اسٹون ہینج کی تعمیر کا حیرت انگیز راز
اسپیشل فیچر
25 ٹن وزنی پتھر کیسے نصب کیے گئے؟
انسانی تاریخ میں بعض تعمیرات ایسی ہیں جو صدیاں گزر جانے کے باوجود آج بھی حیرت اور تجسس کا باعث بنی ہوئی ہیں۔ برطانیہ میں واقع اسٹون ہینج بھی انہی عجائبات میں سے ایک ہے، جس کی تعمیر کے راز ماہرین آثار قدیمہ کیلئے ایک معمہ بنے ہوئے ہیں۔ حال ہی میں جاری ہونے والی ایک حیرت انگیز بصری منظرکشی نے اس تاریخی یادگار کی تعمیر کے عمل کو نئے انداز میں اجاگر کیا ہے۔ اس منظرکشی سے اندازہ ہوتا ہے کہ تقریباً پانچ ہزار سال قبل 25 ٹن وزنی پتھروں کو دور دراز مقامات سے کھینچ کر لانا اور انہیں اپنی جگہ نصب کرنا کس قدر دشوار اور محنت طلب کام تھا۔ یہ انکشاف نہ صرف قدیم انسانوں کی انجینئرنگ مہارت کو نمایاں کرتا ہے بلکہ ان کی اجتماعی قوت، تنظیم اور عزم کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ یہ منظرکشی انگلش ہیریٹیج نے لیزر سکین ڈیٹا اور آثارقدیمہ کی تحقیق کی بنیاد پر تیار کی اور اسے اب تک کی سب سے درست اور تفصیلی تعمیر نو قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ یادگار جسے ہم آج دیکھتے ہیں تقریباً 3100 قبل مسیح سے 1600 قبل مسیح میں تعمیر ہوئی، اگرچہ یہ بصری ماڈل بنیادی طور پر تعمیر کے مرکزی مرحلے پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق سینکڑوں افراد نے مل کر بڑے بڑے پتھروں کو کھینچنے، اٹھانے اور اپنی جگہ پر نصب کرنے کا کام کیا، جو اس مشہور پتھریلے دائرے کی تشکیل کرتے ہیں۔اس کے معماروں نے حیرت انگیز طریقے استعمال کیے تاکہ اس انتہائی مشکل کام کو نسبتاً آسان بنایا جا سکے۔ اس سے اسٹون ہینج ایک سادہ خندقوں اور لکڑی کے کھمبوں کے دائرے سے تبدیل ہو کر قدیم برطانیہ کی سب سے پیچیدہ مذہبی اور رسوماتی جگہ بن گیا۔
یونیورسٹی آف ایکسیٹر کی ماہر آثارِ قدیمہ ڈاکٹر سوزن گرینی، جنہوں نے اس تعمیر نو میں کام کیا کے مطابق اس نئی تعمیر نو میں پتھروں کو جگہ پر لانے کیلئے انہیں بڑے بڑے پتھروں، چھوٹے پتھروں کے ڈھیر پر سہارا دے کر اوپر اٹھایاگیا۔یہ طریقہ ایسٹر آئی لینڈ کے مجسموں کو کھڑا کرنے کے شواہد سے لیا گیا ہے، جو وزن اور جسامت میں اسی طرح کے ہیں۔اس شاندار تعمیر نو، جو کتاب ''Stonehenge: The Story of an Icon‘‘ کیلئے تیار کی گئی ہے، میں دکھایا گیا ہے کہ معمار کس طرح بڑے بڑے پتھروں کو منتقل کر رہے ہیں۔ یہ پتھر اسٹون ہینج کے سب سے بڑے اور سب سے زیادہ پہچانے جانے والے پتھر ہیں، جو کھڑے ستونوں اور ان کے اوپر رکھے گئے افقی ''لنٹلز‘‘ (lintels) یعنی شہتیروں کی شکل میں محرابوں کو مکمل کرتے ہیں۔
ماہرین آثارِ قدیمہ کا خیال ہے کہ یہ پتھر شمال کی جانب تقریباً 15 میل کے فاصلے پر واقع مارلبورو ڈاؤنز کے کنارے سے لائے گئے تھے۔ ان میں سے سب سے بڑے پتھر کا وزن 36 ٹن سے زیادہ اور لمبائی تقریباً سات میٹر تھی، اس لیے انہیں منتقل کرنا ایک انتہائی بڑا اور مشکل کام تھا۔ ممکن ہے کہ 150 سے زائد افراد نے مل کر ایک ہی پتھر کو لکڑی کے بنے ہوئے راستے پر کھینچا ہو، جسے جانوروں کی چربی سے چکنا کیا جاتا تھا۔ تاہم محققین کے مطابق یہ ضروری نہیں کہ یہ کام صرف اس لیے کیا جاتا تھا کہ یہ بہت مشکل تھا، بلکہ ممکن ہے کہ پتھروں کو کھینچنا ایک قسم کی اجتماعی تقریب یا جشن کا حصہ بھی ہو۔
جب پتھر اپنی جگہ تک پہنچا دیے گئے تو انہیں مزید مہارت سے تراشنے اور شکل دینے کی ضرورت پیش آئی۔سالسبری میدان کی زمین بالکل ہموار نہیں ہے، اس لیے ہر پتھر کو درست اونچائی کے مطابق انتہائی احتیاط سے کاٹنا پڑتا تھا، اور ماہرین آثار قدیمہ کو قریب ہی پتھروں کے ٹکڑوں کے بڑے ڈھیر بھی ملے ہیں جو اس عمل کا ثبوت ہیں۔ماہرین آثار قدیمہ کا خیال ہے کہ اسٹون ہینج کی تعمیر میں تقریباً 55 لاکھ گھنٹے کی محنت لگی ہوگی، جس میں سے ساڑھے چار لاکھ گھنٹے صرف بڑے سارسن پتھروں پر خرچ ہوئے۔
