پیشنس کُوپر

پیشنس کُوپر

اسپیشل فیچر

تحریر : عبدالحفیظ ظفر


ہندوستانی فلمی صنعت کی پہلی خاتون سپر سٹارجن کو خاموش فلموں کی مدھو بالا بھی کہا جاتا ہے*****1920ء کی دہائی میں جب ہندوستان میں خاموش فلمیں بنائی جاتی تھیں تو اس وقت چند فنکاروں نے اپنی بہترین کارکردگی کی وجہ سے شہرت حاصل کی ۔ ان میں سے ایک نام پیشنس کُوپر (Patience Cooper) کا بھی تھا ۔ 1905ء میں پیدا ہونے والی یہ خاتون اداکارہ اینگلو انڈین تھیں اور ان کا تعلق کلکتہ سے تھا ۔ انہوں نے 40کے قریب خاموش اور بولتی فلموں میں کام کیا لیکن انہوں نے زیادہ تر خاموش فلموں میں اداکاری کی ۔ان کی کامیاب فلموں کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ انہیں ہندوستانی فلمی صنعت کی پہلی خاتون سپر سٹار کہا جاتا ہے ۔ انہوں نے1920ء سے لے کر 1944ء تک فلموں میں کام کیا ۔ انہوں نے اپنے کیرئیر کا آغاز رقاصہ کی حیثیت سے کیا ۔ 1922ء میں ان کی فلم ’’پتی بھکتی ‘‘ کو بہت کامیابی ملی ۔ ان کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ بھارتی سکرین پر پہلی بار ڈبل رول انہوں نے ادا کیا ۔ پہلے فلم ’’پتنی پرتاب ‘‘میں وہ جڑواں بہنوں کی حیثیت سے جلوہ گر ہوئیں اور بعد میں انہوں نے فلم ’’کشمیری سُندری ‘‘میںماں اور بیٹی کا ڈبل رول اداکیا لیکن ہندوستان کے کچھ فلمی حلقے اسے درست نہیں مانتے ۔ ان کے مطابق سب سے پہلے اداکارہ اینا سلینکھے نے 1917ء میں ریلیز ہونیوالی خاموش فلم ’’ لنکا دہن ‘‘ میں رام اور سیتا کا ڈبل رول ادا کیا ۔ ’’پتی بھگتی ‘‘ کو پیشنس کُوپرکی بہترین فلم قرار دیا جاتا ہے ۔اس فلم میں انہوں نے لیلا وتی کا کردار ادا کیا تھا ۔اس فلم کے ہدایتکار جے جے مدن تھے جو اپنے وقت کے عظیم ہدایتکار مانے جاتے تھے ۔ فلم میں انہوں نے عورتوں کو یہ پیغام دیا کہ وہ اپنے شوہروں کیلئے سب کچھ وقف کر دیں ۔ انہوں نے جے جے مدن کی ایک اور یادگار فلم میں اپنے فن کے جوہر دکھائے جس کا نام تھا ’’ لیلیٰ مجنوں ‘‘ ۔ 1923ء میں جے جے مدن کی ہی ایک اور فلم ’’نورجہاں ‘‘ میں پیشنس کُوپر نے اپنی فنکارانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا ۔ اس کے علاوہ 1928ء میں ’’آنکھ کا نشہ ‘‘ اور پھر ’’ حورِ عرب ‘‘ میں بھی انہوں نے شاندار اداکاری کی بدولت فلم بینوں کو متاثر کیا ۔ 1936ء میں انہیں گل حمید کی ہدایتکاری میں مشہور فلم ’’ خیبر پاس ‘‘ میں کام کرنے کا موقع ملا ۔ یہ بولتی فلم تھی ۔اس کے بعد انہوں نے اپنے وقت کی ایک اور مشہور فلم ’’ باغی سپاہی ‘‘ میں با کمال اداکاری کی ۔ اس فلم کے ہیرو گل حمید تھے جبکہ ہدایتکاری کے فرائض اے آر کاردار نے سر انجام دئیے ۔ پیشنس کُوپر کی دیگر مشہور فلموں میں ’’ فخر اسلام ‘‘ ، ’’نل مانیتی ‘‘ ، ’’ وشنو اوتار ‘‘ ، اور ’’علی بابا چالیس چور ‘‘ شامل ہیں ۔ پیشنس کُوپر کی سب سے بڑی خوبی ان کے چہرے کے تاثرات تھے۔ خاموش فلموں میں چہرے کے تاثرات (Face Expressions) ہی سب کچھ ہوتے ہیں اور کسی بھی فنکار کو اپنے آپ کو منوانے کیلئے اس کی طرف خصوصی توجہ دینا پڑتی تھی ۔ پیشنس کُوپر کے چہرے کے تاثرات سے ہی فلم بینوں کو بخوبی علم ہو جاتا تھا کہ یہ اداکارہ کیا کہنا چاہتی ہے اور اس کے دل میں کیا ہے ۔ اس کے علاوہ وہ اپنی خوبصورت مسکراہٹ سے بھی بہت کچھ کہہ جاتی تھیں ۔ پیشنس کُوپر کو خاموش فلموں کی مدھو بالا بھی کہا جاتا ہے ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ بھی حسن کا مجسمہ تھیں۔ بطور اداکارہ ان کی بے مثال کامیابی کی ایک وجہ یہ بھی بتائی جاتی ہے کہ ان میں ہالی وڈ کی اداکارائوں کی جھلک دکھائی دیتی تھی ۔ سیاہ آنکھیں ، تیکھے نقوش اور آبنوسی بال ۔1944ء میں انہوں نے فلموں سے ریٹائرمنٹ لے لی ۔ ان کی آخری فلم ’’ ارادہ ‘‘ تھی ۔ پیشنس کُوپر نے ذ اتی زندگی میںبہت صدمات جھیلے لیکن وہ ایک حوصلہ مند خاتون تھیں جنہوں نے بڑی ہمت اور استقامت سے حالات کا مقابلہ کیا۔ ان کی پہلی شادی گل حمید سے ہوئی جو اپنے وقت کے بڑے مشہور ہیرو تھے ۔گل حمید بھی بڑے حسین تھے بلکہ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ مردانہ وجاہت کا جیتا جاگتا شاہکار تھے ۔ بد قسمتی سے شادی کے صرف 6برس بعد وہ اس جہانِ فانی سے رخصت ہو گئے ۔ کُوپر کو جوانی میں ہی اپنے شوہر کی موت کا صدمہ برداشت کرنا پڑا ۔ بہر حال وہ جو کہتے ہیں کہ ’’زندگی ایک سفر ہے جس میں لوگ ملتے ہیں بچھڑ جاتے ہیں ‘‘ ۔ کُوپر نے یہ عظیم صدمہ برداشت کر لیا اور پھر سے زندگی کی ڈگر پر چلنے لگیں ۔ کچھ حلقوں کی رائے میں کُوپر نے سب سے پہلے ایم اے ایچ اصفہانی سے شادی کی جو چائے کی صنعت سے وابستہ تھے ۔ اس وقت ان کی عمر21سال تھی ۔ ان کی شادی طلاق پر منتج ہوئی ۔ جس کے بعد انہوں نے گل حمید کو اپنا شریک حیات بنایا ۔1947ء میں پیشنس کُوپر پاکستان آ گئیں اور اپنا نام صابرہ بیگم رکھ لیا ۔ وہ کراچی میں اپنی دو لے پالک بیٹیوں کیساتھ رہائش پذیر ہو گئیں جن کے نام زینت اور حلیمہ ہیں ۔ اپنی زندگی کے آخری دن انہوں نے اپنی لے پالک بیٹیوں کے ساتھ کراچی میں گزارے ۔ 1983ء میں ان کا انتقال ہو گیا ۔ہندوستان کی نوجوان نسل کو شاید ہی اس بے بدل اداکارہ کے بارے میں کچھ علم ہو گا کیونکہ جس تواتر سے بالی وڈ میں آج کل فلمیں بن رہی ہیں اور جتنی جدید ٹیکنالوجی استعمال کی جا رہی ہے اس کو مد نظر رکھتے ہوئے اس نسل کو تو 50ء اور 60ء کی دہائی کے فنکاروں کے بارے میں بھی بہت کم معلومات ہوں گی اور پیشنس کُوپر تو خاموش فلموں کے زمانے کی اداکارہ تھیں ۔ یہ اپنی جگہ ایک حقیقت ہے لیکن اس سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ جس نے جو کام کیا ہے وہ کام ہمیشہ زندہ رہتا ہے ۔اور ظاہر ہے اس کام کی بدولت ہی اس کا نام بھی تاریخ کے صفحات سے نہیں مٹایا جا سکتا ۔ پیشنس کُوپر کا نام ہندوستانی فلمی صنعت کی پہلی خاتون سپر سٹار کی حیثیت سے ہمیشہ زندہ رہے گا ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
شرفِ انسانی عزت ،احترام اور مساوات کا عالمی پیغام

