دنیا گرمی سے بے حال، برفانی براعظم میں سردی کی نئی تاریخ رقم
اسپیشل فیچر
انٹارکٹیکا میں درجہ حرارت منفی 84.1 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ
دنیا اس وقت شدید گرمی کی لہروں، جنگلاتی آگ، خشک سالی اور موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات سے نبرد آزما ہے۔ یورپ، ایشیا اور شمالی امریکا کے متعدد ممالک میں درجہ حرارت نئے ریکارڈ قائم کر رہا ہے اور لاکھوں افراد جھلسا دینے والی گرمی سے متاثر ہیں۔ ایسے میں برفانی براعظم انٹارکٹیکا سے آنے والی خبر نے ماہرین موسمیات اور سائنس دانوں کو حیرت میں مبتلا کر دیا، جہاں کونکورڈیا ریسرچ اسٹیشن پر درجہ حرارت منفی 84.1 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر گیا، جو گزشتہ 14 برس کے دوران زمین پر ریکارڈ کیا جانے والا کم ترین درجہ حرارت ہے۔ یہ حیران کن تضاد اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ کرہ ارض کا موسمی نظام کس قدر پیچیدہ اور غیر متوقع ہو چکا ہے۔ ایک طرف دنیا کے بیشتر خطے غیر معمولی گرمی کی لپیٹ میں ہیں تو دوسری جانب انٹارکٹیکا میں سردی کی شدت نے نیا ریکارڈ قائم کر دیا ہے، جو موسمیاتی تبدیلی، قطبی علاقوں کی اہمیت اور زمین کے بدلتے ہوئے موسموں پر نئی سائنسی بحث کو جنم دے رہا ہے۔
18 جولائی کو کونکورڈیا ریسرچ اسٹیشن میں درجہ حرارت اچانک گر کر منفی 84.1 ڈگری سینٹی گریڈ (منفی 119.4 ڈگری فارن ہائیٹ) تک پہنچ گیا۔''لائیو سائنس ‘‘کو فراہم کیے گئے ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق، اسٹیشن پر یہ نیا کم ترین درجہ حرارت ایک ہی رات میں دو مرتبہ ریکارڈ کیا گیا۔ پہلی بار مقامی وقت کے مطابق صبح 6 بج کر 25 منٹ پر اور دوسری بار صبح 6 بج کر 34 منٹ پر۔یہ 2012ء کے بعد زمین پر کہیں بھی ریکارڈ کیا جانے والا سب سے کم درجہ حرارت ہے۔ اس سے قبل مشرقی انٹارکٹیکا میں روس کے ووستوک (Vostok) ریسرچ اسٹیشن پر درجہ حرارت منفی 84.2 ڈگری سینٹی گریڈ (منفی 119.6 ڈگری فارن ہائیٹ) ریکارڈ کیا گیا تھا۔
کونکورڈیا ریسرچ اسٹیشن سطح سمندر سے تقریباً 10,500 فٹ (3,200 میٹر) کی بلندی پر، 10,800 فٹ (3,300 میٹر) بلند برفانی سطح پر قائم ہے اور ساحل سے تقریباً 600 میل (ایک ہزار کلومیٹر) کے فاصلے پر واقع ہے۔سال کے اس حصے میں یہاں درجہ حرارت کا منفی 80 ڈگری سینٹی گریڈ (منفی 112 ڈگری فارن ہائیٹ) سے نیچے چلا جانا معمول کی بات ہے، تاہم حالیہ ریکارڈ شدہ درجہ حرارت معمول سے کہیں زیادہ کم ہے۔
اٹلی کے قومی انٹارکٹک ریسرچ پروگرام کی جانب سے کونکورڈیا اسٹیشن کے سربراہ گیبریئلے کاروگاتی کے مطابق یہ واقعہ اس بات کی واضح مثال ہے کہ انٹارکٹیکا کا موسم اب بھی کس قدر غیر متوقع اور تغیر پذیر ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں اگرچہ شدید سردی معمول کی بات ہے، لیکن منفی 84 ڈگری سینٹی گریڈ سے کم درجہ حرارت کا ریکارڈ ہونا واقعی غیر معمولی اور قابلِ ذکر واقعہ ہے۔
