برف پگھلنے کے ساتھ انٹارکٹیکا سمندر میں پارہ کیوں چھوڑ رہا ہے؟

برف پگھلنے کے ساتھ انٹارکٹیکا سمندر میں پارہ کیوں چھوڑ رہا ہے؟

اسپیشل فیچر

تحریر : احمد نور


دنیا کے سرد ترین خطوں میں شمار ہونے والا انٹارکٹیکا طویل عرصے سے موسمیاتی تبدیلی کے باعث سائنسدانوں کی خصوصی توجہ کا مرکز ہے۔ براعظم کے وسیع برفانی ذخائر تیزی سے پگھل رہے ہیں جس کے نتیجے میں سمندر کی سطح بلند ہونے، سمندری ماحولیاتی نظام متاثر ہونے اور عالمی موسموں میں تبدیلی جیسے خطرات پہلے ہی زیرِ بحث ہیں۔ تاہم ایک نئی سائنسی تحقیق نے انٹارکٹیکا سے جڑے ایک اور تشویشناک پہلو کی نشاندہی کی ہے کہ پگھلتی ہوئی برف سمندر میں زہریلی دھات پارے (Mercury) کے اخراج کو بھی بڑھا سکتی ہے۔یہ دریافت اس لیے اہم ہے کہ پارہ ایک انتہائی زہریلا عنصر ہے جو ماحول میں طویل عرصے تک موجود رہ سکتا ہے اور سمندری غذائی زنجیر میں داخل ہو کر مچھلیوں اور دیگر جانداروں کے ذریعے انسانوں تک پہنچ سکتا ہے۔
انٹارکٹیکا میں پارہ کہاں سے آیا؟
سائنسدانوں کے مطابق انٹارکٹیکا میں موجود پارے کا ایک اہم حصہ براہِ راست مقامی انسانی سرگرمیوں کا نتیجہ نہیں۔ دنیا کے دوسرے حصوں میں صنعتی سرگرمیوں، کوئلے کے جلنے، کان کنی اور دیگر انسانی ذرائع سے فضا میں خارج ہونے والا پارہ ہوا کے عالمی نظام کے ذریعے دور دراز علاقوں تک پہنچ سکتا ہے۔یہ پارہ برف، برفانی ذرات اور ماحول کے دوسرے اجزا کے ساتھ انٹارکٹیکا میں بھی جمع ہوتا رہا۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ مواد برف اور برفانی تہوں میں محفوظ ہوتا گیا۔ جب برف پگھلتی ہے تو اس میں موجود مختلف کیمیائی عناصر دوبارہ ماحول میں آنے کا راستہ حاصل کر سکتے ہیں۔حالیہ تحقیق میں خاص طور پر انٹارکٹک کے قریب سمندری تلچھٹ یا سیڈیمنٹ میں پارے کی موجودگی کا جائزہ لیا گیا۔ سائنسدانوں نے سمندری تہہ میں جمع ہونے والی تہوں کا مطالعہ کرکے یہ جاننے کی کوشش کی کہ مختلف ادوار میں پارے کی مقدار کس طرح تبدیل ہوتی رہی۔تحقیق سے معلوم ہوا کہ صنعتی دور کے آغاز کے بعد پارے کے جمع ہونے کی شرح میں نمایاں اضافہ ہوا۔ بعض مقامات پر اس شرح میں تقریباً 160 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ یہ اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ انسانی سرگرمیوں سے خارج ہونے والا پارہ عالمی ماحول کے ذریعے انٹارکٹیکا تک بھی پہنچا اور وہاں کے قدرتی نظام میں محفوظ ہوتا رہا۔
انٹارکٹیکا کی برف صرف ایک جامد سفید سطح نہیں بلکہ ایک وسیع ماحولیاتی ذخیرہ بھی ہے جس میں مختلف کیمیائی مادے طویل عرصے تک محفوظ رہ سکتے ہیں۔جیسے جیسے درجہ حرارت بڑھتا ہے اور برف پگھلتی ہے برف میں جمے ہوئے بعض عناصر پانی کے ساتھ حرکت کرنا شروع کر سکتے ہیں۔ یہی عمل پارے کے لیے بھی تشویش کا باعث ہے۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ انٹارکٹیکا اچانک بڑی مقدار میں پارہ سمندر میں پھینک رہا ہے یا اس سے فوری طور پر عالمی سطح پر کوئی بحران پیدا ہونے والا ہے۔ اصل خدشہ یہ ہے کہ موسمیاتی تبدیلی ایک ایسے آلودگی کے ذخیرے کو دوبارہ متحرک کر سکتی ہے جو کئی دہائیوں یا اس سے بھی زیادہ عرصے سے برف میں محفوظ ہے۔یہ صورتحال ماہرین کے لیے اس لیے اہم ہے کہ انٹارکٹیکا میں برف کے پگھلنے کا عمل مستقبل میں بھی جاری رہنے کا خدشہ ہے۔ اگر برف کے پگھلاؤ میں اضافہ ہوتا ہے تو ماحول میں پہلے سے موجود بعض آلودہ عناصر کے اخراج کا امکان بھی بڑھ سکتا ہے۔
سمندری حیات کیلئے خطرہ
پارہ ماحول کے لیے اس لیے خطرناک ہے کہ یہ صرف پانی میں موجود رہنے والا ایک کیمیائی عنصر نہیں بلکہ جانداروں کے جسم میں جمع بھی ہو سکتا ہے۔ خاص طور پر سمندری ماحول میں پارے کی کچھ شکلیں ایسے کیمیائی مرکبات میں تبدیل ہو سکتی ہیں جو جانداروں کے لیے زیادہ نقصان دہ ہوتے ہیں۔چھوٹے سمندری جاندار اگر پارے کو جذب کریں تو یہ عنصر غذائی زنجیر کے ذریعے بڑی مچھلیوں اور دوسرے شکاری جانوروں تک پہنچ سکتا ہے۔ اس بارے میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ سمندر میں کتنا پارہ منتقل ہو رہا ہے، اس کی کون سی شکل زیادہ عام ہے اور وہ جانداروں میں کس حد تک جمع ہو رہا ہے۔
موسمیاتی تبدیلی کا ایک نیا پہلو
انٹارکٹیکا میں پارے کا مسئلہ موسمیاتی تبدیلی کے ایک بڑے اور پیچیدہ پہلو کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے۔ عام طور پر گلوبل وارمنگ کے اثرات پر بات کرتے ہوئے برف پگھلنے، سمندر کی سطح بلند ہونے اور درجہ حرارت میں اضافے کو نمایاں کیا جاتا ہے۔ لیکن برف کے پگھلنے سے ماحول میں پہلے سے محفوظ کیمیائی مادوں کے دوبارہ متحرک ہونے جیسے اثرات بھی سامنے آ سکتے ہیں۔یہ تحقیق اس بات کی یاد دہانی ہے کہ زمین کا ماحولیاتی نظام ایک دوسرے سے جڑے ہوئے پیچیدہ نظام پر مشتمل ہے۔ دنیا کے کسی ایک حصے میں صنعتی آلودگی پیدا ہوتی ہے، وہ فضا کے ذریعے ہزاروں کلومیٹر کا سفر کر سکتی ہے، کسی دور افتادہ برفانی خطے میں جمع ہو سکتی ہے اور کئی دہائیوں بعد موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں دوبارہ ماحول کا حصہ بن سکتی ہے۔اس لیے انٹارکٹیکا میں پارے کی موجودگی صرف ایک مقامی سائنسی مسئلہ نہیں بلکہ عالمی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی کے باہمی تعلق کی مثال ہے۔ اگر دنیا گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی اور صنعتی آلودگی پر قابو پانے میں ناکام رہتی ہے تو مستقبل میں ایسے کئی پوشیدہ ماحولیاتی اثرات سامنے آ سکتے ہیں جن کا اندازہ آج مکمل طور پر نہیں لگایا جا سکتا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
بہتر نیند، بہتر تعلیمی کارکردگی

