مصنوعی ذہانت سے گفتگو

مصنوعی ذہانت سے گفتگو

اسپیشل فیچر

تحریر : حمزہ علی


کیا انسان بھی روبوٹ جیسا بن رہاہے؟

مصنوعی ذہانت (AI) ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بنتی جا رہی ہے۔ ہم معلومات حاصل کرنے، لکھنے، خریداری کرنے، کسٹمر سروس لینے، تعلیم حاصل کرنے اور حتیٰ کہ ذاتی مشورے کے لیے بھی AI سے بات کرتے ہیں۔ جدید AI صرف سوال کا جواب نہیں دیتی بلکہ ہماری زبان، اندازِ گفتگو اور ترجیحات کو سمجھ کر اپنے جواب کو ہمارے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرتی ہے۔ بظاہر یہ سہولت انسان اور مشین کے درمیان فاصلے کو کم کرتی ہے، لیکن ایک تحقیق نے ایک دلچسپ اور قدرے تشویشناک سوال اٹھایا ہے: کیا مشینیں انسانوں جیسا بننے کے ساتھ ساتھ انسانوں کو بھی مشین جیسا بنا رہی ہیں؟
انسان مشین کے انداز کو کیوں اپناتا ہے؟
یونیورسٹی آف برمنگھم کے محققین کے مطابق انسان سماجی ماحول میں دوسروں کے رویوں کی لاشعوری طور پر نقل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اسے نفسیات میں mirroring کہا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر سامنے والا شخص مسکرائے تو ہم بھی مسکرا دیتے ہیں، اگر وہ مخصوص انداز میں گفتگو کرے تو ہم بھی غیر محسوس طور پر اپنا انداز بدل سکتے ہیں۔اب یہی عمل AI یا سماجی روبوٹس کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔ جدید AI صارف کی گفتگو کے مطابق اپنے الفاظ، انداز اور ردعمل کو تبدیل کرتی ہے۔ اس کے نتیجے میں ایک دو طرفہ عمل پیدا ہو سکتا ہے کہ روبوٹ انسان جیسا بنتا ہے اور انسان روبوٹ کے انداز کو اپنانا شروع کر دیتا ہے۔ محققین نے اسی تصور کو ''Robotoid Humanness‘‘ کا نام دیا ہے۔
روبوٹ جیسا ہونے سے مراد کیا ہے؟
یہاں روبوٹ جیسا ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ انسان اچانک جذبات سے عاری مشین بن جائے گا۔ اس سے مراد زیادہ تر بات چیت، رویے اور سوچ کے انداز میں تبدیلی ہے ،مثلاً اگر کوئی شخص مسلسل ایسے AI سسٹم سے گفتگو کرے جو مختصر، براہِ راست، حکم یا معلومات پر مبنی جملوں کو ترجیح دیتا ہو تو ممکن ہے کہ وہ خود بھی گفتگو میں زیادہ مختصر، رسمی اور مشینی انداز اختیار کرنے لگے۔ بار بار ایسا ہونے سے انسان اپنی گفتگو کو جذبات، غیر ضروری تفصیل اور انسانی اشاروں سے کم کر سکتا ہے۔یہ اثر خاص طور پر ان ماحول میں اہم ہو سکتا ہے جہاں انسان کا AI سے مسلسل رابطہ ہو، جیسے کسٹمر سروس، صحت، ریٹیل اور دیگر خدمات۔ تحقیق کے مطابق بار بار ہونے والی ایسی تعاملات انسان کے اپنے بارے میں تصور کو بھی متاثر کر سکتی ہیں۔
اصل خطرہ AI نہیں بلکہ ضرورت سے زیادہ انحصار ہے
اس تحقیق کا مطلب یہ نہیں کہ AI استعمال کرنا خطرناک ہے یا ہر وہ شخص جو ChatGPT سے بات کرتا ہے روبوٹ بن جائے گا۔ یہ تحقیق بنیادی طور پر ایک تصوری اور نظریاتی فریم ورک پیش کرتی ہے کہ انسان اور مشین کے درمیان مسلسل تعامل کس طرح رویوں کو متاثر کر سکتا ہے۔ اس لیے اس خبر کو یہ سمجھنا درست نہیں ہوگا کہ سائنس نے ثابت کر دیا ہے کہ AI ہر انسان کی شخصیت تبدیل کر دیتی ہے۔اصل مسئلہ اس وقت پیدا ہو سکتا ہے جب انسان AI کے ردعمل کو اپنی شخصیت یا فیصلوں کا مستقل پیمانہ بنانا شروع کر دے۔ محققین نے خبردار کیا ہے کہ الگورتھم کی مسلسل توثیق انسان میں Confirmation bias پیدا کر سکتی ہے؛ یعنی انسان صرف وہی ردعمل قبول کرنے لگے جو اس کے پہلے سے موجود خیالات کی تصدیق کرے۔ اسی طرح مسلسل مثبت یا منفی فیڈ بیک انسان کے اعتماد کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔
انسانی پہلو کو زندہ رکھنا ضروری ہے
AI ایک کارآمد ٹیکنالوجی ہے لیکن اسے انسان کا متبادل نہیں بلکہ معاون سمجھنا زیادہ مناسب ہے۔ AI ہمیں معلومات جلد فراہم کر سکتی ہے اور پیچیدہ کام آسان کر سکتی ہے مگر انسانی تعلقات میں ہمدردی، غیر لفظی اشارے، جذبات، تجربہ اور اخلاقی ذمہ داری کی اپنی اہمیت ہے،لہٰذا مسئلہ یہ نہیں کہ ہم AI سے بات کیوں کرتے ہیں اصل سوال یہ ہے کہ ہم AI کے ساتھ بات کرنے کے بعد انسانوں سے کیسے بات کرتے ہیں۔ اگر AI ہماری زندگی کو آسان بنائے، ہماری سوچ کو وسیع کرے اور ہمیں زیادہ مؤثر بنائے تو یہ ایک مثبت تبدیلی ہے۔ لیکن اگر ہم انسانی گفتگو، تنقیدی سوچ اور حقیقی تعلقات کو چھوڑ کر ہر معاملے میں الگورتھم کی منظوری تلاش کرنے لگیں تو یہ تشویش کا باعث بن سکتا ہے۔آخرکار، ٹیکنالوجی کا مقصد انسان کو مشین بنانا نہیں بلکہ انسان کی صلاحیتوں کو بہتر بنانا ہونا چاہیے۔ AI جتنی زیادہ انسانی ہوتی جائے اتنا ہی ضروری ہے کہ انسان اپنی انسانیت کو برقرار رکھنے کے بارے میں زیادہ باشعور رہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
ورلڈ کا ر فری ڈے