شرفِ انسانی عزت ،احترام اور مساوات کا عالمی پیغام

انسانی وقار کسی عہدے، دولت، رنگ، نسل یا سماجی مرتبے کا محتاج نہیں، یہ ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔ مہذب معاشرے کی پہچان اس کی بلند و بالا عمارتوں، جدید ٹیکنالوجی یا معاشی ترقی سے زیادہ اس رویے سے ہوتی ہے جو اس کے افراد ایک دوسرے کے ساتھ اختیار کرتے ہیں۔ کسی معاشرے میں انسان کی عزت کو اس کی حیثیت اور دولت کے بجائے اس کی انسانیت کی بنیاد پر تسلیم کیا جاتا ہے تو وہاں حقیقی ترقی، امن اور سماجی ہم آہنگی کی راہیں ہموار ہوتی ہیں۔'عالمی یومِ انسانی وقار‘ جو کہ اکتوبر کے تیسرے بدھ کو منایا جاتا ہے، اسی بنیادی انسانی قدر کی یاد دہانی کراتا ہے کہ دنیا کا ہر فرد عزت، احترام اور مساوی سلوک کا مستحق ہے۔انسانی وقار کا مفہوم اور اہمیتوقار محض ایک لفظ نہیں بلکہ انسانی شخصیت کی بنیادی قدر ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر انسان کو ایک باعزت زندگی گزارنے، اپنی رائے کا اظہار کرنے، اپنے حقوق سے فائدہ اٹھانے اور معاشرے میں مثبت کردار ادا کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔ کسی شخص کو اس کی غربت، جسمانی معذوری یا سماجی حیثیت کی وجہ سے کمتر سمجھنا انسانی وقار کے منافی ہے۔انسانی تاریخ گواہ ہے کہ جہاں انسانوں کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم کیا گیا، وہاں نفرت، استحصال، ناانصافی اور تصادم نے جنم لیا۔ اس کے برعکس جن معاشروں نے انسانی عزت، قانون کی بالادستی اور مساوات کو فروغ دیا، وہاں سماجی استحکام اور باہمی اعتماد کو تقویت ملی۔ یہی وجہ ہے کہ انسانی وقار کا تحفظ صرف اخلاقی ذمہ داری نہیں بلکہ پرامن اور ترقی یافتہ معاشرے کی بنیادی ضرورت بھی ہے۔اقوام متحدہ کے منشور اور انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے میں بھی انسانی وقار اور تمام انسانوں کے مساوی حقوق کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ اس اصول کی روشنی میں ہر ریاست اور معاشرے کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ایسے حالات پیدا کرے جن میں کسی انسان کی تذلیل نہ ہو اور ہر فرد کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا مناسب موقع میسر آئے۔معاشرتی رویے اور احترامِ انسانیتانسانی وقار کا اصل امتحان روزمرہ زندگی میں ہوتا ہے۔ ہم اکثر بڑے بڑے اصولوں کی بات کرتے ہیں لیکن عملی زندگی میں اپنے سے کمزور افراد کے ساتھ ہمارا رویہ ان دعوؤں کی حقیقت واضح کر دیتا ہے۔کسی شخص کو اس کی مالی حیثیت کی وجہ سے حقیر سمجھنا، کسی کمزور کا مذاق اڑانا، عوامی مقامات پر کسی کی تضحیک کرنا یا اختلافِ رائے کی بنیاد پر کسی کی کردار کشی کرنا ایسے رویے ہیں جو انسانی وقار کو مجروح کرتے ہیں۔ بدقسمتی سے سوشل میڈیا نے تضحیک، توہین اور کردار کشی کو عام کرنے میں کردار ادا کیا ہے۔ کسی کی تصویر یا ویڈیو کو مذاق کا نشانہ بنانا، بغیر تصدیق الزام لگانا اور ذاتی معلومات کو نقصان پہنچانے کے لیے استعمال کرنا نہ صرف غیر ذمہ دارانہ عمل ہے بلکہ کسی کی عزت اور نجی زندگی پر حملہ بھی ہو سکتا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی گفتگو، تحریر اور ڈیجیٹل سرگرمیوں میں شائستگی کو فروغ دیں۔ اختلاف ضرور کیا جائے مگر دلیل کے ساتھ، تنقید ضرور کی جائے مگر تہذیب کے دائرے میں رہ کر۔ پاکستان میں انسانی وقار کے تقاضےپاکستانی معاشرے میں انسانی وقار کے تحفظ کی اہمیت کئی حوالوں سے نمایاں ہے۔ ہمارے ہاں غربت، طبقاتی فرق، صنفی امتیاز، کم عمر بچوں سے مشقت، ملازمت کے مقامات پر نامناسب رویے اور بعض کمزور طبقات کے حقوق سے متعلق مسائل موجود ہیں۔ ان مسائل کے حل کے لیے صرف قوانین بنانا کافی نہیں، ان پر مؤثر عمل درآمد اور معاشرتی سوچ میں مثبت تبدیلی بھی ضروری ہے۔آئینِ پاکستان شہریوں کی مساوات، انسانی وقار اور بنیادی حقوق کے تحفظ کو اہمیت دیتا ہے۔ اس اصول کا تقاضا ہے کہ ہر شہری کو قانون کے تحت عزت و انصاف ملے اور کسی شخص کے ساتھ اس کی معاشی یا سماجی حیثیت کی بنیاد پر امتیازی سلوک نہ کیا جائے۔ سرکاری اداروں، تعلیمی مراکز، ہسپتالوں اور کام کی جگہوں پر ایسا ماحول ہونا چاہیے جہاں ہر فرد کی بات سنی جائے، اس کے حقوق کا احترام کیا جائے اور اس کے ساتھ منصفانہ برتاؤ ہو۔خصوصی افراد، بزرگوں، خواتین، بچوں اور معاشی طور پر کمزور خاندانوں کے لیے سہولتوں کی فراہمی بھی انسانی وقار کے تحفظ کا حصہ ہے۔اس مقصد کے حصول میں خاندان، تعلیمی اداروں، ذرائع ابلاغ، مذہبی رہنماؤں اور ریاستی اداروں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ بچوں کو ابتدائی عمر ہی سے یہ سکھانا ضروری ہے کہ کسی انسان کی عزت اس کے لباس، زبان، دولت یا عہدے سے متعین نہیں ہوتی۔تعلیم، نوجوان اور بہتر مستقبلانسانی وقار کے فروغ میں تعلیم بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ تعلیم کا مقصد صرف معلومات فراہم کرنا یا روزگار کے مواقع پیدا کرنا نہیں، بلکہ انسان کو ذمہ دار، باشعور اور دوسروں کے حقوق کا احترام کرنے والا شہری بنانا بھی ہے۔ تعلیمی اداروں میں برداشت، مساوات، ہمدردی اور اختلافِ رائے کے احترام کو عملی طور پر فروغ دیا جانا چاہیے۔نوجوان اس حوالے سے خصوصی اہمیت رکھتے ہیں کیونکہ وہ مستقبل کے معاشرے کی تشکیل میں مرکزی کردار ادا کریں گے۔ وقار کا آغاز اپنے رویے سےعالمی یومِ انسانی وقار ہمیں یہ سوچنے کا موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم دوسروں کی عزت کے تحفظ کے لیے کیا کردار ادا کر رہے ہیں۔ کسی ضرورت مند کی مدد کرنا، محنت کش کی خدمات کو تسلیم کرنا، کمزور کے حق میں آواز اٹھانا، اختلاف رکھنے والے شخص کی بات سننا اور کسی کی تضحیک سے گریز کرنا ایسے عملی اقدامات ہیں جو انسانی وقار کو مضبوط بناتے ہیں۔بہتر معاشرے کی تعمیر اس وقت ممکن ہے جب عزت و احترام ہر انسان کا حق سمجھا جائے۔ اگر ہم اپنے گھروں، تعلیمی اداروں، دفاتر اور عوامی مقامات پر انسانی وقار کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنا لیں تو ایک زیادہ منصفانہ، پرامن اور ہمدرد معاشرے کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔

