دفتر میں نوکری
اسپیشل فیچر
ہم نے دفتر میں کیوں نوکری کی اور چھوڑی، آج بھی لوگ پوچھتے ہیں مگر پوچھنے والے تو نوکری کرنے سے پہلے بھی پوچھا کرتے تھے ''بھئی، آخر تم نوکری کیوں نہیں کرتے؟‘‘، ''نوکری ڈھونڈتے نہیں ہو یا ملتی نہیں؟‘‘، ''ہاں صاحب، ان دنوں بڑ ی بیروز گاری ہے‘‘، ''آخرکب تک گھر بیٹھے ماں باپ کی روٹی توڑو گے‘‘۔
''لو اور سنو، کہتے ہیں، غلامی نہیں کریں گے۔‘‘
''میاں صاحبزادے! برسوں جوتیاں گھسنی پڑیں گی، تب بھی کوئی ضروری نہیں کہ۔۔۔‘‘
غرض کہ صاحب گھر والوں، عزیز رشتے داروں، پڑوسیوں اور دوستوں کے دن رات کے تقاضوں سے تنگ آکر ہم نے ایک عدد نوکری کرلی۔ نوکری تو کیا کی، گھر بیٹھے بٹھائے اپنی شامت مول لے لی۔ وہی بزرگ جو اٹھتے بیٹھتے بے روزگاری کے طعنوں سے سینہ چھلنی کئے دیتے تھے، اب ایک بالکل نئے انداز سے ہم پر حملہ آور ہوئے؟‘‘۔ ''اماں، نوکری کرلی؟ لاحول ولا قوہ!‘‘، ''ارے، تم اور نوکری؟‘‘، ''ہائے، اچھے بھلے آدمی کو کولہو کے بیل کی طرح دفتر کی کرسی میں جوت دیا گیا‘‘، ''اگر کچھ کام وام نہیں کرنا تھا تو کوئی کاروبار کرتے اس نوکری میں کیا رکھا ہے‘‘۔
لیکن ملازمت کا پرسہ اور نوکری پر جانا دونوں کام جاری تھے۔ ایسے حضرات اور خواتین کی بھی کمی نہ تھی جن کی نظروں میں خیر سے ہم اب تک بالکل بے روزگار تھے۔ لہٰذا ان سب کی طرف سے نوکری کی کنویسنگ بھی جاری تھی۔ روزگار کرنے اور روز گار نہ کرنے کا بالکل مفت مشورہ دینے والوں سے نبٹ کر ہم روز انہ دفتر کا ایک چکر لگاآتے۔ یہاں چکر لگانے کا لفظ میں نے جان بوجھ کر استعمال کیاہے کیونکہ اب تک ہم کو نوکری مل جانے کے باوجود کا م نہیں ملا تھا۔
بڑے صاحب دورے پر گئے ہوئے تھے۔ ان کی واپسی پر یہ طے ہونا تھا کہ ہم کس شعبے میں رکھے جائیں گے۔ دفتر ہم صرف حاضری کے رجسٹر پر دستخط کرنے کی حدتک جاتے تھے۔ فکر اس لیے نہ تھی کہ ہماری تنخواہ جڑرہی تھی، یعنی پیسے دودھ پی رہے تھے۔ پریشانی اس بات کی تھی کہ اس 'باکار‘ 'بے کاری‘ کے نتیجے میں ہم کہیں 'حرام خور‘ نہ ہوجائیں۔
بے روزگاری کے تقاضوں سے ہم اس قدر تنگ آچکے تھے کہ اب کسی پر یہ ظاہر کرنا نہ چاہتے تھے کہ باوجود روزگار سے لگے ہونے کے ہم بالکل بے روزگار ہیں اور بے روز گا ر بھی ایسے کہ جس سے کارتو کار، بے گار تک نہیں لیا جارہا ہے۔
اس کے بعدہم دفتر میں جاکر حاضری لگا الٹے قدموں باہر آتے، سائیکل اٹھاتے اور شہر کے باہر دیہات، باغوں اور کھیتوں کے چکر لگا لگا کر دل بہلاتے اور وقت کاٹتے۔لیکن دوچار دن میں، جب دیہات کی سیر سے دل بھرگیا، تو شہر کے نکڑ پر ایک چائے خانے میں اڈا جمایا۔ پھر ایک آدھ ہفتے میں اس سے بھی طبیعت گھبرا گئی۔ اب سوال یہ کہ جائیں تو جائیں کہاں؟ ایک ترکیب سوجھ گئی۔ گھر میں کہہ دیا، چھٹی لے لی ہے۔ دوچار دن بڑے ٹھاٹھ رہے آخر جھک مارکر وہی دفتری آوارہ گردی شروع کردی۔
