جدید چپ متعارف
اسپیشل فیچر
مصنوعی ذہانت کی دنیا میں ایک اور سنگِ میل
پرسنل کمپیوٹرز میں اے آئی،ٹیکنالوجی کی دنیا کا نیا موڑ
مصنوعی ذہانت (AI) کی دنیا میں تیز رفتار ترقی نے کمپیوٹر کے روایتی تصورات کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ اب مصنوعی ذہانت صرف بڑے ڈیٹا سینٹرز اور کلاؤڈ پلیٹ فارمز تک محدود نہیں رہی بلکہ اسے براہ راست ذاتی کمپیوٹرز تک پہنچانے کی دوڑ بھی تیز ہو گئی ہے۔ اسی تناظر میں دنیا کی معروف چپ ساز کمپنی این ویڈیا نے ایک نئی اور جدید اے آئی چپ متعارف کرائی ہے، جس کا مقصد مصنوعی ذہانت کو براہ راست پرسنل کمپیوٹرز تک منتقل کرنا ہے۔ اس نئی ٹیکنالوجی کی بدولت صارفین انٹرنیٹ یا کلاؤڈ پر انحصار کم کرتے ہوئے اپنے کمپیوٹر پر ہی جدید اے آئی ایپلی کیشنز، تخلیقی سافٹ ویئر، ڈیٹا تجزیے اور دیگر ذہین نظاموں سے زیادہ تیز، محفوظ اور مؤثر انداز میں استفادہ کر سکیں گے۔ ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت نہ صرف ذاتی کمپیوٹنگ کے شعبے میں ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہو گی بلکہ مصنوعی ذہانت کے روزمرہ استعمال کو بھی مزید آسان، عام اور قابلِ رسائی بنا دے گی، جس کے اثرات تعلیم، تحقیق، کاروبار اور تخلیقی صنعتوں سمیت زندگی کے متعدد شعبوں پر مرتب ہوں گے۔
امریکی ٹیکنالوجی کمپنی این ویڈیا رواں سال کے آخر تک مائیکروسافٹ، ڈیل اور دیگر معروف برانڈز کے لیپ ٹاپ اور ڈیسک ٹاپ کمپیوٹرز میں مصنوعی ذہانت (AI) کی جدید صلاحیتیں متعارف کرانے جا رہی ہے، جس کے ذریعے کمپنی اپنے اے آئی کاروبار کو مزید وسعت دے گی۔
امریکا کی ریاست کیلیفورنیا کے شہر سانتا کلارا میں قائم اے آئی چپس بنانے والی کمپنی نے تائیوان کے شہر تائی پے میں منعقدہ اپنی سالانہ این ویڈیا جی ٹی سی کانفرنس کے دوران نئے اور طاقتور چپس متعارف کرائے، جو لیپ ٹاپ اور ڈیسک ٹاپ کمپیوٹرز میں جدید مصنوعی ذہانت کی سہولیات فراہم کریں گے۔
کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر جینسن ہوانگ کے مطابق یہ نئی پیش رفت ''پرسنل کمپیوٹر کو ازسرِنو متعارف کرائے گی‘‘۔ یہ پیش رفت مائیکروسافٹ اور این ویڈیا کے درمیان گزشتہ تین برسوں سے جاری تعاون کا نتیجہ ہے اور اس کے ذریعے این ویڈیا کا مقابلہ چپ ساز کمپنی ایڈوانسڈ مائیکرو ڈیوائسز (AMD) اور کمپیوٹر ٹیکنالوجی کی معروف کمپنیوں انٹیل اور ایپل سے مزید سخت ہو جائے گا۔
