زیر زمین پانی کے کم ہوتے ذخائر:ایک خاموش بحران
اسپیشل فیچر
اگر کسی صبح آپ اپنے گھر کا نل کھولیں اور اس میں سے پانی نہ آئے تو یقینا آپ کو فوراً احساس ہو جائے گا کہ پانی کی کتنی اہمیت ہے۔ لیکن شاید ہم میں سے بہت کم لوگ اس بات پر غور کرتے ہیں کہ ہمارے گھروں، شہروں اور کھیتوں تک پہنچنے والا یہ پانی آخر آتا کہاں سے ہے۔ دریائوں، نہروں اور ڈیموں کا ذکر تو اکثر ہوتا رہتا ہے، مگر زمین کے سینے میں صدیوں سے محفوظ وہ خزانہ، جسے ہم زیر زمین پانی یا گرائونڈ واٹر کہتے ہیں، خاموشی سے ختم ہوتا جا رہا ہے۔
یہ ایک ایسا بحران ہے جو نظر نہیں آتا، اسی لیے شاید اس پر توجہ بھی کم دی جاتی ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی آبی سلامتی کا مستقبل بڑی حد تک اسی پوشیدہ ذخیرے سے وابستہ ہے۔ اگر یہ ذخائر ختم ہوتے رہے تو صرف کھیت ہی بنجر نہیں ہوں گے بلکہ شہر بھی پیاس کا شکار ہو سکتے ہیں۔پاکستان پہلے ہی پانی کی کمی کا سامنا کرنے والے ممالک میں شامل ہے۔ آبادی میں مسلسل اضافہ، موسمیاتی تبدیلی، بارشوں کے بدلتے ہوئے انداز اور پانی کے غیر محتاط استعمال نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ہم اکثر دریائوں میں کم پانی، ڈیموں کی ضرورت یا صوبوں کے درمیان آبی تنازعات پر گفتگو کرتے ہیں، لیکن زمین کے نیچے موجود پانی کے تیزی سے کم ہوتے ذخائر ہماری توجہ حاصل نہیں کر پاتے۔
آج ملک کے لاکھوں ٹیوب ویل دن رات زمین سے پانی کھینچ رہے ہیں۔ یہ پانی کھیتوں کو سیراب کرنے، شہروں کی ضروریات پوری کرنے اور صنعتوں کو چلانے کیلئے استعمال ہوتا ہے۔ مسئلہ پانی کے استعمال میں نہیں بلکہ اس کے بے دریغ اور بے قابو استعمال میں ہے۔ قدرت جتنی رفتار سے ان ذخائر کو دوبارہ بھرتی ہے، ہم اس سے کہیں زیادہ تیزی سے انہیں خالی کر رہے ہیں۔
لاہور، راولپنڈی، پشاور اور کوئٹہ جیسے بڑے شہر بڑی حد تک زیر زمین پانی پر انحصار کرتے ہیں۔ بعض علاقوں میں پانی کی سطح ہر سال کئی فٹ نیچے جا رہی ہے۔ لوگ جب پانی کم ہونے کی شکایت کرتے ہیں تو نئے اور زیادہ گہرے بور کروا لیتے ہیں۔ یوں مسئلہ وقتی طور پر تو حل ہو جاتا ہے مگر اصل بحران مزید سنگین ہو جاتا ہے۔
بلوچستان کی مثال ہمارے سامنے ہے، جہاں کئی علاقوں میں زیر زمین پانی اس قدر نیچے جا چکا ہے کہ کسانوں نے زمینیں چھوڑنا شروع کر دی ہیں۔ کوئٹہ برسوں سے اس مسئلے کا سامنا کر رہا ہے اور بعض دیہی علاقوں میں پانی کا حصول روز بروز مشکل ہوتا جا رہا ہے۔پاکستان کی معیشت کا بڑا انحصار زراعت پر ہے اور زراعت کا دارومدار پانی پر۔ ہمارے آبپاشی کے نظام کو دنیا کے بڑے نظاموں میں شمار کیا جاتا ہے، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ نہری پانی کی دستیابی میں کمی اور زرعی رقبے میں اضافے نے کسانوں کو ٹیوب ویلوں کی طرف دھکیل دیا۔ آج صورتحال یہ ہے کہ بیشتر کسان اپنی فصلوں کیلئے زیر زمین پانی استعمال کر رہے ہیں۔ دوسری طرف ہم اب بھی ایسی فصلیں اگا رہے ہیں جنہیں پانی کی بہت زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ گنا اور چاول جیسی فصلیں ان علاقوں میں بھی کاشت کی جا رہی ہیں جہاں پانی پہلے ہی کم ہے۔ روایتی فلڈ ایریگیشن کے طریقے بھی پانی کے بڑے ضیاع کا سبب بنتے ہیں۔ پانی کھیتوں میں ضرورت سے زیادہ چھوڑ دیا جاتا ہے اور اس کا ایک بڑا حصہ ضائع ہو جاتا ہے۔