بہتر نیند، بہتر تعلیمی کارکردگی

معمولی تبدیلی جو طلبہ کے نتائج بدل سکتی ہےہم اکثر تعلیمی کامیابی کو زیادہ گھنٹے پڑھنے، اضافی ٹیوشن لینے، مشکل سوالات حل کرنے اور امتحان سے پہلے رات دیر تک جاگنے سے جوڑتے ہیں۔ والدین اور طلبہ کے درمیان یہ تصور عام ہے کہ اگر امتحان قریب ہو تو نیند کم کرکے پڑھائی کا وقت بڑھا دینا فائدہ مند ہوگا۔ لیکن نئی سائنسی تحقیق اس سوچ پر سوال اٹھاتی ہے۔ تحقیق سے سامنے آنے والے شواہد بتاتے ہیں کہ نیند میں معمولی بہتری بھی تعلیمی کارکردگی پر مثبت اثر ڈال سکتی ہے۔'سائنس الرٹ‘ میں شائع ہونے والی رپورٹ میں ایک تجرباتی تحقیق کا حوالہ دیا گیا ہے جس میں یونیورسٹی کے طلبہ کی نیند بہتر بنانے کی کوشش کی گئی۔ اس تحقیق کی خاص بات یہ تھی کہ محققین نے صرف یہ نہیں دیکھا کہ اچھی نیند اور بہتر گریڈز کے درمیان کوئی تعلق موجود ہے یا نہیں بلکہ یہ جاننے کی کوشش کی کہ اگر طلبہ کی نیند بہتر بنائی جائے تو کیا ان کی تعلیمی کارکردگی بھی بہتر ہوتی ہے؟صرف زیادہ پڑھنا کامیابی کی ضمانت نہیںطلبہ عام طور پر سمجھتے ہیں کہ کامیابی کا بنیادی راز زیادہ سے زیادہ وقت کتابوں کے ساتھ گزارنا ہے۔ بلاشبہ پڑھائی کے لیے وقت دینا ضروری ہے لیکن دماغ اس وقت بہترین کارکردگی دکھاتا ہے جب اسے مناسب آرام بھی ملے۔نیند کے دوران دماغ دن بھر حاصل ہونے والی معلومات کو منظم اور محفوظ کرنے کے اہم مراحل سے گزرتا ہے۔ نئی معلومات، الفاظ، تصورات اور سیکھے گئے اسباق کو یادداشت میں مستحکم کرنے کے لیے مناسب نیند اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اگر کوئی طالب علم مسلسل کم سوتا ہے تو وہ بظاہر زیادہ وقت پڑھائی کو دے رہا ہوتا ہے مگر تھکا ہوا دماغ معلومات کو اتنی مؤثر طریقے سے حاصل اور یاد نہیں رکھ پاتا۔اسی لیے امتحانات کے دوران رات بھر جاگ کر پڑھنے کی عادت بظاہر اضافی محنت محسوس ہوتی ہے، لیکن ضروری نہیں کہ اس سے امتحانی کارکردگی بھی اسی تناسب سے بہتر ہو۔نئی تحقیق کا اہم پہلو یہی ہے کہ اس میں نیند کو محض ایک عادت نہیں بلکہ تعلیمی کارکردگی کو متاثر کرنے والے قابلِ تبدیلی عنصر کے طور پر دیکھا گیا۔ چند منٹ زیادہ نیند، قابلِ ذکر نتائجتحقیق میں امریکہ کی یونیورسٹی آف پیٹس برگ کے طلبہ کو اپنی نیند بہتر بنانے کی ترغیب دینے کے لیے ایک نسبتاً سادہ طریقہ استعمال کیا گیا۔ طلبہ کو ان کے لیے موزوں وقت پر سونے کی یاد دہانی کرائی گئی، اگلی صبح ان کی نیند کے بارے میں فیڈ بیک دیا گیا اور جب وہ راتوں میں کم از کم سات گھنٹے کی نیند پوری کرتے تو انہیں فوری انعام بھی دیا گیا۔چار ہفتوں کے دوران اس کے نتیجے میں طلبہ کی سات یا اس سے زیادہ گھنٹے سونے والی راتوں کے تناسب میں تقریباً 26 فیصد اضافہ ہوا۔ اوسطاً طلبہ کی نیند میں تقریباً 19 منٹ فی رات کا اضافہ ہوا۔یہ اضافہ بظاہر بہت معمولی لگ سکتا ہے۔ 19 منٹ کسی طالب علم کے لیے شاید اتنی بڑی تبدیلی محسوس نہ ہو لیکن تحقیق کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ اس معمولی اضافے کے ساتھ تعلیمی کارکردگی میں بہتری دیکھی گئی۔تحقیق کے مطابق نیند بہتر بنانے سے طلبہ کے کورس پرفارمنس میں اضافہ ہوا۔نیند دماغ کو سیکھنے کیلئے تیار کرتی ہےنیند اور تعلیمی کارکردگی کے درمیان تعلق کو سمجھنے کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ نیند صرف جسمانی آرام کا نام نہیں۔ دماغ کے لیے بھی یہ ایک فعال مرحلہ ہے۔دن کے دوران طالب علم جب نئی معلومات حاصل کرتا ہے تو دماغ میں بے شمار یادیں اور معلومات جمع ہوتی ہیں۔ نیند کے دوران دماغ ان معلومات کو ترتیب دینے، اہم معلومات کو مضبوط کرنے اور غیر ضروری معلومات کو نظرانداز کرنے کے عمل سے گزرتا ہے۔مناسب نیند توجہ، ارتکاز، فیصلہ سازی اور مسائل حل کرنے کی صلاحیت کے لیے بھی اہم ہے۔ دوسری طرف نیند کی کمی سے طالب علم کلاس میں توجہ کھو سکتا ہے، پڑھا ہوا یاد رکھنے میں مشکل پیش آ سکتی ہے اور مشکل سوالات حل کرنے کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔اسی لیے اگر ایک طالب علم رات کو دو گھنٹے اضافی پڑھتا ہے لیکن اس کے نتیجے میں اس کی نیند بہت کم ہوجاتی ہے، تو ضروری نہیں کہ اسے مجموعی طور پر فائدہ ہی ہو۔ بعض حالات میں بہتر حکمتِ عملی یہ ہوسکتی ہے کہ طالب علم مناسب وقت پر سوئے اور اگلے دن تازہ دم ہوکر زیادہ مؤثر انداز میں پڑھے۔طلبہ اور والدین کیلئے عملی سبقاس تحقیق کا مطلب یہ نہیں کہ صرف زیادہ سونے سے ہر طالب علم کے گریڈز بڑھ جائیں گے۔ تعلیمی کامیابی میں پڑھائی کا معیار، استاد، تعلیمی ماحول، ذہنی توجہ، مطالعے کی تکنیک اور بہت سے دوسرے عوامل بھی اہم ہیں۔لیکن تحقیق ایک اہم پیغام ضرور دیتی ہے کہ نیند کو پڑھائی کا مخالف سمجھنے کے بجائے پڑھائی کا حصہ سمجھنا چاہیے۔خاص طور پر امتحانات کے دنوں میں والدین کو بچوں سے یہ توقع نہیں رکھنی چاہیے کہ وہ رات دیر تک جاگ کر مسلسل پڑھتے رہیں۔ بہتر حکمتِ عملی یہ ہوسکتی ہے کہ طالب علم کے لیے مستقل سونے اور جاگنے کا وقت مقرر کیا جائے، رات کو موبائل فون اور دیگر توجہ بھٹکانے والی چیزوں کا استعمال کم کیا جائے اور امتحان سے پہلے پوری رات جاگنے کے بجائے مناسب نیند کو ترجیح دی جائے۔