ورلڈ کا ر فری ڈے

دنیا بھر میں 22 ستمبر کو کار فری ڈے (World Car-Free Day) منایا جاتا ہے۔ اس دن کا بنیادی مقصد لوگوں کو ایک دن کے لیے ذاتی گاڑیوں کے استعمال میں کمی لانے اور پیدل چلنے، سائیکل چلانے یا پبلک ٹرانسپورٹ جیسے وسائل استعمال کرنے کی ترغیب دینا ہے۔ یہ دن محض گاڑی نہ چلانے کا نام نہیں بلکہ اس بات پر غور کرنے کا موقع ہے کہ ہمارے شہروں میں بڑھتی ہوئی گاڑیوں کی تعداد ماحول، صحت، معیشت اور شہری زندگی پر کس طرح اثر انداز ہو رہی ہے۔ورلڈ کار فری ڈے کی اہمیتآج دنیا کے بڑے شہروں میں آبادی کے ساتھ ساتھ گاڑیوں کی تعداد بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ سڑکوں پر گاڑیوں کا بڑھتا ہوا رش ٹریفک جام، فضائی آلودگی، شور اور ایندھن کے زیادہ استعمال کا باعث بنتا ہے۔ گاڑیوں سے خارج ہونے والا دھواں اور گیسیں فضا کے معیار کو متاثر کرتی ہیں اور ماحولیاتی تبدیلی کے مسئلے میں بھی اضافہ کرتی ہیں۔ورلڈکار فری ڈے ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ شہری زندگی صرف ذاتی گاڑیوں پر منحصر نہیں ہونی چاہیے۔ اگر لوگ مختصر فاصلے کے لیے پیدل چلیں، سائیکل استعمال کریں یا پبلک ٹرانسپورٹ کو ترجیح دیں تو نہ صرف سڑکوں پر ٹریفک کم ہو سکتی ہے بلکہ ماحول کو بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔اس دن کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ افراد کے ساتھ ساتھ حکومتوں اور شہری اداروں کو بھی اپنی ذمہ داری کا احساس دلاتا ہے۔ اگر شہریوں کو محفوظ فٹ پاتھ، سائیکل لین، بہتر بس سروس اور قابلِ اعتماد پبلک ٹرانسپورٹ دستیاب ہو تو لوگوں کے لیے ذاتی گاڑی کے بجائے متبادل ذرائع اختیار کرنا آسان ہو جاتا ہے۔فضائی آلودگی اور ماحولیاتی تحفظفضائی آلودگی آج دنیا کے بڑے ماحولیاتی مسائل میں شامل ہے۔ شہروں میں گاڑیوں کا دھواں فضائی آلودگی کی ایک اہم وجہ ہے۔ خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں ٹریفک بہت زیادہ ہو، وہاں گاڑیوں سے خارج ہونے والے آلودہ ذرات صحت اور ماحول کو متاثر کر تے ہیں۔ہمارے ملک کے بڑے شہروں خصوصاً لاہور، کراچی، راولپنڈی اور اسلام آباد میں ٹریفک کا دباؤ ایک اہم شہری مسئلہ ہے۔ لاہور جیسے بڑے شہر میں لاکھوں افراد روزانہ سفر کرتے ہیں اور بڑی تعداد میں گاڑیاں سڑکوں پر موجود ہوتی ہیں۔ اگر شہری مختصر فاصلے کے لیے پیدل چلنے، سائیکل یا پبلک ٹرانسپورٹ کا استعمال بڑھائیں تو گاڑیوں کی تعداد اور ایندھن کے استعمال میں کمی لانے میں مدد مل سکتی ہے۔ورلڈکار فری ڈے ہمیں یاد دلاتا ہے کہ صاف ہوا صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر شہری کا بھی کردار ہے۔ چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں اجتماعی طور پر بڑا فرق پیدا کر سکتی ہیں۔صحت مند زندگی کاروں کے کم استعمال کا تعلق صرف ماحول سے نہیں بلکہ انسانی صحت سے بھی ہے۔ روزمرہ زندگی میں پیدل چلنا جسمانی سرگرمی کا ایک آسان ذریعہ ہے۔ باقاعدگی سے چہل قدمی کرنے سے جسمانی سرگرمی میں اضافہ ہوتا ہے اور فعال طرزِ زندگی کو فروغ ملتا ہے۔آج کے دور میں بہت سے لوگ گھر، دفتر، بازار اور دیگر مقامات تک پہنچنے کے لیے کار استعمال کرتے ہیں حتیٰ کہ بعض اوقات بہت کم فاصلے کے لیے بھی، مگران میں سے کچھ سفر پیدل یا سائیکل کے ذریعے کیے جا سکتے ہیں۔ٹریفک کے مسائل اور شہری زندگیبڑھتی ہوئی آبادی اور گاڑیوں کی تعداد نے دنیا کے کئی شہروں میں ٹریفک کے مسائل کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ٹریفک جام میں قیمتی وقت ضائع ہوتا ہے، ایندھن زیادہ استعمال ہوتا ہے اور شہریوں کو ذہنی دباؤ کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔اگر زیادہ لوگ پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کریں تو ایک ہی گاڑی میں زیادہ افراد سفر کر سکتے ہیں، جس سے سڑکوں پر گاڑیوں کا دباؤ کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ شہروں میں پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام محفوظ، باقاعدہ، آرام دہ اور قابلِ اعتماد ہو۔کار فری ڈے اس بات کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ شہر صرف گاڑیوں کے لیے نہیں بلکہ انسانوں کے لیے بنائے جانے چاہئیں۔ ایسے شہر جہاں پیدل چلنے والوں، سائیکل سواروں اور پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرنے والوں کے لیے مناسب سہولیات موجود ہوں، شہری زندگی کو زیادہ آسان اور پائیدار بنا سکتے ہیں۔پاکستان میں کار فری ڈے کی ضرورتپاکستان میں اس دن کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے کیونکہ ہمارے بڑے شہروں کو ٹریفک، فضائی آلودگی اور پارکنگ جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ کار فری ڈے کے موقع پر آگاہی پروگرام منعقد کرنے چاہئیں اوراس دن کچھ سڑکوں یا مخصوص علاقوں میں محدود مدت کے لیے گاڑیوں کا داخلہ محدود کرکے پیدل چلنے اور سائیکلنگ کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔ طلبہ کو ماحول کے تحفظ کے بارے میں آگاہ کرنا چاہییاور شہریوں کو پبلک ٹرانسپورٹ کے استعمال کی ترغیب دینی چاہیے۔کار فری ڈے ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ صاف، صحت مند اور پائیدار شہر صرف جدید سڑکوں اور زیادہ گاڑیوں سے نہیں بنتے بلکہ بہتر منصوبہ بندی اور متوازن شہری نظام سے بنتے ہیں۔ حکومت بہتر پبلک ٹرانسپورٹ، محفوظ فٹ پاتھ اور سائیکلنگ کے لیے مناسب راستے فراہم کرے اور شہری اپنی عادات میں تبدیلی لائیں تو شہروں کے ماحول میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔  

