تکبرکے مضراثرات

تکبرکے مضراثرات

اسپیشل فیچر

تحریر : مولانا محمد شاہد


تکبرایک ایسا مہلک مرض ہے جو اپنے ساتھ کئی برائیوں کو لاتا ہے اور کئی اچھائیوں سے آدمی کو محروم کردیتا ہےدل سے تکبر کی گندگی کوصاف کرنے کے لئے تواضع و عاجزی اختیار کرنا بے حد مفید ہے *********اللہ عزوجل نے حضرت سیدنا آدم علیہ السلام کی تخلیق یعنی پیدائش کے بعد تمام فرشتوں اور ابلیس یعنی شیطان کوحکم دیا کہ ان کو سجدہ کریں تو تمام فرشتوں نے حکم خداوندی کی تعمیل میں سجدہ کیا مگر ابلیس نے انکار کردیا اور تکبر کر کے کافروں میں سے ہوگیا۔ جب رب عزوجل نے ابلیس سے اس کے انکار کا سبب دریافت فرمایا تو اکڑ کر کہنے لگا: ترجمہ: میں اس سے بہتر ہوں کہ تو نے مجھے آگ سے بنایا اور اسے مٹی سے پیدا کیا۔ اس سے ابلیس کی فاسد مراد یہ تھی کہ اگر حضرت سیدنا آدم علیہ السلام آگ سے پیدا کئے جاتے اور میرے برابر بھی ہوتے جب بھی میں انہیں سجدہ نہ کرتا چہ جائیکہ میں ان سے بہتر ہوکر ان کو سجدہ کروں۔ ابلیس کی اس سرکشی، نافرمانی اور تکبر پر اللہ رب العزت جل جلالہ نے ابلیس کو اپنی بارگاہ سے دھتکارتے ہوئے ارشاد فرمایا: ترجمہ : تو جنت سے نکل جا کہ تو راندھاگیا اور بے شک تجھ پر میری لعنت ہے قیامت تک۔ آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ کس طرح تکبر کے باعث ابلیس یعنی شیطان کو اپنے ایمان سے ہاتھ دھونے پڑے۔ شیطان جس کا نام پہلے عزازیل تھا، ابتدا ہی سے سرکش ونافرمان نہ تھا بلکہ اس نے ہزاروں سال عبادت کی، یہ جن تھا مگر اپنی عبادت و ریاضت اور علمیت کے سبب معلم الملکوت یعنی فرشتو ں کا استاذ بن گیا مگر چند گھڑیوں کے تکبر نے اسے کہیں کا نہ چھوڑا۔ اس کی برسوں کی عبادتیں اکارت یعنی بے کاراورہزاروں سال کی ریاضت پامال ہوگئی۔ ذلت ورسوائی اس کا مقدر ٹھہری۔ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے لعنت کا طوق اس کے گلے پڑ گیا اور وہ جہنم کے دائمی یعنی ہمیشہ ہمیشہ کے عذاب کا مستحق ٹھہرا۔ نمرود جس نے بظاہر پو ری دنیا پر حکومت کی۔ وہ بھی تکبر کی اسی قسم کا شکار ہوا۔ اس نے خدائی کادعویٰ کیا تو اللہ عزوجل نے حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو نمرود کی طرف بھیجا تو اس نے آپ علیہ السلام کو جھٹلایا، حتیٰ کہ یہ دعویٰ تک کر بیٹھا: میں آسمان کے رب کو قتل کردو ں گا۔ معاذاللہ عزوجل اور اس ارادے سے آسمان کی طرف تیر برسائے، جب تیر خون آلود ہ ہوکر واپس زمین پر آگرے تو اس نے اپنی جہالت، بغض وعداوت اور کفر کی وجہ سے گمان کیا کہ اس نے آسمان کے رب کوقتل کردیا( معاذاللہ) ۔حتی کہ اللہ عزوجل نے نمرود کی طرف ایک مچھرکوبھیجاجو ناک کے ذریعے اس کے دماغ میں گھس گیااور اللہ عزوجل نے اس مغرورکوایک معمولی مچھر کے ذریعے ہلاک فرمادیا۔انسان کو تکبر پر ابھارنے والے اسباب متعدد ہیں جب کہ فی زمانہ عموما ًان آٹھ اسباب کی بناء پر تکبر کیا جا تا ہے جس کے نظارے عام ہیں۔ (۱)علم(۲)عبادت(۳)مال ودولت (۴) حسب ونسب(۵)حسن وجمال (۶)کامیابیاں (۷) طاقت و قوت(۸)عہدہ و منصب رب تعالیٰ کا کبریائی کو اپنی چادر فرمانا یہ سمجھانے کے لئے ہے کہ جیسے ایک چادر کودو بندے نہیں اوڑھ سکتے، اسی طرح عظمت وکبریائی سوائے میرے کسی دوسرے کے لیے نہیںہوسکتی۔انسان کی پیدائش بدبودار نطفے(یعنی گندے قطرے)سے ہوتی ہے‘ انجام کار سڑا ہوا مردہ ہے اور اس قدر بے بس ہے کہ اپنی بھوک، پیاس، نیند، خوشی، غم، یادداشت، بیماری یا موت پر اسے کچھ اختیار نہیں۔ اس لئے اِسے چاہئے کہ اپنی اصلیت، حیثیت اور اوقات کو کبھی فراموش نہ کرے، وہ اس دنیا میں ترقی کی منزلیں طے کرتا ہوا کتنے ہی بڑے مقام ومرتبے پر کیوں نہ پہنچ جائے، خالق کون و مکاں عزوجل کے سامنے اس کی حیثیت کچھ بھی نہیں ہے۔ صاحب عقل انسان تواضع اور عاجزی کا چلن اختیار کرتا ہے اور یہی چلن اس کو دنیا میں بڑائی عطا کرتا ہے ورنہ اس دنیا میں جب بھی کسی انسان نے فرعونیت، قارونیت اورنمرودیت والی راہ پکڑی ہے، بسا اوقات اللہ تعالیٰ نے اسے دنیا ہی میں ایساذلیل وخوار کیا ہے کہ اس کا نام تعریف کرنے کے لیے نہیں بلکہ بطور مذمت لیا جاتا ہے، لہذاعقل و فہم کا تقاضہ یہ ہے کہ اس دنیا میں اونچی پرواز کے لئے انسان جیتے جی پیوند ِزمین ہوجائے اور عاجزی و انکساری کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنالے، پھر دیکھئے کہ اللہ رب العزت اس کو کس طرح عزت وعظمت سے نوازتاہے اور دنیا میں محبوبیت اور مقبولیت کا وہ اعلیٰ مقام عطا کرتا ہے جو اس کے فضل و کرم کے بغیر مل جانا ممکن ہی نہیں ہے۔ حضرت سیدنا حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ارشاد فرماتے ہیں کہ ہم حضورﷺ کے ساتھ ایک جنازے میں شریک تھے کہ آپ ؐ نے ارشاد فرمایا: کیا میں تمہیں اللہ عزوجل کے بدترین بندے کے بارے میں نہ بتاؤں؟ وہ بداخلاق اورمتکبر ہے، کیا میں تمہیں اللہ عزوجل کے سب سے بہترین بندے کے بارے میں نہ بتاؤں؟ وہ کمزور اورضعیف سمجھا جانے والا بوسیدہ لباس پہننے والا شخص ہے لیکن اگر وہ کسی بات پر اللہ عزوجل کی قسم اٹھالے تو اللہ عزوجل اس کی قسم ضرور پوری فرمائے۔ ذرا سوچئے کہ اس تکبر کا کیا حاصل! محض لذت نفس... وہ بھی چند لمحوں کے لئے! جب کہ اس کے نتیجے میں اللہ ورسول اکرمؐ کی ناراضی، مخلوق کی بیزاری، میدان محشر میں ذلت ورسوائی، رب عزوجل کی رحمت اور انعاماتِ جنت سے محرومی اور جہنم کا رہائشی بننے جیسے بڑے بڑے نقصانات کا سامنا ہے۔ اب فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے کہ چندلمحوں کی لذت چاہئے یاہمیشہ کے لئے جنت ! میدان محشر میں عزت چاہئے یا ذلت ؟ یقیناً ہم خسارے میں نہیں رہنا چاہیں گے توہمیں چاہیے کہ اپنے اندر اس مرض تکبر کی موجودگی کا پتا چلائیں اور اس کے علاج کے لئے کوشاں ہوجائیں۔ ہر باطنی مرض کی کچھ نہ کچھ علامات ہوتی ہیں۔ آئیے! سب سے پہلے ہم تکبر کی علامات کے بارے میں جانتے ہیں، پھر سنجیدگی سے اپنا محاسبہ کرنے کی کوشش کرتے ہیںمگریاد رہے تکبر کی معلومات حاصل کرنے کا مقصد اپنی اصلاح ہو، نہ کہ دوسرے مسلمانوں کے عیوب جاننے کی جستجو۔ خبردار! اپنی ناقص معلومات کی بنا پرکسی بھی مسلمان پر خواہ مخواہ متکبر ہونے کا حکم صادر نہ فرمائیے۔ یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ ان علامات کومحض ایک مرتبہ پڑھنا اور سرسری طور پر اپنا جائز ہ لے لینا ہی کافی نہیں کیوں کہ نفس وشیطان کبھی نہیں چاہیں گے کہ ہم ان علامات کو اپنے اندر تلاش کرکے تکبر کا علاج کرنے میں کامیاب ہوجائیں ، لہٰذا علامات ِ تکبر کو بار بار پڑھ کرخوب اچھی طرح ذہن نشین کر لیجئے‘ پھر اپنا مسلسل محاسبہ جاری رکھئے تو انشاء اللہ کامیابی کی راہ ہموار ہوجائے گی۔ عجمیوں کا کھڑے ہونے کا طریقہ قبیح و مذموم ہے، اس طرح کھڑے ہونے کی ممانعت ہے۔وہ یہ ہے کہ اُمراء بیٹھے ہوئے ہوتے ہیں اور کچھ لوگ بوجہ تعظیم ان کے قریب کھڑے رہتے ہیں۔ دوسری صورت عدم جواز کی وہ ہے کہ وہ خود پسند کرتا ہو کہ میرے لیے لوگ کھڑے ہوا کریں اور کوئی کھڑا نہ ہو تو بُرا مانے جیسا کہ پاکستان اور ہندوستان وغیرہ میں اب بھی بہت جگہ رواج ہے کہ امیروں، رئیسوں، زمینداروں کے لئے ان کی رعایا کھڑی ہوتی ہے، نہ کھڑی ہو تو زدوکوب تک نوبت آجاتی ہے۔تاہم اگر کوئی کسی کی بزرگی یا علم وفضل یا کسی اور وجہ سے احتراماً یا تواضع کے طور پر کسی کے لئے کھڑا ہوتا ہے تو یہ ناجائز نہیں۔تکبر ایسا مہلک مرض ہے کہ اپنے ساتھ دیگر کئی برائیوں کو لاتا ہے اور کئی اچھائیوں سے آدمی کو محروم کردیتا ہے۔ متکبر شخص جوکچھ اپنے لئے پسند کرتا ہے، اپنے مسلمان بھائی کے لئے پسند نہیں کرسکتا، ایساشخص عاجزی پر بھی قادر نہیں ہوتا جو تقویٰ وپرہیزگاری کی جڑ ہے، کینہ بھی نہیں چھوڑ سکتا۔ اپنی عزت بچانے کے لئے جھوٹ بولتا ہے، اس جھوٹی عزت کی وجہ سے غصہ نہیں چھوڑ سکتا، حسد سے نہیں بچ سکتا، کسی کی خیرخواہی نہیں کرسکتا۔ دوسروں کی نصیحت قبول کرنے سے محروم رہتا ہے، لوگوں کی غیبت میں مبتلا ہوجاتا ہے‘ الغرض متکبر آدمی اپنا بھرم قائم رکھنے کے لئے ہربرائی کرنے پرمجبور اور ہر اچھے کام کو کرنے سے عاجز ہوجاتا ہے ۔ اپنے دل سے تکبر کی گندگی کوصاف کرنے کے لئے تواضع و عاجزی کو اختیار کرنا بے حد مفید ہے ۔چنانچہ حضرت سیدنا حسن رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: تواضع یہ ہے کہ جب تم اپنے گھرسے نکلو تو جس مسلمان سے بھی ملو اسے خودسے افضل جانو۔حضرت سیدنا امام حسن بصریؒاس قدر منکسرالمزاج تھے کہ ہر فرد کو اپنے سے بہتر تصور کرتے۔ اس کا سبب یہ ہوا کہ ایک دن دریائے دجلہ پر کسی حبشی کوعورت کے ساتھ اس طرح دیکھا کہ شراب کی بوتل اس کے سامنے تھی۔ اس وقت آپؒ کو یہ گمان ہوا کہ کیا یہ بھی مجھ سے بہتر ہو سکتا ہے؟ کیوں کہ یہ تو شرابی ہے۔ اسی دورا ن ایک کشتی سامنے آئی جس میں سات افراد سوارتھے اور وہ یکایک ڈوبنے لگی۔ یہ دیکھ کر حبشی پانی میں کود گیا اور چھ افراد کو ایک ایک کر کے نکالا۔ پھر آپؒ سے عرض کیا: آپؒ صرف ایک ہی کی جان بچا لیں۔ میں تو یہ امتحان لے رہا تھا کہ آپؒ کی چشم باطن کھلی ہوئی ہے یا نہیں! اور یہ خاتون جو میرے ساتھ بیٹھی ہیں، میری والدہ ہیں اور اس بوتل میں سادہ پانی ہے۔ یہ سنتے ہی حضرت حسن بصری ؒ نے ندامت سے حبشی سے کہا کہ جس طرح تو نے چھ افرادکی جان بچائی‘ اسی طرح تکبر سے میری جان بھی بچادے۔ اس نے دعا کی کہ اللہ تعالی آپؒ کو نور بصیرت عطا فرمائے یعنی کبرونخوت کو دور کر دے ۔چنانچہ ایسا ہی ہوا اور اس کے بعد آپؒ نے اپنے آپؒ کو کبھی بہتر تصور نہیں کیا۔٭…٭…٭