سپرال نینو

سپرال نینو

عالمی ماحولیاتی نظام کیلئے نیا خطرہقدرتی موسمیاتی نظام میں رونما ہونے والی تبدیلیاں کبھی کبھار پوری دنیا کے موسم، زراعت، سمندری حیات اور انسانی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہیں۔ ال نینو بھی ایسا ہی ایک قدرتی عمل ہے، لیکن 2026ء میں اس کے غیر معمولی طور پر طاقتور ہونے کے خدشات نے سائنسدانوں اور ماہرینِ ماحولیات کی تشویش بڑھا دی ہے۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر موجودہ ال نینو انتہائی شدت اختیار کرتا ہے تو اس کے اثرات صرف درجہ حرارت میں اضافے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ دنیا کے مختلف خطوں میں ماحولیاتی توازن، جنگلی حیات اور انسانی خوراک کے وسائل بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔امریکی ادارے نیشنل اوشیانک اینڈ ایٹموسفیرک ایڈمنسٹریشن (NOAA) کی 8 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق ال نینو مضبوط ہو رہا ہے اور جنوری سے مارچ 2027 ء تک اس کے شدید یا انتہائی شدید رہنے کا امکان نمایاں ہے۔ تاہم اس کی شدت اور مختلف علاقوں پر اس کے اثرات کے بارے میں پیش گوئیوں کو مسلسل نئے مشاہدات کی روشنی میں جانچنا ضروری ہے۔ال نینو اور سپر ال نینو کیا ہے؟ال نینو بحرالکاہل کے خطِ استوا کے قریب سمندر کی سطح کے پانی کے معمول سے زیادہ گرم ہونے کے موسمیاتی عمل کو کہا جاتا ہے۔ اس تبدیلی سے سمندر اور فضا کے درمیان حرارت کا تبادلہ، ہواؤں کی سمت اور بارش کے معمولات متاثر ہوتے ہیں نتیجتاً دنیا کے ایک حصے میں خشک سالی ہو تی ہے جبکہ دوسرے حصے میں غیر معمولی بارشیں اور سیلاب آ سکتے ہیں۔جب بحرالکاہل کے پانی کا درجہ حرارت معمول سے بہت زیادہ بڑھ جائے اور اس کے ساتھ فضائی گردش میں نمایاں تبدیلیاں پیدا ہوں تو اسے سپر ال نینو کہا جاتا ہے۔ موجودہ صورتحال اس لیے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے کہ زمین پہلے ہی انسانی سرگرمیوں، بالخصوص فوسل فیول کے استعمال کے باعث گرم ہو رہی ہے۔ ایسے میں ال نینو کی اضافی حرارت عالمی درجہ حرارت کو مزید بلند کر سکتی ہے۔ماہرین کے مطابق اس رجحان کا مطلب یہ نہیں کہ دنیا کے ہر علاقے میں یکساں گرمی یا خشک سالی ہوگی۔ اس کے اثرات خطے، موسم اور سمندر و فضا کی دیگر تبدیلیوں کے مطابق مختلف ہو سکتے ہیں۔ بحری اور جنگلی حیات پر اثرات سپر ال نینو کے ممکنہ اثرات میں سمندری ماحولیاتی نظام کو پہنچنے والا نقصان خاص طور پر تشویشناک ہے۔ سمندر کی سطح کا درجہ حرارت بڑھنے سے مرجان کی چٹانیں متاثر ہوتی ہیں، اس عمل کو کورل بلیچنگ کہا جاتا ہے۔مرجان کی چٹانیں بے شمار مچھلیوں اور دوسرے سمندری جانداروں کو خوراک، پناہ اور افزائش کے لیے جگہ فراہم کرتی ہیں۔ ان کی تباہی سے پورا غذائی سلسلہ متاثر ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ گرم پانی میں غذائی اجزا کی فراہمی اور سمندری جانداروں کی نقل مکانی میں تبدیلیاں مچھلیوں کی آبادی کو بھی نقصان پہنچا سکتی ہیں۔کہیں خشک سالی، کہیں سیلاب اور کہیں آگال نینو کے اثرات زمین پر شدید نوعیت کے ہوتے ہیں۔ بعض علاقوں میں بارشیں معمول سے کم ہونے کے باعث پانی کی قلت، فصلوں کی تباہی اور جنگلات میں آگ لگنے کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ انڈونیشیا جیسے علاقوں میں خشک پیٹ لینڈز اور جنگلات میں آگ لگنے سے بڑے پیمانے پر دھواں اور کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج ہو تی ہے۔ اس سے انسانی صحت اور ماحول دونوں متاثر ہوتے ہیں۔اس کے برعکس جنوبی امریکہ کے ساحل اور مشرقی افریقہ کے بعض علاقوں میں شدید بارشوں اور سیلاب کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ یہ تمام اثرات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ جنگلات کی آگ سے خارج ہونے والی گرین ہاؤس گیسیں موسمیاتی تبدیلی میں اضافہ کرتی ہیں جبکہ پہلے سے کمزور ماحولیاتی نظام شدیدموسمی حالات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت کھو سکتے ہیں۔ تاہم ہر آفت کو صرف ال نینو سے منسوب کرنا درست نہیں؛ مقامی حالات، انسانی سرگرمیاں اور طویل مدتی عالمی حدت بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔پاکستان کیلئے سبق پاکستان میں ال نینو کے اثرات خاص طور پر مون سون، پانی کی دستیابی، زراعت اور گرمی کی شدت کے حوالے سے اہم ہو سکتے ہیں۔ ماضی کے موسمیاتی مشاہدات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ال نینو جنوبی ایشیا کے مون سون پر اثر انداز ہو تا ہے لیکن اس کا نتیجہ ہر مرتبہ یکساں نہیں ہوتا۔ کہیں بارشوں میں کمی ہو سکتی ہے تو کہیں مقامی موسمی نظام کے باعث شدید بارشیں بھی ہو سکتی ہیں۔اگر بارشیں کم ہوں تو پنجاب اور سندھ کے زرعی علاقوں میں آب پاشی کی ضرورت بڑھ سکتی ہے، زیرِ زمین پانی پر دباؤ پڑتا ہے اور گندم سمیت اہم فصلوں کی پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو تا ہے۔ان حالات میں بروقت موسمی پیشگوئی، پانی کا محتاط استعمال، فصلوں کی منصوبہ بندی اور کسانوں کو درست معلومات فراہم کرنا نہایت ضروری ہے۔ حکومتوں اور متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ موسمیاتی نگرانی کے نظام مضبوط کریں، خشک سالی اور سیلاب کے لیے پیشگی منصوبہ بندی کریں، جنگلات اور آبی وسائل کی حفاظت کریں اور ماحولیاتی نظام کی بحالی پر سرمایہ کاری بڑھائیں۔ طویل مدت میں گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی بھی ناگزیر ہے۔سپر ال نینو ایک قدرتی رجحان ہے مگر اس کے ممکنہ نقصانات کا پیمانہ اس بات پر بھی منحصر ہے کہ انسان اور معاشرے اس کے لیے کتنے تیار ہیں۔ بروقت سائنسی معلومات، مؤثر منصوبہ بندی اور قدرتی وسائل کے تحفظ کے ذریعے خطرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔ اصل چیلنج صرف ایک طاقتور موسمیاتی واقعے کا سامنا کرنا نہیں بلکہ بدلتی ہوئی آب و ہوا میں زمین کے نازک ماحولیاتی توازن کو محفوظ رکھنا ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