صرف چار ہفتوں میں

صرف چار ہفتوں میں

ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ عمر کا بڑھنا ایک ایساہے جسے روکا یا واپس نہیں کیا جا سکتا، لیکن سائنسدان اب یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ جسم کی ''حیاتیاتی عمر‘‘ پر خوراک اور طرزِ زندگی کس حد تک اثر انداز ہوسکتے ہیں۔ ایک نئی تحقیق نے اس حوالے سے ایک دلچسپ امکان پیش کیا ہے کہ صرف چار ہفتوں کی مخصوص غذائی تبدیلی جسم کے بعض ایسے حیاتیاتی اشاریوں کو بدل سکتی ہے جو عمر بڑھنے سے وابستہ ہیں۔چار ہفتوں کے تجربے میں کیا ہوا؟آسٹریلیا کی یونیورسٹی آف سڈنی سے وابستہ محققین نے 65 سے 75 سال کی عمر کے 104 افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا۔شرکا کو چار مختلف غذائی گروہوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ ان میں کچھ افراد ایسی خوراک استعمال کر رہے تھے جس میں چکنائی زیادہ اور کاربوہائیڈریٹس نسبتاً کم تھے جبکہ دوسرے گروہوں کو نسبتاً کم چکنائی اور زیادہ کاربوہائیڈریٹس والی خوراک دی گئی۔ کچھ گروہوں میں جانوروں سے حاصل ہونے والی پروٹین زیادہ تھی جبکہ دوسرے گروہوں میں پودوں سے حاصل ہونے والی پروٹین کا حصہ زیادہ رکھا گیا۔اہم بات یہ تھی کہ کھانے کا منصوبہ محققین نے تیار کیا تھا اور شرکانے تقریباً چار ہفتوں تک اسی کے مطابق خوراک استعمال کی۔ تحقیق شروع ہونے اور چار ہفتے مکمل ہونے کے بعد مختلف جسمانی اور خون سے متعلق پیمائشوں کی بنیاد پر حیاتیاتی عمر کا ایک تخمینہ لگایا گیا۔نتائج میں سب سے نمایاں تبدیلی اس گروپ میں دیکھی گئی جس نے نسبتاً کم چکنائی اور زیادہ کاربوہائیڈریٹس والی خوراک استعمال کی۔ اس گروپ کے حیاتیاتی عمر کے تخمینے میں زیادہ چکنائی والی تقابلی خوراک کے مقابلے میں تقریباً 3.5 سے 4.1 سال کی کمی کے برابر فرق دیکھا گیا۔کیا واقعی لوگ چار سال جوان ہوگئے؟یہاں ایک اہم وضاحت ضروری ہے۔ تحقیق کا مطلب یہ نہیں کہ 70 سالہ شخص چار ہفتوں بعد حقیقتاً 66 سال کا ہوگیا۔ محققین نےBiological age کا اندازہ خون اور جسمانی صحت سے متعلق متعدد پیمائشوں کو ملا کر لگایا تھا۔ان پیمائشوں میں بلڈ پریشر، خون میں گلوکوز، انسولین، کولیسٹرول، جسمانی وزن، کمر کا گھیر اور دیگر عوامل شامل تھے۔ ان اعداد و شمار کو ایک سائنسی طریقہ کار، Klemera-Doubal biological age method یا KDM کے ذریعے ایک مجموعی تخمینے میں تبدیل کیا گیا۔خوراک کی تبدیلی کے بعد شرکاکے جسم میں ایسے بائیومارکرز کا مجموعہ نظر آیا جو نسبتاً کم عمر افراد میں دیکھا جاسکتا ہے۔زیادہ کاربوہائیڈریٹس کا مطلب زیادہ چینی نہیںاس تحقیق کا ایک دلچسپ پہلو یہ ہے کہ اس میں زیادہ کاربوہائیڈریٹس والی خوراک نے بہتر نتائج دکھائے، لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ کیک، مٹھائیاں، میٹھے مشروبات، سفید ڈبل روٹی یا دیگر ریفائنڈ کاربوہائیڈریٹس زیادہ کھانا صحت کے لیے فائدہ مند ہے۔محققین کے مطابق متعلقہ غذائی گروپ میں کاربوہائیڈریٹس بنیادی طور پر ثابت اورطبعی طور پر کم سے کم حد تک پراسسڈ خوراک سے حاصل کیے گئے تھے۔ ان گروہوں میں فائبر بھی زیادہ تھا اور چکنائی کم۔ تحقیق میں یہ امکان بھی پیش کیا گیا کہ سیچوریٹڈ فیٹ کی مقدار میں فرق نتائج کی ایک وجہ ہوسکتا ہے۔اس کا عملی مطلب یہ ہے کہ صحت مند کاربوہائیڈریٹس، مثلاً دالیں، چنے، لوبیا، سبزیاں، پھل اور مکمل اناج کو ریفائنڈ چینی یا سفید آٹے والی غذاؤں کے برابر نہیں سمجھنا چاہیے۔چار ہفتے اہم ہیں، مگر پوری کہانی نہیںتحقیق کے نتائج یقیناً دلچسپ ہیں لیکن اس کی کچھ حدود بھی ہیں۔ مطالعہ صرف چار ہفتوں پر مشتمل تھا، شرکاکی تعداد نسبتاً کم تھی اور تمام افراد عمر رسیدہ آسٹریلوی افراد تھے۔ اس لیے یہ معلوم نہیں کہ یہی نتائج نوجوان افراد یا دیگر خطوں کے لوگوں میں کس حد تک نظر آئیں گے۔اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ ابھی یہ ثابت نہیں ہوا کہ یہ تبدیلیاں طویل مدت تک برقرار رہتی ہیں یا نہیں، عمر سے متعلق بیماریوں کا خطرہ کم کرتی ہیں یا نہیں اور کیا انسان کی زندگی واقعی طویل کرتی ہیں۔ محققین کے مطابق اس سوال کا جواب حاصل کرنے کے لیے زیادہ طویل مطالعات کی ضرورت ہے۔اس کے باوجود یہ تحقیق ایک اہم پیغام ضرور دیتی ہے کہ جسم خوراک میں تبدیلی کا ردِعمل توقع سے کہیں زیادہ تیزی سے دے سکتا ہے۔ چند ہفتوں میں بلڈ شوگر، کولیسٹرول، بلڈ پریشر، انسولین اورجسمانی ساخت جیسے عوامل تبدیل ہوسکتے ہیں اور یہی عوامل حیاتیاتی عمر کے بعض تخمینوں کو متاثر کرتے ہیں۔لہٰذا ''چار ہفتوں میں چار سال جوان‘‘ ہونے کے دعوے کے بجائے اس تحقیق کو یوں سمجھنا چاہیے کہ صحت مند خوراک جسم کے عمر سے متعلق حیاتیاتی اشاریوں میں نسبتاً کم مدت میں مثبت تبدیلی پیدا کرسکتی ہے۔ اصل مقصد صرف عمر کے اعداد کو کم کرنا نہیں بلکہ ایسی خوراک اختیار کرنا ہے جو دل، خون کی نالیوں، میٹابولزم اور مجموعی صحت کو طویل عرصے تک بہتر رکھنے میں مدد دے۔فضہ جاوید ماہر غذائیت ہیں اور اس حوالے سے لکھتی ہیں 

