گلو بل وارمنگ

گلو بل وارمنگ

اسپیشل فیچر

تحریر : احمد نور


دو بڑے سمندروں کے درمیان موسمیاتی تعلق بدل گیا

سمندر صرف پانی کے وسیع ذخیرے نہیں بلکہ عالمی موسمیاتی نظام کے بنیادی ستون ہیں۔ ایک سمندر میں ہونے والی تبدیلی اکثر ہزاروں کلومیٹر دور دوسرے سمندر، فضا، بارش اور درجہ حرارت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ اب سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ گلوبل وارمنگ اس قدرتی نظام کے ایک اہم اور دیرینہ تعلق کو تبدیل کر رہی ہے۔'نیچر کمیونیکیشنز ‘میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق بحرالکاہل اور بحرِ ہند کے درمیان صدیوں سے قائم ایک اہم موسمیاتی تعلق حالیہ دہائیوں میں نمایاں طور پر کمزور بلکہ اپنی نوعیت میں تبدیل ہو گیا ہے۔ محققین کے مطابق یہ تبدیلی صرف سمندروں کے گرم ہونے تک محدود نہیں بلکہ ان کے درمیان موجود موسمیاتی رابطے کو بھی متاثر کر رہی ہے۔ یہ پیش رفت اس لیے اہم ہے کہ بحرِ ہند کا درجہ حرارت ایشیا، افریقہ اور آسٹریلیا کے بڑے حصوں میں بارش اور موسم کے حالات پر اثر انداز ہوتا ہے۔
بحرالکاہل ، بحرِ ہند موسمیاتی پل کیسے کام کرتا ہے؟
بحرالکاہل اور بحرِ ہند بظاہر ہزاروں کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہیں لیکن فضا ان دونوں کے درمیان ایک قدرتی پل کا کام کرتی ہے۔ اس تعلق میں بحرالکاہل کے اوپر موجودPacific Walker Circulation انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے۔یہ ایک وسیع فضائی گردش ہے جو سمندر کی سطح کے درجہ حرارت میں فرق کے باعث پیدا ہوتی ہے۔ گرم سمندری پانی کے اوپر ہوا گرم ہو کر اوپر اٹھتی ہے، فضا میں حرکت کرتی ہے، دوسرے علاقوں میں نیچے آتی ہے اور یوں ہواؤں اور بارش کے بڑے نظام تشکیل پاتے ہیں۔عام حالات میں بحرالکاہل میں ہونے والی تبدیلیاں اس فضائی نظام کے ذریعے بحرِ ہند کے درجہ حرارت کو بھی متاثر کرتی رہی ہیں۔ مثال کے طور پر ایل نینو جیسے واقعات کے دوران یہ گردش کمزور ہو سکتی ہے اور اس کا اثر بحرِ ہند تک پہنچ سکتا ہے۔ماضی میں بحرالکاہل کی اس فضائی گردش میں تبدیلی اور بحرِ ہند کے وسیع پیمانے پر درجہ حرارت میں تبدیلی کے درمیان ایک نسبتاً مستحکم تعلق موجود تھا۔ سائنسدان اسی تعلق کو موسمی حالات کی پیش گوئی کے لیے بھی استعمال کرتے رہے ہیں۔ لیکن اب یہ تعلق پہلے جیسا نہیں رہا۔
گلوبل وارمنگ نے کیا تبدیل کیا؟
تحقیق کے مطابق 1950ء کی دہائی سے اب تک بحرِ ہند کے گرم ہونے کی رفتار تقریباً 0.1 ڈگری سیلسیس فی دہائی رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ 1980ء کی دہائی کے بعدPacific Walker Circulation میں بھی مضبوطی دیکھی گئی۔بظاہر یہ دونوں تبدیلیاں الگ الگ عوامل معلوم ہوتی ہیں لیکن ان کے باہمی اثرات نے سمندروں کے درمیان روایتی موسمیاتی تعلق کو تبدیل کر دیا ہے۔ تحقیق کا ایک اہم نتیجہ یہ ہے کہ حالیہ دہائیوں میں بحرالکاہل کی فضائی گردش اور بحرِ ہند کے درجہ حرارت کے درمیان تعلق کی سمت ہی تبدیل ہو گئی ہے۔ آسان الفاظ میں کہا جائے تو بحرِ ہند اب پہلے کی طرح بحرالکاہل کی تبدیلیوں کی پیروی نہیں کر رہا۔ماہرین کے مطابق بڑھتی ہوئی گرین ہاؤس گیسوں اور انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی طویل مدتی گرمی اب بحرالکاہل کے قدرتی اثرات پر غالب آ رہی ہے۔یہ تبدیلی اس لیے اہم ہے کیونکہ اگر دو بڑے سمندروں کے درمیان پرانا تعلق تبدیل ہو جائے تو صرف سمندری درجہ حرارت ہی متاثر نہیں ہوگا بلکہ وہ موسمی نظام بھی بدل سکتے ہیں جن پر کروڑوں انسانوں کی زندگی اور معیشت منحصر ہے۔
400 سالہ موسمیاتی ریکارڈ نے کیا بتایا؟
یہ سوال اہم تھا کہ موجودہ تبدیلی واقعی غیر معمولی ہے یا ماضی میں بھی قدرتی طور پر ایسی صورتحال پیدا ہوتی رہی ہے۔مسئلہ یہ ہے کہ جدید آلات کے ذریعے سمندروں کے درجہ حرارت اور فضائی گردش کی قابلِ اعتماد پیمائش کا ریکارڈ تقریباً ایک صدی تک ہی محدود ہے۔ اس لیے محققین نے ماضی کے موسمی حالات جاننے کے لیے قدرتی ریکارڈز سے مدد لی۔شاون وانگ اور ان کے ساتھیوں نے 35 مرجانی ریکارڈز، تین درختوں کے حلقوں کے ریکارڈز اور ایک غار میں بننے والی معدنی تہہ سے حاصل ہونے والے شواہد استعمال کیے۔ ان قدرتی ریکارڈز کی مدد سے محققین نے 1631ء سے 1990 ء تک بحرالکاہل اور بحرِ ہند کے موسمیاتی حالات کو دوبارہ سمجھنے کی کوشش کی۔نتائج حیران کن تھے۔ تقریباً چار صدیوں کے زیادہ تر عرصے میں دونوں سمندروں کے موسمیاتی نظام ایک دوسرے کے ساتھ نسبتاً مضبوط تعلق رکھتے تھے۔البتہ 1810ء سے 1850ء کے درمیان یہ تعلق خاصا کمزور ہوا تھا۔ اس دور میں کئی بڑے آتش فشانی دھماکے ہوئے جن میں 1815 ء میں انڈونیشیا کے ماؤنٹ تمبورا کا تباہ کن دھماکا بھی شامل تھا۔بڑے آتش فشانی دھماکوں سے سلفر پر مشتمل ذرات فضا کی بلند تہوں تک پہنچ جاتے ہیں۔ یہ ذرات سورج کی روشنی کا کچھ حصہ واپس خلا میں منعکس کر دیتے ہیں جس سے زمین کا درجہ حرارت عارضی طور پر کم ہو سکتا ہے۔ چونکہ یہ ٹھنڈک دنیا کے مختلف حصوں میں یکساں نہیں ہوتی اس لیے سمندری درجہ حرارت، ہواؤں اور فضائی گردش میں تبدیلی پیدا ہو سکتی ہے۔
مستقبل کی موسمی پیش گوئیوں کیلئے خطرے کی گھنٹی
محققین نے موجودہ دور کے تعلق کو گزشتہ ایک ہزار سال کے موسمیاتی ماڈلز اور ریکارڈز سے بھی موازنہ کیا۔ 1945ء سے 2025ء کے عرصے میں دونوں سمندروں کے درمیان تعلق میں جو تبدیلی سامنے آئی وہ ماضی کی قدرتی تبدیلیوں کے مقابلے میں غیر معمولی نکلی۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ بحرالکاہل اور بحرِ ہند کے درمیان ہر قسم کا موسمیاتی تعلق ختم ہو گیا ہے، تاہم جو تبدیلی آئی ہے وہ موسمی پیش گوئیوں کے لیے اہم ہے۔یہ تبدیلی خاص طور پر ایشیا، افریقہ اور آسٹریلیا کے لیے اہم ہے جہاں بحرِ ہند کا درجہ حرارت بارش اور موسمی حالات پر اثر انداز ہوتا ہے۔ جنوبی ایشیا میں بارش کے نظام اور پانی کی دستیابی پہلے ہی موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث اہم چیلنج بن چکے ہیں۔ مستقبل میں سمندروں کے درمیان بدلتے تعلقات ان پیش گوئیوں کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
مصنوعی ذہانت سے گفتگو