آج کا دن

آج کا دن

ویمار آئین پر دستخط11 اگست 1919ء کو جرمن صدر فریڈرک ایبرٹ نے ویمار آئین پر دستخط کیے۔ یہ آئین پہلی جنگِ عظیم کے بعد جرمنی میں قائم ہونے والی نئی جمہوری ریاست کی بنیادی دستاویز تھا۔ ویمار آئین نے جرمنی کو پارلیمانی جمہوریہ قرار دیا جس میں صدر، پارلیمان، حکومت اور ریاستی اداروں کے اختیارات کو آئینی اصولوں کے تحت منظم کیا گیا۔۔اگرچہ ویمار جمہوریہ کو معاشی بحران، شدید عدم استحکام کا سامنا کرنا پڑا لیکن اس آئین کی تاریخی اہمیت ختم نہیں ہوتی۔ بعد میں 1933ء میں ایڈولف ہٹلر کے اقتدار میں آنے سے جرمن جمہوری نظام عملاً ختم ہوگیا۔ مواصلاتی پیٹنٹ11 اگست 1942ء کو اداکارہ اور موجد ہیڈی لامار اور موسیقار و موجد جارج اینتھائل کوفریکوئنسی ہاپنگ کمیونیکیشن سسٹم کا امریکی پیٹنٹ جاری کیا گیا۔ یہ ایجاد دوسری جنگِ عظیم کے زمانے میں سامنے آئی۔ اُس وقت ریڈیو کے ذریعے کنٹرول ہونے والے ہتھیار خصوصاً تارپیڈو، دشمن کی جانب سے ریڈیو سگنل کو جام یا مداخلت کے ذریعے ناکارہ بنانے کے خطرے سے دوچار تھے۔ لامار اور اینتھائل نے ایسا نظام تجویز کیا جس میں ریڈیو سگنل ایک ہی فریکوئنسی پر مسلسل نشر ہونے کے بجائے بہت تیزی سے مختلف فریکوئنسیزکے درمیان منتقل ہوتا رہے۔ 1957ء میں اس تصور کو مزید عملی شکل دی گئی اور 1962ء میں امریکی بحری جہازوں کے مواصلاتی نظام میں اس سے متعلق ٹیکنالوجی استعمال ہوئی۔چاڈ کی آ زادی11 اگست 1960ء کو افریقی ملک چاڈ نے فرانسیسی نوآبادیاتی حکمرانی سے آزادی حاصل کی۔ 1950ء کی دہائی میں فرانس نے اپنی کئی افریقی نوآبادیات کو بتدریج زیادہ سیاسی خودمختاری دینا شروع کی، چاڈ میں بھی مقامی سیاسی ادارے مضبوط ہوئے۔ آزادی کے وقت فرانسوا تومبالبائے ملک کے اہم سیاسی رہنما تھے۔ آزادی کے بعد وہ چاڈ کے پہلے صدر بنے۔ 11 اگست 1960ء کو آزادی کا اعلان افریقہ میں فرانسیسی نوآبادیاتی نظام کے وسیع پیمانے پر خاتمے کا حصہ تھا۔یہ سال افریقی تاریخ میں خاص طور پر اہم تھا۔آزادی کے بعد چاڈ کو سیاسی عدم استحکام، علاقائی اختلافات، معاشی مشکلات اور مسلح تنازعات جیسے کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے باوجود آزادی کا دن ملکی شناخت میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ لاس اینجلس بغاوت11 اگست 1965ء کو امریکی شہر لاس اینجلس کے علاقے Watts میں ایک بڑا سماجی اور نسلی بحران شروع ہوا۔ یہ واقعہ امریکی شہری حقوق کی تحریک اور امریکہ میں نسلی و معاشی عدم مساوات کی تاریخ میں ایک اہم موڑ سمجھا جاتا ہے۔ اس دن ایک سفید فام افسر نے سیاہ فام شہری کو گاڑی چلاتے ہوئے روکا اور اس کارروائی کے دوران صورتحال کشیدہ ہوگئی۔تاہم واٹس کے واقعات کی وجوہ صرف اس ایک پولیس گرفتاری تک محدود نہیں تھیں۔ علاقے میں پہلے ہی غربت، بے روزگاری، رہائشی امتیاز، محدود معاشی مواقع اور پولیس کے ساتھ کشیدہ تعلقات جیسے مسائل موجود تھے اسی لیے ایک معمولی واقعہ پہلے سے موجود سماجی غصے کے لیے ایک محرک ثابت ہوا۔یہ شورش تقریباً پانچ دن جاری رہی اور اس میں ہزاروں افراد شریک ہوئے۔تاریخی سورج گرہن11 اگست 1999ء کو مکمل سورج گرہن ہوا۔ ناسا کے مطابق یہ 20ویں صدی کا آخری مکمل سورج گرہن تھا جس کی وجہ سے اسے دنیا بھر میں غیر معمولی توجہ حاصل ہوئی۔اس گرہن کے دوران چاند زمین اور سورج کے درمیان اس طرح آگیا کہ چاند کا سایہ زمین کے ایک محدود راستے پر مکمل طور پر سورج کو ڈھانپ رہا تھا۔ مکمل گرہن کا راستہ بحرِ اوقیانوس سے شروع ہوا اور وسطی یورپ، ترکی، مشرقِ وسطیٰ، پاکستان اور بھارت سے گزرتا ہوا خلیجِ بنگال تک پہنچا۔مکمل سورج گرہن سائنسی اعتبار سے خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ مکمل مرحلے میں چاند سورج کے روشن قرص کو تقریباً مکمل طور پر ڈھانپ لیتا ہے۔ ماہرین فلکیات ایسے مواقع کو سورج کے بیرونی ماحول اور مختلف فلکیاتی مظاہر کے مشاہدے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

