خلائی دوربین کو بچانے کا مشن
اسپیشل فیچر
ناسا نے جدید روبوٹ روانہ کر دیاجو دوربین کو محفوظ مدار میں پہنچائے گا
خلائی تحقیق کی تاریخ میں اب تک بیشتر مشن نئے سیاروں، ستاروں اور کہکشاؤں کی کھوج کیلئے روانہ کیے جاتے رہے ہیں، لیکن اب انسان ایک ایسے دور میں داخل ہو چکا ہے جہاں خلا میں برسوں سے خدمات انجام دینے والے سائنسی آلات کو بچانے کیلئے بھی باقاعدہ امدادی کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔ اسی سلسلے کی ایک غیر معمولی مثال امریکی خلائی ادارے ناسا کا وہ جرات مندانہ مشن ہے، جس کے تحت تقریباً دو دہائیوں سے کائنات کے سربستہ رازوں سے پردہ اٹھانے والی سوئفٹ خلائی دوربین کو زمین کی فضا میں جل کر تباہ ہونے سے بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس مقصد کیلئے ایک جدید روبوٹ خلا میں بھیجا ہے، جو دوربین کو تھام کر دوبارہ محفوظ مدار میں پہنچائے گا۔ اگر یہ تجربہ کامیاب ہو گیا تو نہ صرف سوئفٹ دوربین کی عمر میں اضافہ ہوگا بلکہ مستقبل میں دیگر قیمتی خلائی دوربینوں اور مصنوعی سیاروں کو بھی اسی انداز میں بچانے کی نئی راہیں کھل جائیں گی، جس سے خلائی تحقیق کا ایک نیا باب رقم ہونے کی توقع ہے۔
''نارتھروپ گرومن‘‘ (Northrop Grumman) کے فضاء سے داغے جانے والے ''پیگاسس ایکس ایل‘‘ (Pegasus XL) راکٹ نے اپنی آخری پرواز مکمل کرتے ہوئے ایک نجی خلائی جہاز کو ایسے امدادی مشن پر روانہ کر دیا ہے، جس کا مقصد ناسا کی معروف ترین خلائی دوربینوں میں سے ایک کو زمین پر واپس گرنے سے بچانا ہے۔ ناسا کے مطابق ''سوئفٹ بوسٹ‘‘ (Swift Boost) مشن کے تحت ''کٹالسٹ اسپیس ٹیکنالوجیز‘‘ (Katalyst Space Technologies) کی تیار کردہ لنک (LINK) سیٹلائٹ کو جمعہ 3 جولائی کو صبح 4 بج کر 36 منٹ (مشرقی امریکی وقت)، یعنی 08:36 جی ایم ٹی پر کامیابی سے خلا میں روانہ کیا گیا۔ لنک سیٹلائٹ ناسا کی ''نیل گیریلز سوئفٹ آبزرویٹری‘‘ کے ساتھ جا کر ملے گی اور اسے کھینچتے ہوئے دوبارہ ایک محفوظ اور مستحکم مدار میں لے جائے گی، تاکہ اس کی زمین کی فضا میں داخل ہو کر تباہ ہونے سے بچایا جا سکے۔
پیگاسس ایکس ایل راکٹ کو اس کے انجن کے سٹارٹ ہونے سے قبل نارتھروپ گرومن کے ''ایل1011 اسٹارگیزر‘‘ (L 1011 Stargazer)طیارے سے مارشل جزائر کے اوپر فضا میں چھوڑا گیا۔ اس کے بعد راکٹ نے اپنا انجن جلایا اور لنک سیٹلائٹ کو کامیابی کے ساتھ مدار میں پہنچا دیا۔ اس کامیاب لانچ سے قبل مشن کو دو مرتبہ مؤخر کرنا پڑا تھا۔ پہلی بار خراب موسم اور بعد ازاں راکٹ کے نیوی گیشن سسٹم سے متعلق سافٹ ویئر خرابی کے باعث پرواز منسوخ کر دی گئی تھی۔ تاہم تمام تکنیکی مسائل حل ہونے کے بعد یہ تاریخی مشن بالآخر کامیابی سے روانہ کر دیا گیا۔