موسمیاتی تبدیلی نے اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ درجہ حرارت میں اضافہ فصلوں کی پانی کی ضرورت بڑھا رہا ہے۔ بارشوں کا نظام غیر یقینی ہوتا جا رہا ہے۔ کبھی طویل خشک سالی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور کبھی شدید سیلاب آ جاتے ہیں۔ بدقسمتی سے ہم سیلابی پانی کو محفوظ کرنے اور اسے زیر زمین ذخائر تک پہنچانے کا موثر نظام بھی نہیں بنا سکے۔یہ مسئلہ صرف ماحولیات تک محدود نہیں بلکہ براہ راست عام آدمی کی زندگی سے جڑا ہوا ہے۔ جب پانی کی سطح نیچے جاتی ہے تو کسانوں کو زیادہ گہرے کنویں کھودنے پڑتے ہیں، زیادہ طاقتور موٹریں لگانی پڑتی ہیں اور بجلی کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں۔ چھوٹے کسان یہ بوجھ برداشت نہیں کر پاتے اور ان کی معاشی مشکلات میں اضافہ ہو جاتا ہے۔شہروں میں بھی صورتحال مختلف نہیں۔ پانی کی قلت بڑھنے کے ساتھ لوگ نجی واٹر ٹینکروں پر انحصار کرنے لگتے ہیں۔ غریب آبادیوں کیلئے صاف پانی کا حصول مزید مشکل ہو جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پانی کے معیار کا مسئلہ بھی شدت اختیار کر رہا ہے۔ بعض علاقوں میں زیر زمین پانی میں نمکیات، صنعتی فضلہ، زرعی کیمیکلز اور آرسینک کی مقدار خطرناک حد تک بڑھ رہی ہے، جس کے نتیجے میں صحت کے مسائل جنم لے رہے ہیں۔
اس صورتحال کا تقاضا ہے کہ ہم زیر زمین پانی کو ایک قومی اثاثہ سمجھیں۔ پانی کے بے تحاشا استعمال کو روکنے کیلئے موثر قوانین اور نگرانی کا نظام ضروری ہے۔ نئے ٹیوب ویلوں کی رجسٹریشن اور پانی کے استعمال کے باقاعدہ ریکارڈ کی ضرورت ہے۔ساتھ ہی بارش کے پانی کو محفوظ کرنے، ری چارج ویلز بنانے، چھوٹے آبی ذخائر تعمیر کرنے اور شہری علاقوں میں ایسے منصوبے متعارف کرانے کی ضرورت ہے جو پانی کو دوبارہ زمین میں جذب ہونے کا موقع دیں۔ جدید آبپاشی کے طریقوں کو فروغ دے کر بھی پانی کے ضیاع کو نمایاں طور پر کم کیا جا سکتا ہے۔عوامی شعور بیدار کرنا بھی بے حد ضروری ہے۔ چونکہ زیر زمین پانی نظر نہیں آتا، اس لیے اس کی اہمیت کا احساس بھی کم ہوتا ہے۔ اگر لوگ یہ جان لیں کہ ان کے گھروں، کھیتوں اور شہروں کی بقا اسی پوشیدہ خزانے سے وابستہ ہے تو شاید وہ اس کے استعمال میں احتیاط بھی اختیار کریں۔
دنیا کے کئی ممالک نے دانشمندانہ پالیسیوں، جدید ٹیکنالوجی اور عوامی تعاون کے ذریعے اپنے زیرِ زمین پانی کے ذخائر کو محفوظ بنایا ہے۔ پاکستان کے پاس بھی ماہرین، ادارے اور وسائل موجود ہیں۔ ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیا جائے۔زمین کے نیچے موجود پانی صدیوں میں جمع ہوتا ہے مگر چند دہائیوں میں ختم بھی ہو سکتا ہے۔ اگر ہم نے آج اس خاموش بحران کو نظر انداز کیا تو آنے والی نسلیں ہمیں شاید کبھی معاف نہ کر سکیں۔