مصنوعی ذہانت سے گفتگو

کیا انسان بھی روبوٹ جیسا بن رہاہے؟مصنوعی ذہانت (AI) ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بنتی جا رہی ہے۔ ہم معلومات حاصل کرنے، لکھنے، خریداری کرنے، کسٹمر سروس لینے، تعلیم حاصل کرنے اور حتیٰ کہ ذاتی مشورے کے لیے بھی AI سے بات کرتے ہیں۔ جدید AI صرف سوال کا جواب نہیں دیتی بلکہ ہماری زبان، اندازِ گفتگو اور ترجیحات کو سمجھ کر اپنے جواب کو ہمارے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرتی ہے۔ بظاہر یہ سہولت انسان اور مشین کے درمیان فاصلے کو کم کرتی ہے، لیکن ایک تحقیق نے ایک دلچسپ اور قدرے تشویشناک سوال اٹھایا ہے: کیا مشینیں انسانوں جیسا بننے کے ساتھ ساتھ انسانوں کو بھی مشین جیسا بنا رہی ہیں؟ انسان مشین کے انداز کو کیوں اپناتا ہے؟یونیورسٹی آف برمنگھم کے محققین کے مطابق انسان سماجی ماحول میں دوسروں کے رویوں کی لاشعوری طور پر نقل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اسے نفسیات میں mirroring کہا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر سامنے والا شخص مسکرائے تو ہم بھی مسکرا دیتے ہیں، اگر وہ مخصوص انداز میں گفتگو کرے تو ہم بھی غیر محسوس طور پر اپنا انداز بدل سکتے ہیں۔اب یہی عمل AI یا سماجی روبوٹس کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔ جدید AI صارف کی گفتگو کے مطابق اپنے الفاظ، انداز اور ردعمل کو تبدیل کرتی ہے۔ اس کے نتیجے میں ایک دو طرفہ عمل پیدا ہو سکتا ہے کہ روبوٹ انسان جیسا بنتا ہے اور انسان روبوٹ کے انداز کو اپنانا شروع کر دیتا ہے۔ محققین نے اسی تصور کو ''Robotoid Humanness‘‘ کا نام دیا ہے۔ روبوٹ جیسا ہونے سے مراد کیا ہے؟یہاں روبوٹ جیسا ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ انسان اچانک جذبات سے عاری مشین بن جائے گا۔ اس سے مراد زیادہ تر بات چیت، رویے اور سوچ کے انداز میں تبدیلی ہے ،مثلاً اگر کوئی شخص مسلسل ایسے AI سسٹم سے گفتگو کرے جو مختصر، براہِ راست، حکم یا معلومات پر مبنی جملوں کو ترجیح دیتا ہو تو ممکن ہے کہ وہ خود بھی گفتگو میں زیادہ مختصر، رسمی اور مشینی انداز اختیار کرنے لگے۔ بار بار ایسا ہونے سے انسان اپنی گفتگو کو جذبات، غیر ضروری تفصیل اور انسانی اشاروں سے کم کر سکتا ہے۔یہ اثر خاص طور پر ان ماحول میں اہم ہو سکتا ہے جہاں انسان کا AI سے مسلسل رابطہ ہو، جیسے کسٹمر سروس، صحت، ریٹیل اور دیگر خدمات۔ تحقیق کے مطابق بار بار ہونے والی ایسی تعاملات انسان کے اپنے بارے میں تصور کو بھی متاثر کر سکتی ہیں۔ اصل خطرہ AI نہیں بلکہ ضرورت سے زیادہ انحصار ہےاس تحقیق کا مطلب یہ نہیں کہ AI استعمال کرنا خطرناک ہے یا ہر وہ شخص جو ChatGPT سے بات کرتا ہے روبوٹ بن جائے گا۔ یہ تحقیق بنیادی طور پر ایک تصوری اور نظریاتی فریم ورک پیش کرتی ہے کہ انسان اور مشین کے درمیان مسلسل تعامل کس طرح رویوں کو متاثر کر سکتا ہے۔ اس لیے اس خبر کو یہ سمجھنا درست نہیں ہوگا کہ سائنس نے ثابت کر دیا ہے کہ AI ہر انسان کی شخصیت تبدیل کر دیتی ہے۔اصل مسئلہ اس وقت پیدا ہو سکتا ہے جب انسان AI کے ردعمل کو اپنی شخصیت یا فیصلوں کا مستقل پیمانہ بنانا شروع کر دے۔ محققین نے خبردار کیا ہے کہ الگورتھم کی مسلسل توثیق انسان میں Confirmation bias پیدا کر سکتی ہے؛ یعنی انسان صرف وہی ردعمل قبول کرنے لگے جو اس کے پہلے سے موجود خیالات کی تصدیق کرے۔ اسی طرح مسلسل مثبت یا منفی فیڈ بیک انسان کے اعتماد کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔ انسانی پہلو کو زندہ رکھنا ضروری ہےAI ایک کارآمد ٹیکنالوجی ہے لیکن اسے انسان کا متبادل نہیں بلکہ معاون سمجھنا زیادہ مناسب ہے۔ AI ہمیں معلومات جلد فراہم کر سکتی ہے اور پیچیدہ کام آسان کر سکتی ہے مگر انسانی تعلقات میں ہمدردی، غیر لفظی اشارے، جذبات، تجربہ اور اخلاقی ذمہ داری کی اپنی اہمیت ہے،لہٰذا مسئلہ یہ نہیں کہ ہم AI سے بات کیوں کرتے ہیں اصل سوال یہ ہے کہ ہم AI کے ساتھ بات کرنے کے بعد انسانوں سے کیسے بات کرتے ہیں۔ اگر AI ہماری زندگی کو آسان بنائے، ہماری سوچ کو وسیع کرے اور ہمیں زیادہ مؤثر بنائے تو یہ ایک مثبت تبدیلی ہے۔ لیکن اگر ہم انسانی گفتگو، تنقیدی سوچ اور حقیقی تعلقات کو چھوڑ کر ہر معاملے میں الگورتھم کی منظوری تلاش کرنے لگیں تو یہ تشویش کا باعث بن سکتا ہے۔آخرکار، ٹیکنالوجی کا مقصد انسان کو مشین بنانا نہیں بلکہ انسان کی صلاحیتوں کو بہتر بنانا ہونا چاہیے۔ AI جتنی زیادہ انسانی ہوتی جائے اتنا ہی ضروری ہے کہ انسان اپنی انسانیت کو برقرار رکھنے کے بارے میں زیادہ باشعور رہے۔