انٹارکٹیکا کے بلند و بالا برفانی سطح مرتفع پر واقع کونکورڈیا ریسرچ اسٹیشن زمین پر موجود انسانوں کی انتہائی دور افتادہ اور سخت ترین تحقیقی چوکیوں میں سے ایک ہے۔اس مقام کی غیر معمولی تنہائی اور آلودگی سے پاک قدرتی ماحول اسے زمین، فضائی ماحول اور بیرونی خلا سے متعلق سائنسی تحقیق کیلئے ایک مثالی مقام بناتا ہے۔ تاہم جیسے ہی موسمِ سرما شروع ہوتا ہے، خراب موسمی حالات کے باعث طیاروں کی آمدورفت مکمل طور پر بند ہو جاتی ہے اور کونکورڈیا میں موجود محققین کے قریب ترین ہمسائے روس کے ووستوک ریسرچ اسٹیشن میں ہوتے ہیں، جو تقریباً 600 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔اسی وجہ سے تکنیکی اعتبار سے کونکورڈیا میں تعینات عملہ بین الاقوامی خلائی اسٹیشن میں موجود خلا بازوں سے بھی زیادہ تنہا زندگی گزارتا ہے، کیونکہ خلائی اسٹیشن زمین سے تقریباً 250 میل (400 کلومیٹر) کی بلندی پر مدار میں گردش کر رہا ہوتا ہے۔
کونکورڈیا کی منفرد جغرافیائی حیثیت کا ایک اور نتیجہ یہ ہے کہ یہاں دنیا کے شدید ترین سرد موسمی حالات دیکھنے کو ملتے ہیں۔ کونکورڈیا اسٹیشن کے سربراہ گیبریئلے کاروگاتی کے مطابق موسمِ سرما میں کئی ماہ تک سورج طلوع نہیں ہوتا، فضا انتہائی خشک اور مستحکم رہتی ہے، جبکہ صاف آسمان کی وجہ سے حرارت مسلسل خلا میں خارج ہوتی رہتی ہے۔ چونکہ بادل موجود نہیں ہوتے، اس لیے گرمی واپس زمین کی طرف منعکس نہیں ہو پاتی اور درجہ حرارت غیر معمولی حد تک گر جاتا ہے۔
اٹالین انٹارکٹک میٹیوکے مطابق، کونکورڈیا ریسرچ اسٹیشن پر اب تک ریکارڈ کیا جانے والا سب سے کم درجہ حرارت منفی 84.7 ڈگری سینٹی گریڈ (منفی 120.5 ڈگری فارن ہائیٹ) تھا، جو 2010ء کے موسمِ سرما میں ریکارڈ کیا گیا تھا۔ تاہم زمین پر اب تک ریکارڈ کیے گئے کم ترین درجہ حرارت کا عالمی ریکارڈ روس کے ووستوک ویدر اسٹیشن کے پاس ہے، جہاں جولائی 1983ء میں درجہ حرارت منفی 89.2 ڈگری سینٹی گریڈ (منفی 128.6 ڈگری فارن ہائیٹ) تک گر گیا تھا۔
دریں اثنا، مختلف مطالعات سے یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ مستقبل میں درجہ حرارت اس سے بھی زیادہ ناقابلِ یقین حد تک گر سکتا ہے۔ سیٹلائٹ سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق مشرقی انٹارکٹیکا میں بعض مقامات پر درجہ حرارت منفی 98 ڈگری سینٹی گریڈ (منفی 144 ڈگری فارن ہائیٹ) تک پہنچنے کا امکان موجود ہے۔یہ انتہائی کم درجہ حرارت برفانی چادر کے بلند ترین حصے کے قریب واقع کم گہرائی والے نشیبی مقامات پر ریکارڈ کیا جاتا ہے، جو سطحِ سمندر سے تقریباً 13,290 فٹ (4,050 میٹر) کی بلندی پر واقع ہیں۔
دنیا کے بیشتر حصے غیر معمولی گرمی کی لپیٹ میں
سائنس دانوں کا خیال ہے کہ قدرتی حالات میں، خواہ تمام موسمی عوامل سازگار ہی کیوں نہ ہوں، زمین پر ہوا کا درجہ حرارت تقریباً اسی حد تک گر سکتا ہے اور اس سے زیادہ سرد ہونا انتہائی مشکل ہے۔تاہم حالیہ ریکارڈ توڑ سردی کو حیران کن بنانے والی بات یہ ہے کہ یہ ایسے وقت میں ریکارڈ کی گئی ہے جب دنیا کے بیشتر حصے غیر معمولی گرمی کی لپیٹ میں ہیں۔مغربی یورپ میں جون کا مہینہ تاریخ کا گرم ترین جون ثابت ہوا، جبکہ شدید گرمی اور خشک موسم کے باعث کینیڈا، فرانس، اسپین اور یونان میں جنگلاتی آگ نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔دلچسپ بات یہ ہے کہ خود انٹارکٹیکا میں بھی غیر معمولی گرمی کے آثار دیکھنے میں آ رہے ہیں۔چند ہی ہفتے قبل شمالی انٹارکٹیکا کے ٹرینیٹی جزیرہ نما پر واقع ارجنٹائن کے ایسپرانزا (Esperanza) ریسرچ بیس میں موسمِ سرما کا اب تک کا بلند ترین درجہ حرارت 15.4 ڈگری سینٹی گریڈ (59.7 ڈگری فارن ہائیٹ) ریکارڈ کیا گیا۔