گلو بل وارمنگ
اسپیشل فیچر
دو بڑے سمندروں کے درمیان موسمیاتی تعلق بدل گیا
سمندر صرف پانی کے وسیع ذخیرے نہیں بلکہ عالمی موسمیاتی نظام کے بنیادی ستون ہیں۔ ایک سمندر میں ہونے والی تبدیلی اکثر ہزاروں کلومیٹر دور دوسرے سمندر، فضا، بارش اور درجہ حرارت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ اب سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ گلوبل وارمنگ اس قدرتی نظام کے ایک اہم اور دیرینہ تعلق کو تبدیل کر رہی ہے۔'نیچر کمیونیکیشنز ‘میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق بحرالکاہل اور بحرِ ہند کے درمیان صدیوں سے قائم ایک اہم موسمیاتی تعلق حالیہ دہائیوں میں نمایاں طور پر کمزور بلکہ اپنی نوعیت میں تبدیل ہو گیا ہے۔ محققین کے مطابق یہ تبدیلی صرف سمندروں کے گرم ہونے تک محدود نہیں بلکہ ان کے درمیان موجود موسمیاتی رابطے کو بھی متاثر کر رہی ہے۔ یہ پیش رفت اس لیے اہم ہے کہ بحرِ ہند کا درجہ حرارت ایشیا، افریقہ اور آسٹریلیا کے بڑے حصوں میں بارش اور موسم کے حالات پر اثر انداز ہوتا ہے۔
بحرالکاہل ، بحرِ ہند موسمیاتی پل کیسے کام کرتا ہے؟
بحرالکاہل اور بحرِ ہند بظاہر ہزاروں کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہیں لیکن فضا ان دونوں کے درمیان ایک قدرتی پل کا کام کرتی ہے۔ اس تعلق میں بحرالکاہل کے اوپر موجودPacific Walker Circulation انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے۔یہ ایک وسیع فضائی گردش ہے جو سمندر کی سطح کے درجہ حرارت میں فرق کے باعث پیدا ہوتی ہے۔ گرم سمندری پانی کے اوپر ہوا گرم ہو کر اوپر اٹھتی ہے، فضا میں حرکت کرتی ہے، دوسرے علاقوں میں نیچے آتی ہے اور یوں ہواؤں اور بارش کے بڑے نظام تشکیل پاتے ہیں۔عام حالات میں بحرالکاہل میں ہونے والی تبدیلیاں اس فضائی نظام کے ذریعے بحرِ ہند کے درجہ حرارت کو بھی متاثر کرتی رہی ہیں۔ مثال کے طور پر ایل نینو جیسے واقعات کے دوران یہ گردش کمزور ہو سکتی ہے اور اس کا اثر بحرِ ہند تک پہنچ سکتا ہے۔ماضی میں بحرالکاہل کی اس فضائی گردش میں تبدیلی اور بحرِ ہند کے وسیع پیمانے پر درجہ حرارت میں تبدیلی کے درمیان ایک نسبتاً مستحکم تعلق موجود تھا۔ سائنسدان اسی تعلق کو موسمی حالات کی پیش گوئی کے لیے بھی استعمال کرتے رہے ہیں۔ لیکن اب یہ تعلق پہلے جیسا نہیں رہا۔
گلوبل وارمنگ نے کیا تبدیل کیا؟
تحقیق کے مطابق 1950ء کی دہائی سے اب تک بحرِ ہند کے گرم ہونے کی رفتار تقریباً 0.1 ڈگری سیلسیس فی دہائی رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ 1980ء کی دہائی کے بعدPacific Walker Circulation میں بھی مضبوطی دیکھی گئی۔بظاہر یہ دونوں تبدیلیاں الگ الگ عوامل معلوم ہوتی ہیں لیکن ان کے باہمی اثرات نے سمندروں کے درمیان روایتی موسمیاتی تعلق کو تبدیل کر دیا ہے۔ تحقیق کا ایک اہم نتیجہ یہ ہے کہ حالیہ دہائیوں میں بحرالکاہل کی فضائی گردش اور بحرِ ہند کے درجہ حرارت کے درمیان تعلق کی سمت ہی تبدیل ہو گئی ہے۔ آسان الفاظ میں کہا جائے تو بحرِ ہند اب پہلے کی طرح بحرالکاہل کی تبدیلیوں کی پیروی نہیں کر رہا۔ماہرین کے مطابق بڑھتی ہوئی گرین ہاؤس گیسوں اور انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی طویل مدتی گرمی اب بحرالکاہل کے قدرتی اثرات پر غالب آ رہی ہے۔یہ تبدیلی اس لیے اہم ہے کیونکہ اگر دو بڑے سمندروں کے درمیان پرانا تعلق تبدیل ہو جائے تو صرف سمندری درجہ حرارت ہی متاثر نہیں ہوگا بلکہ وہ موسمی نظام بھی بدل سکتے ہیں جن پر کروڑوں انسانوں کی زندگی اور معیشت منحصر ہے۔
400 سالہ موسمیاتی ریکارڈ نے کیا بتایا؟
یہ سوال اہم تھا کہ موجودہ تبدیلی واقعی غیر معمولی ہے یا ماضی میں بھی قدرتی طور پر ایسی صورتحال پیدا ہوتی رہی ہے۔مسئلہ یہ ہے کہ جدید آلات کے ذریعے سمندروں کے درجہ حرارت اور فضائی گردش کی قابلِ اعتماد پیمائش کا ریکارڈ تقریباً ایک صدی تک ہی محدود ہے۔ اس لیے محققین نے ماضی کے موسمی حالات جاننے کے لیے قدرتی ریکارڈز سے مدد لی۔شاون وانگ اور ان کے ساتھیوں نے 35 مرجانی ریکارڈز، تین درختوں کے حلقوں کے ریکارڈز اور ایک غار میں بننے والی معدنی تہہ سے حاصل ہونے والے شواہد استعمال کیے۔ ان قدرتی ریکارڈز کی مدد سے محققین نے 1631ء سے 1990 ء تک بحرالکاہل اور بحرِ ہند کے موسمیاتی حالات کو دوبارہ سمجھنے کی کوشش کی۔نتائج حیران کن تھے۔ تقریباً چار صدیوں کے زیادہ تر عرصے میں دونوں سمندروں کے موسمیاتی نظام ایک دوسرے کے ساتھ نسبتاً مضبوط تعلق رکھتے تھے۔البتہ 1810ء سے 1850ء کے درمیان یہ تعلق خاصا کمزور ہوا تھا۔ اس دور میں کئی بڑے آتش فشانی دھماکے ہوئے جن میں 1815 ء میں انڈونیشیا کے ماؤنٹ تمبورا کا تباہ کن دھماکا بھی شامل تھا۔بڑے آتش فشانی دھماکوں سے سلفر پر مشتمل ذرات فضا کی بلند تہوں تک پہنچ جاتے ہیں۔ یہ ذرات سورج کی روشنی کا کچھ حصہ واپس خلا میں منعکس کر دیتے ہیں جس سے زمین کا درجہ حرارت عارضی طور پر کم ہو سکتا ہے۔ چونکہ یہ ٹھنڈک دنیا کے مختلف حصوں میں یکساں نہیں ہوتی اس لیے سمندری درجہ حرارت، ہواؤں اور فضائی گردش میں تبدیلی پیدا ہو سکتی ہے۔
مستقبل کی موسمی پیش گوئیوں کیلئے خطرے کی گھنٹی
محققین نے موجودہ دور کے تعلق کو گزشتہ ایک ہزار سال کے موسمیاتی ماڈلز اور ریکارڈز سے بھی موازنہ کیا۔ 1945ء سے 2025ء کے عرصے میں دونوں سمندروں کے درمیان تعلق میں جو تبدیلی سامنے آئی وہ ماضی کی قدرتی تبدیلیوں کے مقابلے میں غیر معمولی نکلی۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ بحرالکاہل اور بحرِ ہند کے درمیان ہر قسم کا موسمیاتی تعلق ختم ہو گیا ہے، تاہم جو تبدیلی آئی ہے وہ موسمی پیش گوئیوں کے لیے اہم ہے۔یہ تبدیلی خاص طور پر ایشیا، افریقہ اور آسٹریلیا کے لیے اہم ہے جہاں بحرِ ہند کا درجہ حرارت بارش اور موسمی حالات پر اثر انداز ہوتا ہے۔ جنوبی ایشیا میں بارش کے نظام اور پانی کی دستیابی پہلے ہی موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث اہم چیلنج بن چکے ہیں۔ مستقبل میں سمندروں کے درمیان بدلتے تعلقات ان پیش گوئیوں کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