دنیا گرمی سے بے حال، برفانی براعظم میں سردی کی نئی تاریخ رقم

دنیا گرمی سے بے حال، برفانی براعظم میں سردی کی نئی تاریخ رقم

انٹارکٹیکا میں درجہ حرارت منفی 84.1 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈدنیا اس وقت شدید گرمی کی لہروں، جنگلاتی آگ، خشک سالی اور موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات سے نبرد آزما ہے۔ یورپ، ایشیا اور شمالی امریکا کے متعدد ممالک میں درجہ حرارت نئے ریکارڈ قائم کر رہا ہے اور لاکھوں افراد جھلسا دینے والی گرمی سے متاثر ہیں۔ ایسے میں برفانی براعظم انٹارکٹیکا سے آنے والی خبر نے ماہرین موسمیات اور سائنس دانوں کو حیرت میں مبتلا کر دیا، جہاں کونکورڈیا ریسرچ اسٹیشن پر درجہ حرارت منفی 84.1 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر گیا، جو گزشتہ 14 برس کے دوران زمین پر ریکارڈ کیا جانے والا کم ترین درجہ حرارت ہے۔ یہ حیران کن تضاد اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ کرہ ارض کا موسمی نظام کس قدر پیچیدہ اور غیر متوقع ہو چکا ہے۔ ایک طرف دنیا کے بیشتر خطے غیر معمولی گرمی کی لپیٹ میں ہیں تو دوسری جانب انٹارکٹیکا میں سردی کی شدت نے نیا ریکارڈ قائم کر دیا ہے، جو موسمیاتی تبدیلی، قطبی علاقوں کی اہمیت اور زمین کے بدلتے ہوئے موسموں پر نئی سائنسی بحث کو جنم دے رہا ہے۔18 جولائی کو کونکورڈیا ریسرچ اسٹیشن میں درجہ حرارت اچانک گر کر منفی 84.1 ڈگری سینٹی گریڈ (منفی 119.4 ڈگری فارن ہائیٹ) تک پہنچ گیا۔''لائیو سائنس ‘‘کو فراہم کیے گئے ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق، اسٹیشن پر یہ نیا کم ترین درجہ حرارت ایک ہی رات میں دو مرتبہ ریکارڈ کیا گیا۔ پہلی بار مقامی وقت کے مطابق صبح 6 بج کر 25 منٹ پر اور دوسری بار صبح 6 بج کر 34 منٹ پر۔یہ 2012ء کے بعد زمین پر کہیں بھی ریکارڈ کیا جانے والا سب سے کم درجہ حرارت ہے۔ اس سے قبل مشرقی انٹارکٹیکا میں روس کے ووستوک (Vostok) ریسرچ اسٹیشن پر درجہ حرارت منفی 84.2 ڈگری سینٹی گریڈ (منفی 119.6 ڈگری فارن ہائیٹ) ریکارڈ کیا گیا تھا۔کونکورڈیا ریسرچ اسٹیشن سطح سمندر سے تقریباً 10,500 فٹ (3,200 میٹر) کی بلندی پر، 10,800 فٹ (3,300 میٹر) بلند برفانی سطح پر قائم ہے اور ساحل سے تقریباً 600 میل (ایک ہزار کلومیٹر) کے فاصلے پر واقع ہے۔سال کے اس حصے میں یہاں درجہ حرارت کا منفی 80 ڈگری سینٹی گریڈ (منفی 112 ڈگری فارن ہائیٹ) سے نیچے چلا جانا معمول کی بات ہے، تاہم حالیہ ریکارڈ شدہ درجہ حرارت معمول سے کہیں زیادہ کم ہے۔اٹلی کے قومی انٹارکٹک ریسرچ پروگرام کی جانب سے کونکورڈیا اسٹیشن کے سربراہ گیبریئلے کاروگاتی کے مطابق یہ واقعہ اس بات کی واضح مثال ہے کہ انٹارکٹیکا کا موسم اب بھی کس قدر غیر متوقع اور تغیر پذیر ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں اگرچہ شدید سردی معمول کی بات ہے، لیکن منفی 84 ڈگری سینٹی گریڈ سے کم درجہ حرارت کا ریکارڈ ہونا واقعی غیر معمولی اور قابلِ ذکر واقعہ ہے۔انٹارکٹیکا کے بلند و بالا برفانی سطح مرتفع پر واقع کونکورڈیا ریسرچ اسٹیشن زمین پر موجود انسانوں کی انتہائی دور افتادہ اور سخت ترین تحقیقی چوکیوں میں سے ایک ہے۔اس مقام کی غیر معمولی تنہائی اور آلودگی سے پاک قدرتی ماحول اسے زمین، فضائی ماحول اور بیرونی خلا سے متعلق سائنسی تحقیق کیلئے ایک مثالی مقام بناتا ہے۔ تاہم جیسے ہی موسمِ سرما شروع ہوتا ہے، خراب موسمی حالات کے باعث طیاروں کی آمدورفت مکمل طور پر بند ہو جاتی ہے اور کونکورڈیا میں موجود محققین کے قریب ترین ہمسائے روس کے ووستوک ریسرچ اسٹیشن میں ہوتے ہیں، جو تقریباً 600 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔اسی وجہ سے تکنیکی اعتبار سے کونکورڈیا میں تعینات عملہ بین الاقوامی خلائی اسٹیشن میں موجود خلا بازوں سے بھی زیادہ تنہا زندگی گزارتا ہے، کیونکہ خلائی اسٹیشن زمین سے تقریباً 250 میل (400 کلومیٹر) کی بلندی پر مدار میں گردش کر رہا ہوتا ہے۔کونکورڈیا کی منفرد جغرافیائی حیثیت کا ایک اور نتیجہ یہ ہے کہ یہاں دنیا کے شدید ترین سرد موسمی حالات دیکھنے کو ملتے ہیں۔ کونکورڈیا اسٹیشن کے سربراہ گیبریئلے کاروگاتی کے مطابق موسمِ سرما میں کئی ماہ تک سورج طلوع نہیں ہوتا، فضا انتہائی خشک اور مستحکم رہتی ہے، جبکہ صاف آسمان کی وجہ سے حرارت مسلسل خلا میں خارج ہوتی رہتی ہے۔ چونکہ بادل موجود نہیں ہوتے، اس لیے گرمی واپس زمین کی طرف منعکس نہیں ہو پاتی اور درجہ حرارت غیر معمولی حد تک گر جاتا ہے۔اٹالین انٹارکٹک میٹیوکے مطابق، کونکورڈیا ریسرچ اسٹیشن پر اب تک ریکارڈ کیا جانے والا سب سے کم درجہ حرارت منفی 84.7 ڈگری سینٹی گریڈ (منفی 120.5 ڈگری فارن ہائیٹ) تھا، جو 2010ء کے موسمِ سرما میں ریکارڈ کیا گیا تھا۔ تاہم زمین پر اب تک ریکارڈ کیے گئے کم ترین درجہ حرارت کا عالمی ریکارڈ روس کے ووستوک ویدر اسٹیشن کے پاس ہے، جہاں جولائی 1983ء میں درجہ حرارت منفی 89.2 ڈگری سینٹی گریڈ (منفی 128.6 ڈگری فارن ہائیٹ) تک گر گیا تھا۔دریں اثنا، مختلف مطالعات سے یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ مستقبل میں درجہ حرارت اس سے بھی زیادہ ناقابلِ یقین حد تک گر سکتا ہے۔ سیٹلائٹ سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق مشرقی انٹارکٹیکا میں بعض مقامات پر درجہ حرارت منفی 98 ڈگری سینٹی گریڈ (منفی 144 ڈگری فارن ہائیٹ) تک پہنچنے کا امکان موجود ہے۔یہ انتہائی کم درجہ حرارت برفانی چادر کے بلند ترین حصے کے قریب واقع کم گہرائی والے نشیبی مقامات پر ریکارڈ کیا جاتا ہے، جو سطحِ سمندر سے تقریباً 13,290 فٹ (4,050 میٹر) کی بلندی پر واقع ہیں۔ دنیا کے بیشتر حصے غیر معمولی گرمی کی لپیٹ میںسائنس دانوں کا خیال ہے کہ قدرتی حالات میں، خواہ تمام موسمی عوامل سازگار ہی کیوں نہ ہوں، زمین پر ہوا کا درجہ حرارت تقریباً اسی حد تک گر سکتا ہے اور اس سے زیادہ سرد ہونا انتہائی مشکل ہے۔تاہم حالیہ ریکارڈ توڑ سردی کو حیران کن بنانے والی بات یہ ہے کہ یہ ایسے وقت میں ریکارڈ کی گئی ہے جب دنیا کے بیشتر حصے غیر معمولی گرمی کی لپیٹ میں ہیں۔مغربی یورپ میں جون کا مہینہ تاریخ کا گرم ترین جون ثابت ہوا، جبکہ شدید گرمی اور خشک موسم کے باعث کینیڈا، فرانس، اسپین اور یونان میں جنگلاتی آگ نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔دلچسپ بات یہ ہے کہ خود انٹارکٹیکا میں بھی غیر معمولی گرمی کے آثار دیکھنے میں آ رہے ہیں۔چند ہی ہفتے قبل شمالی انٹارکٹیکا کے ٹرینیٹی جزیرہ نما پر واقع ارجنٹائن کے ایسپرانزا (Esperanza) ریسرچ بیس میں موسمِ سرما کا اب تک کا بلند ترین درجہ حرارت 15.4 ڈگری سینٹی گریڈ (59.7 ڈگری فارن ہائیٹ) ریکارڈ کیا گیا۔