آج کا دن

آج کا دن

ایسٹ انڈیا کمپنی کی تجویز22 ستمبر 1599ء کو لندن میں مشرقی ممالک خصوصاًہندوستان کے ساتھ تجارت کرنے میں دلچسپی رکھنے والے تاجروں کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں اس بات پر غور کیا کہ انگلینڈ کو مشرقی ممالک کے ساتھ تجارت کے لیے ایک تجارتی ادارہ قائم کرنا چاہیے۔ اس زمانے میں مشرقی ممالک کے ساتھ تجارت انتہائی منافع بخش سمجھی جاتی تھی اور پرتگالی تاجر اس تجارت میں نمایاں حیثیت رکھتے تھے۔ 22 ستمبر کا یہ اجلاس بعد میں قائم ہونے والی ایسٹ انڈیا کمپنی کے قیام کی ابتدائی کوششوں میں ایک اہم مرحلہ سمجھا جاتا ہے۔ تقریباً ایک سال بعد 31 دسمبر 1600ء کو ملکہ الزبتھ اول نے ایک شاہی فرمان کے ذریعے کمپنی کو مشرقی ممالک کے ساتھ تجارت کا اختیار دیا۔نیتھن ہیل کو پھانسی 22 ستمبر 1776ء کو امریکی جنگِ آزادی کے دوران نوجوان فوجی افسر نیتھن ہیل کو برطانوی فوج نے جاسوسی کے الزام میں پھانسی دے دی۔ نیتھن ہیل امریکی فوج میں کیپٹن کے عہدے پر فائز تھا۔ امریکی جنگِ آزادی کے دوران امریکی فوج کو برطانوی فوج کی نقل و حرکت کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی ضرورت تھی۔ نیتھن ہیل نے اس مقصد کے لیے رضاکارانہ طور پر جاسوسی کا مشن قبول کیا۔وہ عام استاد کا روپ دھار کر برطانوی زیرِ قبضہ علاقے میں داخل ہوا تاہم وہ برطانوی فوج کے ہاتھوں گرفتار ہوگیا۔ گرفتاری کے بعد اس پر جاسوسی کا الزام عائد کیا گیا اور 22 ستمبر 1776ء کو اسے پھانسی دے دی گئی۔ غلاموں کی آزادی 22 ستمبر 1862ء کو امریکہ کے صدر ابراہم لنکن نے غلامی کے خاتمے کی تاریخ میں ایک انتہائی اہم اعلان کیا۔ اس وقت امریکہ کی کئی جنوبی ریاستیں وفاقی حکومت کے خلاف بغاوت کرچکی تھیں اور لنکن نے اعلان کیا کہ اگر باغی ریاستیں 1 جنوری 1863ء تک دوبارہ وفاق میں شامل نہ ہوئیں تو ان کے علاقوں میں موجود غلام افراد کو آزاد قرار دیا جائے گا جو وفاقی حکومت کے خلاف بغاوت کر رہے تھے۔ یہ اعلان فوری طور پر پورے امریکہ میں غلامی ختم کرنے کا قانون نہیں تھا بلکہ حتمی اعلان سے پہلے ایک ابتدائی اقدام تھا۔ اس کے باوجود اس کی سیاسی اور تاریخی اہمیت بہت زیادہ تھی کیونکہ اس نے امریکی خانہ جنگی کو غلامی کے مسئلے سے واضح طور پر جوڑ دیا۔ بعد میں 1 جنوری 1863ء کو غلاموں کی آزادی کا حتمی اعلان کیا گیا۔ بسوں میں نسلی تفریق کا خاتمہ22 ستمبر 1961ء کو امریکہ کے بین الریاستی تجارتی کمیشن نے بسوں اور بس اڈوں میں نسل کی بنیاد پر تفریق کے خلاف ایک حکم جاری کیا۔ اس وقت امریکہ میں سیاہ فام اور سفید فام افراد کے لیے عوامی سہولیات میں امتیاز برتا جاتا تھا۔ فریڈم رائڈرز نامی کارکنوں نے 1961ء میں بسوں کے ذریعے سفر کرکے اس کے خلاف احتجاج کیا۔ اس تحریک نے وفاقی حکومت پر عملی اقدامات کے لیے دباؤ بڑھایا۔ 22 ستمبر کو جاری کیے گئے حکم کے تحت بین الریاستی بسوں اور ان کے اڈوں پر نسل، رنگ، مذہب یا قومی پس منظر کی بنیاد پر مسافروں کے ساتھ امتیازی سلوک کا خاتمہ ہوا ۔ایران عراق جنگ 22 ستمبر 1980ء کو عراق نے ایران پر بڑے پیمانے پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں ایران عراق جنگ شروع ہوگئی۔ عراق کی فوج نے ایرانی سرحد عبور کی جبکہ عراقی فضائیہ نے ایران کے مختلف فوجی اور ہوائی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ اس جنگ کے پس منظر میں دونوں ممالک کے درمیان سرحدی تنازعات، سیاسی اختلافات اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی شامل تھی۔ خاص طور پر شط العرب کے آبی راستے پر دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے اختلاف موجود تھا۔ 1979ء میں ایران میں اسلامی انقلاب کے بعد خطے کی سیاسی صورتِ حال بھی تیزی سے تبدیل ہوئی۔ عراقی قیادت نے اس وقت ایران کو نسبتاً کمزور سمجھتے ہوئے فوجی کارروائی شروع کی، لیکن ایرانی فوج اور عوامی مزاحمت کے باعث عراق اپنے ابتدائی مقاصد مکمل طور پر حاصل نہ کرسکا۔ 

