کسٹم کا مشاعرہ!
اسپیشل فیچر
کسٹم والوں کے مصرع ہائے طرح برے نہیں لیکن ہماری سفارش ہے کہ آئندہ کوئی محکمہ مشاعرہ کرائے تو مصرع طرح کے اپنے کام کی مناسبت سے رکھے۔ مثلاً کسٹم کے مشاعرے کیلئے یہ مصرع زیادہ موزوں رہے گا:
دادرحشر مرا نامہ اعمال نہ دیکھ
حج کا ثواب نذر کروں گا حضورکی
اگلے ہفتے گوردھن داس کلاتھ مارکیٹ میں کپڑے والوں کی طرف سے جو مشاعرہ ہو رہا ہے اس کیلئے ہم یہ مصرعے تجویز کریں گے:
ہائے اس چارہ گرہ، کپڑے کی قسمت غالب
یا اپنا گریباں چاک، یا دامنِ یزداں چاک
اندر کفن کے سر ہے تو باہر کفن کے پاؤں
دھوبی، ڈرائی کلینر، ٹیلرماسٹرحضرات مشاعرہ کرائیں توان کے حسبِ مطلب بھی اساتذہ بہت کچھ کہہ گئے ہیں۔ منجملہ،
دھوئے گئے ہم اتنے کہ بس پاک ہوگئے
دامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضو کریں
تیرے دل میں تو بہت کام رفو کا نکلا
موٹرڈرائیورحضرات تو اپنے بس یا ٹرک کی باڈی پرلکھا ہوا کوئی مصرع بھی چن سکتے ہیں۔ جیسے،
سامان سو برس کے ہیں کل کی خبر نہیں
سب سے زیادہ آسانی گورکنوں کیلئے ہے کیونکہ اردو شاعری کا ایک بہت بڑا حصہ کفن، دفن، گورکنی اورمردہ شوئی کے متعلق ہے۔ ہماری شاعری میں مردے بولتے ہیں اورکفن پھاڑ کر بولتے ہیں۔ بعضے تو منکر نکیر تک سے کٹ حجتی کرتے ہیں:
چھیڑو نہ میٹھی نیند میں اے منکرونکیر
سونے دو بھائی میں تھکا ماندہ ہوں راہ کا
اسی طرح ہمارے شاعروں نے بہت کچھ حکیموں، ڈاکٹروں اور عطائیوں کے بارے میں کہہ رکھا ہے۔ کل کلاں میڈیکل ایسوسی ایشن یا طبی کانفرنس والے یا جڑی بوٹی سنیاسی ٹوٹکا ایسوسی ایشن کے سیکرٹری سائیں اکسیر بخش کشتہ مشاعرہ کرائیں تو حسب ذیل تیر بہدف مصرعے کام میں لا سکتے ہیں،
یا الہٰی مٹ نہ جائے دردِ دل
آخر اس درد کی دوا کیا ہے
پہلے تو روغن گل بھینس کے انڈے سے نکال
اور۔۔۔ مریضِ عشق پر رحمت خدا کی۔ وغیرہ
فیملی پلاننگ کے محکمے نے پچھلے دنوں ڈھیروں نظمیں لکھوائی ہیں، جن میں بعض میں ایسی تاثیر سنی ہے کہ کسی جوڑے کو پانی میں گھول کر پلا دیں تو نہ صرف ان کو بقیہ عمر کیلئے چھٹی ہوجائے بلکہ ان کی اگلی پچھلی سات نسلیں بھی لاولد ہو جائیں۔ ہمارے محکمہ زراعت اور آبپاشی نے ہمیں ذیل کے مصرعے بھیجے ہیں:
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی
کھیتوں کو دے لو پانی، اب بہہ رہی ہے گنگا
جنگلات والوں کی پسند ملاحظہ ہو:
پتہ پتہ بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے
کانٹوں سے بھی نباہ کئے جارہا ہوں میں
مجنوں جو مر گیا ہے تو صحرا اداس ہے
ایک مشاعرہ ہم ملتان کے چڑیا گھر میں پڑھ چکے ہیں جس کی طرحیں حسب ذیل تھیں:
لاکھ طوطے کو پڑھایا پر وہ حیواں ہی رہا
کیا ہی کنڈل مار کر بیٹھا ہے جوڑا سانپ کا
محکمے ہوگئے۔ اب اہل حرفہ کی بھی تو ضرورتیں ہیں۔ کریانہ فروشوں کی عید ملن پارٹی ہونے والی ہے۔ اس کیلئے بھی مصرع طرح تجویز کردیں:
وہ الگ باندھ کے رکھا ہے جو مال اچھا ہے
باربرایسوسی ایشن کے سالانہ مشاعرے کیلئے:
کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہونے تک
ہاکرز فیڈریشن والوں نے بھی ہم سے مصرع مانگا تھا۔ ایک نہیں دو حاضر ہیں:
میں دل بیچتا ہوں، میں جاں بیچتا ہوں
بیٹھے ہیں رہگزر پہ ہم، کوئی ہمیں اٹھائے کیوں
ایک مصرع جوتے والوں کی نذر ہے:
پاپوش میں لگادی کرن آفتاب کی
وکیل اس مصرع سے کام چلا سکتے ہیں:
مدعی لاکھ برا چاہے کیا ہوتا ہے
اور قصاب حضرات کیلئے ہم نے:
کاغذ پہ رکھ دیا ہے کلیجا نکال کے
ایک زمانے میں ہماری شاعری نے بادشاہوں اورنوابوں کی سرپرستی میں ترقی کی۔ ایک مشہور شاعر فرخی کو تو بادشاہ وقت نے خوش ہو کر مویشیوں کا ایک گلہ انعام میں دے دیا تھا۔ اس نے غالباً غزل گوئی چھوڑ چھاڑ کر دودھ بیچنے کا پیشہ اختیار کر لیا کیونکہ پھر اس کے خاندان میں کوئی شاعر ہم نے نہ سنا۔ ہمارے زمانے میں وارفنڈ والے، محکمہ زراعت والے، میلہ مویشیاں والے اس فن کے فروغ کا ذریعہ ہیں پھر کلاتھ ملوں والوں نے اس نیم جان کا پردہ ڈھکا۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ انکم ٹیکس اور کسٹم والے بھی شاعری کی سرپرستی کی طرف توجہ کرنے لگے۔