آج کا دن

آج کا دن

ایکٹیم کی جنگدو ستمبر 31 قبل مسیح کو یونان کے مغربی ساحل کے قریب ایکٹیم کے مقام پر ایک فیصلہ کن بحری جنگ لڑی گئی۔ اس جنگ میں رومی رہنما اوکٹیوین کی افواج کا مقابلہ مارک انٹونی اور مصر کی ملکہ کلیوپیٹرا ہفتم کی مشترکہ طاقت سے ہوا۔ یہ معرکہ رومی جمہوریہ کے آخری دور میں اقتدار کے لیے جاری شدید سیاسی اور فوجی کشمکش کا نتیجہ تھا۔ اوکٹیوین اور انٹونی دونوں روم کی سب سے طاقتور شخصیات میں شامل تھے لیکن ان کے درمیان اختلافات بڑھتے گئے۔ انٹونی نے مصر کی ملکہ کلیوپیٹرا کے ساتھ سیاسی اور ذاتی اتحاد قائم کر لیا تھا، جسے اوکٹیوین نے اپنے اقتدار کے لیے خطرہ سمجھا۔ایکٹیم کی جنگ کا سب سے بڑا نتیجہ یہ تھا کہ اوکٹیوین روم کا واحد طاقتور حکمران بن گیا۔ بعد میں وہ آگسٹس کے نام سے روم کا پہلا شہنشاہ بنا۔ لندن کی عظیم آتش زدگیدو ستمبر 1666ء کو لندن میں آتش زدگی کا خوفناک واقعہ ہوا۔ اُس زمانے میں لندن کا بڑا حصہ لکڑی کی عمارتوں، تنگ گلیوں اور ایک دوسرے سے جڑی ہوئی تعمیرات پر مشتمل تھا۔ ان حالات کے باعث آگ کو روکنا انتہائی مشکل تھا۔ اس کے علاوہ خشک موسم اور تیز ہوا نے بھی آگ کو تیزی سے پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا۔آگ چند گھنٹوں میں آس پاس کے علاقوں تک پہنچ گئی اور پھر شہر کے بڑے حصے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس وقت آگ بجھانے کے لیے جدید فائر بریگیڈ، پانی کے پائپوں اور فائر ٹرکوں جیسی سہولیات موجود نہیں تھیں۔اس تباہی میں لندن کی ہزاروں عمارتیں جل گئیں۔ آگ کے بعد لندن کی تعمیرِ نو شروع ہوئی، عمارتوں میں اینٹ اور پتھر استعمال کرنے اور آگ سے بچاؤ کے انتظامات پر توجہ دی گئی۔ امریکی محکمہ خزانہ کا قیامدو ستمبر 1789ء کو ریاستہائے متحدہ امریکہ میں محکمہ خزانہ قائم کیا گیا۔ یہ اقدام نئی امریکی وفاقی حکومت کے ابتدائی دور میں انتہائی اہم تھا۔ امریکی انقلاب کے بعد امریکہ ایک نئے آئینی اور وفاقی نظام کی طرف بڑھ چکا تھا لیکن نئی حکومت کو اپنے مالی معاملات چلانے کے لیے ایک منظم مرکزی ادارے کی ضرورت تھی۔ اسی ضرورت کے تحت کانگریس نے محکمہ خزانہ قائم کیا۔ بعد میں الیگزینڈر ہملٹن امریکہ کے پہلے وزیرِ خزانہ مقرر ہوئے۔ انہوں نے امریکی مالیاتی نظام کو منظم کرنے میں غیر معمولی کردار ادا کیا۔ ان کی مالیاتی پالیسیوں نے ابتدائی امریکی ریاست کو معاشی طور پر مضبوط بنانے میں مدد دی۔ دوسری جنگِ عظیم کا اختتامدوستمبر 1945ء کو دوسری جنگِ عظیم کے خاتمے کا ایک تاریخی مرحلہ مکمل ہوا۔ اس روز جاپان کے نمائندوں نے امریکی بحری جہازپر ہتھیار ڈالنے کی دستاویز پر دستخط کیے۔ اس دستاویز کے ذریعے جاپانی حکومت اور اس کی مسلح افواج نے اتحادی طاقتوں کے سامنے غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا۔ تقریب میں اتحادی طاقتوں کی جانب سے جنرل ڈگلس میک آرتھر نے نمائندگی کی۔دستاویز پر دستخط کے بعد دوسری جنگِ عظیم کا آخری بڑا محاذ بھی باضابطہ طور پر ختم ہو گیا۔ جاپان نے 15 اگست 1945ء کو ریڈیو کے ذریعے اپنے ہتھیار ڈالنے کا اعلان کر دیا تھا لیکن دو ستمبر کو ہونے والی تقریب نے اس فیصلے کو قانونی اور رسمی شکل دی۔ اسی لیے دو ستمبر کو عام طور پر دوسری جنگِ عظیم کے رسمی اختتام کی تاریخ سمجھا جاتا ہے۔ ویتنام کا اعلانِ آزادیدو ستمبر 1945ء کو ویتنام کے رہنما ہو چی منہ نے ہنوئی میں ایک بڑے عوامی اجتماع کے سامنے ویتنام کی آزادی کا اعلان کیا۔ ویتنام طویل عرصے تک فرانسیسی نوآبادیاتی اقتدار کے تحت رہا تھا۔ دوسری جنگِ عظیم کے دوران جاپان نے بھی ویتنام پر اپنا اثر قائم کیا۔ 1945ء میں جاپان کی شکست کے بعد ویتنام میں سیاسی صورت حال تبدیل ہوئی۔ہو چی منہ نے دو ستمبر کو عوام کے سامنے جو اعلان پڑھا اس میں ویتنامی عوام کے آزادی اور خودمختاری کے حق پر زور دیا گیا۔ اس موقع پر ہنوئی میں ایک بہت بڑا عوامی اجتماع موجود تھا، جس نے آزادی کے اعلان کا خیرمقدم کیا۔اگرچہ اس اعلان کے بعد ویتنام کو فوری مکمل آزادی حاصل نہیں ہوئی۔1954ء میں فرانسیسی افواج کی شکست کے بعد ویتنام کی سیاسی تقسیم اور بعد کی جنگیں کئی دہائیوں تک جاری رہیں۔

