بچت کی عادت، مستحکم مستقبل کی ضمانت
اسپیشل فیچر
ہر سال 31اکتوبر کو کفایت شعاری کا عالمی دن منایا جاتا ہے
زندگی کی حقیقی خوشحالی محض دولت کے انبار جمع کرنے یا نمود و نمائش پر بے دریغ رقم خرچ کرنے کا نام نہیں، بلکہ محدود وسائل کو سمجھ داری سے استعمال کرنے، غیر ضروری اخراجات سے بچنے اور مستقبل کی ضروریات کیلئے بچت کرنے میں پوشیدہ ہے۔ آج کی تیز رفتار زندگی میں جہاں مہنگائی، معاشی ناہمواری اور قدرتی وسائل کی کمی نے انسان کو کئی چیلنجز سے دوچار کر رکھا ہے، وہاں کفایت شعاری کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ کفایت شعاری کا عالمی دن اسی سوچ کو فروغ دینے کا ایک اہم ذریعہ ہے کہ بہتر زندگی گزارنے کیلئے بے تحاشا خرچ کرنا ضروری نہیں، بلکہ سادہ طرزِ زندگی بھی خوشحالی کی بنیاد بن سکتے ہیں۔
کفایت شعاری کا عالمی دن یعنی ''ورلڈ سیونگز ڈے‘‘دنیا بھر میں31اکتوبر کو منایا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کا بنیادی مقصد آمدن سے زیادہ اخراجات پر قابو پانا اور بچت کو فروغ دینا ہے۔ اس دن کو منانے کا آغاز 1924ء میں ''ورلڈ سوسائٹی آف سیونگ بینکس‘‘ کی جانب سے کیا گیا تھا تاکہ لوگوں میں کفایت شعاری اور پیسے جمع کرنے کا شعور اجاگر کیا جاسکے۔ اٹلی کے شہر میلان کے باسیوں نے 31 اکتوبر 1924ء کو پہلی بار اس دن کو منانے کا اعلان کیا جسے دنیا بھر میں سراہا گیا۔
کفایت شعاری سے مراد ضرورت کے مطابق خرچ کرنا، فضول خرچی سے اجتناب کرنا اور اپنی آمدنی و وسائل کو اس انداز میں استعمال کرنا ہے کہ موجودہ ضروریات بھی پوری ہوں اور مستقبل کیلئے بھی کچھ محفوظ رکھا جا سکے۔ یہ تصور کنجوسی سے بالکل مختلف ہے، کیونکہ کنجوسی میں انسان جائز ضروریات پوری کرنے سے بھی گریز کرتا ہے، جبکہ کفایت شعاری میں ضروری اخراجات پورے کرتے ہوئے غیر ضروری خرچ سے بچنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس طرزِ عمل سے نہ صرف انفرادی زندگی میں توازن پیدا ہوتا ہے بلکہ خاندان اور معاشرے کی معاشی حالت بہتر بنانے میں بھی مدد ملتی ہے۔
کفایت شعاری کا تعلق صرف پیسے کی بچت سے نہیں، بلکہ وقت، توانائی، پانی، بجلی، خوراک اور دیگر قدرتی وسائل کے درست استعمال سے بھی ہے۔ گھروں میں غیر ضروری روشنیاں بند رکھنا، پانی ضائع نہ کرنا، ضرورت کے مطابق کھانا تیار کرنا، قابلِ استعمال اشیا کو بے جا پھینکنے کے بجائے دوبارہ استعمال میں لانا اور خریداری سے پہلے اپنی ضروریات کا جائزہ لینا ایسے اقدامات ہیں جو بظاہر معمولی دکھائی دیتے ہیں، لیکن اجتماعی سطح پر ان کے مثبت نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ اسی طرح اشیائے صرف کی غیر ضروری خریداری سے گریز نہ صرف گھریلو بجٹ کو متوازن رکھتا ہے بلکہ وسائل کے ضیاع کو کم کرنے میں بھی معاون ثابت ہوتا ہے۔
پاکستان جیسے ملک میں کفایت شعاری کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے، جہاں مہنگائی، بے روزگاری اور بڑھتے ہوئے گھریلو اخراجات نے عام آدمی کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔ محدود آمدنی میں گھر چلانے والے افراد کیلئے ضروری ہے کہ وہ اپنے ماہانہ اخراجات کی منصوبہ بندی کریں، آمدنی اور خرچ کا حساب رکھیں اور غیر ضروری خریداری سے اجتناب کریں۔ اشیائے ضروریہ کی فہرست بنا کر خریداری کرنا، غیر ضروری قرضوں سے بچنا اور ممکنہ حد تک ہنگامی حالات کیلئے رقم محفوظ رکھنا مالی مشکلات کا مقابلہ کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
کفایت شعاری کا بوجھ صرف عام شہریوں پر ڈالنا کافی نہیں۔ حکومتی اداروں، کاروباری تنظیموں اور دیگر قومی اداروں کو بھی وسائل کے مؤثر استعمال کو اپنی ترجیحات میں شامل کرنا چاہیے۔ سرکاری اخراجات میں غیر ضروری کمی، توانائی کی بچت، سرکاری عمارتوں میں بجلی اور پانی کا محتاط استعمال اور ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت ایسے اقدامات ہیں جن سے قومی وسائل کو بہتر انداز میں بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔
اسلامی تعلیمات میں بھی اعتدال، سادگی اور فضول خرچی سے اجتناب پر زور دیا گیا ہے۔ قرآنِ مجید میں ارشاد ہے: ''اور کھاؤ اور پیو اور فضول خرچی نہ کرو، بیشک اللہ فضول خرچی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا‘‘ (سورۃ الاعراف: 31)۔ یہ تعلیم انسان کو یاد دلاتی ہے کہ نعمتوں سے فائدہ اٹھانا درست ہے، لیکن ان کا بے جا استعمال اور اسراف مناسب طرزِ عمل نہیں۔ اعتدال پر مبنی زندگی انسان کو مالی نظم و ضبط کے ساتھ ساتھ ذہنی سکون اور ذمہ داری کا احساس بھی فراہم کرتی ہے۔
کفایت شعاری کا عالمی دن ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ وسائل کی قدر کرنا، ضرورت اور خواہش میں فرق سمجھنا اور اپنی استطاعت کے مطابق زندگی گزارنا کامیاب معاشرے کی بنیادی خصوصیات ہیں۔ اگر ہر فرد اپنی زندگی میں اعتدال کو اپنائے، خاندان غیر ضروری اخراجات کم کریں اور ادارے قومی وسائل کے استعمال میں ذمہ داری کا مظاہرہ کریں تو معاشی استحکام کی راہیں ہموار ہو سکتی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ کفایت شعاری کو محض ایک دن کی یاد دہانی تک محدود نہ رکھا جائے، بلکہ اسے انفرادی عادت، اجتماعی رویے اور قومی طرزِ فکر کا حصہ بنایا جائے۔