دیوہیکل کدوکیسے اُگا!
اسپیشل فیچر
ماہرین نے راز افشا کر دیا
جیسے جیسے دن لمبے ہوتے جاتے ہیں اور شمالی نصف کرے میں بہار کی آمد کے ساتھ درجہ حرارت بڑھنے لگتا ہے، بہت سے باغبان اس بات پر غور کرنا شروع کر دیتے ہیں کہ اس سال وہ کون سے پھل اور سبزیاں اُگانے کی کوشش کریں۔ وہ باغبان جو عالمی ریکارڈ کے برابر یا اس سے بڑا نمونہ پیدا کرنے کے خواہشمند ہوتے ہیں، ان کیلئے یہ انتخاب محض پسند یا ذائقے تک محدود نہیں رہتا، بلکہ اس میں کئی مزید عوامل اور پیچیدہ پہلوؤں کو مدنظر رکھنا پڑتا ہے۔
جب غیر معمولی سائز کے پھلوں اور سبزیوں کی دنیا کی بات کی جائے تو ان میں دیوہیکل کدو (Giant Pumpkins) سب سے نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ حیرت انگیز کدو ایک چھوٹے سے بیج سے شروع ہو کر ایک چھوٹی گاڑی جتنے بڑے ہو سکتے ہیں، اور ان کو اگانے والے انسانوں کو بھی اپنے سائز سے کہیں زیادہ بڑا کر دیتے ہیں۔''ہیویسٹ کدو‘‘ اور گھیر (circumference) کے لحاظ سے سب سے بڑے کدو کے موجودہ عالمی اعزازات ایک ہی دیوہیکل نمونے کے نام ہیں، جسے پیار سے ''Muggle‘‘ کا نام دیا گیا تھا۔ یہ غیر معمولی کدو 2025ء میں برطانیہ میں کاٹا گیاتھا۔اس ایک ہی کدو نے دونوں عالمی ریکارڈ اپنے نام کر کے دیوہیکل کدو اگانے کی دنیا میں ایک نئی تاریخ رقم کی تھی۔ اس کی غیر معمولی بڑھوتری، دیکھ بھال اور نتائج نے ماہر باغبانوں کیلئے ایک نئی مثال قائم کی ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ صحیح محنت اور تجربے سے قدرتی پیداوار میں حیرت انگیز نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
ریکارڈ یافتہ کدو اُگانے اور مقامی و قومی سطح پر متعدد انعامات حاصل کرنے والے برطانیہ کے جڑواں بھائی ایان اور سٹورٹ پیٹن کے ریکارڈ سازکدو کا 6 اکتوبر 2025ء کو وزن کیا گیا تو اس کا وزن 1,278.8 کلوگرام نکلا، جبکہ اس کا گھیر 649.8 سینٹی میٹر (255.8 انچ، 21 فٹ 3.8 انچ) ریکارڈ کیا گیا۔''Muggle‘‘ کے یہ غیر معمولی اعداد و شمار عالمی سطح پر مقابلہ جاتی باغبانی کے ادارے کے نمائندوں نے باقاعدہ طور پر تسلیم کیے۔
پیٹن بھائیوں سے پہلے امریکی زرعی ماہر اور انسٹرکٹر ٹریوس جینگر نے دو سال تک یہ عالمی اعزاز اپنے پاس رکھا۔ ان کے دیوہیکل کدو کو انہوں نے ابتدائی بڑھوتری کے دوران اس کی باسکٹ بال جیسی شکل کی وجہ سے ''مائیکل جارڈن‘‘ کا نام دیا تھا۔ یہ کدو کا 9اکتوبر 2023ء کو امریکہ کی ریاست کیلیفورنیا میں منعقدہ چیمپئن شپ میں پیش کیا گیا، جہاں اس کا وزن 2,749 پاؤنڈ (1,246.9 کلوگرام) ریکارڈ کیا گیا۔
بہار کی آمد کے ساتھ جب فضا میں نئی تازگی محسوس ہونے لگتی ہے تو وہ افراد جو عالمی ریکارڈ توڑنے والے کدو اگانے کا خواب رکھتے ہیں، اپنی منصوبہ بندی شروع کر دیتے ہیں۔ اس حوالے سے ورلڈ ریکارڈز کی تنظیم گنیز ورلڈ ریکارڈ نے برطانیہ کے ایان پیٹن اور امریکہ کے ٹریوس جینگر سے مشورے حاصل کیے کہ نوآموز افراد کہاں سے آغاز کریں اور کن مراحل پر عمل کر کے اپنے کدو کو بہترین ممکنہ حد تک بڑھا سکتے ہیں۔