عالمی یومِ خط نویسی

عالمی یومِ خط نویسی

خط سے ڈیجیٹل پیغام تکیکم ستمبر کو دنیا کے مختلف حصوں میں خط نویسی کا دن منایا جاتا ہے۔ یہ دن ہمیں اس خوبصورت روایت کی یاد دلاتا ہے جس کے ذریعے انسان صدیوں سے اپنے خیالات، جذبات، تجربات اور پیغامات دوسروں تک پہنچاتے آئے ہیں۔ خط صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ انسانی احساسات، یادوں اور تعلقات کا ایک ایسا ذریعہ ہے جس میں لکھنے والے کی شخصیت اور جذبات بھی شامل ہوتے ہیں۔ اگرچہ آج کا زمانہ تیز رفتار مواصلات اور جدید ٹیکنالوجی کا دور ہے، لیکن خط نویسی کی اہمیت اور کشش آج بھی ختم نہیں ہوئی۔خط نویسی کی تاریخانسان نے جب تحریر ایجاد کی تو اپنے خیالات کو دوسروں تک پہنچانے کے لیے خطوط کا سہارا لیا۔ قدیم تہذیبوں میں بادشاہوں، حکمرانوں، سفیروں اور عام لوگوں کے درمیان خطوط کے ذریعے رابطہ قائم رہتا تھا۔ ریاستی معاملات، جنگی منصوبے، تجارتی امور اور ذاتی پیغامات خطوط کے ذریعے ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچتے تھے۔برصغیر میں بھی خط نویسی ہماری تہذیبی اور ادبی روایت کا اہم حصہ رہی ہے۔ اردو ادب میں خطوط نے نہ صرف ذاتی تعلقات کو محفوظ کیا بلکہ ادبی نثر کو بھی ایک منفرد انداز عطا کیا۔ غالب کے خطوط اس کی بہترین مثال ہیں۔ ان کے خطوط میں ہمیں ان کی شخصیت، مزاح، روزمرہ زندگی اور معاشرتی حالات کی جھلک ملتی ہے۔ یوں خط محض پیغام نہیں رہتا بلکہ تاریخ اور ادب کا ایک اہم دستاویز بن جاتا ہے۔خط کی اصل خوبصورتیخط لکھنے کا عمل انسان کو سوچنے اور اپنے خیالات کو ترتیب دینے پر مجبور کرتا ہے۔ جب کوئی شخص قلم اور کاغذ لے کر کسی عزیز، دوست یا استاد کے نام خط لکھتا ہے تو وہ اپنے الفاظ کے انتخاب پر غور کرتا ہے۔ وہ جلدی میں چند جملے نہیں لکھتا بلکہ اپنے احساسات کو تفصیل سے بیان کرتا ہے۔خط کی ایک خاص خوبی اس کی ذاتی نوعیت ہے۔ ہاتھ سے لکھے ہوئے الفاظ میں لکھنے والے کی شخصیت کی جھلک نظر آتی ہے۔ کسی کی لکھائی، دستخط، کاغذ، الفاظ اور اندازِ تحریر سب مل کر خط کو منفرد بنا دیتے ہیں۔ اسی لیے برسوں پرانا ایک خط بھی انسان کے لیے انتہائی قیمتی یادگار بن سکتا ہے۔ڈیجیٹل دور اور خط نویسی اکیسویں صدی میں مواصلات کے ذرائع میں حیرت انگیز تبدیلی آئی ہے۔ موبائل فون، ای میل، سوشل میڈیا، میسجنگ ایپس اور ویڈیو کالز نے دنیا کو ایک دوسرے کے انتہائی قریب کر دیا ہے۔ آج ہم چند سیکنڈ میں دنیا کے کسی بھی حصے میں موجود دوسرے شخص کو پیغام بھیج سکتے ہیں۔اس تیز رفتار دنیا میں روایتی خط نویسی کم ہوتی گئی ہے۔ اب کسی دوست یا رشتہ دار کو خط لکھنے کے بجائے ہم WhatsApp، Messenger یا SMS کے ذریعے مختصر پیغام بھیجتے ہیں۔ کاروباری اور سرکاری معاملات میں بھی کاغذی خطوط کی جگہ ای میل اور آن لائن دستاویزات کی ترسیل نے لے لی ہے۔یہ تبدیلی بلاشبہ سہولت اور رفتار کے اعتبار سے بہت اہم ہے لیکن اس کے ساتھ ایک خوبصورت انسانی روایت بھی کمزور ہوئی ہے۔ مختصر ڈیجیٹل پیغام فوری طور پر پہنچ جاتا ہے مگر اس میں وہ جذباتی گہرائی نہیں جو خط میں محسوس ہوسکتی ہے۔خط کی نئی صورتیںاس کا مطلب یہ نہیں کہ خط مکمل طور پر ختم ہو گیا ہے۔ دراصل خط نے اپنی شکل تبدیل کر لی ہے۔ آج خط کی کئی نئی صورتیں ہمارے سامنے موجود ہیں۔ای میل کو جدید دور کا ایک اہم خط کہا جا سکتا ہے۔ اگرچہ ای میل کاغذ پر نہیں لکھی جاتی لیکن اس میں خط کی بنیادی خصوصیات موجود ہیں۔اسی طرح WhatsApp، Messenger اور دیگر ایپس پر بھیجے جانے والے تفصیلی پیغامات بھی بعض اوقات روایتی خط ہی کا کردار ادا کرتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ کاغذ اور ڈاک کی جگہ سمارٹ فون اور انٹرنیٹ نے لے لی ہے۔سوشل میڈیا پوسٹس بھی خط نویسی ہی کی نئی شکل سمجھی جا سکتی ہیں۔ ماضی میں انسان کسی کو خط لکھتا تھا جبکہ آج وہ ایک پوسٹ کے ذریعے اپنے خیالات ہزاروں یا لاکھوں لوگوں تک پہنچا سکتا ہے۔نئی نسل کیلئے خط نویسی کی اہمیتآج کے بچوں اور نوجوانوں کو خط نویسی سے متعارف کرانا خاص طور پر ضروری ہے۔ خط لکھنے سے زبان، الفاظ کے ذخیرے، اظہارِ خیال اور تحریری صلاحیت میں بہتری آتی ہے۔ اس کے علاوہ خط انسان کو صبر، غوروفکر اور اپنے جذبات کو مناسب الفاظ میں بیان کرنے کا ہنر بھی سکھاتا ہے۔اس لیے ضروری نہیں کہ ہم جدید ٹیکنالوجی کو چھوڑ کر دوبارہ صرف کاغذی خطوط کی دنیا میں واپس چلے جائیں۔ بہتر راستہ یہ ہے کہ ہم روایتی خط کی خوبصورتی اور جدید ٹیکنالوجی کی سہولت کو ایک ساتھ استعمال کریں۔ کبھی کسی عزیز کو ہاتھ سے لکھا ہوا خط بھیجا جا سکتا ہے اور کبھی ایک خوبصورت تفصیلی ای میل یا پیغام۔عالمی یومِ خط نویسی ہمیں صرف ایک پرانی روایت یاد نہیں دلاتا بلکہ یہ سوال بھی اٹھاتا ہے کہ ہم اپنی تیز رفتار دنیا میں اپنے جذبات کو کس طرح محفوظ رکھیں؟ ٹیکنالوجی نے رابطے کو آسان، تیز اور عالمی بنا دیا ہے مگر انسانی تعلقات صرف رفتار سے مضبوط نہیں ہوتے؛ ان کے لیے وقت، توجہ اور احساس بھی ضروری ہے۔خط شاید آج پہلے جیسا عام نہیں رہا لیکن اس کی روح اب بھی زندہ ہے۔ کاغذی خط، ای میل، ذاتی پیغام، ڈیجیٹل کارڈ یا سوشل میڈیا پر لکھی گئی ایک دل سے نکلی تحریر،یہ سب دراصل اسی انسانی خواہش کی مختلف شکلیں ہیں کہ ہم اپنے دل کی بات کسی دوسرے دل تک پہنچا سکیں۔یکم ستمبر کا عالمی یومِ خط نویسی ہمیں یہی سبق دیتا ہے کہ الفاظ کی قدر کیجیے، اپنے احساسات کا اظہار کیجیے اور کبھی کبھی چند لمحے نکال کر کسی اپنے کے نام کچھ ایسا لکھیے جسے وہ صرف پڑھ نہ سکے بلکہ محسوس بھی کر سکے۔