جینسن ہوانگ نے تقریب کے دوران ''آرٹی ایکس سپارک‘‘(RTX Spark) نامی نیا سپر چپ بھی متعارف کرایا، جو سی پی یو (Central Processing Unit) اور جی پی یو (Graphics Processing Unit) دونوں کی صلاحیتوں کو یکجا کرتا ہے۔ یہ چپ ونڈوز پر مبنی نئے لیپ ٹاپ اور ڈیسک ٹاپ کمپیوٹرز کو طاقت فراہم کرے گی، جنہیں کمپنی نے ''اے آئی پرسنل کمپیوٹرز‘‘ کا نام دیا ہے۔ ان نئے کمپیوٹرز کی فروخت رواں سال خزاں کے موسم میں شروع ہونے کی توقع ہے۔
یہ چپ تائیوان کی کمپنی میڈیا ٹیک کے اشتراک سے تیار کی گئی ہے اور ابتدائی طور پر ڈیل، ایچ پی، لینوو، ایسوس، مائیکروسافٹ سرفیس اور ایم ایس آئی کے کمپیکٹ ڈیسک ٹاپ کمپیوٹرز میں استعمال ہوگی، جبکہ بعد ازاں ایسر اور گیگا بائٹ بھی اس ٹیکنالوجی پر مبنی ماڈلز متعارف کرائیں گے۔
دنیا کی سب سے قیمتی کمپنیوں میں شمار ہونے والی این ویڈیا کا کہنا ہے کہ یہ نئی ٹیکنالوجی تخلیقی کاموں (Content Creation) اور گیمنگ کے شعبے میں انقلاب برپا کرے گی۔
جینسن ہوانگ کے مطابق ''جب آپ کے کمپیوٹر میں ایک خودمختار مصنوعی ذہانت پر مبنی معاون (AI Agent) موجود ہوگا، جو آپ کو سمجھے گا اور آپ کی مدد کرے گا، تو آپ اس سے بات کر سکیں گے، وہ آپ کو دیکھ سکے گا، آپ اس سے فائلیں پڑھنے، تحقیق میں مدد کرنے اور دیگر متعدد کام انجام دینے کیلئے کہہ سکیں گے۔ یوں پرسنل کمپیوٹر پہلے سے کہیں زیادہ ذہین اور کارآمد بن جائے گا۔
مائیکروسافٹ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ این ویڈیا کے ''آر ٹی ایکس سپارک‘‘ سپر چپس سے لیس پرسنل کمپیوٹرز نہایت طاقتور مصنوعی ذہانت ماڈلز اور پیچیدہ کمپیوٹنگ ورک لوڈز کو باآسانی چلانے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے۔
این ویڈیا کے مطابق، ان نئے سپر چپس کی بدولت یہ پرسنل کمپیوٹرز مصنوعی ذہانت پر مبنی ایجنٹس کو براہِ راست اپنے سسٹم پر چلا سکیں گے، جس کیلئے ہر وقت کلاؤڈ سروس یا انٹرنیٹ پر انحصار کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ اس سے صارفین کو تیز رفتار کارکردگی، بہتر رازداری، کم تاخیر اور زیادہ مؤثر انداز میں اے آئی سہولیات میسر آئیں گی۔
ماہرین کے مطابق این ویڈیا کا یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ذاتی مصنوعی ذہانت معاونین (Personal AI Agents)کی مانگ میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ٹیکنالوجی ریسرچ اور مشاورتی ادارے اومڈیا (Omdia) کے چیف تجزیہ کار لیان جے سو نے کہا کہ صارفین کیلئے اس کا مطلب زیادہ انتخاب اور بہتر مواقع ہیں، اور یہ ہمیشہ ایک مثبت پیش رفت ہوتی ہے۔
دوسری جانب ٹیکنالوجی مارکیٹ ریسرچ فرم کاؤنٹر پوائنٹ ریسرچ کے شریک بانی اور تجزیہ کار نیل شاہ نے این ویڈیا کے اس اعلان کو ایسا قدم قرار دیا جو آئندہ دس برسوں میں پرسنل کمپیوٹرز کی شکل و صورت اور استعمال کا انداز بدل کر رکھ دے گا۔