خوش قسمتی سے باغبانی کی دنیا میں بیجوں کی شیئرنگ کا رجحان کافی عام اور دوستانہ ہے۔ ایان پیٹن کے مطابق''اچھی جینیات والے بیج اکثر مفت آن لائن مل جاتے ہیں، اور میں خود بھی ابتدائی چند سال یہی طریقہ اپناتا رہا ہوں۔ بعد میں جب تجربہ بڑھ جائے تو آپ پچھلے ریکارڈ ہولڈرز کے بیج حاصل کر سکتے ہیں، جو عموماً قیمت ادا کر کے لینے پڑتے ہیں‘‘۔
ٹریوس جینگر بھی اس بات سے متفق ہیں۔ ان کے مطابق دنیا بھر میں بہت سے ایسے باغبان موجود ہیں جو صرف ڈاک کے خرچ کے عوض بیج فراہم کر دیتے ہیں۔ اگر آپ پہلی بار کوشش کر رہے ہیں تو ایسے بیج تلاش کریں جن کی جینیات بڑے کدوؤں سے منسلک ہو۔ زیادہ تر تجربہ کار باغبان یہ معلومات شیئر کرنے میں ہچکچاتے نہیں۔ایک بار جب آپ بیج حاصل کر لیتے ہیں تو اگلا بڑا سوال یہ ہوتا ہے کہ انہیں کب بویا جائے اور کن حالات میں ان کی بہترین نشوؤنما ممکن ہے؟ٹریوس کے مطابق اس پورے عمل کے آغاز کیلئے ان کے پاس ایک بالکل مخصوص تاریخ موجود ہوتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں اپنے بیج 10 اپریل کو گھر کے اندرلگانا شروع کرتا ہوں۔ اس کے بعد میں انہیں تقریباً دو ہفتے تک اندر ہی بڑھنے دیتا ہوں، پھر انہیں باہر منتقل کر دیتا ہوں۔وہ مزید وضاحت کرتے ہیں کہ چونکہ وہ ایک نسبتاً ٹھنڈے موسم والے علاقے میں رہتے ہیں، اس لیے نوجوان پودوں کی حفاظت انتہائی ضروری ہوتی ہے۔ صرف سردی ہی نہیں بلکہ دیگر عوامل جیسے تیز ہوا، جانور، طوفان اور حتیٰ کہ بہت زیادہ تیز دھوپ بھی نازک پودوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ اس لیے ابتدائی مرحلے میں مکمل حفاظت اور کنٹرولڈ ماحول ان کی کامیابی کا بنیادی راز ہے۔
ایان مشورہ دیتے ہیں کہ اگر آپ کدو کو اندر ہی پورے سیزن کیلئے اگانا چاہتے ہیں تو بیج مارچ کے آخر میں بو دیں۔ اگر آپ نے انہیں بعد میں باہر منتقل کرنا ہے تو اپریل کے آخر یا مئی کے آغاز میں بوائی کریں۔
بیجوں اور بعد میں اگنے والے ننھے پودوں کو بہتر نشوؤنما دینے کیلئے آپ کیا کر سکتے ہیں؟ ایان کے مطابق اس مرحلے پر صحیح طریقہ کار بہت اہم ہوتا ہے۔وہ مزید کہتے ہیں کہ جب پودے میں پہلا پتہ ظاہر ہو جائے تو انہیں باہر منتقل کر دینا چاہیے۔
ٹریوس بھی اسی طرح کا طریقہ اپناتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ میں پودوں کو اندر تقریباً 85°F (29°C) درجہ حرارت، نمی والے اور مناسب روشنی والے ماحول میں شروع کرتا ہوں۔ میں اچھی کوالٹی کی پوٹنگ مٹی استعمال کرتا ہوں جس میں زیادہ کھاد نہیں ہوتی۔ نہ زیادہ گیلا اور نہ زیادہ خشک، بلکہ ہلکی نمی والی حالت بہترین رہتی ہے۔ فلورو سینٹ لائٹ جو پودوں کے قریب رکھی جائے سستی اور مؤثر ہوتی ہے۔جتنا بڑا گملہ ہوگا، شروع میں اتنا ہی بہتر ہے۔ بہت سے لوگ چھوٹے کپ استعمال کرتے ہیں، لیکن اس میں جڑیں بہت تیزی سے پھیلتی ہیں اور جگہ کم پڑ جاتی ہے۔
اگر پودے کو شروع میں کچھ دینا ہو تو ہلکی مقدار میں فش یا سی ویڈ (seaweed) استعمال کریں، یعنی آدھی مقدار سے آغاز کریں اور آہستہ آہستہ بڑھائیں۔آج کل حیاتیاتی عناصر (biologicals) بھی بہت اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔یہ مٹی میں موجود غذائی اجزاء کو بہتر طور پر استعمال کرنے میں مدد دیتے ہیں اور پودے کی نشوونما کو مؤثر بناتے ہیں۔