جنگِ ٹرافلگر جنگِ ٹرافلگر یورپ کی بحری تاریخ کی فیصلہ کن جنگوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس زمانے میں فرانس کا شہنشاہ نپولین بوناپارٹ یورپ پر اپنا اثرورسوخ بڑھا رہا تھا اور برطانیہ پر حملے کے امکانات بھی زیرِ غور تھے۔ اس مقصد کے لیے فرانسیسی اور ہسپانوی بحری بیڑوں کی مشترکہ طاقت اہم سمجھی جاتی تھی۔ 21 اکتوبر 1805ء کو برطانوی بحریہ کا مقابلہ فرانسیسی اور ہسپانوی بحری افواج سے ہوا۔ برطانوی بیڑے کی قیادت ایڈمرل ہوریشیو نیلسن کر رہے تھے۔ انہوں نے روایتی جنگی حکمتِ عملی سے ہٹ کر اپنے جہازوں کو دو کالموں میں آگے بڑھایا اور دشمن کی صفوں کو توڑنے کی کوشش کی۔ برطانیہ کو اس جنگ میں فیصلہ کن کامیابی حاصل ہوئی لیکن نیلسن جنگ کے دوران زخمی ہوئے اور بعد میں وفات پا گئے۔ تھامس ایڈیسن کا برقی بلب21 اکتوبر 1879ء کو امریکی موجد تھامس الوا ایڈیسن نے برقی روشنی کی ترقی میں ایک اہم کامیابی حاصل کی۔ انیسویں صدی میں گھروں، دکانوں اور کارخانوں میں روشنی کے لیے تیل کے چراغ اور گیس کے لیمپ عام تھے۔ ایڈیسن اور ان کی ٹیم ایک ایسا برقی بلب تیار کرنے پر کام کر رہے تھے جو مناسب مدت تک روشن رہ سکے۔ اس روز ان کی تجربہ گاہ میں کاربنائز کیے گئے دھاگے پر مشتمل ایک بلب کامیابی سے روشن ہوا اور کئی گھنٹوں تک جلتا رہا۔ یہ بات واضح کرنا ضروری ہے کہ ایڈیسن برقی بلب کے پہلے موجد نہیں تھے؛ ان سے پہلے بھی مختلف موجد اس ٹیکنالوجی پر کام کر چکے تھے۔ تاہم ان کی کوششوں نے بلب کو زیادہ عملی اور تجارتی طور پر قابلِ استعمال بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ آچن پر اتحادیوں کا قبضہدوسری جنگِ عظیم کے آخری مرحلے میں 21 اکتوبر 1944ء کو امریکی افواج نے جرمنی کے شہر آچن پر قبضہ مکمل کر لیا۔ آچن مغربی جرمنی میں واقع ایک تاریخی شہر ہے جو اپنی جغرافیائی حیثیت کی وجہ سے اتحادی افواج کی پیش قدمی کے لیے اہم تھا۔ جون 1944ء میں نارمنڈی کے ساحل پر اتحادی افواج کے اترنے کے بعد مغربی یورپ میں جرمن فوجوں کے خلاف کارروائیاں تیز ہو گئی تھیں۔ امریکی فوجیوں نے آچن کے دفاع کے لیے موجود جرمن دستوں کے خلاف شدید لڑائی لڑی۔ تقریباً ایک ہفتے تک جاری رہنے والی شدید جنگ کے بعد جرمن مزاحمت ختم ہوئی اور شہر اتحادیوں کے قبضے میں آ گیا۔ آچن مغربی محاذ پر اتحادی افواج کے ہاتھوں قبضہ کیا جانے والا پہلا بڑا جرمن شہر تھا۔ فرانس میں خواتین کا ووٹ 21 اکتوبر 1945ء فرانس کی جمہوری تاریخ میں خواتین کے سیاسی حقوق کے حوالے سے ایک اہم دن تھا۔ اس روز فرانس میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات منعقد ہوئے اور فرانسیسی خواتین نے پہلی مرتبہ قومی سطح کے پارلیمانی انتخابات میں ووٹ ڈالنے کا حق استعمال کیا۔ فرانس میں خواتین کو ووٹ کا حق دینے کا قانونی فیصلہ اپریل 1944ء میں جنرل ڈیگال کی قیادت میں قائم عارضی حکومت کے دور میں کیا گیا تھا۔ تاہم اس حق کا عملی استعمال جنگِ عظیم دوم کے خاتمے کے بعد 1945ء میں ہونے والے انتخابات کے موقع پر سامنے آیا۔ اس پیش رفت کے بعد فرانسیسی خواتین پارلیمانی سیاست اور عوامی زندگی میں زیادہ مؤثر کردار ادا کرنے کے قابل ہوئیں۔ ایبرفان کا المناک حادثہ21 اکتوبر 1966ء کو ویلز کے گاؤں ایبرفان میں ایک ایسا المناک حادثہ پیش آیا جس نے پورے برطانیہ کو صدمے سے دوچار کر دیا۔ اس علاقے میں کوئلے کی کانوں سے نکلنے والا فضلہ اور مٹی ایک بڑے ڈھیر کی صورت میں جمع کی جاتی تھی۔ مسلسل بارش کے باعث کان کے فضلے کا ایک بڑا حصہ غیر مستحکم ہو گیا اور اچانک ڈھلوان سے نیچے گاؤں کی طرف بہہ نکلا۔ مٹی اور کوئلے کے اس تودے نے راستے میں موجود عمارتوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور پینٹگلاس جونیئر سکول بھی اس کی زد میں آ گیا۔ حادثے میں مجموعی طور پر 144 افراد ہلاک ہوئے، جن میں 116 بچے شامل تھے۔ اس سانحے نے صنعتی فضلے کو محفوظ انداز میں ٹھکانے لگانے، کان کنی کے ضوابط اور خطرات کی بروقت نشاندہی کے بارے میں سنگین سوالات اٹھائے۔