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
سرن میں نئی دریافت

سرن میں نئی دریافت

تجرباتی اور نظریاتی طبیعیات کیلئے اہم پیش رفتحالیہ دنوںسائنسی دنیا میں ایک اور اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جب یورپ میں قائم دنیا کی سب سے بڑی پارٹیکل فزکس لیبارٹری سرن (CERN) کے سائنسدانوں نے کائنات کے بنیادی ذرات کی دنیا میں ایک بالکل نیا ذرہ دریافت کیا ہے۔ یہ دریافت اُس وقت سامنے آئی جب لارج ہیڈرون کولائیڈر کے ایک جدید اور حساس ترین ڈیٹیکٹر کو اَپ گریڈ کرنے کے بعد نئے تجربات کیے گئے۔یہ نیا ذرہ ایک خاص قسم کا baryons ہے جسے زی سی سی پلس (ZCC ) کا نام دیا گیا ہے۔ اس کی سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہ دو بھاری چارم کوارکس اور ایک ڈاؤن کوارک پر مشتمل ہے۔ عام پروٹون دو اَپ اور ایک ڈاؤن کوارک سے بنتا ہے مگر اس نئے ذرے کی ساخت میں دو بھاری کوارکس ہونے کے باعث اس کا وزن عام پروٹون سے تقریباً چار گنا زیادہ ہے۔سائنسدانوں کے مطابق یہ دریافت لارج ہیڈرون کولائیڈر کے اپ گریڈ کے بعد کی جانے والی پہلی بڑی سائنسی کامیابی ہے۔ ایل ایچ سی بی (LHCb) ڈیٹیکٹر کو 2023ء میں اَپ گریڈ کیا گیا تھا تاکہ یہ پہلے سے کہیں زیادہ تیز رفتاری اور درستگی کے ساتھ ذرات کے تصادم سے پیدا ہونے والے نایاب ذرات کو شناخت کر سکے۔ اسی جدیدیت نے سائنسدانوں کو یہ نیا ذرہ تلاش کرنے کے قابل بنایا۔ایل ایچ سی میں پروٹونز کو روشنی کی رفتار کے قریب رفتار سے آپس میں ٹکرایا جاتا ہے جس کے نتیجے میں انتہائی کم وقت کے لیے نئے ذرات بنتے ہیں۔ یہ ذرات عموماً لمحوں میں ٹوٹ جاتے ہیں مگر ان کے بکھرنے سے پیدا ہونے والے دیگر ذرات کے آثار کا تجزیہ کر کے سائنسدان ان کی موجودگی کا پتہ لگاتے ہیں۔ زی سی سی پلس بھی اسی طرح کے عمل سے سامنے آیا۔ تحقیق کے مطابق یہ ذرہ محض چند فیمٹو سیکنڈز تک زندہ رہتا ہے۔ ایک فیمٹو سیکنڈ ایک سیکنڈ کے ایک ہزار کھربویں حصے کے برابر ہوتا ہے۔ اتنی قلیل زندگی کے باوجود سائنسدان اس کے بکھرنے کے انداز سے اس کی خصوصیات کا درست اندازہ لگانے میں کامیاب رہے۔اس دریافت کی اہمیت صرف اس لیے نہیں کہ ایک نیا ذرہ ملا ہے بلکہ اس لیے بھی کہ یہ کوانٹم کرومو ڈائنامکس (QCD) جیسے نظریات کی جانچ میں مدد دے گا۔ QCDوہ بنیادی نظریہ ہے جو بتاتا ہے کہ کوارکس کس طرح ایک دوسرے سے جڑ کر بیریونز اور میسونز جیسے ذرات بناتے ہیں۔ چونکہ زی سی سی پلس میں دو بھاری کوارکس موجود ہیں اس لیے یہ سائنسدانوں کو یہ سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے کہ بھاری کوارکس ایک دوسرے کے ساتھ کیسے تعامل کرتے ہیں اور مادے کی ساخت میں ان کا کردار کیا ہے۔یہ بھی قابل ذکر ہے کہ یہ پہلا موقع نہیں جب اس فیملی کا کوئی ذرہ دریافت ہوا ہو۔ 2017ء میں سائنسدانوں نے ایک اور مشابہ ذرہ زی سی سی پلس پلس دریافت کیا تھا جس میں دو چارم کوارکس کے ساتھ ایک اپ کوارک شامل تھا۔ تاہم زی سی سی پلس پلس کے مقابلے میں نیا دریافت ہونے والا ذرہ زیادہ غیر مستحکم ہے اور بہت جلد ٹوٹ جاتا ہے۔ یہ فرق بھی سائنسدانوں کے لیے تحقیق کا ایک نیا میدان کھولتا ہے۔LHCB تجربے کے ترجمان کے مطابق یہ دریافت ظاہر کرتی ہے کہ اپ گریڈ کے بعد تجرباتی آلات کی حساسیت اور صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ جدید ڈیٹیکٹرز اب ایک سیکنڈ میں کروڑوں تصاویر لینے کے قابل ہیں جس سے نایاب ترین ذرات کی تلاش بھی ممکن ہو گئی ہے۔اگرچہ یہ دریافت ہگز بوزون کی دریافت جیسی تاریخی نہیں سمجھی جا رہی تاہم بنیادی فزکس کے ماہرین اسے ایک اہم قدم قرار دے رہے ہیں۔ اس قسم کی دریافتیں مادے کی ساخت کو سمجھنے، بنیادی قوتوں کی نوعیت جاننے اور کائنات کی ابتداکے رازوں تک پہنچنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔یہ تحقیق اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ ایل ایچ سی اور اس کے جدید ڈیٹیکٹرز مستقبل میں مزید حیران کن انکشافات کر سکتے ہیں۔ سائنسدانوں کو توقع ہے کہ آنے والے برسوں میں مزید ایسے نایاب ذرات دریافت ہوں گے جو کائنات کی بنیادی ساخت اور قوتوں کے بارے میں ہمارے علم کو مزید گہرا کریں گے۔یہ نیا ذرہ نہ صرف تجرباتی طبیعیات کے لیے اہم ہے بلکہ نظریاتی طبیعیات کے لیے بھی قیمتی ڈیٹا فراہم کرتا ہے۔ ہر نئی دریافت سائنسی نظریات کی جانچ کا موقع دیتی ہے اور یہ دیکھنے میں مدد کرتی ہے کہ موجودہ ماڈلز کہاں تک درست ہیں اور کہاں نئی فزکس کی ضرورت ہے۔ مختصر یہ کہ زی سی سی پلس کی دریافت ایک اور قدم ہے اس سمت میں جس سے انسان کائنات کے بنیادی رازوں کو سمجھنے کے قریب پہنچ رہا ہے۔ یہ دریافت اس بات کی یاد دہانی بھی ہے کہ سائنسی تحقیق ایک مسلسل عمل ہے، جہاں ہر نیا جواب درجنوں نئے سوالات کو جنم دیتا ہے۔