برف میں طویل قیام

برف میں طویل قیام

پولینڈ کے شہری کا انوکھا کارنامہشدید سردی اور برف باری سے بچنے کیلئے انسان صدیوں سے نت نئے طریقے اختیار کرتا آیا ہے، لیکن دنیا میں کچھ ایسے افراد بھی موجود ہیں جو انہی سخت موسمی حالات کو اپنی ہمت، حوصلے اور جسمانی صلاحیت کے امتحان میں بدل دیتے ہیں۔ برفانی سردی، جس میں چند لمحے گزارنا بھی عام انسان کیلئے دشوار ہوتا ہے، بعض مہم جو افراد کیلئے عالمی ریکارڈ قائم کرنے کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ حال ہی میں پولینڈ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے انتہائی کم درجہ حرارت میں برف کے اندر خود کو طویل ترین وقت تک دفن رکھ کر نہ صرف اپنی غیر معمولی قوتِ برداشت کا مظاہرہ کیا بلکہ ایک نیا عالمی ریکارڈ بھی قائم کر دیا۔ اس حیران کن کارنامے نے دنیا بھر میں لوگوں کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا اور ایک بار پھر یہ ثابت کیا کہ انسانی عزم اور ارادے کی طاقت بظاہر ناممکن دکھائی دینے والے چیلنجز کو بھی ممکن بنا سکتی ہے۔پولینڈ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے خود کو حقیقی معنوں میں برف کا آدمی بنا کر عالمی ریکارڈ اپنے نام کر لیا۔ڈیمیئن کاسپرژک (Damian Kasprzyk) نے اپنے پورے جسم کو برف میں مکمل طور پر دفن کر کے مردوں کیلئے براہِ راست مکمل جسمانی طور پر برف کے ساتھ طویل ترین وقت گزارنے کا عالمی اعزاز حاصل کیا۔ انہوں نے 2 گھنٹے، 12 منٹ اور 12 سیکنڈ تک برف میں رہ کر یہ منفرد ریکارڈ قائم کیا۔ انہوں نے یہ حیران کن کارنامہ21 فروری کو شلاختووا (Szlachtowa)، پولینڈ میں انجام دیا۔41 سالہ ڈیمیئن کاسپرژک نے کہا کہ انتہائی مشکل اور غیر معمولی چیلنجز کی دنیا میں میری آمد کا سہرا متعدد گنیز ورلڈ ریکارڈز رکھنے والے والیرین رومانووسکی کے سر جاتا ہے۔ انہوں نے نہ صرف میری تربیت کی بلکہ برف میں ریکارڈ قائم کرنے کا خیال بھی پیش کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ برف سے متعلق یہ حالیہ ریکارڈ دراصل میری تیسری کامیاب عالمی ریکارڈ کوشش تھی۔ اس سے قبل میں پورے جسم کو برف کے ساتھ براہِ راست رابطے میں رکھنے اور برفیلے پانی میں مکمل طور پر ڈوب کر بھی عالمی ریکارڈ قائم کر چکا ہوں۔ اس مخصوص کوشش میں میرے ساتھ ماریا بودائی (جو ''میری آئس بریکر‘‘ کے نام سے مشہور ہیں) بھی شریک تھیں، جنہوں نے خواتین کے زمرے میں بھی نیا عالمی ریکارڈ قائم کیا۔پولینڈ سے تعلق رکھنے والی ماریا بودائی نے خواتین کیلئے پورے جسم کے ساتھ برف میں طویل ترین وقت گزارنے کا عالمی ریکارڈ 3 گھنٹے، 33 منٹ اور 33 سیکنڈ تک برف میں رہ کر اپنے نام کیا۔پولینڈ سے تعلق رکھنے والے والیرین رومانووسکی اس وقت بھی دو عالمی ریکارڈ اپنے نام رکھتے ہیں۔ ان میں برفیلے پانی میں سب سے طویل وقت تک ڈوبے رہنے کا مردوں کا عالمی ریکارڈ شامل ہے، جو 58 منٹ ہے، جبکہ دوسرا ریکارڈ 12 گھنٹوں میں دشوار گزار راستوں پر سائیکل چلانے کی سب سے طویل مسافت کا ہے، جہاں انہوں نے 314.65 کلومیٹر (195.51 میل) کا فاصلہ طے کیا۔دوسری جانب ڈیمیئن کاسپرژک بھی پورے جسم کے ساتھ برف میں طویل ترین وقت گزارنے کا موجودہ مردانہ عالمی ریکارڈ اپنے نام رکھتے ہیں۔ انہوں نے 5 گھنٹے، ایک منٹ اور 33 سیکنڈ تک برف کے ساتھ مکمل جسمانی رابطہ برقرار رکھا، جبکہ اس سے قبل یہ ریکارڈ 2021ء میں والیرین رومانووسکی کے پاس تھا، جنہوں نے 3 گھنٹے اور 28 سیکنڈ تک برف میں رہ کر یہ اعزاز حاصل کیا تھا۔دو بچوں کے والد ڈیمیئن نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ شاید انہیں سردی برداشت کرنے کی صلاحیت اپنے پیشے کی بدولت ملی ہے، کیونکہ وہ تھرمو کنگ (Thermo King) نامی کمپنی میں کام کرتے ہیں، جو درجۂ حرارت کو قابو میں رکھنے والے نقل و حمل کے نظام تیار کرتی ہے۔ڈیمیئن نے اپنے اس تازہ ترین عالمی ریکارڈ کی تیاری بھی والیرین رومانووسکی کی نگرانی میں کی۔ ان کے بقول والیرین نے مجھے ذہنی اور جسمانی دونوں اعتبار سے اس حد تک تیار کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا کہ میں ایسے انتہائی سخت اور جان لیوا حالات کا مقابلہ کر سکوں۔اگرچہ ڈیمیئن اس سے قبل کئی مرتبہ برف اور برفیلے پانی میں مکمل طور پر ڈوب کر اپنی قوتِ برداشت کا مظاہرہ کر چکے تھے، لیکن اس نوعیت کے چیلنج میں براہِ راست برف کے ساتھ مسلسل جسمانی رابطہ قائم کرنے کی یہ ان کی پہلی کوشش تھی۔ڈیمیئن نے شدید سردی سے ہم آہنگ ہونے کے اپنے سفر کا آغاز سردیوں میں تیراکی اور برفیلے پانی میں غسل (آئس باتھ) کرنے سے کیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ انہوں نے اپنے جسم کو انتہائی کم درجہ حرارت برداشت کرنے کا عادی بنایا اور یوں کانپتی سردی کے خلاف اپنی قوتِ برداشت میں بتدریج اضافہ کیا۔انہوں نے کہاکہ وقت گزرنے کے ساتھ مجھے احساس ہوا کہ سردی سے رشتہ جوڑنے سے مجھے گہرا ذہنی سکون ملتا ہے۔ یہ مجھے اپنی قوتِ برداشت کی حقیقی حدود جانچنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ میں یہ سب صرف عالمی ریکارڈ قائم کرنے کیلئے نہیں کرتا، بلکہ انسانی صلاحیتوں کی آخری حدوں کو دریافت کرنے اور انہیں مزید آگے بڑھانے کے شوق اور تجسس کے تحت کرتا ہوں۔