2200 سال قدیم انگلیوں کے نشانات

2200 سال قدیم انگلیوں کے نشانات

ٹیراکوٹا آرمی کے معماروں کا راز چین کی ٹیراکوٹا آرمی دنیا کے حیرت انگیز تاریخی آثار میں شمار ہوتی ہے۔ مٹی سے بنے ہزاروں جنگجوؤں، گھوڑوں اور رتھوں پر مشتمل یہ عظیم مجموعہ دو ہزار سال سے زائد عرصے سے ماہرینِ آثارِ قدیمہ اور تاریخ کے شائقین کی توجہ کا مرکز ہے۔ ان مجسموں کی باریک کاریگری اور منفرد چہرے قدیم چینی تہذیب کی فنی مہارت کا ثبوت ہیں۔ تاہم ایک اہم سوال طویل عرصے سے موجود تھا کہ آخر اس عظیم منصوبے کو مکمل کرنے والے لوگ کون تھے؟تاہم مجسموں پر موجود انگلیوں کے نشانات نے ایک بڑا راز افشا کر دیا ہے اور ماہرین اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ٹیراکوٹا آرمی کی تیاری میں صرف مرد ہی نہیں خواتین اور بچے بھی شریک تھے۔ ٹیراکوٹا آرمی کی تاریخٹیراکوٹا آرمی چین کے پہلے شہنشاہ چن شی ہوانگ (Qin Shi Huang) کے مقبرے کی حفاظت کے لیے تیار کی گئی تھی۔ انہوں نے 221 قبل مسیح میں چین کی مختلف ریاستوں کو متحد کرکے ایک مرکزی سلطنت قائم کی۔ ان کے دور میں بڑے تعمیراتی منصوبوں اور ریاستی انتظام کو غیر معمولی اہمیت حاصل تھی۔ 1974ء میں چین کے صوبے شانشی میں کنواں کھودتے ہوئے کسانوں کو زمین کے اندر مٹی کے جنگجوؤں کے ٹکڑے ملے۔ بعد ازاں ہونے والی کھدائی نے ایک وسیع زیرِ زمین مجموعے کا انکشاف کیا جس میں ہزاروں جنگجو، گھوڑے اور رتھ شامل تھے۔اس تاریخی مقام پر اب تک دریافت ہونے والے مجموعے میں تقریباً آٹھ ہزار جنگجوؤں، 130 رتھوں، رتھوں کے ساتھ منسلک 520 گھوڑوں اور گھڑ سواروں کے لیے بنائے گئے مزید 150 گھوڑوں کے مجسموں کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔مٹی پر محفوظ انگلیوں کے نشاناتٹیراکوٹا آرمی کے مجسمے تیار کرتے وقت کاریگر گیلی مٹی کو مختلف شکلیں دیتے ، جسم کے حصوں کو آپس میں جوڑتے اور زرہ بکتر پر آرائش کرتے تھے۔ اس عمل کے دوران ان کی انگلیوں کے نشانات مٹی پر ثبت ہوجاتے تھے۔ ہزاروں سال گزرنے کے باوجود بعض نشانات محفوظ رہ گئے جو اَب ماضی کے کاریگروں کے بارے میں معلومات فراہم کررہے ہیں۔محققین نے 36 جسموں کا جائزہ لیا۔ ابتدائی معائنے میں انگلیوں کے 91 نشانات ریکارڈ کیے گئے تاہم 12 نشانات کو خارج کردیا گیا کیونکہ وہ ممکنہ طور پر انہی افراد کے متعدد نشانات تھے۔ اس طرح تفصیلی تجزیے کے لیے 79 نشانات باقی رہ گئے۔یہ نشانات مجسموں کے سروں، بازوؤں، ہاتھوں، کالروں، زرہ بکتر اور دیگر حصوں پر پائے گئے۔ بعض نشانات اس وقت ثبت ہوئے جب کاریگر مٹی کے مختلف حصوں کو جوڑ رہے تھے جبکہ کچھ آرائشی اجزا کو مجسموں کی سطح پر دبانے سے بنے تھے۔انگلیوں کی لکیروں سے کیا معلوم ہوا؟سائنسدانوں نے انگلیوں کی باریک لکیروں کے درمیان فاصلے کی پیمائش کی۔ اس پیمائش کو سائنسی اصطلاح میںMean Ridge Breadth کہا جاتا ہے۔انسان کی نشوونما کے ساتھ انگلیوں کی لکیروں کے درمیان فاصلہ بڑھتا ہے۔محققین نے ان پیمائشوں کی بنیاد پر شماریاتی ماڈل استعمال کیا جس سے تمام نشانات میں مختلف آبادیاتی گروہوں کی ممکنہ نمائندگی کا اندازہ لگایا گیا۔نتائج کے مطابق تقریباً 45 فیصد نشانات بالغ مردوں، 32 فیصد بالغ خواتین اور 22 فیصد پندرہ سال سے کم عمر بچوں سے منسوب کیے گئے۔یہ اعداد اس امکان کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ٹیراکوٹا آرمی کی تیاری میں مختلف عمر اور جنس کے افراد شامل تھے۔ خواتین اور بچوں کا ممکنہ کردارقدیم چین میں ریاستی نگرانی میں چلنے والی ورکشاپس میں خواتین اور بچوں کی شرکت کے تاریخی شواہد موجود ہیں۔ چن خاندان کے دور سے تعلق رکھنے والی بانس کی تختیوں پر لکھی قانونی دستاویزات کاریگروں کی تربیت اور شاگردی کے نظام کے بارے میں معلومات فراہم کرتی ہیں۔ممکن ہے کہ کم عمر شاگردوں کو نسبتاً آسان کام دیے جاتے ہوں مثلاً زرہ بکتر پر چھوٹے آرائشی اجزا لگانا یا مٹی کے تیار شدہ حصوں کو جوڑنے میں مدد دینا جبکہ تجربہ کار کاریگر زیادہ پیچیدہ مجسمہ سازی اور باریک نقش و نگار کا کام انجام دیتے ہوں گے۔ماضی کے گمنام معماروں کی کہانیٹیراکوٹا آرمی محض مٹی کے جنگجوؤں کا مجموعہ نہیں بلکہ ہزاروں افراد کی محنت، مہارت اور اجتماعی کوششوں کی علامت ہے۔ نئی تحقیق اس امکان کو تقویت دیتی ہے کہ اس عظیم منصوبے کے پیچھے کام کرنے والی افرادی قوت متنوع تھی۔مستقبل میں مزید مجسموں پر انگلیوں کے نشانات کا تجزیہ اس سوال کے جواب کو زیادہ واضح کرسکتا ہے کہ قدیم چین میں خواتین، بچوں اور مردوں نے اس تاریخی شاہکار کی تیاری میں کس حد تک حصہ لیا تھا۔اس تحقیق کا سب سے اہم پیغام یہ ہے کہ تاریخ کے عظیم کارناموں کے پیچھے صرف بادشاہوں اور حکمرانوں کے فیصلے نہیں ہوتے بلکہ ان گنت گمنام افراد کی محنت بھی شامل ہوتی ہے۔ ٹیراکوٹا آرمی کے مجسموں پر محفوظ انگلیوں کے یہ نشانات آج بھی ان ہاتھوں کی کہانی سناتے ہیں جنہوں نے دو ہزار سال پہلے مٹی کو ایک لازوال تاریخی شاہکار میں ڈھال دیا۔

