پیاری ماں
(9)حسن والوں کا سدا برا انجام ہوتاہے
(10)دنیا ریل گاڑی، ہے سانپ کی سواری