ترشاوہ پھل گرنے کی وجوہات و روک تھام

ترشاوہ پھل گرنے کی وجوہات و روک تھام

ترشاوہ خاندان مثلاً مالٹا، مسمی، سنگترہ، کنو، گریپ فروٹ،لیموں اور مٹھا وغیرہ پیداوار کیلئے رقبہ کے لحاظ سے پاکستان میں دوسرے نمبر پر آتا ہے۔جبکہ ترشاوہ پھلوں کی فی ایکڑ زیادہ پیداوار حاصل کرنے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔اس سلسلے کی سب سے بڑی رکاوٹ کاشتی امور، خوراک کی کمی اور مختلف قسم کے کیڑے اور بیماریاں ہیں جو کہ پودے کے تنے، شاخوں، پتوں اور پھلوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ فی پودا کم پیداوار حاصل ہونے کے ساتھ ساتھ پھل بھی چھوٹا اور بد شکل ہو جاتا ہے۔ اس طرح باغ کے مالک کی محنت کا بڑا حصہ ضائع ہو جاتا ہے اور ملک کو بھی بیرونی منڈیوں میں آرڈرپورا نہ کر سکنے کی وجہ سے شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتاہے۔باغات کے مالکان کا ایک اور مسئلہ ترشاوہ خاندان میں پھل کا گرنا ہے اور ہر سال اس اہم مسئلہ سے لاکھوں روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔ بعض دفعہ گرمیوں کے مہینوں میں ترشاوہ خاندان کے پودوں سے 60فیصد تک پھل گر جاتا ہے۔ ترشاوہ خاندان کے پودے جتنے پھول نکالتے ہیں اور جتنا پھل بنتا ہے، ان پودوں کیلئے سارا سنبھالنا مشکل ہوتا ہے۔ اس لئے پودا عموماً صحت اور طاقت کے مطابق پھل روک لیتا ہے اور باقی گرا دیتا ہے مگر پودے کی طاقت کے مطابق بھی ٹکا ہوا پھل گرنا شروع ہو جائے تو باغ کی پیداوار میں کافی حد تک کمی ہو جاتی ہے۔پھل ایک دفعہ نہیں گرتا بلکہ عموماً تین مختلف وقفوں میں گرتا ہے۔ ایک دفعہ پھل بننے کے فوراً بعد گرتا ہے۔ پھل ابھی مٹر کے دانے کے برابر ہی ہوتا ہے تو کافی تعداد میں گرنا شروع ہو جاتا ہے۔ گرنے والے پھلوں میں اکثریت ان پھلوں کی ہوتی ہے جن کے پھولوں کے نر اور مادہ حصوں میں جفتی نہیں کھائی ہوتی۔ اس کے علاوہ خلیوں کی تقسیم کی وجہ سے پھل کی ٹہنی اور شاخ کے درمیان ایک تہہ جم جاتی ہے جو کہ خوراک کو پھل تک نہیں پہنچنے دیتی جس کی وجہ سے پھل گر جاتا ہے۔دوسری دفعہ ماہ جون، جولائی میں درمیانہ سائز کا پھل گرنا شروع ہو جاتا ہے جبکہ پھل ابھی زیادہ بڑا نہیں ہوتا۔ اصل میں یہی وہ وقت ہے جب پودا وہ تمام پھل گرا دیتا ہے جس کو وہ خوراک نہیں پہنچا سکتا۔ ان مہینوں میں خوراک کا خیال رکھنااز حد ضروری ہے۔تیسری دفعہ ستمبر اکتوبر میں پھل بہت بڑا ہو جاتا ہے تو گرنا شروع ہو جاتا ہے اس وقت پھل کا گرنا باغ کے مالک کا بہت نقصان ہے۔ باغ کے کاشتی امور پودے کے پھل پر کافی اثر انداز ہوتے ہیں جن میں ہوا توڑ باڑوں کی کمی، اپریل یا مئی کے مہینوں میں پانی کی کمی یا زیادتی۔ باغ میں فصلوں کی کاشت مثلاً گندم جس کو اپریل مئی پانی نہیں لگانا ہوتا اور باغ کو اس وقت پانی کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ دوسری فصل برسیم جس کو پانی زیادہ مقدار میں چاہئے اور زیادہ پانی کنوں کے پودوں کیلئے نقصان دہ ہوتا ہے۔دوسری بڑی وجہ نائٹروجن کا تناسب اور نائٹروجن کے علاوہ دوسرے اجزا کی کمی پھل پر خصوصاً اثر انداز ہوتے ہیں۔ اگر نائٹروجن زیادہ ہو گئی تو پودے کی بڑھوتری تو بہت ہو گی مگر پھول اور پھل زیادہ گر جائیں گے۔ اس کے برعکس اگر نائٹروجن کم ہو گئی اور کاربوہائیڈریٹ زیادہ ہوں گے تو پودے کی بڑھوتری کم ہو گی اور پھول بھی گر جائے گا۔ اس کے علاوہ فاسفورس اور پوٹاشیم کی کمی بھی پھل کے گرنے کی وجہ بن سکتی ہے۔تیسری بڑی وجہ کیڑے مکوڑے اور بیماریاں ہیں، جن کی وجہ سے پھل کسی وقت بھی گر سکتا ہے۔ پھل کی مکھی کے حملہ سے بڑے پھل کا گرنا باغات کے مالکان کیلئے بہت زیادہ نقصان کا باعث ہوتا ہے۔ بعض اوقات سوکھے کے مرض سے شاخیں سرے سے خشک ہونا شروع ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے پھل کی ڈنڈی کمزور ہو جاتی ہے اور پھل گر جاتا ہے۔چوتھی وجہ درجہ حرارت اور نمی میں فوری تبدیلی ہے، جس سے کافی پھل گر جاتے ہیں۔ کہر(دھند) بھی کافی حد تک پھل کے گرنے کا موجب بنتی ہے۔اوپر دی گئی تمام وجوہات کے علاوہ پھل گرنے کی ایک اور وجہ خلیوں کی تقسیم ہونے کے بعد پھل اور ٹہنی کے درمیان ایک تہہ جم جاتی ہے جو خوراک پھل تک نہیں پہنچنے دیتی اور اس طرح پھل کمزور ہو کر گر جاتا ہے۔ مناسب آبپاشی، بہتری کاشتی امور، کیڑے مکوڑوں اور بیماریوں سے بچائو اور متناسب خوراک کے باوجود پھل گرے تو اس کیلئے پلانٹ ہار مون کا سپرے کرکے پھل کو گرنے سے روکا جا سکتا ہے۔ ہارمون کی سپرے سے پھل کی ڈنڈی کے خلیے مضبوط ہو جاتے ہیں اور پھل و گرنے سے روکتے ہیں اور اس طرح خلیوں کی تقسیم کی وجہ سے پیدا شدہ تہہ کو توڑ کر خوراک کا راستہ پھل تک صاف کر دیتے ہیں اور اس طرح پھل سائز اور حجم میں بڑا ہونے کے علاوہ شکل میں بھی خوبصورت ہو جاتا ہے۔ جولائی، اگست اور ستمبر میں جب کیڑے مار ادویات کی سپرے کی ضرورت ہو تو ہارمون کو بھی ساتھ ملا لینا چاہیے۔

کسٹم کا مشاعرہ!

