مصنوعی انڈے سے چوزے کی پیدائش
اسپیشل فیچر
کیا ''جراسک پارک‘‘ حقیقت بننے جا رہا ہے؟
سائنس اور ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی نے انسانی عقل کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔ وہ باتیں جو کبھی صرف فلموں اور افسانوں کا حصہ سمجھی جاتی تھیں، آج حقیقت کا روپ دھارتی دکھائی دے رہی ہیں۔ حال ہی میں سائنس دانوں نے مکمل مصنوعی انڈے سے زندہ چوزوں کی پیدائش ممکن بنا کر حیاتیاتی تحقیق میں ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔ اس حیرت انگیز کامیابی کو بعض ماہرین ''حقیقی جراسک پارک‘‘ قرار دے رہے ہیں، کیونکہ اس سے معدوم یا ناپید ہوتی انواع کو دوبارہ زندہ کرنے یعنی ''ڈی ایکسٹنکشن‘‘ (De-Extinction) کے امکانات روشن ہوئے ہیں۔ اگرچہ یہ پیش رفت طب، حیاتیات اور زرعی شعبوں میں انقلابی تبدیلیاں لا سکتی ہے، تاہم اس کے ساتھ اخلاقی، ماحولیاتی اور انسانی تحفظ سے متعلق کئی اہم سوالات بھی جنم لے رہے ہیں۔
کمپنی ''کولوسل بائیوسائنسز (Colossal Biosciences)، جو برفانی دور کے عظیم الجثہ ''وُولی میمتھ‘‘ (woolly mammoth)کو دوبارہ دنیا میں لانے کا منصوبہ رکھتی ہے، کے ماہرین نے پہلی بار ایسا نظام تیار کیا ہے جس میں بغیر خول کے مصنوعی انڈے کو قدرتی انڈے کے ممکنہ حد تک مشابہ بنایا گیا۔ تحقیقی ٹیم نے ابتدائی مرحلے کے پرندوں کے جنین لے کر انہیں مصنوعی خول میں منتقل کیا اور 18 دن تک ان کی افزائش اور نشوؤنما جاری رکھی۔ جب چوزے مکمل طور پر تیار ہو گئے تو وہ اپنے مصنوعی اور محفوظ گھر سے باہر نکل آئے اور اب صحت مند زندگی گزار رہے ہیں۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ کامیابی جنوبی جزیرے کے دیو ہیکل ''موآ‘‘ (moa) پرندے کو دوبارہ زندہ کرنے کے منصوبے میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگی۔ یہ ناپید پرندہ تقریباً 11.8 فٹ (3.6 میٹر) بلند اور 507 پاؤنڈ (230 کلوگرام) وزنی تھا۔
یہ تحقیق مستقبل میں مصنوعی رحم (Artificial Womb)کی تیاری کیلئے بھی ایک اہم بنیاد فراہم کرتی ہے۔ کولوسل بائیو سائنسز کے مطابق: یہ آلہ ہر چیز بدل دیتا ہے۔ ہم دنیا کو دکھا رہے ہیں کہ ہم انڈے کے خول کے بغیر بھی مکمل پرندے کی افزائش ایک انکیوبیٹر میں کر سکتے ہیں۔ یہ واقعی ایک انقلابی کامیابی ہے۔ زندگی اپنا راستہ خود تلاش کر لیتی ہے۔
مصنوعی انڈے کا یہ آلہ تھری ڈی پرنٹنگ کے ذریعے تیار کیے گئے ایک مضبوط بیرونی خول پر مشتمل ہے، جسے جالی نما ساخت دی گئی ہے تاکہ یہ حفاظت اور مضبوطی فراہم کر سکے۔ اس تہہ کے اندر سلیکون کی ایک جھلی موجود ہے جو آکسیجن کو نظام کے اندر منتقل ہونے کی اجازت دیتی ہے۔
گزشتہ چالیس برسوں کے دوران مصنوعی انڈے تیار کرنے کی کئی کوششیں کی گئیں، لیکن ان میں خالص آکسیجن کی بڑی مقدار شامل کرنا پڑتی تھی، جس سے ڈی این اے کو نقصان پہنچتا اور جانوروں کی طویل مدتی صحت متاثر ہوتی تھی۔ اس نئے ڈیزائن میں استعمال ہونے والی نفوذ پذیر جھلی فضا سے آکسیجن کو قدرتی انداز میں انڈے کے اندر منتقل ہونے دیتی ہے۔ یہ عمل حقیقی انڈوں میں موجود باریک سوراخوں کے ذریعے آکسیجن کے داخل ہونے کے قدرتی نظام سے مشابہ ہے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ ہم قدرت کے نظام کی نقل کیسے کریں اور اسے مزید بہتر کیسے بنائیں؟ مصنوعی انڈوں کے بنیادی انجینئرنگ مسئلے کو پہلی بار حل کیا گیا ہے۔مصنوعی انڈے میں اوپر کی جانب ایک ''کھڑکی‘‘ بھی دی گئی ہے، جس کے ذریعے جنین کی افزائش کے ہر مرحلے کو دیکھا جا سکتا ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ آلہ عام تجارتی انکیوبیٹرز کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے، بڑے پیمانے پر تیار کیا جا سکتا ہے، اور ہر سائز کے انڈوں کیلئے ڈھالا جا سکتا ہے۔
