برف پگھلنے کے ساتھ انٹارکٹیکا سمندر میں پارہ کیوں چھوڑ رہا ہے؟
اسپیشل فیچر
دنیا کے سرد ترین خطوں میں شمار ہونے والا انٹارکٹیکا طویل عرصے سے موسمیاتی تبدیلی کے باعث سائنسدانوں کی خصوصی توجہ کا مرکز ہے۔ براعظم کے وسیع برفانی ذخائر تیزی سے پگھل رہے ہیں جس کے نتیجے میں سمندر کی سطح بلند ہونے، سمندری ماحولیاتی نظام متاثر ہونے اور عالمی موسموں میں تبدیلی جیسے خطرات پہلے ہی زیرِ بحث ہیں۔ تاہم ایک نئی سائنسی تحقیق نے انٹارکٹیکا سے جڑے ایک اور تشویشناک پہلو کی نشاندہی کی ہے کہ پگھلتی ہوئی برف سمندر میں زہریلی دھات پارے (Mercury) کے اخراج کو بھی بڑھا سکتی ہے۔یہ دریافت اس لیے اہم ہے کہ پارہ ایک انتہائی زہریلا عنصر ہے جو ماحول میں طویل عرصے تک موجود رہ سکتا ہے اور سمندری غذائی زنجیر میں داخل ہو کر مچھلیوں اور دیگر جانداروں کے ذریعے انسانوں تک پہنچ سکتا ہے۔
انٹارکٹیکا میں پارہ کہاں سے آیا؟
سائنسدانوں کے مطابق انٹارکٹیکا میں موجود پارے کا ایک اہم حصہ براہِ راست مقامی انسانی سرگرمیوں کا نتیجہ نہیں۔ دنیا کے دوسرے حصوں میں صنعتی سرگرمیوں، کوئلے کے جلنے، کان کنی اور دیگر انسانی ذرائع سے فضا میں خارج ہونے والا پارہ ہوا کے عالمی نظام کے ذریعے دور دراز علاقوں تک پہنچ سکتا ہے۔یہ پارہ برف، برفانی ذرات اور ماحول کے دوسرے اجزا کے ساتھ انٹارکٹیکا میں بھی جمع ہوتا رہا۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ مواد برف اور برفانی تہوں میں محفوظ ہوتا گیا۔ جب برف پگھلتی ہے تو اس میں موجود مختلف کیمیائی عناصر دوبارہ ماحول میں آنے کا راستہ حاصل کر سکتے ہیں۔حالیہ تحقیق میں خاص طور پر انٹارکٹک کے قریب سمندری تلچھٹ یا سیڈیمنٹ میں پارے کی موجودگی کا جائزہ لیا گیا۔ سائنسدانوں نے سمندری تہہ میں جمع ہونے والی تہوں کا مطالعہ کرکے یہ جاننے کی کوشش کی کہ مختلف ادوار میں پارے کی مقدار کس طرح تبدیل ہوتی رہی۔تحقیق سے معلوم ہوا کہ صنعتی دور کے آغاز کے بعد پارے کے جمع ہونے کی شرح میں نمایاں اضافہ ہوا۔ بعض مقامات پر اس شرح میں تقریباً 160 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ یہ اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ انسانی سرگرمیوں سے خارج ہونے والا پارہ عالمی ماحول کے ذریعے انٹارکٹیکا تک بھی پہنچا اور وہاں کے قدرتی نظام میں محفوظ ہوتا رہا۔
