ٹوکیو ٹاور:جاپان کا فلک بوس شاہکار
اسپیشل فیچر
ٹوکیو ٹاور مواصلاتی ذرائع کا ایک بلند ٹاور ہے جو ٹوکیو کے علاقے شیبا پارک میں بنایا گیا ہے۔ اس ٹاور کی تعمیر جون 1957ء میں شروع ہوئی اور 23 دسمبر 1958ء کو یہ ٹاور مکمل ہوا۔ اس کی بلندی 1091 فٹ ہے۔ یہ ٹاور جب مکمل ہوا تو جاپان کا بلند ترین ٹاور تھا اور دُنیا میں ماسکو ٹی وی ٹاور بننے کے بعد یہ دوسرے نمبر پر آگیا پھر جب ٹورنٹو کاٹی وی ٹاور مکمل ہوا تو یہ بلندی کے لحاظ سے تیسرے نمبر پر آ گیا۔ اب بھی ٹوکیوٹاور جاپان میں دوسرے نمبر پر ہے کیونکہ ٹوکیو ہی میں سکائی ٹری ٹاور بھی ہے۔ جس کی بلندی 2080 فٹ ہے۔
اس ٹاور کا ڈیزائن پیرس کے ایفل ٹاور کے ڈیزائن سے متاثر ہو کر بنایا گیا تھا اور یہ ٹاور ایفل ٹاور سے بھی سو فٹ بلند ہے۔ بین الاقوامی شہری ہوا بازی کے اُصولوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اس ٹاور کو سفید اور نارنجی سرخی مائل رنگوں سے روغن کیا گیا ہے۔ اس ٹاور کے دو پلیٹ فارم بنائے گئے ہیں۔ پہلا پلیٹ فارم 490 فٹ کی بلندی پر بنایا گیا ہے۔ اس پر ریستوران، سٹور موجود ہیںجبکہ گرائونڈ پر میوزیم بھی بنایا گیا ہے۔ اسی فلور پر بار کا ماڈل بھی موجود ہے جسے راقم نے اپنے کیمرے میں محفوظ کر لیا۔ اس ٹاور کا دوسرا پلیٹ فارم 820 فٹ کی بلندی پر بنایا گیا ہے۔ جہاں پر شہر اور آسمان کا نظارہ کرنے کیلئے فلکیاتی رصد گاہ بنائی گئی ہے۔ راقم الحروف کو پہلی مرتبہ 1985ء میں اس ٹاور پر جانے کا موقع ملا۔ سارا شہر، پرانا ہوائی اڈا اور بندرگاہ نظروں کے سامنے تھے۔ یہاں سے مائونٹ فیوجی بھی نظر آتا ہے۔ اتنا مزہ آتا ہے کہ لفظوں میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔ اس ٹاور کو دیکھنے کیلئے آنے والے سیاحوں کا شوق دیدنی ہوتا ہے۔ صبح آٹھ بجے ہی ٹکٹ کے حصول کیلئے لمبی قطاریں لگ جاتی ہیں۔ اس ٹاور کے بننے سے لے کر تاحال کوئی 20 کروڑ سے زائد سیاح اس ٹاور کو دیکھنے کیلئے آ چکے ہیں۔ اس ٹاور کا سب سے بڑا ذریعہ آمدنی سیاحوں ہی سے حاصل ہوتا ہے۔
اس ٹاور کے اُوپر اور اطراف میں کئی درجن ریڈیو، ٹی وی، ٹیلی مواصلات، ٹریفک کنٹرول اور موسم کی دیکھ بھال کے آلات اور انٹینا نصب ہیں۔جو دور سے پرندوں کے گھونسلوں اور بھڑوں کے چھتوں کی مانند لگتے ہیں۔ یہاں پر لگے ہوئے آلات کی مدد سے شہر میں ٹریفک کنٹرول کرنے میں مدد ملتی ہے بلکہ شہر میں چلتی ہوئی سب وے ٹرینوں پر بھی نظر رکھی جاتی ہے۔ ان انٹینوں اور آلات کی تنصیب سے بھی ٹاور کی انتظامیہ کو خاطر خواہ آمدنی ہوتی ہے۔
1945ء میں جنگ عظیم دوم کی ہزیمت کے بعد جاپان کو یہ محسوس ہوا کہ جنگ سے کوئی فائدہ نہیں بلکہ سرا سر نقصان ہی نقصان ہے۔ تو حکومت نے بعد میں سارے ٹینک اور توپوں کو فیکٹریوں میں ڈھال کر یہ یاد گاری ٹاور کھڑا کر دیا۔ لہٰذا اس ٹاور کو جنگ عظیم دوم کی ایک یاد گار بھی کہا جاسکتا ہے۔
1958 ء میں جب ٹوکیوٹاور مکمل ہوا تو یقینا یہ شہر کی خوبصورتی میں ایک گرا نقدر اضافہ ثابت ہوا۔ اس ٹاور کی بناوٹ اس قدر مضبوط ہے کہ یہ بڑے سے بڑے زلزلے کو جس کی طاقت 10 ریکٹر سکیل سے اوپر ہو برداشت کر سکتا ہے اور 220 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی ہوائوں کا بھی مقابلہ کر سکتا ہے۔ مختلف تہواروں پر مختلف رنگوں کی روشنیوں سے ٹاور کو منور کیا جاتاہے۔ جس سے اس کی خوبصورتی میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس ٹاور کی خوبصورت تصویریں بنانے کے لیے راقم کو ٹاور سے ایک ڈیڑھ کلو میٹر پیچھے ہٹنا پڑاتب جا کر کیمرے کے فوکس میں مکمل تصویر آسکی۔ اس کے اوپررنگ و روغن کیلئے 28ہزار لیٹر روغن کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہالی وڈکی کئی فلموں کے علاوہ مشہور زمانہ فلم ''کنگ کانگ کی واپسی ‘‘ جیسی فلموں کی بھی اس ٹاور پر عکاسی کی جاچکی ہے۔