نوجوان کیا کھاتے ہیں؟

نوجوان کیا کھاتے ہیں؟

ذہنی صحت پر حیران کن اثرات ،ایک سائنسی جائزہجدید دور میں نوجوانوں کی زندگی جہاں ٹیکنالوجی، سوشل میڈیا اور تعلیمی دباؤ کے گرد گھومتی ہے وہیں ایک اور اہم مگر نظرانداز پہلو اْن کی خوراک ہے۔ایک حالیہ سائنسی تحقیق نے یہ انکشاف کیا ہے کہ نوجوانوں کی خوراک ان کی ذہنی صحت پر ہماری توقعات سے کہیں زیادہ گہرا اثر ڈال سکتی ہے۔یہ تحقیق، جو برطانیہ کی سوانسی یونیورسٹی کے ماہرین نے کی ہے، نشاندہی کرتی ہے کہ صحت مند غذا اور ذہنی سکون کے درمیان مضبوط تعلق موجود ہے جبکہ غیر معیاری خوراک ذہنی دباؤ، بے چینی اور ڈپریشن کو بڑھا سکتی ہے۔ تحقیق میں تقریباً 19 مختلف مطالعات کا جائزہ لیا گیا جن میں ایک واضح رجحان سامنے آیا اور وہ یہ کہ بہتر خوراک کا نتیجہ کم ڈپریشن جبکہ غیر صحت بخش خوراک کا نتیجہ زیادہ ذہنی دباؤ ہے۔یہ کوئی اتفاق نہیں بلکہ ایک مسلسل سامنے آنے والا سائنسی رجحان ہے اور دیگر مطالعات بھی اسی نتیجے کی تائید کرتے ہیں کہ جو نوجوان زیادہ سبزیاں، پھل اور متوازن غذا استعمال کرتے ہیں ان میں ذہنی مسائل کم ہوتے ہیں جبکہ جنک فوڈ اور میٹھے مشروبات کا زیادہ استعمال ڈپریشن اور اینگزائٹی کا سبب بنتا ہے۔ ایک دلچسپ پہلو یہ سامنے آیا کہ صرف وٹامن یا سپلیمنٹس لینے سے واضح فائدہ ثابت نہیں ہوا۔ مثال کے طور پر وٹامن ڈی کے حوالے سے کچھ مثبت نتائج ضرور ملے مگر وہ مستقل نہیں تھے۔اس کے برعکس مکمل غذا کا مجموعی معیار زیادہ اہم ثابت ہوا ہے یعنی متوازن خوراک اورقدرتی اجزا کا استعمال اورپراسیسڈ فوڈ سے پرہیز،یہ مجموعی طور پر ذہنی صحت کو بہتر بنانے میں زیادہ مؤثر ہے۔ ماہرین کے مطابق نوجوانی وہ مرحلہ ہے جب دماغ تیزی سے نشوونما پاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس عمر میں خوراک کے اثرات زیادہ گہرے ہوتے ہیں۔اگر اس دور میں غذا غیر متوازن ہو تودماغی کیمیائی عمل متاثر ہو سکتے ہیں،جذباتی توازن بگڑ سکتا ہے،ذہنی بیماریوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔سائنسدانوں کے مطابق یہ وہ ونڈو آف اپرچونٹی ہے جہاں بہتر خوراک کے ذریعے مستقبل کی ذہنی صحت کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ جنک فوڈ اور ذہنی مسائلتحقیقات سے یہ بھی سامنے آیا ہے کہ جنک فوڈ خاص طور پر وہ خوراک جو چکنائی اور چینی سے بھرپور ہو نہ صرف جسم بلکہ دماغ کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔ایسی غذاڈپریشن کے امکانات بڑھاتی ہے،یادداشت کو متاثر کرتی ہے، توجہ اور سیکھنے کی صلاحیت کم کرتی ہے۔کچھ مطالعات میں یہ بھی دیکھا گیا کہ کم معیار کی غذا لینے والے نوجوانوں میں ڈپریشن کا خطرہ 80 فیصد تک زیادہ ہو سکتا ہے۔ گٹ برین کنکشنجدید سائنس ایک اور اہم پہلو پر زور دیتی ہے جسے گٹ برین ایکسس کہا جاتا ہے۔خوراک ہمارے معدے اور آنتوں میں موجود بیکٹیریا کو متاثر کرتی ہے جو براہِ راست دماغی افعال سے جڑے ہوتے ہیں۔ناقص غذا کے اثرات نیوروٹرانسمیٹرز (جیسے سیروٹونن) کی پیداوار متاثر،سوزش (inflammation) میں اضافہ اورموڈ میں بگاڑ کا سبب بنتے ہیں اوریہ عوامل ذہنی صحت پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔ کھانے کی عادات بھی اہمصرف یہ نہیں کہ نوجوان کیا کھاتے ہیں بلکہ یہ بھی اہم ہے کہ وہ کیسے کھاتے ہیں۔تحقیقات کے مطابق ناشتہ نہ کرنا ذہنی مسائل بڑھا سکتا ہے،فیملی کے ساتھ کھانا کھانا ذہنی سکون دیتا ہے،بے ترتیب کھانے کی عادات منفی اثر ڈالتی ہیں، یعنی خوراک کا معیار اور انداز دونوں اہم ہیں۔ سماجی و معاشی عوامل کا کرداریہ تعلق اتنا سادہ بھی نہیں جتنا لگتا ہے۔ ماہرین کے مطابق کئی عوامل اس پر اثر انداز ہوتے ہیں جیسا کہ معاشی حیثیت،صنفی فرق، خاندانی ماحول۔مثلاً کم آمدنی والے خاندانوں میں صحت مند خوراک تک رسائی کم ہوتی ہے جس سے ذہنی صحت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ یہ بات اہم ہے کہ سائنسدان ابھی بھی اس تعلق کو مکمل طور پر ''سبب اور نتیجہ‘‘ کے طور پر ثابت نہیں کر سکے۔یعنی کیا خراب غذا ذہنی مسائل پیدا کرتی ہے یاکیا ذہنی مسائل خراب کھانے کی عادات پیدا کرتے ہیں؟اس سوال کا مکمل جواب ابھی باقی ہے، اسی لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ جیسا کھاؤ گے ویسا سوچو گےتاہم یہ تحقیق ایک اہم پیغام ضرور دیتی ہے کہ نوجوانوں کی ذہنی صحت صرف نفسیاتی یا سماجی مسئلہ نہیں بلکہ غذائی مسئلہ بھی ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری نوجوان نسل ذہنی طور پر مضبوط ہو ڈپریشن اور اینگزائٹی سے محفوظ رہے، بہتر فیصلہ سازی کی صلاحیت رکھے تو ہمیں ان کی خوراک پر سنجیدگی سے توجہ دینا ہوگی۔متوازن غذا، قدرتی اجزا اور صحت مند کھانے کی عادات نہ صرف جسم بلکہ ذہن کو بھی طاقت دیتی ہیں ،اوریہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ آپ جو کھاتے ہیں وہی آپ کی سوچ، مزاج اور ذہنی کیفیات کو تشکیل دیتا ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