کسٹم کا مشاعرہ!

کسٹم والوں کے مصرع ہائے طرح برے نہیں لیکن ہماری سفارش ہے کہ آئندہ کوئی محکمہ مشاعرہ کرائے تو مصرع طرح کے اپنے کام کی مناسبت سے رکھے۔ مثلاً کسٹم کے مشاعرے کیلئے یہ مصرع زیادہ موزوں رہے گا:دادرحشر مرا نامہ اعمال نہ دیکھحج کا ثواب نذر کروں گا حضورکیاگلے ہفتے گوردھن داس کلاتھ مارکیٹ میں کپڑے والوں کی طرف سے جو مشاعرہ ہو رہا ہے اس کیلئے ہم یہ مصرعے تجویز کریں گے:ہائے اس چارہ گرہ، کپڑے کی قسمت غالبیا اپنا گریباں چاک، یا دامنِ یزداں چاکاندر کفن کے سر ہے تو باہر کفن کے پاؤںدھوبی، ڈرائی کلینر، ٹیلرماسٹرحضرات مشاعرہ کرائیں توان کے حسبِ مطلب بھی اساتذہ بہت کچھ کہہ گئے ہیں۔ منجملہ،دھوئے گئے ہم اتنے کہ بس پاک ہوگئےدامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضو کریںتیرے دل میں تو بہت کام رفو کا نکلاموٹرڈرائیورحضرات تو اپنے بس یا ٹرک کی باڈی پرلکھا ہوا کوئی مصرع بھی چن سکتے ہیں۔ جیسے،سامان سو برس کے ہیں کل کی خبر نہیںسب سے زیادہ آسانی گورکنوں کیلئے ہے کیونکہ اردو شاعری کا ایک بہت بڑا حصہ کفن، دفن، گورکنی اورمردہ شوئی کے متعلق ہے۔ ہماری شاعری میں مردے بولتے ہیں اورکفن پھاڑ کر بولتے ہیں۔ بعضے تو منکر نکیر تک سے کٹ حجتی کرتے ہیں:چھیڑو نہ میٹھی نیند میں اے منکرونکیرسونے دو بھائی میں تھکا ماندہ ہوں راہ کااسی طرح ہمارے شاعروں نے بہت کچھ حکیموں، ڈاکٹروں اور عطائیوں کے بارے میں کہہ رکھا ہے۔ کل کلاں میڈیکل ایسوسی ایشن یا طبی کانفرنس والے یا جڑی بوٹی سنیاسی ٹوٹکا ایسوسی ایشن کے سیکرٹری سائیں اکسیر بخش کشتہ مشاعرہ کرائیں تو حسب ذیل تیر بہدف مصرعے کام میں لا سکتے ہیں،یا الہٰی مٹ نہ جائے دردِ دلآخر اس درد کی دوا کیا ہےپہلے تو روغن گل بھینس کے انڈے سے نکالاور۔۔۔ مریضِ عشق پر رحمت خدا کی۔ وغیرہفیملی پلاننگ کے محکمے نے پچھلے دنوں ڈھیروں نظمیں لکھوائی ہیں، جن میں بعض میں ایسی تاثیر سنی ہے کہ کسی جوڑے کو پانی میں گھول کر پلا دیں تو نہ صرف ان کو بقیہ عمر کیلئے چھٹی ہوجائے بلکہ ان کی اگلی پچھلی سات نسلیں بھی لاولد ہو جائیں۔ ہمارے محکمہ زراعت اور آبپاشی نے ہمیں ذیل کے مصرعے بھیجے ہیں:ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقیکھیتوں کو دے لو پانی، اب بہہ رہی ہے گنگاجنگلات والوں کی پسند ملاحظہ ہو:پتہ پتہ بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہےکانٹوں سے بھی نباہ کئے جارہا ہوں میںمجنوں جو مر گیا ہے تو صحرا اداس ہےایک مشاعرہ ہم ملتان کے چڑیا گھر میں پڑھ چکے ہیں جس کی طرحیں حسب ذیل تھیں:لاکھ طوطے کو پڑھایا پر وہ حیواں ہی رہاکیا ہی کنڈل مار کر بیٹھا ہے جوڑا سانپ کامحکمے ہوگئے۔ اب اہل حرفہ کی بھی تو ضرورتیں ہیں۔ کریانہ فروشوں کی عید ملن پارٹی ہونے والی ہے۔ اس کیلئے بھی مصرع طرح تجویز کردیں:وہ الگ باندھ کے رکھا ہے جو مال اچھا ہےباربرایسوسی ایشن کے سالانہ مشاعرے کیلئے:کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہونے تکہاکرز فیڈریشن والوں نے بھی ہم سے مصرع مانگا تھا۔ ایک نہیں دو حاضر ہیں:میں دل بیچتا ہوں، میں جاں بیچتا ہوںبیٹھے ہیں رہگزر پہ ہم، کوئی ہمیں اٹھائے کیوںایک مصرع جوتے والوں کی نذر ہے:پاپوش میں لگادی کرن آفتاب کیوکیل اس مصرع سے کام چلا سکتے ہیں:مدعی لاکھ برا چاہے کیا ہوتا ہےاور قصاب حضرات کیلئے ہم نے: کاغذ پہ رکھ دیا ہے کلیجا نکال کےایک زمانے میں ہماری شاعری نے بادشاہوں اورنوابوں کی سرپرستی میں ترقی کی۔ ایک مشہور شاعر فرخی کو تو بادشاہ وقت نے خوش ہو کر مویشیوں کا ایک گلہ انعام میں دے دیا تھا۔ اس نے غالباً غزل گوئی چھوڑ چھاڑ کر دودھ بیچنے کا پیشہ اختیار کر لیا کیونکہ پھر اس کے خاندان میں کوئی شاعر ہم نے نہ سنا۔ ہمارے زمانے میں وارفنڈ والے، محکمہ زراعت والے، میلہ مویشیاں والے اس فن کے فروغ کا ذریعہ ہیں پھر کلاتھ ملوں والوں نے اس نیم جان کا پردہ ڈھکا۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ انکم ٹیکس اور کسٹم والے بھی شاعری کی سرپرستی کی طرف توجہ کرنے لگے۔