مریخ کی سطح پر پراسرار سوراخ

مریخ کی سطح پر پراسرار سوراخ

مریخ، جسے صدیوں سے انسان کے تجسس اور سائنسی جستجو کا مرکز سمجھا جاتا ہے، آج بھی اپنے سینے میں بے شمار راز چھپائے ہوئے ہے۔ سرخ سیارے کی سطح پر موجود عجیب و غریب ساختیں سائنسدانوں کو مسلسل حیران کرتی رہی ہیں، مگر حالیہ مشاہدات نے اس تجسس کو مزید بڑھا دیا ہے۔ ناسا کے ماہرین نے مریخ کی سطح پر ایسے پراسرار سوراخ دریافت کیے ہیں جو بظاہر کسی نامعلوم قوت کے ذریعے بنائے گئے محسوس ہوتے ہیں۔ ان سوراخوں کی اصل اور تشکیل کا سبب تاحال واضح نہیں، جس نے ماہرین فلکیات اور ارضیات کو مزید تحقیق پر مجبور کر دیا ہے۔محققین نے ان عجیب و غریب ساختوں کا مشاہدہ اس وقت کیا جب کیوریوسٹی روور مریخ کے پہاڑ ماؤنٹ شارپ کو کاٹتی ہوئی ایک وسیع و عریض وادی ویلے گرانڈے میں انتہائی سست رفتاری سے آگے بڑھ رہا تھا۔ اگرچہ ایسے سیارے پر چھوٹے سوراخوں کا پایا جانا کوئی غیر معمولی بات نہیں جہاں شہابیوں کے ٹکراؤ نے سطح کو بارہا متاثر کیا ہے، تاہم سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ انہیں اب تک یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ یہ مخصوص گڑھے کس طرح وجود میں آئے۔مریخ پر دریافت ہونے والے دیگر سوراخوں کے برعکس، ویلے گرانڈے کی چٹانی سطح پر بکھرے ہوئے یہ سوراخ چوڑے اور نسبتاً کم گہرے ہیں، جبکہ سائنسدانوں کے بقول یہ ماضی میں دیکھی گئی کسی بھی ساخت سے بالکل مختلف ہیں۔ ڈاکٹر مشیل منٹی(Dr Michelle Minitti) جو ایم اے ایچ ایل آئی کی ڈپٹی پرنسپل انویسٹی گیٹر ہیں، نے ایک بلاگ پوسٹ میں لکھا: ''کیوریوسٹی کو مریخ کی سطح پر کام کرتے ہوئے 14 سال گزر چکے ہیں، لیکن مریخ آج بھی ہمیں حیران کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ یہ پراسرار سوراخ ان چٹانوں کے اس مخصوص حصے کو متاثر کرنے والے ارضیاتی عوامل اور ان کے عمل کو سمجھنے کیلئے ایک نئے اور دلچسپ معمے کی صورت میں سامنے آئے ہیں۔زمین اور مریخ دونوں پر چٹانوں کی تہہ میں قدرتی طور پر بننے والے چھوٹے سوراخوں کا دریافت ہونا نسبتاً عام بات ہے۔ یہ سوراخ عموماً اس وقت بنتے ہیں جب کوئی سخت کنکری یا چٹان کا سخت ٹکڑا نسبتاً نرم چٹانوں کے درمیان پھنس جاتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ جب یہ سخت ٹکڑے اردگرد موجود نرم چٹانوں سے موسمیاتی اثرات اور کٹاؤ کے باعث الگ ہو جاتے ہیں تو اپنے پیچھے چھوٹے گڑھے یا نشانات چھوڑ جاتے ہیں۔ تاہم، ناسا کے سائنسدان اس وقت حیران رہ گئے جب انہیں ان پراسرار سوراخوں میں اس معروف قدرتی عمل کی معمول کی کوئی علامت دکھائی نہیں دی۔ ڈاکٹر مشیل منٹی نے لکھا: ''اس ہفتے دریافت ہونے والے گڑھے ماضی میں دیکھی گئی ساختوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ چوڑے اور کم گہرے تھے، جبکہ ان کے اندر ایسے واضح اجسام بھی موجود نہیں تھے جو کبھی ان گڑھوں میں پھنسے ہوئے ہوں‘‘۔اس معمے کا مزید جائزہ لینے کیلئے کیوریوسٹی روور کو ہدایت دی گئی کہ وہ مریخ ہینڈ لینس امیجر کی مدد سے ان گڑھوں کی قریب سے تصاویر لے۔ دوسری جانب ماسٹ کیم (Mastcam) کیمرے نے اردگرد کے علاقے کی متعدد ایسی تصاویر بنائیں جو ایک دوسرے سے جزوی طور پر منسلک تھیں۔ ان تمام تصاویر کو یکجا کرکے سائنسدان ان پراسرار گڑھوں کا مکمل تین جہتی نقشہ تیار کر سکیں گے اور ان کی ساخت، شکل اور گہرائی کی درست پیمائش بھی ممکن ہوگی۔ محققین کو امید ہے کہ مزید تحقیق سے اس بات پر کچھ روشنی پڑ سکے گی کہ ماؤنٹ شارپ کی ڈھلوانوں پر یہ پراسرار گڑھے کس طرح وجود میں آئے اور مختلف مقامات پر بکھرے ہوئے کیوں نظر آتے ہیں۔