4مرحلوں پر مشتمل تعمیراتی منصوبہ
موجودہ اسٹون ہینج اس کی آخری شکل ہے جو تقریباً 3,500 سال پہلے مکمل ہوئی تھی۔یادگار کی ویب سائٹ کے مطابق، اسٹون ہینج کی تعمیر چار مراحل میں مکمل کی گئی تھی۔
پہلا مرحلہ
اسٹون ہینج کا ابتدائی ورژن ایک بڑا زمینی ڈھانچہ یا ''ہینج‘‘ تھا، جس میں ایک خندق، مٹی کا بند اور اوبری ہولز شامل تھے۔ یہ سب تقریباً 3100 قبل مسیح میں تعمیر کیے گئے تھے۔ اوبری ہولز چاک کی زمین میں بنے ہوئے گول گڑھے ہوتے ہیں، جن کی چوڑائی اور گہرائی تقریباً ایک میٹر ہوتی ہے۔یہ ایک دائرہ بناتے ہیں جس کا قطر تقریباً 86.6 میٹرہے۔کھدائی کے دوران ان چاک سے بھرے ہوئے گڑھوں میں بعض جگہوں پر جلائی ہوئی انسانی ہڈیاں ملی ہیں، تاہم ماہرین کے مطابق یہ گڑھے غالباً تدفین کیلئے نہیں بنائے گئے تھے بلکہ یہ کسی مذہبی رسم کا حصہ ہو سکتے ہیں۔ اس پہلے مرحلے کے بعد اسٹون ہینج کو چھوڑ دیا گیا اور ایک ہزار سال سے زائد عرصے تک یہ جگہ غیر استعمال شدہ رہی۔
دوسرا مرحلہ
اسٹون ہینج کا دوسرا اور سب سے زیادہ حیران کن مرحلہ تقریباً 2150 قبل مسیح میں شروع ہوا، جب جنوب مغربی ویلز کے پریسیلی پہاڑوں سے تقریباً 82 نیلے پتھر اس مقام تک لائے گئے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ ان میں سے کچھ پتھروں کا وزن چار ٹن تک تھا، جنہیں لکڑی کے رولرز اور سلیجز کے ذریعے میلٹن ہیون کے پانیوں تک گھسیٹا گیا، جہاں انہیں بیڑوں پر لاد دیا گیا۔ اس کے بعد انہیں وارمنسٹر اور ولٹ شائر کے قریب دوبارہ خشکی پر کھینچا گیا۔ سفر کا آخری مرحلہ زیادہ تر پانی کے ذریعے تھا، جو دریائے وائیلی سے سالسبری اور پھر سالسبری ایون کے راستے ویسٹ ایمسبری تک پہنچا۔ یہ پورا سفر تقریباً 240 میل پر محیط تھا، اور جب یہ پتھر مقام پر پہنچے تو انہیں مرکز میں نصب کر کے ایک نامکمل دوہرا دائرہ بنایا گیا۔ اسی دوران اصل داخلی راستے کو وسیع کیا گیا اور ہیل اسٹونز کا ایک جوڑا نصب کیا گیا۔ اسٹون ہینج کو دریائے ایون سے ملانے والی ''ایونیو‘‘ کا قریبی حصہ بھی اسی دور میں بنایا گیا۔
تیسرا مرحلہ
اسٹون ہینج کا تیسرا مرحلہ تقریباً 2000 قبل مسیح میں شروع ہوا، جب سارسن پتھر وہاں لائے گئے، جو بلیو اسٹونز سے کہیں بڑے تھے۔ یہ پتھر غالباً اسٹون ہینج سے تقریباً 40 کلومیٹر شمال میں واقع مارلبورو ڈاؤنز سے لائے گئے تھے۔ ان میں سب سے بڑے سارسن پتھر کا وزن تقریباً 50 ٹن تھا، چونکہ انہیں پانی کے ذریعے منتقل کرنا ممکن نہیں تھا، اس لیے اندازہ ہے کہ انہیں رسوں اور سلیجز کے ذریعے زمین پر گھسیٹا گیا۔ حسابات سے معلوم ہوا ہے کہ ایک پتھر کھینچنے کیلئے تقریباً 500 افراد درکار ہوتے تھے، جبکہ مزید 100 افراد راستے میں رولرز بچھانے کیلئے کام کرتے تھے۔ ان پتھروں کو بیرونی دائرے کی شکل میں ترتیب دیا گیا جس کے اوپر افقی پتھر (لنٹلز) رکھے گئے۔ اندرونی حصے میں پانچ ٹرائلیتھون (دو کھڑے اور اوپر ایک افقی پتھر پر مشتمل ڈھانچے) گھوڑے کی نعل کی شکل میں نصب کیے گئے، جو آج بھی موجود ہیں۔
آخری مرحلہ
چوتھا اور آخری مرحلہ تقریباً 1500 قبل مسیح کے بعد ہوا، جب چھوٹے بلیو اسٹونز کو دوبارہ ترتیب دے کر آج کی موجودہ گھوڑے کی نعل اور دائرے کی شکل دی گئی۔ بلیو اسٹونز کے اصل دائرے میں تقریباً 60 پتھر تھے، لیکن بعد میں یہ یا تو ہٹا دیے گئے یا ٹوٹ گئے۔ کچھ اب بھی زمین کے نیچے ستونوں کی صورت میں موجود ہیں۔