109 سالہ خاتون کی ناقابلِ یقین اڑان!
اسپیشل فیچر
ایما کا گرم ہوا کے غبارے میں پرواز کا عالمی ریکارڈ تاحال قائم
انسانی عزم، حوصلے اور جستجو کی داستانیں ہمیشہ سے تاریخ کے اوراق کو روشن کرتی آئی ہیں، مگر بعض واقعات ایسے ہوتے ہیں جو نہ صرف حیران کن ہوتے ہیں بلکہ انسانی صلاحیتوں کے تصور کو بھی نئی وسعت عطا کرتے ہیں۔109سالہ امریکی خاتون نے گرم ہوا کے غبارے میں پرواز کر نے کا جوعالمی ریکارڈ قائم کیاتھا، جس نے دنیا بھر کے لوگوں کو حیرت اور تحسین میں مبتلا کر دیاتھا، تاحال برقرار ہے۔ اس غیر معمولی کارنامے نے یہ ثابت کیا تھاکہ عمر محض ایک عدد ہے اور اگر ارادے مضبوط ہوں تو آسمان کی بلندیوں کو بھی چھوا جا سکتا ہے۔ یہ واقعہ نہ صرف بزرگ افراد کیلئے ایک نئی امید اور حوصلے کا پیغام بنا بلکہ نوجوان نسل کیلئے بھی ایک روشن مثال تھا کہ خوابوں کی تعبیر کیلئے عمر کی کوئی قید نہیں ہوتی۔
کیا آپ نے کبھی ہمت کی ہے کہ زمین سے میلوں بلند فضا میں جائیں اور نیچے پھیلی دنیا کو دیکھیں؟ خیر، گنیز ورلڈ ریکارڈ میں ہمیں یہ دیکھنا بہت پسند ہے کہ لوگ ریکارڈ قائم کرنے کیلئے کس قدر حیرت انگیز بلندیوں تک پہنچتے ہیں۔امریکی ریاست اوٹاوہ سے تعلق رکھنے والی ایما کیرل (Emma Carrol ) نے 27 جولائی 2004ء کو انسانیت کیلئے ایک بڑا قدم اٹھایا۔ انہوں نے خود کو چیلنج کرنے اور کچھ نیا کرنے کا فیصلہ کیا اور اسی لمحے انہوں نے طے کیا کہ گرم ہوا کے غبارے میں پرواز کرنا اس مقصد کیلئے بہترین انتخاب ہو گا۔
ایما کی پیدائش 18 مئی 1895ء کو ہوئی تھی، اور 109 سال اور 70 دن کی عمر میں انہوں نے گرم ہوا کے غبارے میں پرواز کرنے والی دنیا کی معمر ترین شخصیت ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ اس تاریخی موقع پر، ایما تقریباً ایک گھنٹہ فضا میں رہیں اور اپنے آبائی ریاست کے اوپر معلق رہتے ہوئے اس منفرد تجربے سے لطف اندوز ہوئیں۔ایما کے مطابق یہ وہ کام تھا جو میں ہمیشہ سے کرنا چاہتی تھی۔ ایک آدمی اور اس کی بیوی مجھے (پائلٹ برائن بینیٹ کے ساتھ) لے گئے۔ ہم فضا میں آہستہ آہستہ تیر رہے تھے اور مجھے اندازہ ہی نہیں ہوا کہ ہم اتنی بلندی پر ہیں۔ یہ میرے تمام تجربات سے بڑھ کر تھا۔ اگر ممکن ہوتا تو میں یہ دوبارہ ضرور کرتی!۔
عمر نے کبھی بھی ایما کے راستے میں رکاوٹ نہیں ڈالی۔ اپنی 100ویں سالگرہ کے بعد انہوں نے صرف گرم ہوا کے غبارے میں پرواز ہی نہیں کی بلکہ سڑکوں پر موٹر سائیکل کی سواری کا بھی لطف اٹھایا۔ 105 سال کی عمر میں ایما کیرل آئیوا کے وسٹا ووڈز کیئر سینٹر لووا کی رہائشی بن گئیں۔ اگرچہ وہ اپنی زندگی کے سنہری دور میں داخل ہو چکی تھیں، لیکن وہ خود کو مصروف رکھنے کا سلسلہ جاری رکھتی تھیں اور ہفتے میں دو بار نگہداشت مرکز کیلئے تولیے تہہ کرنے میں مدد دیتی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ مجھے کام کرنا اور اپنے ہاتھوں سے کام کرنا پسند ہے۔ اس سے میرے ہاتھ فعال رہتے ہیں، لچکدار رہتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ کام کسی کو نقصان نہیں پہنچاتا۔
10 جولائی 2007ء کو، 112 سال اور 53 دن کی عمر میں، ایما اسی نگہداشت مرکز میں انتقال کر گئیں، لیکن ان کی یادیں اور کارنامے آج بھی زندہ ہیں۔اتنے برس گزر جانے کے باوجود آج تک کوئی بھی ان کا یہ ریکارڈ نہیں توڑ سکا۔ وہ ہمیشہ اپنی حیرت انگیز فضائی پرواز کے باعث یاد رکھی جائیں گی، جو اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ عمر صرف ایک عدد ہے اور ہمیں ہمیشہ خود کو نئے اور غیر متوقع چیلنجز کیلئے تیار رکھنا چاہیے۔