الیکٹرک گاڑی کی بیٹری

الیکٹرک گاڑی کی بیٹری

لمبی عمر چاہیے تو ڈرائیونگ کا یہ انداز چھوڑ دیںدنیا بھر میں الیکٹرک گاڑیوں (EVs) کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ پٹرول اور ڈیزل کے مقابلے میں کم اخراج، کم آپریٹنگ اخراجات اور جدید ٹیکنالوجی کی وجہ سے لوگ الیکٹرک گاڑیوں کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں۔ تاہم EV خریدنے والوں کے لیے سب سے اہم سوالات میں سے ایک بیٹری کی عمر بھی ہے۔عام طور پر بیٹری وقت اور استعمال کے ساتھ اپنی اصل گنجائش کا کچھ حصہ کھو دیتی ہے مثال کے طور پر جو بیٹری نئی حالت میں مکمل چارج ہونے پر جتنی توانائی ذخیرہ کر سکتی ہے کئی سال استعمال کے بعد اتنی توانائی ذخیرہ نہیں کر پاتی نتیجتاً گاڑی کی فی چارج رینج کم ہو سکتی ہے، کارکردگی متاثر ہو سکتی ہے اور مستقبل میں بیٹری تبدیل کرنے کی صورت میں خاصا خرچ بھی آ سکتا ہے۔ ایک نئی تحقیق میں یہ بتایا گیا ہے کہ ڈرائیونگ کا انداز خود EV بیٹری کی عمر پر کتنا اثر ڈال سکتا ہے۔ تحقیق کے نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ بہت جارحانہ انداز میں گاڑی چلانا بیٹری کے لیے خاصا نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ ڈرائیونگ کے اثراتالیکٹرک گاڑی میں تیز رفتاری حاصل کرنا نسبتاً آسان ہوتا ہے کیونکہ الیکٹرک موٹر فوری طور پر زیادہ ٹارک فراہم کر سکتی ہے۔ یہی خصوصیت EV کو تیز رفتار اور فوری رفتار دیتی ہے لیکن اگر ڈرائیور بار بارایکسیلیریٹر پوری قوت سے دبائے تو بیٹری سے بہت زیادہ کرنٹ حاصل کیا جاتا ہے۔چین کی شنگھائی ڈیانجی یونیورسٹی کے محققین نے 15 الیکٹرک گاڑیوں سے ایک سال کا حقیقی ڈرائیونگ ڈیٹا حاصل کیا۔ ان گاڑیوں کو شہری، مضافاتی اور ہائی وے سمیت مختلف حالات میں چلایا گیا اور ہر 10 سیکنڈ بعد گاڑی کے استعمال سے متعلق معلومات ریکارڈ کی گئیں۔محققین نے رفتار، بیٹری کرنٹ، بیٹری کا چارج، وولٹیج اور درجہ حرارت جیسے عوامل کو استعمال کرتے ہوئے ڈرائیونگ کے مختلف اندازوں کی نشاندہی کی۔ ان میں ایک طرف ہموار ڈرائیونگ تھی جبکہ دوسری طرف انتہائی جارحانہ ڈرائیونگ جس میں کم رفتار پر بار بار بہت زیادہ ٹارک اور کرنٹ کی ضرورت پیدا ہوتی تھی۔دلچسپ بات یہ ہے کہ جارحانہ ڈرائیونگ اور ایکو ڈرائیونگ کی اوسط رفتار تقریباً ایک جیسی تھی لیکن بیٹری سے حاصل کیے جانے والے کرنٹ میں بہت بڑا فرق تھا۔ انتہائی جارحانہ ڈرائیونگ میں اوسط RMS کرنٹ تقریباً 66.02 ایمپیئر تھا جبکہ ایکو ڈرائیونگ میں یہ صرف 20.56 ایمپیئر۔2.5 گنا زیادہ بیٹری کی کھپتتحقیق کا سب سے زیادہ توجہ حاصل کرنے والا نتیجہ یہ ہے کہ انتہائی جارحانہ ڈرائیونگ کے نتیجے میں بیٹری کی کھپت ہموار ڈرائیونگ کے مقابلے میں تقریباً 2.5 گنا زیادہ ہو سکتی ہے۔ہموار ترین ڈرائیونگ میں تقریباً 21.15 فیصد بیٹری خرچ ہوئی جبکہ انتہائی جارحانہ ڈرائیونگ میں 53.22 فیصد۔یہاں ایک اہم وضاحت ضروری ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر EV میں اگر آپ تیز گاڑی چلائیں گے تو بیٹری لازماً 2.5 گنا کم ہو جائے گی۔البتہ تحقیق سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ بیٹری سے جتنی زیادہ اچانک اور شدید طاقت طلب کی جائے گی اتنا ہی بیٹری کی عمر پر دباؤبڑھ سکتا ہے۔EV ڈرائیور بیٹری کی عمر بڑھانے کیلئے کیا کریں؟اس تحقیق کا مطلب یہ نہیں کہ EV چلانے والے ہر وقت انتہائی آہستہ گاڑی چلائیں۔ اصل سبق ہموار ڈرائیونگ ہے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی گاڑی کی بیٹری طویل عرصے تک بہتر حالت میں رہے تو بار بار accelerator کو مکمل طاقت سے دبانے، اچانک تیز acceleration اور پھر سخت بریکنگ سے گریز کرنا بہتر ہے۔ خاص طور پر کم رفتار سے اچانک بہت زیادہ ٹارک حاصل کرنے کی عادت بیٹری پر زیادہ دباؤ ڈال سکتی ہے۔اس کے بجائے رفتار بتدریج بڑھائیں، ٹریفک کو پہلے سے دیکھ کر بریک لگائیں اور غیر ضروری طور پر بار بار تیز acceleration اوربریک نہ کریں۔ ہموار رفتار برقرار رکھنا نہ صرف بیٹری کے لیے بہتر ہو سکتا ہے بلکہ توانائی کی کھپت کم کرنے اور گاڑی کی رینج بہتر بنانے میں بھی مدد دے سکتا ہے۔ یقیناً بیٹری کی عمر صرف ڈرائیونگ کے انداز پر منحصر نہیں ہوتی۔ بیٹری کا درجہ حرارت،چارج لیول ، چارجنگ پیٹرن، وقت اور بیٹری کی اپنی کمیسٹری بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

