ترشاوہ پھل گرنے کی وجوہات و روک تھام
اسپیشل فیچر
ترشاوہ خاندان مثلاً مالٹا، مسمی، سنگترہ، کنو، گریپ فروٹ،لیموں اور مٹھا وغیرہ پیداوار کیلئے رقبہ کے لحاظ سے پاکستان میں دوسرے نمبر پر آتا ہے۔جبکہ ترشاوہ پھلوں کی فی ایکڑ زیادہ پیداوار حاصل کرنے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔اس سلسلے کی سب سے بڑی رکاوٹ کاشتی امور، خوراک کی کمی اور مختلف قسم کے کیڑے اور بیماریاں ہیں جو کہ پودے کے تنے، شاخوں، پتوں اور پھلوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ فی پودا کم پیداوار حاصل ہونے کے ساتھ ساتھ پھل بھی چھوٹا اور بد شکل ہو جاتا ہے۔ اس طرح باغ کے مالک کی محنت کا بڑا حصہ ضائع ہو جاتا ہے اور ملک کو بھی بیرونی منڈیوں میں آرڈرپورا نہ کر سکنے کی وجہ سے شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتاہے۔
باغات کے مالکان کا ایک اور مسئلہ ترشاوہ خاندان میں پھل کا گرنا ہے اور ہر سال اس اہم مسئلہ سے لاکھوں روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔ بعض دفعہ گرمیوں کے مہینوں میں ترشاوہ خاندان کے پودوں سے 60فیصد تک پھل گر جاتا ہے۔ ترشاوہ خاندان کے پودے جتنے پھول نکالتے ہیں اور جتنا پھل بنتا ہے، ان پودوں کیلئے سارا سنبھالنا مشکل ہوتا ہے۔ اس لئے پودا عموماً صحت اور طاقت کے مطابق پھل روک لیتا ہے اور باقی گرا دیتا ہے مگر پودے کی طاقت کے مطابق بھی ٹکا ہوا پھل گرنا شروع ہو جائے تو باغ کی پیداوار میں کافی حد تک کمی ہو جاتی ہے۔
پھل ایک دفعہ نہیں گرتا بلکہ عموماً تین مختلف وقفوں میں گرتا ہے۔ ایک دفعہ پھل بننے کے فوراً بعد گرتا ہے۔ پھل ابھی مٹر کے دانے کے برابر ہی ہوتا ہے تو کافی تعداد میں گرنا شروع ہو جاتا ہے۔ گرنے والے پھلوں میں اکثریت ان پھلوں کی ہوتی ہے جن کے پھولوں کے نر اور مادہ حصوں میں جفتی نہیں کھائی ہوتی۔ اس کے علاوہ خلیوں کی تقسیم کی وجہ سے پھل کی ٹہنی اور شاخ کے درمیان ایک تہہ جم جاتی ہے جو کہ خوراک کو پھل تک نہیں پہنچنے دیتی جس کی وجہ سے پھل گر جاتا ہے۔
دوسری دفعہ ماہ جون، جولائی میں درمیانہ سائز کا پھل گرنا شروع ہو جاتا ہے جبکہ پھل ابھی زیادہ بڑا نہیں ہوتا۔ اصل میں یہی وہ وقت ہے جب پودا وہ تمام پھل گرا دیتا ہے جس کو وہ خوراک نہیں پہنچا سکتا۔ ان مہینوں میں خوراک کا خیال رکھنااز حد ضروری ہے۔تیسری دفعہ ستمبر اکتوبر میں پھل بہت بڑا ہو جاتا ہے تو گرنا شروع ہو جاتا ہے اس وقت پھل کا گرنا باغ کے مالک کا بہت نقصان ہے۔
باغ کے کاشتی امور پودے کے پھل پر کافی اثر انداز ہوتے ہیں جن میں ہوا توڑ باڑوں کی کمی، اپریل یا مئی کے مہینوں میں پانی کی کمی یا زیادتی۔ باغ میں فصلوں کی کاشت مثلاً گندم جس کو اپریل مئی پانی نہیں لگانا ہوتا اور باغ کو اس وقت پانی کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ دوسری فصل برسیم جس کو پانی زیادہ مقدار میں چاہئے اور زیادہ پانی کنوں کے پودوں کیلئے نقصان دہ ہوتا ہے۔
دوسری بڑی وجہ نائٹروجن کا تناسب اور نائٹروجن کے علاوہ دوسرے اجزا کی کمی پھل پر خصوصاً اثر انداز ہوتے ہیں۔ اگر نائٹروجن زیادہ ہو گئی تو پودے کی بڑھوتری تو بہت ہو گی مگر پھول اور پھل زیادہ گر جائیں گے۔ اس کے برعکس اگر نائٹروجن کم ہو گئی اور کاربوہائیڈریٹ زیادہ ہوں گے تو پودے کی بڑھوتری کم ہو گی اور پھول بھی گر جائے گا۔ اس کے علاوہ فاسفورس اور پوٹاشیم کی کمی بھی پھل کے گرنے کی وجہ بن سکتی ہے۔
تیسری بڑی وجہ کیڑے مکوڑے اور بیماریاں ہیں، جن کی وجہ سے پھل کسی وقت بھی گر سکتا ہے۔ پھل کی مکھی کے حملہ سے بڑے پھل کا گرنا باغات کے مالکان کیلئے بہت زیادہ نقصان کا باعث ہوتا ہے۔ بعض اوقات سوکھے کے مرض سے شاخیں سرے سے خشک ہونا شروع ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے پھل کی ڈنڈی کمزور ہو جاتی ہے اور پھل گر جاتا ہے۔چوتھی وجہ درجہ حرارت اور نمی میں فوری تبدیلی ہے، جس سے کافی پھل گر جاتے ہیں۔ کہر(دھند) بھی کافی حد تک پھل کے گرنے کا موجب بنتی ہے۔
اوپر دی گئی تمام وجوہات کے علاوہ پھل گرنے کی ایک اور وجہ خلیوں کی تقسیم ہونے کے بعد پھل اور ٹہنی کے درمیان ایک تہہ جم جاتی ہے جو خوراک پھل تک نہیں پہنچنے دیتی اور اس طرح پھل کمزور ہو کر گر جاتا ہے۔ مناسب آبپاشی، بہتری کاشتی امور، کیڑے مکوڑوں اور بیماریوں سے بچائو اور متناسب خوراک کے باوجود پھل گرے تو اس کیلئے پلانٹ ہار مون کا سپرے کرکے پھل کو گرنے سے روکا جا سکتا ہے۔ ہارمون کی سپرے سے پھل کی ڈنڈی کے خلیے مضبوط ہو جاتے ہیں اور پھل و گرنے سے روکتے ہیں اور اس طرح خلیوں کی تقسیم کی وجہ سے پیدا شدہ تہہ کو توڑ کر خوراک کا راستہ پھل تک صاف کر دیتے ہیں اور اس طرح پھل سائز اور حجم میں بڑا ہونے کے علاوہ شکل میں بھی خوبصورت ہو جاتا ہے۔ جولائی، اگست اور ستمبر میں جب کیڑے مار ادویات کی سپرے کی ضرورت ہو تو ہارمون کو بھی ساتھ ملا لینا چاہیے۔