 معدنی ذخائر اور مستقبل کی معیشت

معدنی ذخائر اور مستقبل کی معیشت

پاکستان میں توانائی اور ڈیجیٹل انقلاب کا نیا تقاضابلوچستان میں تانبے اور سونے کا ریکوڈک منصوبہ پاکستان کی معدنی معیشت میں خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ اگست 2025ء میں ایشیائی ترقیاتی بینک نے منصوبے کیلئے مالی معاونت کی منظوری دی۔ رائٹرز کے مطابق بیرک گولڈ کو توقع ہے کہ منصوبے سے 2028ء کے اختتام تک پیداوار شروع ہوسکتی ہے۔ کمپنی نے طویل مدتی قیمتوں کے تخمینوں کی بنیاد پر 37 سال کے دوران تقریبا 74 ارب ڈالر کے فری کیش فلو کا امکان بھی ظاہر کیا ہے۔تاہم بڑے مالی تخمینے خودبخود قومی ترقی کی ضمانت نہیں بنتے۔ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ معدنی سرگرمیوں کو وسیع صنعتی ترقی میں کیسے تبدیل کیا جائے۔ اگر معدنیات خام یا نیم تیار حالت میں برآمد ہوتی رہیں تو مقامی معیشت کو فوائد محدود رہ سکتے ہیں۔ اس کے برعکس پراسیسنگ، انجینئرنگ، مشینری، نقل و حمل اور تکنیکی خدمات کو فروغ دے کر روزگار اور ہنرمندی کے مواقع پیدا کیے جاسکتے ہیں۔ تانبا بجلی کی ترسیلی لائنوں، ٹرانسفارمرز، موٹروں، برقی گاڑیوں، شمسی توانائی اور ڈیٹا سینٹرز میں استعمال ہوتا ہے۔ اس لیے ڈیجیٹل معیشت کی ترقی بھی معدنی وسائل اور قابلِ اعتماد بجلی کے نظام سے وابستہ ہے۔بجلی کا بحران اور ترقی کی رکاوٹیںپاکستان میں معدنی وسائل کو صنعتی ترقی سے جوڑنے کیلئے توانائی کا شعبہ بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ پاور ڈویژن کے مطابق مالی سال 2023-24ء میں گردشی قرضہ 2,393 ارب روپے تھا، جو مالی سال 2024-25ء میں کم ہوکر 1,614 ارب روپے رہ گیا۔ اسی عرصے میں بجلی کے ترسیلی اور تقسیم کے نقصانات 18.3 فیصد سے کم ہو کر 17.6 فیصد ہوئے۔ بہتری کے باوجود نظام میں مسائل موجود ہیں۔ کان کنی کے بڑے منصوبوں کو بجلی، پانی، سڑکوں، ریلوے اور بندرگاہوں کی سہولت درکار ہوتی ہے۔ ڈیٹا سینٹرز کیلئے بلا تعطل بجلی اور مستحکم مواصلاتی نظام ضروری ہیں، جبکہ برقی گاڑیوں کی صنعت چارجنگ نیٹ ورک اور قابلِ اعتماد گرڈ کے بغیر ترقی نہیں کرسکتی۔ بنیادی ڈھانچے کی کمزوریاں سرمایہ کاری اور صنعتی وسعت میں رکاوٹ بن سکتی ہیں۔ عالمی اقتصادی فورم کے تجزیے کے مطابق بعض ممالک میں معدنی ذخائر کی دریافت سے پیداوار تک 10 سے 20 سال لگ سکتے ہیں۔ ریفائننگ کی سہولتوں کے قیام میں تین سے آٹھ سال، جبکہ صنعتی مینوفیکچرنگ کے منصوبوں میں ایک سے پانچ سال درکار ہوسکتے ہیں۔ پاکستان کو ان ضروریات کیلئے بروقت منصوبہ بندی کرنا ہو گی۔بلوچستان اور مقامی آبادی کے حقوقریکوڈک جیسے منصوبوں کی کامیابی صرف سرمایہ کاری، پیداوار یا برآمدات سے نہیں ناپی جا سکتی۔ بلوچستان کی مقامی آبادی کو ترقی کے ثمرات میں حقیقی حصہ دینا بھی ضروری ہے۔ روزگار، فنی تربیت، کاروباری مواقع، صحت، تعلیم اور صاف پانی کی فراہمی مقامی لوگوں کے اعتماد میں اضافہ کرسکتی ہے۔ معدنی منصوبوں کے حوالے سے مقامی آبادی کی شکایات میں ترقیاتی فوائد سے محرومی اور فیصلہ سازی میں محدود شرکت جیسے معاملات شامل رہے ہیں۔ اس لیے منصوبہ بندی میں مقامی ضروریات کو ترجیح دینا اور کان کنی سے وابستہ علاقوں میں بنیادی سہولتوں کو بہتر بنانا ضروری ہے۔ ماحولیاتی تحفظ بھی بنیادی ترجیح ہونا چاہیے۔ بلوچستان میں پانی کی دستیابی اہم مسئلہ ہے، اس لیے معدنی منصوبوں میں پانی کے استعمال، صنعتی فضلے اور زمین کے تحفظ کیلئے واضح ضابطے ضروری ہیں۔ ان پر عمل درآمد، معلومات کی شفاف فراہمی اور مقامی آبادی سے مشاورت منصوبوں کی پائیداری کیلئے اہم ہیں۔عالمی منڈی اور ہماری حکمتِ عملیمعدنیات کی عالمی سپلائی چین میں تجارتی پابندیوں، برآمدی کنٹرول اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باعث تبدیلیاں آرہی ہیں۔ عالمی اقتصادی فورم کے مطابق زیر جائزہ 19 معدنیات کی ریفائننگ میں چین کا نمایاں حصہ ہے، جبکہ گیلیم، گریفائٹ، نایاب ارضی عناصر، میگنیشیم، جرمینیم اور کوبالٹ جیسی متعدد معدنیات میں اس کا حصہ75فیصد سے زیادہ ہے۔ پاکستان کیلئے ضروری ہے کہ وہ متوازن عالمی شراکت داری، قابلِ پیشگوئی ضابطوں اور شفاف معاہدوں کو فروغ دے۔ سرمایہ کاروں کو پالیسی میں استحکام درکار ہوتا ہے، جبکہ شہری قدرتی وسائل کے استعمال اور ان سے حاصل ہونے والے فوائد کے بارے میں جواب دہی چاہتے ہیں۔ پاکستان کو معدنی شعبے میں پانچ ترجیحات اپنانا ہوں گی: کان کنی کو توانائی، صنعت، برآمدات اور ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر سے جوڑنے والی قومی حکمتِ عملی، کان کنی، دھات کاری، بجلی اور قابلِ تجدید توانائی میں فنی تعلیم و تربیت، معدنی علاقوں میں ٹرانسپورٹ، بجلی اور صنعتی انفراسٹرکچر کی ترقی، ماحولیاتی اور سماجی تحفظ کے مؤثر نظام کی مضبوطی اور جہاں تجارتی و تکنیکی طور پر ممکن ہو، معدنیات کی مقامی پراسیسنگ اور ویلیو ایڈیشن کا فروغ۔ پاکستان کے معدنی وسائل مستقبل کی معیشت میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں، لیکن ان کی موجودگی بذاتِ خود خوشحالی کی ضمانت نہیں۔ ریکوڈک اور دیگر منصوبوں کے فوائد اسی وقت وسیع قومی ترقی میں تبدیل ہوں گے جب انہیں توانائی، صنعت، ہنرمندی، بنیادی ڈھانچے اور مقامی آبادی کی فلاح سے مربوط کیا جائے گا۔ آنے والے برسوں میں معاشی ترقی کا تعلق صرف معدنی ذخائر کی مقدار سے نہیں بلکہ انہیں صنعتی پیداوار، توانائی اور روزگار میں تبدیل کرنے کی صلاحیت سے ہوگا۔ پاکستان کیلئے اصل امتحان یہی ہے کہ وہ قدرتی وسائل کو محض برآمدی آمدن کا ذریعہ بنانے کے بجائے ایک پائیدار اور وسیع البنیاد صنعتی معیشت کی بنیاد بنا سکے۔