اسلامی جمہوریہ ایران کا قیامیکم اپریل 1979ء ایران کی تاریخ کا ایک فیصلہ کن دن تھا جب عوامی ریفرنڈم کے نتیجے میں ایران کو باضابطہ طور پر اسلامی جمہوریہ قرار دیا گیا۔ یہ ریفرنڈم اس انقلاب کا منطقی نتیجہ تھا جو 1978-79ء میں محمد رضا پہلوی کی حکومت کے خلاف برپا ہوا۔ آیت اللہ روح اللہ خمینی کی قیادت میں چلنے والی اس تحریک نے بادشاہت کا خاتمہ کر کے مذہبی بنیادوں پر قائم نظام کی بنیاد رکھی۔ریفرنڈم میں ایرانی عوام سے ایک سادہ سوال پوچھا گیا: کیا آپ اسلامی جمہوریہ چاہتے ہیں؟ سرکاری نتائج کے مطابق تقریباً 98 فیصد ووٹرز نے اس کے حق میں ووٹ دیا۔ اس تبدیلی نے نہ صرف ایران کی داخلی سیاست کو بدل دیا بلکہ مشرقِ وسطیٰ اور عالمی سیاست پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے۔ یکم اپریل ایران میں یومِ جمہوریہ اسلامی کے طور پر منایا جاتا ہے۔ ہسپانوی خانہ جنگی کا خاتمہیکم اپریل 1939ء کو ہسپانوی خانہ جنگی باضابطہ طور پر ختم ہو گئی جب جنرل فرانسسکو فرانکو کی افواج نے فتح کا اعلان کیا۔ یہ جنگ 1936ء میں شروع ہوئی تھی اور اس میں جمہوری حکومت کے حامیوں (ریپبلکنز) اور قوم پرستوں (نیشنلٹس) کے درمیان شدید لڑائی ہوئی۔فرانکو کی قیادت میں قوم پرستوں کو جرمنی اور اٹلی کی فاشسٹ حکومتوں کی حمایت حاصل تھی جبکہ ریپبلکنز کو سوویت یونین اور بین الاقوامی رضاکاروں کی مدد حاصل تھی۔ یکم اپریل کو فرانکو نے اعلان کیا کہ جنگ ختم ہو چکی ہے۔اس فتح کے بعد سپین میں ایک طویل آمریت کا آغاز ہوا جو 1975ء میں فرانکو کی موت تک جاری رہی۔ بی بی سی کا اپریل فولیکم اپریل 1957ء کو برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے ایک مشہور اپریل فول مذاق کیا جسے تاریخ کے کامیاب ترین میڈیا ہوکس میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس پروگرام میں دکھایا گیا کہ سوئٹزرلینڈ میں سپیگٹی کے درخت اُگتے ہیں اور لوگ ان سے سپیگٹی توڑ رہے ہیں۔یہ رپورٹ بی بی سی کے پروگرام پینوراما میں نشر ہوئی جو عام طور پر سنجیدہ اور تحقیقی پروگرام سمجھا جاتا تھا۔ اس وجہ سے بہت سے ناظرین نے اس خبر کو سچ مان لیا۔ نشر ہونے کے بعد بی بی سی کو سینکڑوں فون کالز موصول ہوئیں جن میں لوگوں نے پوچھا کہ وہ سپیگٹی کا درخت کیسے اُگا سکتے ہیں۔یہ واقعہ میڈیا کی طاقت اور عوام کے اعتماد کی ایک دلچسپ مثال ہے۔ اس نے یہ بھی ظاہر کیا کہ کس طرح معلومات کی تصدیق کے بغیر لوگ کسی بھی خبر کو سچ مان سکتے ہیں۔ فارو جزائر کی خود مختاری یکم اپریل 1948ء کو ڈنمارک کے زیر انتظام فارو جزائر کو خود مختار حیثیت دی گئی۔ یہ شمالی بحر اوقیانوس میں واقع ایک جزیرہ نما علاقہ ہے جہاں کے عوام نے طویل عرصے تک خود حکمرانی کے لیے جدوجہد کی۔دوسری جنگ عظیم کے بعد فارو کے عوام میں قومی شناخت کا شعور مزید مضبوط ہوا۔ 1946ء میں ایک ریفرنڈم بھی ہوا جس میں معمولی اکثریت نے آزادی کے حق میں ووٹ دیا تاہم ڈنمارک نے مکمل آزادی دینے کے بجائے ایک سمجھوتہ کیا۔ اس کے نتیجے میں 1948ء کا ہوم رول ایکٹ نافذ کیا گیا جو یکم اپریل سے مؤثر ہوا۔اس قانون کے تحت فارو جزائر کو داخلی معاملات پر مکمل اختیار دیا گیا جبکہ خارجہ امور اور دفاع ڈنمارک کے پاس رہے۔