انٹارکٹیکا کی برف صرف ایک جامد سفید سطح نہیں بلکہ ایک وسیع ماحولیاتی ذخیرہ بھی ہے جس میں مختلف کیمیائی مادے طویل عرصے تک محفوظ رہ سکتے ہیں۔جیسے جیسے درجہ حرارت بڑھتا ہے اور برف پگھلتی ہے برف میں جمے ہوئے بعض عناصر پانی کے ساتھ حرکت کرنا شروع کر سکتے ہیں۔ یہی عمل پارے کے لیے بھی تشویش کا باعث ہے۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ انٹارکٹیکا اچانک بڑی مقدار میں پارہ سمندر میں پھینک رہا ہے یا اس سے فوری طور پر عالمی سطح پر کوئی بحران پیدا ہونے والا ہے۔ اصل خدشہ یہ ہے کہ موسمیاتی تبدیلی ایک ایسے آلودگی کے ذخیرے کو دوبارہ متحرک کر سکتی ہے جو کئی دہائیوں یا اس سے بھی زیادہ عرصے سے برف میں محفوظ ہے۔یہ صورتحال ماہرین کے لیے اس لیے اہم ہے کہ انٹارکٹیکا میں برف کے پگھلنے کا عمل مستقبل میں بھی جاری رہنے کا خدشہ ہے۔ اگر برف کے پگھلاؤ میں اضافہ ہوتا ہے تو ماحول میں پہلے سے موجود بعض آلودہ عناصر کے اخراج کا امکان بھی بڑھ سکتا ہے۔
سمندری حیات کیلئے خطرہ
پارہ ماحول کے لیے اس لیے خطرناک ہے کہ یہ صرف پانی میں موجود رہنے والا ایک کیمیائی عنصر نہیں بلکہ جانداروں کے جسم میں جمع بھی ہو سکتا ہے۔ خاص طور پر سمندری ماحول میں پارے کی کچھ شکلیں ایسے کیمیائی مرکبات میں تبدیل ہو سکتی ہیں جو جانداروں کے لیے زیادہ نقصان دہ ہوتے ہیں۔چھوٹے سمندری جاندار اگر پارے کو جذب کریں تو یہ عنصر غذائی زنجیر کے ذریعے بڑی مچھلیوں اور دوسرے شکاری جانوروں تک پہنچ سکتا ہے۔ اس بارے میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ سمندر میں کتنا پارہ منتقل ہو رہا ہے، اس کی کون سی شکل زیادہ عام ہے اور وہ جانداروں میں کس حد تک جمع ہو رہا ہے۔
موسمیاتی تبدیلی کا ایک نیا پہلو
انٹارکٹیکا میں پارے کا مسئلہ موسمیاتی تبدیلی کے ایک بڑے اور پیچیدہ پہلو کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے۔ عام طور پر گلوبل وارمنگ کے اثرات پر بات کرتے ہوئے برف پگھلنے، سمندر کی سطح بلند ہونے اور درجہ حرارت میں اضافے کو نمایاں کیا جاتا ہے۔ لیکن برف کے پگھلنے سے ماحول میں پہلے سے محفوظ کیمیائی مادوں کے دوبارہ متحرک ہونے جیسے اثرات بھی سامنے آ سکتے ہیں۔یہ تحقیق اس بات کی یاد دہانی ہے کہ زمین کا ماحولیاتی نظام ایک دوسرے سے جڑے ہوئے پیچیدہ نظام پر مشتمل ہے۔ دنیا کے کسی ایک حصے میں صنعتی آلودگی پیدا ہوتی ہے، وہ فضا کے ذریعے ہزاروں کلومیٹر کا سفر کر سکتی ہے، کسی دور افتادہ برفانی خطے میں جمع ہو سکتی ہے اور کئی دہائیوں بعد موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں دوبارہ ماحول کا حصہ بن سکتی ہے۔اس لیے انٹارکٹیکا میں پارے کی موجودگی صرف ایک مقامی سائنسی مسئلہ نہیں بلکہ عالمی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی کے باہمی تعلق کی مثال ہے۔ اگر دنیا گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی اور صنعتی آلودگی پر قابو پانے میں ناکام رہتی ہے تو مستقبل میں ایسے کئی پوشیدہ ماحولیاتی اثرات سامنے آ سکتے ہیں جن کا اندازہ آج مکمل طور پر نہیں لگایا جا سکتا۔