باکو:تاریخ و تہذیب کا سنگم

باکو:تاریخ و تہذیب کا سنگم

بحیرہ کیسپیئن کے مغربی ساحل پر واقع باکو نہ صرف آذربائیجان کا دارالحکومت ہے بلکہ قفقاز کے خطے کا ایک اہم تاریخی، ثقافتی، صنعتی اور تجارتی مرکز بھی ہے۔ جزیرہ نمائے آب شیرون کے کنارے آباد یہ شہر قدیم روایات اور جدید ترقی کا حسین امتزاج پیش کرتا ہے۔ ایک طرف یہاں صدیوں پرانی تاریخی عمارات، قدیم گلیاں اور ثقافتی ورثہ موجود ہے تو دوسری جانب بلند و بالا جدید عمارتیں، صنعتی مراکز اور جدید شہری سہولتیں باکو کو ایک منفرد شناخت عطا کرتی ہیں۔باکو قفقاز کے علاقے میں نو آزاد مسلم ریاست آذربائیجان کا صدر مقام ہے۔ یہ بحیرۂ کیسپیئن کے مغربی ساحل اور جزیرہ نمائے آب شیرون کے کنارے آباد ہے۔ اس کا کل رقبہ 2130 مربع کلو میٹر اور آبادی بیس لاکھ سے زیادہ ہے۔ یہ سوویت حکومت میں ماسکو، سینٹ پیٹرز برگ اور تاشقند کے بعد چوتھا بڑا شہر تھا، جہاں زمین دوز میٹرو کا آغاز کیا گیا۔ باکو بہت تاریخی اور ثقافتی شہر ہے۔ ماضی میں آذرئیجان زیادہ تر ایرانی سلطنت کا حصہ رہا ہے۔ اس لیے اس کے کلچر اور موسیقی میں ایرانی جھلک نمایاں نظر آتی ہے۔ اسے تاریخ میں ایک قدیم شہر کا درجہ حاصل ہے۔ اور الف لیلوی داستانوں میں بھی اس کا ذکر ملتا ہے۔آذربائیجان کی آمدنی کا زیادہ تر انحصار اس ملک میں ملنے والے تیل کے ذخائر پر ہے۔ اس لیے بہت بڑی تیل کی کمپنیوں کے دفاتر باکو میں قائم ہیں۔ بیسویں صدی کے آغاز میں دُنیا کی پیداوار کا نصف تیل آذربائیجان سے ہی حاصل کیا جاتا تھا۔ باکو کا مطلب ہے تیز ہوائوں کا شہر۔ اِسی لیے سارا سال تقریباً تیز ہوائیں چلتی رہتی ہیں۔ لیکن سردیوں میں ایسا وقت بھی آتا ہے کہ برف کے تند و تیز طوفان اس شہر پر حملہ آور ہوتے ہیں۔مقامی حکومت کی طرف سے ایک دن قبل ٹی وی، ریڈیو اور اخبارات کے ذریعے عوام کو انتباہ کر دیا جاتا ہے کہ فلاں دن بچے اور بوڑھے لوگ اپنے اپنے گھروں میں ہی قیام کریں اور باہر نکلنے کی کوشش نہ کریں۔ ان یخ بستہ ہوائوں کی رفتار 150 کلو میٹر فی گھنٹہ تک بھی پہنچ جاتی ہے۔ جس سے کھڑی فصلوں،درختوں اور مکانوں کی چھتوں کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔ سوویت دور میں کمیونسٹ حکومت نے یہودیوں کی عمارات اور جائیداد پر قبضہ کر لیاتھا۔ لیکن سوویت یونین کے حصے بخرے ہونے کے بعد آذربائیجان کے پہلے صدر حیدر علی نے قبضہ کی ہوئی جائیداد یں یہودی کمیونٹی کو واپس کر دی ہیں۔ باکو ایک صنعتی شہر ہونے کے علاوہ بحیرۂ کیسپیئن سے حاصل ہونے والی سوغات کاویار کا بھی بہت بڑا مرکز ہے۔ جس کی ایک کلو گرام کی قیمت 1600 ڈالر سے 5600 ڈالر تک ہوتی ہے۔ باکومیں پرانی تاریخی عمارات کے ساتھ جدید عمارات بھی کثیر تعداد میں نظر آتی ہیں۔ باکو شہر کی کھیلوں کے حوالے سے اہمیت اس بات سے عیاں ہوتی ہے کہ یہ شہر 2016 ء کے اولمپک کی میزبانی کا اُمیدوار تھا۔ لیکن یہ پیشکش او آئی سی کی جانب سے تسلیم نہ کی گئی۔ باکو کی کمپیوٹر کے میدان میں ترقی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے۔ کہ 1991 ء میں اُس نے انٹر نیٹ کی سہولیات حاصل کر لی تھیں۔ اور جب مصنف 1995 ء میں باکو گیا تھا تو اُس وقت بھی اُن کے پاس ڈائیل اپ انٹرنیٹ کی سہولت موجود تھی اور ڈی ایس ایل کی سہولت 2007 ء سے ملک میں عام استعمال کی جا رہی ہے۔ 1967ء سے باکو شہر میں میٹرو کا نظام بھی کامیابی سے رواں دواں ہے۔ مصنف کو بہت گہرائی میں موجود میٹرو میں سفر کرنے کا اتفاق ہوا اور زیر زمین پلیٹ فارم سے سطح زمین پر آنے کیلئے طویل ترین برقی زینے استعمال کرنے پڑے۔