وادیِ سندھ کی تہذیب

وادیِ سندھ کی تہذیب

عالمگیر تمدن،سامی رابطہ اور الہامی روایت آثارِ قدیمہ کے ممتاز محقق رچرڈ ایچ میڈوز ( Richard H. Meadow) کے مطابق قدیم سندھی تہذیب محض ایک محدود جغرافیائی یا علاقائی تمدن نہیں بلکہ ایک طویل اور ہمہ گیر ثقافتی عہد کا نام ہے جس کی وسعت وادی سندھ اور ہاکڑا کے میدانوں سے نکل کر بلوچستان، چولستان، تھر، ساحلِ مکران، گجرات اور اس سے ملحقہ جزائر تک پھیلی ہوئی تھی۔ دیگر عالمی ماہرینِ آثارِ قدیمہ کے مطابق بھی اس تہذیب کے اثرات مغرب کی جانب فارس اور عراق سے ہوتے ہوئے ترکیہ کے آخری خطوں تک پہنچے، حتیٰ کہ جارجیا اور آرمینیا میں ملنے والے کھنڈرات میں بھی اس کے نقوش نمایاں ہیں۔مارک کینویر اور جم شیفر نے قدیم سندھی تہذیب کو چار بڑے ادوار میں تقسیم کیا ہے، جن میں پہلا دور حجری یا نو حجری (Neolithic) کہلاتا ہے جو تقریباً ساڑھے پانچ ہزار سال قبل مسیح تک جاتا ہے۔ اس اعتبار سے وادیِ سندھ کی تہذیب اب تک معلوم انسانی تاریخ کی قدیم ترین شہری تہذیب قرار پاتی ہے، جس پر ماہرینِ آثارِ قدیمہ اور تاریخ دانوں کا عمومی اتفاق موجود ہے۔ اس کے مقابلے میں مصر کی فراعینی تہذیب تین سے چار ہزار سال قبل مسیح کی ہے جبکہ یونان (ایتھنز اور سپارٹا)، جنوبی امریکہ کی انکا، مایا اور ازٹیک تہذیبیں، نیز میسوپوٹیمیا (سومر اور بابل) اور عیلامی تہذیبیں اپنی تمام تر عظمت کے باوجود قدامت میں وادیِ سندھ کا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔سات شہری ریاستیں اور بادِ ایمن کا تصوروادیِ سندھ کی تہذیب میں سات عظیم شہری ریاستوں کا ذکر ملتا ہے جن کے لیے بعض مؤرخین نے بادِ ایمن (Bad Imin) کی اصطلاح استعمال کی ہے۔ ان ریاستوں میں موئن جو دڑو، چہنوں جو دڑو، نال، آمری، ہڑپہ، نصیرآباد اور مہرگڑھ شامل ہیں۔ آثار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان علاقوں میں زراعت اور تجارت اس قدر ترقی یافتہ تھیں کہ رزق کی فراوانی عام تھی اور غربت یا پسماندگی کے منظم آثار کہیں دکھائی نہیں دیتے۔ غالباً اسی معاشی خوشحالی، امن اور سماجی توازن کے باعث ان ریاستوں نے مشترکہ تہذیبی شناخت کے طور پر ''بادِ ایمن‘‘ کو قبول کیا۔ویدک، غیر ویدک اور عربی روایاتسندھی تہذیب کو محض ویدک رشیوں کی پیداوار کہنا درست نہیں بلکہ یہ ویدی اور غیر ویدی عناصر کا ایک پیچیدہ اور بامعنی امتزاج ہے۔ مہا بھارت کے واقعات بالخصوص کوروؤں کی حمایت کرنے والے قبائل کے نام اگر عربی لسانی و تاریخی تناظر میں دیکھے جائیں تو قدیم تاریخ کے کئی پوشیدہ پہلو روشن ہوتے ہیں۔مثلاً شیمی قبیلہ جس کا ذکر شورکوٹ (ضلع جھنگ) کے قریب ملنے والی قدیم تحریروں میں شیمی پورہ کے نام سے ملتا ہے، عربی اور سبائی روایات سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔ عربوں میں دادا کا نام پوتے کو دینا عام روایت تھی جس سے ہندی اوس اور عربی اوس (فرزندانِ سبا) کے مابین نسلی ربط واضح ہوتا ہے۔ اسی طرح مہا بھارت کے شکست خوردہ فریق کے سردار راجہ کرن کا عربی متبادل ملکِ قرن بنتا ہے جو عربی تاریخی روایات میں بھی ملتا ہے۔سید سلیمان ندوی نے سوامی دیانند سرسوتی کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ مہا بھارت کے زمانے تک ہندوستان میں عربی زبان نہ صرف سمجھی جاتی تھی بلکہ بولی بھی جاتی تھی جو برصغیر اور عرب کے مابین قدیم لسانی ربط کا واضح ثبوت ہے۔جغرافیائی ناموں کی تاریخی گردشہند اور سند محض نسلی نہیں بلکہ جغرافیائی اصطلاحات ہیں جو مختلف ادوار میں بدلتی رہی ہیں۔ چوتھی صدی عیسوی تک جنوبی عرب کے بعض حصے ارضِ ہند کہلاتے تھے جبکہ ابلہ اور بصرہ جیسے مقامات بھی اسی نام سے معروف رہے۔ اوستائی دور میں ایران کا جنوبی حصہ بومِ ہندواں کہلاتا تھا اور عیلام کے بادشاہ کدراَدا کورماکو کو کدرتانِ ہندی کہا جاتا تھا۔ یہ تمام شواہد ہند، سندھ اور عرب کے باہمی تاریخی ربط کو تقویت دیتے ہیں۔سندھی مہریں، رسم الخط اور مغربی تعصبسر جان مارشل نے 1925ء میں سندھی مہروں کا مطالعہ کر کے یہ ثابت کیا کہ ان کا تعلق عراق کے اکدی دور تک جاتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان مہروں کو بائیں سے دائیں نہیں بلکہ دائیں طرف سے پڑھا جانا چاہیے۔ اس کے باوجود بعد کے اکثر مغربی محققین نے دانستہ طور پر ان نوشتوں کو سامی، عربی یا عبرانی تناظر میں پڑھنے سے گریز کیا تاکہ وادیِ سندھ کی تہذیب کو الہامی روایت سے جوڑنے سے بچا جا سکے۔مولانا ابوالجلال ندوی اور ڈاکٹر خالد حسن قادری کا دوٹوک مؤقف ہے کہ قدیم سندھی نوشتے عربی کی ابتدائی صورت ہیں۔ مولانا ندوی کے مطابق چین کے سوا دنیا کی اکثر ابجدوںیونانی، لاطینی، عبرانی، عربی، اردو اور دیوناگری کا سلسلۂ نسب ہڑپہ کے نوشتوں سے جا ملتا ہے۔ اہرامِ مصر، موئن جو دڑو اور ہڑپہ جیسے آثار محض اتفاق یا حادثے کا نتیجہ نہیں بلکہ اس علم کی یادگار ہیں جو نسلِ انسانی کو منتقل ہوا۔ مغرب آج بھی ان تہذیبوں کے کئی اسرار حل کرنے سے قاصر ہے جو اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ قدیم دنیا محض ابتدا نہیں بلکہ گہری روحانی اور علمی بنیادوں پر قائم تھی۔