آج کا دن

آج کا دن

کانتو کا زلزلہیکم ستمبر 1923ء کو جاپان کے علاقے کانتو میں تباہ کن زلزلہ آیا جسے جدید جاپان کی تاریخ کی سب سے بڑی قدرتی آفات میں شمار کیا جاتا ہے۔ زلزلے کی شدت تقریباً 8.0 تھی۔اس قدرتی آفت کا سب سے خطرناک پہلو صرف زلزلہ نہیں تھا بلکہ اس کے فوراً بعد بھڑکنے والی آگ بھی تھی۔ اس وقت جاپان کے شہروں میں لکڑی کی عمارتیں بڑی تعداد میں تھیں،زلزلے کے وقت بہت سے گھروں میں کھانا پکایا جا رہا تھا جس کی وجہ سے متعدد مقامات پر آگ بھڑک اٹھی۔ نتیجتاً ٹوکیو اور یوکوہاما کے بڑے حصے تباہ ہو گئے۔مجموعی طور پر اس سانحے میں ایک لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے۔اس تباہی نے جاپان کی شہری منصوبہ بندی، تعمیرات اور قدرتی آفات سے نمٹنے کی پالیسیوں پر گہرا اثر ڈالا۔ لوئی چہاردہم کا انتقالیکم ستمبر 1715ء کو فرانس کے بادشاہ لوئی چہاردہم کا ورسائی میں انتقال ہوا۔ وہ فرانس کی تاریخ کے سب سے مشہور بادشاہوں میں شمار ہوتا ہے اوراس کا دورِ حکومت تقریباً 72 سال پر محیط تھا۔ اس دور میں فرانس یورپ کی ایک بڑی سیاسی اور فوجی طاقت بن گیا۔ اس نے شاہی اقتدار کو مضبوط کیا اور مرکزی حکومت کے اختیار میں اضافہ کیا۔ اس کے دور میں ورسائی کا محل فرانسیسی شاہی طاقت، درباری ثقافت اور فنون کا ایک عظیم مرکز بن گیا۔ فرانس نے اس دور میں کئی بڑی جنگیں بھی لڑیں۔لوئی چہاردہم کے بعد تخت اس کے پانچ سالہ پڑپوتے لوئی پانزدہم کو ملا۔ چونکہ نیا بادشاہ نابالغ تھا اس لیے فلپ دوم، ڈیوک آف اورلیان نے ریجنٹ کی حیثیت سے حکومت کے معاملات سنبھالے۔لیبیا میں انقلاب یکم ستمبر 1969ء کو شمالی افریقی ملک لیبیا میں فوجی انقلاب آیا۔ اس انقلاب کے نتیجے میں ملک کی بادشاہت ختم ہو گئی اور بادشاہ ادریس اول کی حکومت کا خاتمہ ہوا۔ ملک کے سربراہ ادریس اول اس انقلاب کے وقت ملک سے باہر تھے اور نوجوان فوجی افسروں کے ایک گروہ نے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اہم فوجی، سرکاری اور مواصلاتی مراکز کا کنٹرول سنبھال لیا۔ معمر قذافی اس گروہ میں سب سے نمایاں تھے۔ نئی حکومت نے لیبیا میں غیر ملکی اثر و رسوخ کو کم کرنے اور ملک کے قدرتی وسائل، خصوصاً تیل، پر قومی اختیار مضبوط کرنے کی کوشش کی۔بعد کے برسوں میں قذافی نے لیبیا کے سیاسی نظام کو اپنی سوچ کے مطابق تبدیل کیا۔ دوسری جنگِ عظیم کا آغازیکم ستمبر 1939ء کو نازی جرمنی نے پولینڈ پر حملہ شروع کیا۔ اس حملے کو یورپ میں دوسری جنگِ عظیم کے آغاز کا بنیادی واقعہ سمجھا جاتا ہے۔ 1938ء میں جرمنی نے آسٹریا کو اپنے ساتھ شامل کیا اور بعد میں چیکوسلواکیہ کے علاقوں پر قبضہ کیا۔ 1939ء میں جرمنی کی توجہ پولینڈ کی طرف مرکوز ہو گئی۔یکم ستمبر کی صبح جرمن افواج نے پولینڈ پر مختلف سمتوں سے حملہ شروع کیا۔دوسری جنگِ عظیم تقریباً چھ سال جاری رہی اور اس میں کروڑوں افراد ہلاک ہوئے۔ اس جنگ نے عالمی سیاست، معیشت، بین الاقوامی تعلقات اور دنیا کے طاقت کے توازن کو بنیادی طور پر تبدیل کر دیا۔ اقوام متحدہ کے قیام، نوآبادیاتی نظام کے کمزور ہونے اور امریکہ اور سوویت یونین کے عالمی طاقتوں کے طور پر ابھرنے میں بھی اس جنگ کا اہم کردار تھا۔کورین ایئر لائنز سانحہیکم ستمبر 1983ء کو سرد جنگ کے دوران ایک سنگین بین الاقوامی واقعہ پیش آیا جب کورین ائیر لائنز کے مسافر طیارے کو سوویت جنگی طیارے نے مار گرایا۔ اس میں طیارے میں سوار تمام 269 افراد ہلاک ہوگئے۔یہ طیارہ نیویارک سے سیول جا رہا تھا اور راستے میں الاسکا میں رکا تھا۔ وہاں سے روانگی کے بعد طیارہ اپنے مقررہ فضائی راستے سے ہٹ گیا اور سوویت فضائی حدود میں داخل ہو گیا۔ سوویت فضائی دفاعی حکام نے اس طیارے کو ممکنہ طور پر امریکی جاسوس طیارہ سمجھ لیااور اسے میزائل سے نشانہ بنایا۔ مسافر طیارہ سمندر میں گر گیا اور اس میں موجود تمام افراد ہلاک ہو گئے۔ اس سانحے میں مختلف ممالک کے شہری شامل تھے، جس کی وجہ سے یہ واقعہ فوری طور پر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا۔