اس عمل کے آغاز میں ماہرین نے مرغیوں کے اصلی انڈے فوراً اس وقت جمع کیے جب وہ دیے گئے تھے۔ ایمبریالوجی کی ٹیم نے ہر انڈے کا تفصیلی معائنہ کیا اور ان جنینزکا انتخاب کیا جن کے کامیابی سے نکلنے کے امکانات زیادہ تھے۔ اس کے بعد انڈے کو نہایت احتیاط سے توڑا گیا اور اس کے اندر موجود مواد کو مصنوعی انڈے میں منتقل کر دیا گیا، جسے بعد ازاں ایک انکیوبیٹر میں رکھا گیا۔ سائنس دانوں نے ایک خاص غذائی مادہ بھی شامل کیا جس نے جنین کی افزائش جاری رکھنے میں مدد دی۔ تقریباً 18 دن بعد چوزے نے انڈے پر چونچ مارنا شروع کی، جو اس بات کا اشارہ تھا کہ وہ باہر آنے کیلئے تیار ہے۔ باہر نکلنے کے بعد تمام چوزوں کو گروپوں میں رکھا گیا، پھر انہیں ایک ''گریجویشن پین‘‘ یعنی کھلے تربیتی حصے میں منتقل کیا گیا اور آخرکار ایک بڑے فارم میں بھیج دیا گیا۔
کمپنی کولوسل بائیو سائنسز کے مطابق اس ڈیزائن سے ناپید ہونے کے خطرے سے دوچار جانوروں کو بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب دنیا میں پرندوں کی نصف سے زیادہ اقسام کم ہوتی جا رہی ہیں۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ ایک ایسے مستقبل کا تصور کریں جہاں لیبارٹریوں میں سینکڑوں یا ہزاروں انڈوں کے ذریعے نایاب اور شدید خطرے سے دوچار انواع کی افزائش کی جا رہی ہو۔ یہی وہ بنیادیں ہیں جن پر مستقبل کا مصنوعی رحم تعمیر کیا جائے گا۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ دیو ہیکل پرندے ''موآ‘‘ کو دوبارہ زندہ کرنے کا منصوبہ انکیوبیشن کے ایسے چیلنج سے دوچار ہے جو ان کے دیگر منصوبوں سے بالکل مختلف ہے۔ اندازوں کے مطابق موآ کا انڈہ ایک مرغی کے انڈے سے تقریباً 80 گنا بڑا اور ایمو کے انڈے سے تقریباً آٹھ گنا زیادہ حجم رکھتا تھا، جس کی وجہ سے موجودہ دور کے کسی بھی پرندے کو اس کے متبادل میزبان کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ دنیا میں موجود کوئی زندہ پرندہ اتنا بڑا نہیں کہ وہ اس جنین کی پرورش کر سکے، اسی لیے اس معدوم نسل کو دوبارہ زندہ کرنے کیلئے بڑے سائز کے مصنوعی انڈے کی تیاری انتہائی اہم قرار دی جا رہی ہے۔ کولوسل بائیوسائنسز ''موآ‘‘ کی ہڈیوں سے حاصل کیے گئے جینز استعمال کرتے ہوئے جدید پرندوں میں جینیاتی تبدیلیاں کرے گی تاکہ وہ معدوم ''موآ‘‘ سے انتہائی مشابہ ہو جائیں۔ یہ پرندہ تقریباً 500 سے 600 سال قبل نیوزی لینڈ سے ناپید ہو گیا تھا۔
یہی تکنیک اس سے پہلے سرمئی بھیڑیوں کو قدیم ''ڈائر وولف‘‘ سے مشابہ جانوروں میں تبدیل کرنے کیلئے استعمال کی گئی تھی۔ ترمیم شدہ جنینز کو بعدازاں مصنوعی انڈوں میں منتقل کیا جائے گا جہاں وہ نشوؤنما پا کر بالآخر انڈے سے باہر آئیں گے۔
معدوم ڈوڈو کو دوبارہ زندہ کرنے کا حیران کن منصوبہ
اپنی نوعیت کے مشہور ترین معدوم جانوروں میں شمار ہونے والا ڈوڈو پرندہ انسانوں کے بے رحمانہ شکار کے باعث صرف چند دہائیوں میں ہمیشہ کیلئے دنیا سے ختم ہوگیا تھا۔اب سائنس دان اسٹیم سیل ٹیکنالوجی کی مدد سے اس معدوم پرندے کو دوبارہ زندہ کرنے کے منصوبے پر تیزی سے کام کر رہے ہیں، اور وہ اس مشہور پرندے کو اس کے اصل وطن ماریشس واپس لانے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔
امریکی کمپنی کولوسل بائیوسائنسز اسٹیم سیل ٹیکنالوجی اور جینوم ایڈیٹنگ کی مدد سے ڈوڈو پرندے کی جدید شکل دوبارہ تخلیق کرنے پر کام کر رہی ہے۔ 225 ملین ڈالر سے زائد لاگت والے اس منصوبے کے تحت کمپنی ماریشس سے تقریباً 350 سال قبل یورپی مہم جوؤں کے ہاتھوں معدوم ہونے والے ڈوڈو کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔سائنس دان پہلے ہی ہڈیوں کے نمونوں اور دیگر باقیات کی مدد سے اس معدوم پرندے کے مکمل جینوم کی ترتیب معلوم کرنے کا بڑا کارنامہ انجام دے چکے ہیں۔اگلا مرحلہ اس کے قریبی زندہ رشتہ دار پرندے''Nicobar pigeon‘‘کے جلدی خلیے میں جینیاتی تبدیلیاں کرنا ہے تاکہ اس کا جینوم معدوم ڈوڈو کے جینوم سے مطابقت اختیار کر سکے۔