بچوں کو سمارٹ فون دینے کی صحیح عمر

بچوں کو سمارٹ فون دینے کی صحیح عمر

صحت اور نفسیات کا اہم سوالڈیجیٹل دور میں سمارٹ فون ہماری زندگی کا لازمی حصہ بن چکا ہے لیکن ایک اہم سوال تیزی سے زیرِ بحث آ رہا ہے کہ بچوں کو سمارٹ فون کس عمر میں دیا جائے؟ حالیہ سائنسی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ کم عمری میں سمارٹ فون کا استعمال بچوں کی جسمانی اور ذہنی صحت پر منفی اثرات ڈال سکتا ہے۔یہ مسئلہ صرف مغربی ممالک تک محدود نہیں بلکہ پاکستان جیسے معاشروں میں بھی تیزی سے اہم ہوتا جا رہا ہے جہاں بچوں کے ہاتھوں میں موبائل فون عام ہوتے جا رہے ہیں۔ایک جامع تحقیق، جس میں 10 ہزار سے زائد بچوں کا ڈیٹا شامل تھا، یہ ظاہر کرتی ہے کہ جن بچوں کے پاس 12 سال کی عمر تک سمارٹ فون تھا، ان میں کئی صحت کے مسائل زیادہ دیکھے گئے۔ تحقیق کے مطابق ایسے بچوں میں ڈپریشن کی شرح زیادہ تھی۔ تقریباً 5.7 فیصد سمارٹ فون رکھنے والے بچوں میں ڈپریشن پایا گیا جبکہ بغیر فون بچوں میں یہ شرح کم تھی۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ مسلسل سکرین ٹائم، سوشل میڈیا کا دباؤ اور آن لائن دنیا میں موازنہ کرنے کی عادت بچوں کی ذہنی صحت پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔سمارٹ فون رکھنے والے بچوں میں باڈی ماس انڈیکس (BMI)بھی زیادہ پایا گیا اور تقریباً 16 فیصد بچے موٹاپے کا شکار تھے جبکہ بغیر فون بچوں میں یہ شرح کم تھی۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ بچے کھیل کود اور جسمانی سرگرمیوں کے بجائے سکرین پر وقت گزارتے ہیں۔تحقیق کے مطابق سمارٹ فون رکھنے والے بچے اوسطاً روزانہ تقریباً 17 منٹ کم سوتے ہیں۔ یہ معمولی فرق لگ سکتا ہے مگر مسلسل نیند کی کمی بچوں کی نشوونما، توجہ اور تعلیمی کارکردگی پر منفی اثر ڈالتی ہے۔تحقیق کا ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ جتنی کم عمر میں بچے کو سمارٹ فون دیا جائے اتنے ہی زیادہ صحت کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ یہ بھی دیکھا گیا کہ جو بچے 12 سال کی عمر کے بعد فون لیتے ہیں ان میں بھی نیند کی کمی اور ذہنی مسائل کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، اگرچہ نسبتاً کم ہوتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ تمام ماہرین اس بات پر متفق نہیں کہ صرف سمارٹ فون ہی مسائل کی وجہ ہے۔ کچھ تحقیقات بتاتی ہیں کہ اصل مسئلہ یہ نہیں کہ بچے کو فون کب ملا بلکہ وہ اسے کیسے استعمال کرتا ہے۔ یعنی اگر استعمال متوازن ہو، والدین کی نگرانی ہو، اور سکرین ٹائم محدود ہو تو خطرات کم کیے جا سکتے ہیں۔پاکستانی معاشرے میں صورتحالپاکستان میں یہ مسئلہ کچھ مختلف انداز میں سامنے آتا ہے ، مثال کے طور پرشہری علاقوں میں بچوں کو کم عمری میں موبائل فون مل جاتا ہے۔آن لائن کلاسز اور یوٹیوب نے سمارٹ فون کو ''تعلیمی ضرورت‘‘بنا دیا ہے اوروالدین اکثر بچوں کو مصروف رکھنے کے لیے فون دے دیتے ہیں۔سوشل میڈیا (ٹک ٹاک، انسٹا گرام وغیرہ) کا بڑھتا ہوا رجحان بھی بچوں میں موبائل فون کے زیادہ استعمال کی بڑی وجہ ہے۔ یہ تمام عوامل بچوں کے سکرین ٹائم کو بڑھا رہے ہیں، جس کے نتیجے میں وہ جسمانی سرگرمیوں، کتابوں اور سماجی میل جول سے دور ہو رہے ہیں۔والدین کیا کریں؟ماہرین کے مطابق سمارٹ فون دینا کوئی غلط فیصلہ نہیں، لیکن اسے سوچ سمجھ کر استعمال کرنا چاہیے۔ممکن ہو تو بچوں کو کم از کم 13 سال یا اس سے زیادہ عمر میں سمارٹ فون دیں۔روزانہ استعمال کا وقت مقرر کریں، خاص طور پر رات کے وقت۔بچوں کو سونے کے وقت فون سے دور رکھیں تاکہ نیند متاثر نہ ہو۔ کھیل کود، واک اور آؤٹ ڈور ایکٹیویٹیز کو روزمرہ زندگی کا حصہ بنائیں۔بچوں کی آن لائن سرگرمیوں پر نظر رکھیں اور انہیں ذمہ دارانہ استعمال سکھائیں۔حقیقی زندگی میں دوستوں اور خاندان کے ساتھ وقت گزارنا ذہنی صحت کے لیے ضروری ہے۔یہ بات سمجھنا بھی ضروری ہے کہ سمارٹ فون بذاتِ خود دشمن نہیں۔ یہ ایک طاقتور ٹول ہے جو تعلیم، معلومات اور رابطے کے لیے مفید ہے، لیکن اس کا غیر متوازن استعمال بچوں کی صحت کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔ماہرین کے مطابق سمارٹ فون کے ساتھ زندگی گزارنا سیکھنے کا ایک عمل ہے جس میں بچوں اور والدین دونوں کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ حالیہ تحقیق واضح طور پر یہ اشارہ دیتی ہے کہ بچوں کو کم عمری میں سمارٹ فون دینا ان کی ذہنی، جسمانی اور سماجی صحت کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔ پاکستان جیسے معاشرے میں جہاں ڈیجیٹل تبدیلی تیزی سے ہو رہی ہے، والدین کے لیے یہ اور بھی ضروری ہو جاتا ہے کہ وہ اس معاملے میں محتاط فیصلہ کریں۔اہم سوال یہ نہیں کہ بچے کو فون دینا ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کب، کیسے اور کس حد تک دینا ہے۔اور یہی فیصلہ بچوں کے مستقبل پر گہرا اثر ڈال سکتا ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