رفتہ رفتہ وقت گزاری سے اتنے عاجز آگئے کہ ایک دن یہ سوچ کر کہ نہ رہے گا بانس اور نہ بجے گی بانسری، استعفیٰ جیب میں رکھ کر دفتر پہنچے لیکن ہماری بدقسمتی ملا حظہ فرمائیے کہ قبل اس کے کہ ہم استعفیٰ پیش کرتے ہمیں یہ خوشخبری سنادی گئی کہ فلاں شعبے سے ہم کو وابستہ کر دیا گیا ہے، جہاں ہم کو فلاں فلاں کام کرنے ہوں گے۔
اب ہم روزانہ بڑی پابندی سے پورا وقت دفتر میں گزارنے لگے۔ دن دن بھر دفتر کی میز پر جمے ناولیں پڑھتے، چائے پیتے اور اونگھتے رہتے۔ جب ہم اپنے انچارج سے کام کی فرمائش کرتے تو وہ بڑی شفقت سے کہتے ایسی جلدی کیاہے، عزیزم زندگی بھر کام کرنا ہے۔
ایک دن ہم جیسے ہی دفتر پہنچے تو معلوم ہوا کہ جن ڈائریکٹر صاحب کو ہم اپنے گھر میں مرحوم قرار دے چکے تھے، وہ ہم کو طلب فرما رہے ہیں۔ فوراً پہنچے۔بڑے اخلاق سے ملے۔ دیر تک اِدھر ادھر کی باتیں کرنے کے بعد بولے، ''اچھا!‘‘،''آپ نے شائد مجھے کسی کام سے یاد فرمایا تھا‘‘۔''اوہ! ٹھیک ہے۔ سکریٹری صاحب سے مل لیجئے۔ وہ آپ کو سمجھا دیں گے‘‘۔
سکریٹری صاحب سے ایک ہفتے بعد کہیں ملاقات ہوسکی۔ انہوں نے اگلے دن بلایا اور بجائے کام بتانے کے ڈپٹی سکریٹری کاپتہ بتا دیا۔ موصوف دورے پر تھے۔ دوہفتے بعد ملے۔ بہت دیر تک دفتری نشیب و فر از سمجھانے کے بعد ہمیں حکم دیاکہ اس موضوع پر اس اس قسم کا ایک مختصر سا مقالہ لکھ لائیے آدھے گھنٹے کے اندر تیار کردیا۔
خوشی کے مارے ہم پھولے نہ سمائے کہ ہم بھی دنیامیں کسی کام آسکتے ہیں۔ دوصفحے کا مقالہ تیار کرنا تھا جو ہم نے بڑی محنت کے بعد آدھے گھنٹے کے اندر تیار کردیا۔ موصوف نے مقالہ بہت پسند کیا۔مزید کام کیلئے ہم ان کے کمرے کا رخ کرنے ہی والے تھے کہ اس دفتر کے ایک گھاگ افسر نے ہمارا راستہ روکتے ہوئے ہمیں سمجھایا، بھیّا اپنی نوکری سے ہاتھ دھونا چاہتے ہو یا ہم لوگوں کی نوکریاں ختم کرانا چاہتے ہو؟ آخر تمہارا مطلب کیا ہے؟ جو کام تم کو دیا گیا تھا، اسے کرتے رہو ہم لوگ دفتر میں کام کرنے نہیں بلکہ اپنے آپ کو مصروف رکھنے کیلئے آتے ہیں۔
اگلے دن اتوار کی چھٹی تھی۔ ناشتہ کرتے وقت اخبار کے میگزین سیکشن پر جو نظر دوڑائی تو وہی مقالہ ہمارے ایک صاحب کے صاحب کے صاحب کے صاحب کے نام نامی اور اسم گرامی کے دم چھلّے کے ساتھ بڑے نمایاں طور پر چھپا ہوا نظر آ گیا۔