مسجد بی بی خانم
اسپیشل فیچر
سمرقند میں عظمت تیموری کی شاندار یادگار
سمرقند کی تاریخی سرزمین پر قدم رکھتے ہی ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے انسان صدیوں پر محیط تاریخ کے ایک زندہ باب میں داخل ہوگیا ہو۔ نیلے گنبدوں، بلند میناروں، نفیس نقش و نگار اور شاندار تیموری طرزِ تعمیر سے آراستہ یہ شہر وسطی ایشیا کی تہذیبی عظمت کا آئینہ دار ہے۔ اسی تاریخی شہر میں واقع مسجد بی بی خانم نہ صرف ایک عظیم الشان مذہبی عمارت بلکہ اسلامی فن تعمیر اور تیموری عہد کی شان و شوکت کی ایک قابلِ دید یادگار بھی ہے۔
روایات کے مطابق بی بی خانم، امیر تیمور کی اہلیہ تھیں اور دین اسلام، عبادت اور مذہبی امور سے گہری وابستگی رکھتی تھیں۔ امیر تیمور نے اپنی اہلیہ کی خوشی اور عقیدت کے اظہار کیلئے سمرقند میں ایک ایسی عظیم مسجد تعمیر کروانے کا ارادہ کیا جو اپنے حجم، حسن اور شان و شوکت کے اعتبار سے منفرد ہو۔ چنانچہ اس دور کے ماہر معماروں اور کاریگروں نے اپنی فنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے مسجد بی بی خانم کی تعمیر کا آغاز کیا۔ تکمیل کے بعد یہ مسجد اپنے زمانے میں وسطی ایشیا کی عظیم ترین مساجد میں شمار ہونے لگی۔
مسجد کا سب سے نمایاں وصف اس کا شاندار طرز تعمیر ہے۔ بلند و بالا محرابیں، عظیم الشان گنبد، بلند مینار اور خوبصورت تزئینی کام دیکھنے والوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ عمارت کے مختلف حصوں پر نیلے، فیروزی اور سفید رنگ کی ٹائلوں سے بنائے گئے نقش و نگار تیموری فن تعمیر کی نفاست کا اظہار کرتے ہیں۔ مسجد کی دیواروں اور محرابوں پر کی گئی خطاطی اور تزئینی آرائش اس دور کے فنکاروں کی غیر معمولی مہارت کی گواہی دیتی ہے۔
صدیاں گزرنے کے باوجود مسجد بی بی خانم سمرقند کی شناخت کا اہم حصہ رہی، تاہم وقت کے ساتھ قدرتی آفات اور موسمی اثرات نے اس تاریخی عمارت کو شدید متاثر کیا۔ بالخصوص 1966ء کے تباہ کن زلزلے کے نتیجے میں مسجد کے مختلف حصوں کو نمایاں نقصان پہنچا۔ عظیم گنبد اور دیگر تعمیراتی حصوں کو پہنچنے والے نقصانات نے اس تاریخی ورثے کے مستقبل کے حوالے سے خدشات پیدا کر دیے۔ تاہم بعدازاں اس کی بحالی اور تحفظ کیلئے مختلف ادوار میں اقدامات کیے گئے۔
مسجد کی مرمت اور بحالی کے دوران اس بات کا خصوصی خیال رکھا گیا کہ اس کی اصل تاریخی اور معماری شناخت برقرار رہے۔ ماہرین تعمیرات اور ہنرمندوں نے قدیم نقش و نگار، ٹائلوں اور تعمیراتی اسلوب کا باریک بینی سے مطالعہ کیا اور اسی طرز پر بحالی کا کام انجام دیا۔ یوں مسجد کے کئی حصوں کو دوبارہ اس انداز میں آراستہ کیا گیا کہ قدیم تیموری فن تعمیر کی جھلک برقرار رہے۔ ازبکستان کے ماہر کاریگروں نے روایتی نقش و نگاری اور ٹائل سازی کی مہارت کو استعمال کرتے ہوئے اس تاریخی ورثے کی خوبصورتی کو بڑی حد تک بحال کیا۔
آج مسجد بی بی خانم نہ صرف عبادت اور مذہبی عقیدت کا مرکز ہے بلکہ دنیا بھر سے آنے والے سیاحوں کیلئے بھی ایک اہم تاریخی مقام کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کے بلند گنبد اور مینار دور سے ہی سمرقند کی عظمت کا اعلان کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ مسجد کے قریب ایک وسیع اور خوبصورت منقش بازار بھی قائم ہے جہاں مقامی لوگ اور سیاح مختلف اشیائے خورونوش اور روزمرہ استعمال کی چیزیں خریدتے ہیں۔ یہ بازار سمرقند کی قدیم تجارتی روایت اور موجودہ شہری زندگی کا حسین امتزاج پیش کرتا ہے۔
مسجد بی بی خانم دراصل صرف اینٹوں، پتھروں اور ٹائلوں سے بنی ہوئی عمارت نہیں بلکہ ایک پورے عہد کی تہذیبی، مذہبی اور فنی داستان ہے۔ اس کے بلند مینار تیموری دور کی عظمت کی یاد دلاتے ہیں، جبکہ اس کے مرمت شدہ حصے یہ پیغام دیتے ہیں کہ زندہ قومیں اپنے تاریخی ورثے کو محفوظ رکھ کر آنے والی نسلوں سے جوڑتی ہیں۔ سمرقند آنے والا شاید اس شہر کی بہت سی عمارتیں دیکھے، مگر مسجد بی بی خانم کی عظمت اور حسن کا نقش اس کے ذہن و دل پر ایک دیرپا اثر چھوڑے بغیر نہیں رہتا۔