 خلا سے زمین تک بجلی

خلا سے زمین تک بجلی

لامحدود شمسی توانائی کے حصول کی نئی دوڑسائنسدان خلا میں ایسے بڑے شمسی بجلی گھر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں جو دن رات سورج کی توانائی حاصل کرکے مائیکروویوز کے ذریعے زمین تک پہنچا سکیں۔ چین، امریکہ، برطانیہ اور جاپان اس ٹیکنالوجی کو عملی شکل دینے کے لیے سرگرم ہیں۔سائنسی ویب سائٹ لائیو سائنس کی ایک رپورٹ کے مطابق خلائی شمسی توانائی کے منصوبوں میں کئی ممالک کی دلچسپی بڑھ رہی ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے حامیوں کا خیال ہے کہ اگر اسے کامیابی سے عملی شکل دے دی جائے تو دنیا کی توانائی کی ضروریات کا بہت بڑا حصہ پورا کیا جا سکتا ہے۔ تاہم اس خواب کی تکمیل کے لیے ابھی اہم تکنیکی اور مالی مشکلات حل کرنا باقی ہیں۔ خلا میں شمسی بجلی گھر بنانے کا تصوراس منصوبے کا بنیادی خیال بظاہر سادہ ہے کہ زمین کے گرد مدار میں بڑے سیٹلائٹ نصب کیے جائیں جن پر وسیع شمسی پینل لگے ہوں۔ یہ پینل سورج کی روشنی سے بجلی پیدا کریں گے اور اس توانائی کو مخصوص نظام کے ذریعے مائیکروویوز میں تبدیل کرکے زمین پر بھیجا جائے گا جہاں اسے دوبارہ بجلی میں تبدیل کرکے بجلی کے قومی نظام میں شامل کیا جا سکے گا۔زمین کے برعکس خلا میں سورج کی روشنی کو فضا میں موجود بادلوں، گردوغبار اور دیگر عوامل سے گزرنا نہیں پڑتا۔ مناسب مدار میں نصب نظام کو طویل عرصے تک مسلسل دھوپ بھی مل سکتی ہے۔ اس طرح روایتی شمسی بجلی گھروں کے مقابلے میں زیادہ مستقل توانائی حاصل کرنے کا امکان پیدا ہوتا ہے۔سائنسدانوں کے مطابق اس نظام کا ایک اہم فائدہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ بجلی کی پیداوار رات کے وقت مکمل طور پر بند نہ ہو۔ اگر سیٹلائٹ کا مدار اور نظام مناسب انداز میں ڈیزائن کیے جائیں تو زمین پر سورج غروب ہونے کے بعد بھی خلا سے توانائی بھیجی جا سکتی ہے۔ ایک پرانا خواب جو حقیقت کے قریب آ رہا ہےخلا سے توانائی حاصل کرنے کا خیال نیا نہیں۔ روسی سائنسدان اور خلائی سفر کے ابتدائی نظریات پیش کرنے والے کونسٹنٹین تسیا لکوفسکی نے 1923ء میں خلا میں آئینے نصب کرکے سورج کی روشنی کو مرتکز کرنے کا تصور پیش کیا تھا۔ بعد کے عشروں میں یہ خیال سائنس فکشن کا حصہ بنا اور بالآخر انجینئرز نے اسے بجلی پیدا کرنے کے ممکنہ طریقے کے طور پر سنجیدگی سے جانچنا شروع کیا۔1960ء کی دہائی میں امریکی سائنسدان پیٹر گلیزر نے خلائی شمسی توانائی کے ذریعے بجلی زمین تک پہنچانے کے تصور کو مزید منظم شکل دی۔ 1970ء کی دہائی میں ناسا نے بھی اس ٹیکنالوجی کے امکانات کا مطالعہ کیا لیکن اس زمانے میں سیٹلائٹس کی تیاری، انہیں خلا میں پہنچانے اور وہاں نصب کرنے کی لاگت بہت زیادہ تھی۔ابتدائی منصوبوں میں مطلوبہ مقدار میں بجلی پیدا کرنے کے لیے انتہائی بڑے اور بھاری ڈھانچوں کی ضرورت پڑتی تھی۔ 1981ء میں امریکی محکمہ توانائی کے ایک مطالعے میں 300 گیگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے تصور کے لیے درجنوں بڑے سیٹلائٹس کی ضرورت کا اندازہ لگایا گیا تھا۔ اس نوعیت کے منصوبے اس وقت کے وسائل اور ٹیکنالوجی کے لحاظ سے ناقابلِ برداشت سمجھے گئے۔تاہم گزشتہ چند دہائیوں میں ہلکے مواد، بہتر سولر سیلز، روبوٹکس اور خلائی لانچ ٹیکنالوجی میں ہونے والی ترقی نے اس تصور کو دوبارہ قابلِ غور بنا دیا ہے۔ اب سوال صرف یہ نہیں کہ یہ نظام بنایا جا سکتا ہے یا نہیں بلکہ یہ بھی ہے کہ کیا اس سے پیدا ہونے والی بجلی مناسب قیمت پر صارفین تک پہنچائی جا سکتی ہے؟ چین، جاپان، برطانیہ اور امریکہ کی دوڑخلائی سولر انرجی کے حصول کے لیے مختلف ممالک اپنے اپنے منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔ ان کوششوں کا مقصد یہ جانچنا ہے کہ آیا خلا میں بجلی پیدا کرکے اسے محفوظ اور مؤثر انداز میں زمین تک پہنچانا ممکن ہے یا نہیں۔چین کا ژو ری (ZhuRi) پروگرام، جس کا مفہوم ''سورج کا تعاقب‘‘ ہے اس شعبے میں نمایاں کوششوں میں شامل ہے۔ جاپان کا اوہی ساما (OHISAMA) منصوبہ بھی خلا سے زمین تک توانائی پہنچانے کے تجربات پر توجہ دے رہا ہے۔ دوسری جانب برطانیہ کی کمپنیSpace Solar ایک بڑے خلائی شمسی بجلی گھر کے ڈیزائن پر کام کر رہی ہے جبکہ امریکہ میںCaltech اور ایئر فورس ریسرچ لیبارٹری توانائی کی وائرلیس ترسیل کے تجربات میں مصروف ہیں۔ سپیس سولر کے مطابق اس کا ایک مکمل سیٹلائٹ تقریباً 1.6 کلومیٹر قطر کا ہوگا اور مسلسل دو گیگاواٹ تک بجلی زمین پرپہنچا سکتا ہے۔ یہ مقدار تقریباً 20 لاکھ افراد پر مشتمل شہر کی بجلی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہو سکتی ہے۔ لامحدود توانائی کا خواب اور چیلنجزخلائی سولر انرجی کی مجوزہ ٹیکنالوجی کے سامنے کئی چیلنجز ہیں۔سب سے پہلے ہزاروں ٹن وزنی سٹرکچر اور لاکھوں سولر پینلز کو خلا میں پہنچانا انتہائی مہنگا کام ہے۔ اس کے بعد مدار میں اتنے بڑے نظام کو جوڑنا، درست سمت میں رکھنا، اس کی مرمت کرنا اور اسے خلائی ملبے سے محفوظ رکھنا بھی بڑے چیلنج ہیں۔دوسرا مسئلہ انرجی کو مائیکروویوز میں تبدیل کرکے زمین تک پہنچانے کا ہے۔مگر سب سے اہم سوال لاگت کا ہے۔ اگر خلائی سولر انرجی، زمین پر نصب سولر پینلز، ہوا سے پیدا ہونے والی بجلی اورانرجی ذخیرہ کرنے کے نظام کے مقابلے میں بہت مہنگی ہوئی تو اس کا وسیع پیمانے پر استعمال مشکل ہوگا۔اس کے باوجود یہ ٹیکنالوجی مستقبل کی توانائی کیلئے ایک بڑا امکان پیش کرتی ہے۔ اگر انجینئرز کم لاگت والے لانچ، مؤثر توانائی کی ترسیل اور قابلِ اعتماد خلائی نظام تیار کرنے میں کامیاب ہو گئے تو دنیا کو صاف توانائی کا ایک نیا ذریعہ مل سکتا ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