ایفل ٹاور کا افتتاح 31 مارچ 1889ء کو فرانس کے دارالحکومت پیرس میں دنیا کے مشہور ترین تعمیراتی شاہکاروں میں سے ایک، ایفل ٹاور کا افتتاح کیا گیا۔ یہ ٹاور فرانسیسی انجینئر گوستاو ایفل کی نگرانی میں تعمیر کیا گیا تھا اور اسے فرانسیسی انقلاب کے 100 سال مکمل ہونے کی یاد میں منعقد ہونے والی عالمی نمائش کے لیے بنایا گیا تھا۔ایفل ٹاور کی تعمیر 1887ء میں شروع ہوئی اور دو سال، دو ماہ اور پانچ دن میں مکمل ہوئی۔ابتدائی طور پر پیرس کے کئی ادیبوں اور فنکاروں نے اس کی مخالفت کی اور اسے شہر کے حسن کے خلاف قرار دیا مگر وقت کے ساتھ یہ نہ صرف پیرس بلکہ پورے فرانس کی پہچان بن گیا۔ آئزک نیوٹن کا انتقال 31 مارچ 1727ء کو عظیم برطانوی سائنسدان سر آئزک نیوٹن کا لندن میں انتقال ہوا۔ نیوٹن کو جدید سائنس کی بنیاد رکھنے والوں میں شمار کیا جاتا ہے، خصوصاً طبیعیات اور ریاضی کے میدان میں ان کی خدمات بے مثال ہیں۔نیوٹن نے حرکت کے تین قوانین پیش کیے جنہوں نے کائنات کے طبعی نظام کو سمجھنے میں انقلاب برپا کیا۔ ان کی کتاب Philosophiæ Naturalis Principia Mathematicaکو سائنس کی تاریخ کی سب سے اہم کتابوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ان کی دریافتوں نے نہ صرف سائنسی تحقیق کو نئی سمت دی بلکہ صنعتی انقلاب اور جدید ٹیکنالوجی کی بنیاد بھی رکھی۔جارجیا ریفرنڈم31 مارچ 1991ء کو جارجیا میں ایک تاریخی ریفرنڈم منعقد ہوا جس میں عوام نے سوویت یونین سے آزادی کے حق میں ووٹ دیا۔اس ریفرنڈم میں تقریباً 99 فیصد ووٹروں نے آزادی کے حق میں ووٹ دیا جو اس بات کا واضح اظہار تھا کہ جارجیا کے عوام سوویت کنٹرول سے نکلنا چاہتے تھے۔ اس کے بعد 9 اپریل 1991ء کو جارجیا نے باضابطہ طور پر اپنی آزادی کا اعلان کر دیا۔یہ واقعہ نہ صرف جارجیا بلکہ دیگر سوویت ریاستوں کے لیے بھی حوصلہ افزا ثابت ہوا، جنہوں نے بعد میں آزادی کی تحریکیں تیز کر دیں۔یہ ریفرنڈم سرد جنگ کے خاتمے اور دنیا کے سیاسی نقشے میں بڑی تبدیلیوں کی علامت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ٹیری شیاوو کا انتقال 31 مارچ 2005ء کو امریکہ میں ایک خاتون ٹیری شیاوو کا انتقال ہوا، جو ایک طویل قانونی اور اخلاقی تنازعے کا مرکز بنی رہی۔ وہ 1990ء میں دل کا دورہ پڑنے کے بعد مستقل کومے کی حالت میں چلی گئی تھی۔اس کے شوہر اور والدین کے درمیان اس بات پر شدید اختلاف پیدا ہوا کہ آیا اسے مصنوعی طور پر زندہ رکھا جائے یا نہیں۔ یہ معاملہ امریکی عدالتوں، سیاستدانوں، حتیٰ کہ امریکی کانگریس تک پہنچ گیا۔بالآخر عدالت نے فیصلہ دیا کہ اس کی خوراک کی نالی ہٹا دی جائے جس کے بعد 31 مارچ 2005ء کو اس کا انتقال ہو گیا۔ اس واقعے نے اور طبی اخلاقیات پر ایک بڑی بحث چھیڑ دی۔