پیگاسس (Pegasus) تین مراحل پر مشتمل ایک ٹھوس ایندھن سے چلنے والا لانچ راکٹ ہے، جس کی لمبائی 55 فٹ (16.9 میٹر) ہے۔ یہ راکٹ 1,000 پونڈ (454 کلو گرام) تک وزنی پے لوڈ کو زمین کے نچلے مدار میں پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اسٹارگیزر (Stargazer) طیارے سے علیحدہ ہونے کے بعد پیگاسس کے تینوں مراحل یکے بعد دیگرے فعال ہوتے ہیں، جس کے نتیجے میں راکٹ تقریباً 10 منٹ کے اندر اپنی مطلوبہ بلندی اور مدار تک پہنچ جاتا ہے۔
پیگاسس راکٹ نے 1990ء میں اپنی پہلی پرواز کی تھی، اور اس کے بعد سے اب تک 45 خلائی مشن کامیابی سے مکمل کر چکا ہے۔ اس راکٹ کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اسے فضا میں موجود طیارے سے داغا جاتا ہے، جس کی بدولت اسے مختلف ہوائی اڈوں سے روانہ کیا جا سکتا ہے۔ یہی لچک اسے ایسے مشکل اور منفرد مداری زاویوں تک رسائی دیتی ہے، جہاں دنیا کے کئی بڑے خلائی اڈوں سے براہِ راست پہنچنا ممکن نہیں ہوتا۔ یہی خصوصیت اس بات کی بھی ایک اہم وجہ ہے کہ پیگاسس کو لنک (LINK) نامی روبوٹک سروسنگ سیٹلائٹ کے لانچ کیلئے منتخب کیا گیا۔ یہ سیٹلائٹ ناسا کی سوئفٹ خلائی دوربین تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جو زمین کے خط استوا کے مقابلے میں محض 20.6 درجے کے کم مداری زاویے پر گردش کر رہی ہے۔
اس مشن کیلئے ناسا کی جانب سے پیگاسس راکٹ کے انتخاب کی ایک اور اہم وجہ وقت کی کمی بھی تھی، کیونکہ سوئفٹ خلائی دوربین کے پاس زیادہ وقت باقی نہیں رہ گیا تھا۔ تقریباً 50 کروڑ ڈالر کی لاگت سے تیار کی گئی سوئفٹ آبزرویٹری کو نومبر 2004ء میں خلا میں بھیجا گیا تھا تاکہ کائنات میں رونما ہونے والے ''گیما رے برسٹس‘‘ (Gamma Ray Bursts) اور دیگر انتہائی طاقتور فلکیاتی مظاہر کا مطالعہ کیا جا سکے۔ دو دہائیوں سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود یہ دوربین آج بھی سائنسدانوں کیلئے نہایت قیمتی سائنسی معلومات فراہم کر رہی ہے۔ تاہم اس کا مدار اب خطرناک حد تک نیچے آ چکا ہے۔ حالیہ برسوں میں سورج کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کے باعث زمین کے نچلے مدار میں فضائی مزاحمت میں اضافہ ہو گیا ہے، جس کی وجہ سے سوئفٹ کی رفتار اور بلندی مسلسل کم ہو رہی ہے۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو بالآخر یہ دوربین زمین کی فضا میں داخل ہو کر جل کر تباہ ہو جائے گی۔
بدقسمتی سے سوئفٹ کو اس انداز میں ڈیزائن نہیں کیا گیا تھا کہ خلا میں اس کی مرمت یا سروسنگ کی جا سکے۔ اسی طرح اس میں ایسے تھرسٹرز (Thrusters) بھی نصب نہیں کیے گئے تھے جو اسے اپنے زور پر دوبارہ بلند اور محفوظ مدار میں منتقل کرنے کے قابل بناتے۔ یہی وجہ ہے کہ اب اسے بچانے کیلئے ایک علیحدہ روبوٹک امدادی مشن ناگزیر ہو گیا تھا۔