ریاست لوزیانا کی خریداری 20 اکتوبر 1803ء کو امریکی سینیٹ نے فرانس سے لوزیانا کا وسیع علاقہ خریدنے کے معاہدے کی منظوری دی۔ یہ واقعہ ریاستہائے متحدہ امریکہ کی جغرافیائی توسیع اور مستقبل کی ترقی کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا تھا۔لوزیانا کا علاقہ دریائے مسیسیپی کے مغرب میں پھیلی ہوئی وسیع زمینوں پر مشتمل تھا جس میں آج کی کئی امریکی ریاستوں کے علاقے شامل ہیں۔اس خریداری کی مجموعی قیمت تقریباً 15 ملین ڈالر تھی۔ اس معاہدے کے نتیجے میں امریکہ کا رقبہ تقریباً دوگنا ہو گیا جس سے اسے مغرب کی جانب پھیلنے، زراعت کو فروغ دینے اور نئے وسائل تک رسائی حاصل کرنے کے مواقع ملے۔ تاہم اس توسیع کے نتیجے میں مقامی امریکی آبادیوں کی زمینوں اور حقوق سے متعلق مسائل بھی مزید سنگین ہوگئے۔ جنگِ آزادی یونان 20 اکتوبر 1827ء کو بحیرہ روم کے علاقے میں واقع خلیجِ ناوارینو، جو موجودہ یونان کے جنوب مغربی ساحل کے قریب ہے، ایک فیصلہ کن بحری جنگ کا میدان بنی۔ یہ جنگ یونان کی سلطنتِ عثمانیہ سے آزادی حاصل کرنے کی جدوجہد کے دوران لڑی گئی۔ برطانیہ، فرانس اور روس کے مشترکہ بحری بیڑے نے عثمانی اور مصری بحری افواج کا مقابلہ کیا۔ ان یورپی طاقتوں کا مقصد یونان میں جاری جنگ کو روکنے اور یونانیوں کے خلاف فوجی کارروائیوں کو محدود کرنے کے لیے دباؤ ڈالنا تھا۔ یہ جنگ بحری تاریخ میں اس لیے بھی اہم ہے کہ اسے بادبانی جہازوں کے ذریعے لڑی جانے والی آخری بڑی بحری جنگوں میں شمار کیا جاتا ہے۔اس فتح نے یونان کی آزادی کی جدوجہد کو فیصلہ کن تقویت دی۔ جنرل میک آرتھر کی واپسیدوسری جنگِ عظیم کے دوران 20 اکتوبر 1944ء کو امریکی جنرل ڈگلس میک آرتھر اتحادی افواج کے ساتھ فلپائن کے جزیرے لیئتے پر اترے۔ یہ واقعہ جاپانی قبضے سے فلپائن کو آزاد کرانے کی مہم میں ایک اہم سنگِ میل تھا۔ جاپانی افواج نے 1941ء اور 1942ء کے دوران فلپائن پر قبضہ کر لیا تھا جس کے بعد میک آرتھر کو امریکی اور فلپائنی افواج کے ساتھ وہاں سے نکلنا پڑا۔ روانگی کے وقت انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ وہ واپس آئیں گے۔لیئتے پر اتحادی افواج کی تعیناتی ایک بڑے فوجی آپریشن کا حصہ تھی جس میں امریکی بحری اور زمینی افواج نے مشترکہ کارروائی کی۔ اس مہم کا مقصد فلپائن میں جاپانی فوجی طاقت کو کمزور کرنا اور بحرالکاہل میں اتحادی افواج کی پیش قدمی کو تیز کرنا تھا۔ چین بھارت جنگ 20 اکتوبر 1962ء کو چین اور بھارت کے درمیان سرحدی تنازع نے بڑے پیمانے کی جنگ کی شکل اختیار کر لی۔ دونوں ممالک کے درمیان سرحدوں کے تعین، تاریخی دعوؤں اور ہمالیائی علاقوں پر کنٹرول کے حوالے سے کشیدگی کئی برسوں سے جاری تھی۔ مشرقی حصے میں میک موہن لائن کے بارے میں اختلافات اور مغربی حصے میں لداخ کے علاقے پر دعوے اس تنازع کے بنیادی اسباب میں شامل تھے۔اس روز چینی افواج نے مشرقی سرحدی علاقے اور لداخ میں بھارتی چوکیوں پر حملے کیے۔یہ جنگ تقریباً ایک ماہ تک جاری رہی۔ چین نے 21 نومبر 1962ء کو جنگ بندی کی جس کے بعد مشرقی محاذ پر چینی افواج کی واپسی کا عمل شروع ہوا جبکہ مغربی علاقے خصوصاً اکسائی چن، کا تنازع برقرار رہا۔ واٹرگیٹ سکینڈل اور سنیچر نائٹ میسکر20 اکتوبر 1973ء کو امریکہ میں ایک ایسا سیاسی بحران پیدا ہوا جسے تاریخ میں سنیچر نائٹ میسکر (Saturday Night Massacre) کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ یہ واقعہ صدر رچرڈ نکسن کے دورِ حکومت میں سامنے آنے والے واٹرگیٹ سکینڈل کا اہم مرحلہ تھا۔ واٹرگیٹ سکینڈل کا تعلق 1972ء میں ڈیموکریٹک پارٹی کے انتخابی ہیڈکوارٹر میں ہونے والی غیر قانونی دراندازی اور اس واقعے کو چھپانے کی کوششوں سے تھا۔ اس واقعے نے امریکی عوام اور سیاسی حلقوں میں شدید ردِعمل پیدا کیا بالآخر نکسن کی صدارت کے خاتمے کی جانب بڑھنے والے واقعات میں شامل ہوا۔ واٹرگیٹ سکینڈل کی تحقیقات اور وائٹ ہاؤس کی ریکارڈنگز سامنے آنے کے بعد صدر کے لیے سیاسی دباؤ بڑھتا گیا۔ بالآخر نکسن نے 9 اگست 1974ء کو استعفیٰ دے دیا۔