ناسا کی کوشش ناکام

ناسا کی کوشش ناکام

خلائی دوربین زمین سے ٹکرانے کا خطرہخلائی تحقیق نے انسان کو کائنات کے بے شمار رازوں سے آگاہ کیا ہے، لیکن خلا میں بھیجے گئے مصنوعی آلات اور سیٹلائٹس کی واپسی ہمیشہ ایک اہم اور پیچیدہ مسئلہ رہی ہے۔ ناسا کی ایک خلائی دوربین کو بچانے کیلئے شروع کیا گیا امدادی مشن ناکام ہونے کے بعد اب یہ دوربین بے قابو ہو کر زمین کی جانب گرنے کے خطرے سے دوچار ہے۔ اس صورتحال نے خلائی ملبے، زمین پر ممکنہ اثرات اور ناکارہ خلائی آلات کے محفوظ انتظام کے حوالے سے نئی تشویش پیدا کر دی ہے۔ ماہرین اس دوربین کے مدار اور ممکنہ مقامِ سقوط پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔ناسا نے اپنی ناکارہ ہوتی ہوئی خلائی دوربین کو بچانے کا مشن ختم کر دیا، جس کے باعث اب رواں سال کے اواخر میں اس کے زمین کی فضا میں داخل ہوتے ہوئے جل کر تباہ ہونے کا خدشہ ہے۔ خلائی ادارے نے اس امید پر 3 کروڑ ڈالر خرچ کیے تھے کہ ایک دوسرے خلائی جہاز کے ذریعے سوئفٹ آبزرویٹری کو بلند مدار میں پہنچایا جائے گا اور اسے بے قابو ہو کر زمین کی جانب واپس آنے سے بچایا جا سکے گا۔ تاہم اس کے زمین کی فضا میں دوبارہ داخل ہونے کی حتمی تاریخ اور مقام ابھی معلوم نہیں۔ریسکیو مشن کیلئے بھیجا گیا خلائی جہاز لنک (Link) جولائی کے آغاز میں روانگی کے چند ہفتے بعد بے قابو ہو کر گھومنے لگا۔ اگرچہ پرواز کے نگرانوں نے لنک کی گردش کو کسی حد تک کم کرنے میں کامیابی حاصل کر لی، تاہم مدار میں اس کی سمت اور پوزیشن برقرار رکھنے کے مسائل بدستور موجود رہے۔ ناسا کے منتظم جیرڈ آئزک مین نے ایک بیان میں کہا: یہ وہ نتیجہ نہیں جس کیلئے ہم کوشش کر رہے تھے، تاہم اس سے یہ حقیقت تبدیل نہیں ہوتی کہ یہ مشن کوشش کے قابل تھا۔سوئفٹ آبزرویٹری کو 2004ء میں خلا میں بھیجا گیا تھا تاکہ کائنات میں ہونے والے طاقتور ترین دھماکوں، یعنی گاما رے برسٹ، کے علاوہ دیگر فلکیاتی اجرام اور کائناتی واقعات کا مطالعہ کیا جا سکے۔ اس خلائی دوربین کو بنیادی طور پر صرف دو سالہ مشن کیلئے تیار کیا گیا تھا، لیکن اس نے 21 سال تک سائنسی تحقیق جاری رکھی۔اب شمسی سرگرمی میں اضافے کے باعث سوئفٹ کا زمین کے نچلے مدار میں سفر تیزی سے زوال پذیر ہونے لگا ہے، جس کے نتیجے میں اس کے بے قابو ہو کر زمین کی جانب واپس آنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔لنک کو ایریزونا کے شہر فلیگ اسٹاف میں قائم ایرو اسپیس اسٹارٹ اپ کیٹالسٹ اسپیس نے تیار کیا تھا، جو روبوٹک خلائی جہاز، مدار میں موجود سیٹلائٹس کی سروسنگ اور خودکار خلائی بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں مہارت رکھتی ہے۔ ریسکیو خلائی جہاز کو جولائی کے آغاز میں روانہ کیا گیا تھا۔ اس کا مقصد تقریباً 216 میل (348 کلومیٹر) کی بلندی پر موجود سوئفٹ آبزرویٹری کے قریب پہنچنا، اسے مضبوطی سے پکڑنا اور پھر کھینچ کر تقریباً 373 میل (600 کلومیٹر) بلند مدار میں منتقل کرنا تھا، جس سے دوربین کی مدتِ کار کئی سال بڑھ سکتی تھی۔ تاہم لنک کو خود بھی مختلف مسائل کا سامنا کرنا پڑا اور انجینئرز کئی ہفتوں تک اسے دوبارہ قابو میں لانے کی کوشش کرتے رہے۔ گزشتہ ہفتے ٹیم نے لنک میں پوزیشن اور سمت کو کنٹرول کرنے والا نیا سافٹ ویئر اپ لوڈ کیا، جس سے اس کی بے قابو گردش کی رفتار تو کم ہوئی، لیکن وہ مکمل طور پر رک نہ سکی۔کیٹالسٹ اسپیس اور ناسا نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ لنک خلائی جہاز کی مسلسل نگرانی اور جائزے کے بعد دونوں اداروں نے اس نتیجے پر اتفاق کیا ہے کہ اس کے سمت اور پوزیشن کو کنٹرول کرنے میں جاری مسائل کے باعث مشن میں ناسا کی نیل گیرلز سوئفٹ آبزرویٹری کو پکڑ کر اس کا مدار بلند کرنا شامل نہیں ہوگا۔ آبزرویٹری کے مدار کو بلند کرکے اس کی عملی زندگی کئی سال بڑھانا اپنی نوعیت کا امریکا کا پہلا مشن تھا۔ کیٹالسٹ کیلئے یہ ایک انتہائی پرجوش اور مشکل منصوبہ تھا۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس نے لنک ریسکیو وہیکل کو غیر معمولی طور پر صرف نو ماہ کے ریکارڈ مدت میں تیار کرکے اس کے تجربات مکمل کیے۔ کیٹالسٹ کے چیف ایگزیکٹو گھونہی لی نے ایک بیان میں کہا کہ ہم نے زیادہ خطرے اور زیادہ کامیابی کے امکانات والے اس چیلنج کو قبول کیا اور راستے میں حاصل ہونے والی کامیابیوں پر ہمیں فخر ہے۔