آج کا دن
اسپیشل فیچر
ایکٹیم کی جنگ
دو ستمبر 31 قبل مسیح کو یونان کے مغربی ساحل کے قریب ایکٹیم کے مقام پر ایک فیصلہ کن بحری جنگ لڑی گئی۔ اس جنگ میں رومی رہنما اوکٹیوین کی افواج کا مقابلہ مارک انٹونی اور مصر کی ملکہ کلیوپیٹرا ہفتم کی مشترکہ طاقت سے ہوا۔ یہ معرکہ رومی جمہوریہ کے آخری دور میں اقتدار کے لیے جاری شدید سیاسی اور فوجی کشمکش کا نتیجہ تھا۔ اوکٹیوین اور انٹونی دونوں روم کی سب سے طاقتور شخصیات میں شامل تھے لیکن ان کے درمیان اختلافات بڑھتے گئے۔ انٹونی نے مصر کی ملکہ کلیوپیٹرا کے ساتھ سیاسی اور ذاتی اتحاد قائم کر لیا تھا، جسے اوکٹیوین نے اپنے اقتدار کے لیے خطرہ سمجھا۔ایکٹیم کی جنگ کا سب سے بڑا نتیجہ یہ تھا کہ اوکٹیوین روم کا واحد طاقتور حکمران بن گیا۔ بعد میں وہ آگسٹس کے نام سے روم کا پہلا شہنشاہ بنا۔
لندن کی عظیم آتش زدگی
دو ستمبر 1666ء کو لندن میں آتش زدگی کا خوفناک واقعہ ہوا۔ اُس زمانے میں لندن کا بڑا حصہ لکڑی کی عمارتوں، تنگ گلیوں اور ایک دوسرے سے جڑی ہوئی تعمیرات پر مشتمل تھا۔ ان حالات کے باعث آگ کو روکنا انتہائی مشکل تھا۔ اس کے علاوہ خشک موسم اور تیز ہوا نے بھی آگ کو تیزی سے پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا۔آگ چند گھنٹوں میں آس پاس کے علاقوں تک پہنچ گئی اور پھر شہر کے بڑے حصے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس وقت آگ بجھانے کے لیے جدید فائر بریگیڈ، پانی کے پائپوں اور فائر ٹرکوں جیسی سہولیات موجود نہیں تھیں۔اس تباہی میں لندن کی ہزاروں عمارتیں جل گئیں۔ آگ کے بعد لندن کی تعمیرِ نو شروع ہوئی، عمارتوں میں اینٹ اور پتھر استعمال کرنے اور آگ سے بچاؤ کے انتظامات پر توجہ دی گئی۔
امریکی محکمہ خزانہ کا قیام
دو ستمبر 1789ء کو ریاستہائے متحدہ امریکہ میں محکمہ خزانہ قائم کیا گیا۔ یہ اقدام نئی امریکی وفاقی حکومت کے ابتدائی دور میں انتہائی اہم تھا۔ امریکی انقلاب کے بعد امریکہ ایک نئے آئینی اور وفاقی نظام کی طرف بڑھ چکا تھا لیکن نئی حکومت کو اپنے مالی معاملات چلانے کے لیے ایک منظم مرکزی ادارے کی ضرورت تھی۔ اسی ضرورت کے تحت کانگریس نے محکمہ خزانہ قائم کیا۔ بعد میں الیگزینڈر ہملٹن امریکہ کے پہلے وزیرِ خزانہ مقرر ہوئے۔ انہوں نے امریکی مالیاتی نظام کو منظم کرنے میں غیر معمولی کردار ادا کیا۔ ان کی مالیاتی پالیسیوں نے ابتدائی امریکی ریاست کو معاشی طور پر مضبوط بنانے میں مدد دی۔
دوسری جنگِ عظیم کا اختتام
دوستمبر 1945ء کو دوسری جنگِ عظیم کے خاتمے کا ایک تاریخی مرحلہ مکمل ہوا۔ اس روز جاپان کے نمائندوں نے امریکی بحری جہازپر ہتھیار ڈالنے کی دستاویز پر دستخط کیے۔ اس دستاویز کے ذریعے جاپانی حکومت اور اس کی مسلح افواج نے اتحادی طاقتوں کے سامنے غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا۔ تقریب میں اتحادی طاقتوں کی جانب سے جنرل ڈگلس میک آرتھر نے نمائندگی کی۔دستاویز پر دستخط کے بعد دوسری جنگِ عظیم کا آخری بڑا محاذ بھی باضابطہ طور پر ختم ہو گیا۔ جاپان نے 15 اگست 1945ء کو ریڈیو کے ذریعے اپنے ہتھیار ڈالنے کا اعلان کر دیا تھا لیکن دو ستمبر کو ہونے والی تقریب نے اس فیصلے کو قانونی اور رسمی شکل دی۔ اسی لیے دو ستمبر کو عام طور پر دوسری جنگِ عظیم کے رسمی اختتام کی تاریخ سمجھا جاتا ہے۔
ویتنام کا اعلانِ آزادی
دو ستمبر 1945ء کو ویتنام کے رہنما ہو چی منہ نے ہنوئی میں ایک بڑے عوامی اجتماع کے سامنے ویتنام کی آزادی کا اعلان کیا۔ ویتنام طویل عرصے تک فرانسیسی نوآبادیاتی اقتدار کے تحت رہا تھا۔ دوسری جنگِ عظیم کے دوران جاپان نے بھی ویتنام پر اپنا اثر قائم کیا۔ 1945ء میں جاپان کی شکست کے بعد ویتنام میں سیاسی صورت حال تبدیل ہوئی۔ہو چی منہ نے دو ستمبر کو عوام کے سامنے جو اعلان پڑھا اس میں ویتنامی عوام کے آزادی اور خودمختاری کے حق پر زور دیا گیا۔ اس موقع پر ہنوئی میں ایک بہت بڑا عوامی اجتماع موجود تھا، جس نے آزادی کے اعلان کا خیرمقدم کیا۔اگرچہ اس اعلان کے بعد ویتنام کو فوری مکمل آزادی حاصل نہیں ہوئی۔1954ء میں فرانسیسی افواج کی شکست کے بعد ویتنام کی سیاسی تقسیم اور بعد کی جنگیں کئی دہائیوں تک جاری رہیں۔