چاند نے سورج کو چھپایا Earthset نے دل لبھایا
اسپیشل فیچر
NASA نے ''آرٹیمیس II مشن‘‘ کی پہلی تصاویر عام کر دیں
خلائی تحقیق کے شائقین اور سائنس کے دلدادہ افراد کیلئے ایک حیرت انگیز لمحہ آیا ہے، جب ناسا (NASA) نے اپنے آرٹیمیس II مشن کی پہلی تصاویر عام کیں۔ ان تصاویر میں سے ایک خاص طور پر دلکش منظر پیش کرتی ہے، جس میں چاند سورج کو جزوی طور پر چھپاتے ہوئے نظر آ رہا ہے، ایک ایسا نادر اور خوبصورت لمحہ جو خلا کی خوبصورتی اور کائنات کے اسرار کو سامنے لاتا ہے۔
اس تصویر کے ساتھ Earthset کا ذکر بھی کیا گیا ہے، جو 1968ء میں اپالو مشن کے دوران کھینچی گئی مشہورEarthrise تصویر کی یاد دلاتا ہے، جب زمین افق سے ابھرتی ہوئی دکھائی دی تھی۔ اس سے نہ صرف خلائی مشنز کی ترقی اور تکنیکی مہارت کی جھلک ملتی ہے بلکہ یہ انسانی جستجو اور خلا کی وسعتوں کو سمجھنے کی لگن کا بھی مظہر ہے۔یہ پہلی بار نہیں ہے کہ انسان نے خلا سے زمین یا سورج کے دلچسپ مناظر دیکھے ہوں، مگر آرٹیمیس II کی یہ تصاویر اس بات کا ثبوت ہیں کہ جدید دور کے خلائی مشن کس حد تک تکنیکی اور بصری اعتبار سے متاثر کن ہیں، اور انسانی تاریخ میں خلا کی تحقیق کے نئے ابواب کھول رہے ہیں۔
ناسا نے ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ آرٹیمیس II کے عملے نے 6 اپریل 2026ء کو چاند کے گرد پرواز کرتے ہوئےEarthset کا یہ منظر قید کیا۔ یہ تصویر اس مشہور Earthrise تصویر کی یاد دلاتی ہے جو 58 سال قبل اپالو 8 کے عملے نے لی تھی۔ دوسری تصویر کا عنوانThe Artemis II Eclipse ہے، اور یہ لمحہ دکھاتی ہے جب چاند سورج کو جزوی طور پر چھپاتا ہے۔وائٹ ہاؤس نے ایکس پر اس تصویر کے ساتھ کہاکہ کل وقتی تاریکی، زمین سے باہر۔ چاند کے مدار سے، چاند سورج کو eclipses کرتا ہے، ایک ایسا منظر دکھاتا ہے جو انسانی تاریخ میں بہت کم لوگوں نے دیکھا ہے۔
یہ تصاویر اس کے کچھ ہی گھنٹوں بعد جاری کی گئی ہیں کہ جب ناسا کے خلا نوردوںنے پچاس سال بعد پہلی بار چاند کے دور دراز حصے کے گرد سفر کیا۔
تیسری تصویر میںOrientale basin کے حلقے دکھائے گئے ہیں۔ناسا کے مطابق Orientale basin کے 10 بجے کی پوزیشن پر دو چھوٹے گڑھے ہیں، جنہیں آرٹیمیس II کے عملے نے Integrity اور Carroll نام دینے کی تجویز دی ہے۔
چھ گھنٹے کی چاند کی پرواز کے دوران، آرٹیمیس II کے عملے نے زمین سے 252,756 میل (406,771 کلومیٹر) سے زیادہ فاصلہ طے کیا، جو اپالو مشنز کے فاصلے سے زیادہ ہے اور ایک نیا ریکارڈ قائم کیا ہے۔اس دوران، وہ نصف صدی بعد پہلے انسان بن گئے جنہوں نے چاند کے دور دراز حصے کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ چاند کی سطح سے 41,072 میل (66,098 کلومیٹر) اوپر سے دیکھا گیا منظر ایسا تھا جیسے چاند آپ کے بازو کے فاصلے پر رکھا گیا باسکٹ بال ہو۔
وائٹ ہاؤس نےEarthset تصویر شیئر کرنے کے بعد، سوشل میڈیا صارفین نے اسے بے حد خوبصورت قرار دیا۔ ایک صارف نے کہا:یہ اب تک کی سب سے خوبصورت تصویر ہے جو میں نے دیکھی۔
ایک اور صارف نے لکھا: ہم بہت چھوٹے ہیں، یہ واقعی ناقابل یقین ہے۔ ایک صارف نے مزید کہا:انسانیت کو زمین کو یاد رکھنے کیلئے ہمیشہ زمین چھوڑنی پڑتی ہے۔ایک اور نے کہا: بالکل غیر حقیقی،چاند کے مدار سے سورج کو چاند کے پیچھے غائب ہوتے دیکھنا ایک ایسا تجربہ ہے جو صرف چند ہی انسانوں نے دیکھا ہے۔ ایک نے مزاحیہ انداز میں کہا:یہ واقعی دماغ ہلا دینے والا منظر ہے، لگتا ہی نہیں کہ یہ حقیقت ہو۔ یہ بہادر خلا نورد ابھی اپنے خوابوں کی زندگی گزار رہے ہیں، بہت رشک آ رہا ہے۔
جب خلا نورد چاند کے دور دراز حصے کے اوپر سے گزرے، تو انہوں نے نیچے کی سطح کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات جمع کیں، تصاویر کھینچیں، خاکے بنائے اور اپنی مشاہدات کی آڈیو ریکارڈنگ بھی کی۔چاند کا دور دراز حصہ زمین سے نظر آنے والے قریب والے حصے سے بالکل مختلف لگتا ہے، یہاں زمین سے دکھائی دینے والے تاریک آتش فشانی میدانوں کی تعداد بہت کم ہے، جبکہ سطح پر گہرے گڑھے اور موٹی کرسٹ نمایاں ہیں۔ جب خلا نورد اوریون کیپسول میں دور دراز حصے کے اوپر سے گزرے، تو انہوں نے دلچسپ جیومیٹری نما نمونے دیکھے، گھومتی ہوئی شکلیں جنہیں انہوں نے ''squiggles‘‘ کہا، اور اونچی ویران سطح پر غیر متوقع سبز اور بھورے رنگ کے شیڈز بھی دیکھے۔
اگرچہ مصنوعی سیارے (satellites) چاند کے دور دراز حصے کی تصاویر لے چکے ہیں، لیکن ان خصوصیات کو انسانی آنکھ نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔خاص طور پر، خلا نوردوں نے چاند کی سطح پر نئے بنے ہوئے گڑھے دیکھے جو چھوٹے چھوٹے سوراخ کی طرح نمایاں تھے، جیسے کسی لیمپ شیڈ پر چھوٹے سوراخ ہوں۔