تکبرکے مضراثرات

تکبرکے مضراثرات

اسپیشل فیچر

تحریر : مولانا محمد شاہد


تکبرایک ایسا مہلک مرض ہے جو اپنے ساتھ کئی برائیوں کو لاتا ہے اور کئی اچھائیوں سے آدمی کو محروم کردیتا ہےدل سے تکبر کی گندگی کوصاف کرنے کے لئے تواضع و عاجزی اختیار کرنا بے حد مفید ہے *********اللہ عزوجل نے حضرت سیدنا آدم علیہ السلام کی تخلیق یعنی پیدائش کے بعد تمام فرشتوں اور ابلیس یعنی شیطان کوحکم دیا کہ ان کو سجدہ کریں تو تمام فرشتوں نے حکم خداوندی کی تعمیل میں سجدہ کیا مگر ابلیس نے انکار کردیا اور تکبر کر کے کافروں میں سے ہوگیا۔ جب رب عزوجل نے ابلیس سے اس کے انکار کا سبب دریافت فرمایا تو اکڑ کر کہنے لگا: ترجمہ: میں اس سے بہتر ہوں کہ تو نے مجھے آگ سے بنایا اور اسے مٹی سے پیدا کیا۔ اس سے ابلیس کی فاسد مراد یہ تھی کہ اگر حضرت سیدنا آدم علیہ السلام آگ سے پیدا کئے جاتے اور میرے برابر بھی ہوتے جب بھی میں انہیں سجدہ نہ کرتا چہ جائیکہ میں ان سے بہتر ہوکر ان کو سجدہ کروں۔ ابلیس کی اس سرکشی، نافرمانی اور تکبر پر اللہ رب العزت جل جلالہ نے ابلیس کو اپنی بارگاہ سے دھتکارتے ہوئے ارشاد فرمایا: ترجمہ : تو جنت سے نکل جا کہ تو راندھاگیا اور بے شک تجھ پر میری لعنت ہے قیامت تک۔ آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ کس طرح تکبر کے باعث ابلیس یعنی شیطان کو اپنے ایمان سے ہاتھ دھونے پڑے۔ شیطان جس کا نام پہلے عزازیل تھا، ابتدا ہی سے سرکش ونافرمان نہ تھا بلکہ اس نے ہزاروں سال عبادت کی، یہ جن تھا مگر اپنی عبادت و ریاضت اور علمیت کے سبب معلم الملکوت یعنی فرشتو ں کا استاذ بن گیا مگر چند گھڑیوں کے تکبر نے اسے کہیں کا نہ چھوڑا۔ اس کی برسوں کی عبادتیں اکارت یعنی بے کاراورہزاروں سال کی ریاضت پامال ہوگئی۔ ذلت ورسوائی اس کا مقدر ٹھہری۔ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے لعنت کا طوق اس کے گلے پڑ گیا اور وہ جہنم کے دائمی یعنی ہمیشہ ہمیشہ کے عذاب کا مستحق ٹھہرا۔ نمرود جس نے بظاہر پو ری دنیا پر حکومت کی۔ وہ بھی تکبر کی اسی قسم کا شکار ہوا۔ اس نے خدائی کادعویٰ کیا تو اللہ عزوجل نے حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو نمرود کی طرف بھیجا تو اس نے آپ علیہ السلام کو جھٹلایا، حتیٰ کہ یہ دعویٰ تک کر بیٹھا: میں آسمان کے رب کو قتل کردو ں گا۔ معاذاللہ عزوجل اور اس ارادے سے آسمان کی طرف تیر برسائے، جب تیر خون آلود ہ ہوکر واپس زمین پر آگرے تو اس نے اپنی جہالت، بغض وعداوت اور کفر کی وجہ سے گمان کیا کہ اس نے آسمان کے رب کوقتل کردیا( معاذاللہ) ۔حتی کہ اللہ عزوجل نے نمرود کی طرف ایک مچھرکوبھیجاجو ناک کے ذریعے اس کے دماغ میں گھس گیااور اللہ عزوجل نے اس مغرورکوایک معمولی مچھر کے ذریعے ہلاک فرمادیا۔انسان کو تکبر پر ابھارنے والے اسباب متعدد ہیں جب کہ فی زمانہ عموما ًان آٹھ اسباب کی بناء پر تکبر کیا جا تا ہے جس کے نظارے عام ہیں۔ (۱)علم(۲)عبادت(۳)مال ودولت (۴) حسب ونسب(۵)حسن وجمال (۶)کامیابیاں (۷) طاقت و قوت(۸)عہدہ و منصب رب تعالیٰ کا کبریائی کو اپنی چادر فرمانا یہ سمجھانے کے لئے ہے کہ جیسے ایک چادر کودو بندے نہیں اوڑھ سکتے، اسی طرح عظمت وکبریائی سوائے میرے کسی دوسرے کے لیے نہیںہوسکتی۔انسان کی پیدائش بدبودار نطفے(یعنی گندے قطرے)سے ہوتی ہے‘ انجام کار سڑا ہوا مردہ ہے اور اس قدر بے بس ہے کہ اپنی بھوک، پیاس، نیند، خوشی، غم، یادداشت، بیماری یا موت پر اسے کچھ اختیار نہیں۔ اس لئے اِسے چاہئے کہ اپنی اصلیت، حیثیت اور اوقات کو کبھی فراموش نہ کرے، وہ اس دنیا میں ترقی کی منزلیں طے کرتا ہوا کتنے ہی بڑے مقام ومرتبے پر کیوں نہ پہنچ جائے، خالق کون و مکاں عزوجل کے سامنے اس کی حیثیت کچھ بھی نہیں ہے۔ صاحب عقل انسان تواضع اور عاجزی کا چلن اختیار کرتا ہے اور یہی چلن اس کو دنیا میں بڑائی عطا کرتا ہے ورنہ اس دنیا میں جب بھی کسی انسان نے فرعونیت، قارونیت اورنمرودیت والی راہ پکڑی ہے، بسا اوقات اللہ تعالیٰ نے اسے دنیا ہی میں ایساذلیل وخوار کیا ہے کہ اس کا نام تعریف کرنے کے لیے نہیں بلکہ بطور مذمت لیا جاتا ہے، لہذاعقل و فہم کا تقاضہ یہ ہے کہ اس دنیا میں اونچی پرواز کے لئے انسان جیتے جی پیوند ِزمین ہوجائے اور عاجزی و انکساری کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنالے، پھر دیکھئے کہ اللہ رب العزت اس کو کس طرح عزت وعظمت سے نوازتاہے اور دنیا میں محبوبیت اور مقبولیت کا وہ اعلیٰ مقام عطا کرتا ہے جو اس کے فضل و کرم کے بغیر مل جانا ممکن ہی نہیں ہے۔ حضرت سیدنا حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ارشاد فرماتے ہیں کہ ہم حضورﷺ کے ساتھ ایک جنازے میں شریک تھے کہ آپ ؐ نے ارشاد فرمایا: کیا میں تمہیں اللہ عزوجل کے بدترین بندے کے بارے میں نہ بتاؤں؟ وہ بداخلاق اورمتکبر ہے، کیا میں تمہیں اللہ عزوجل کے سب سے بہترین بندے کے بارے میں نہ بتاؤں؟ وہ کمزور اورضعیف سمجھا جانے والا بوسیدہ لباس پہننے والا شخص ہے لیکن اگر وہ کسی بات پر اللہ عزوجل کی قسم اٹھالے تو اللہ عزوجل اس کی قسم ضرور پوری فرمائے۔ ذرا سوچئے کہ اس تکبر کا کیا حاصل! محض لذت نفس... وہ بھی چند لمحوں کے لئے! جب کہ اس کے نتیجے میں اللہ ورسول اکرمؐ کی ناراضی، مخلوق کی بیزاری، میدان محشر میں ذلت ورسوائی، رب عزوجل کی رحمت اور انعاماتِ جنت سے محرومی اور جہنم کا رہائشی بننے جیسے بڑے بڑے نقصانات کا سامنا ہے۔ اب فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے کہ چندلمحوں کی لذت چاہئے یاہمیشہ کے لئے جنت ! میدان محشر میں عزت چاہئے یا ذلت ؟ یقیناً ہم خسارے میں نہیں رہنا چاہیں گے توہمیں چاہیے کہ اپنے اندر اس مرض تکبر کی موجودگی کا پتا چلائیں اور اس کے علاج کے لئے کوشاں ہوجائیں۔ ہر باطنی مرض کی کچھ نہ کچھ علامات ہوتی ہیں۔ آئیے! سب سے پہلے ہم تکبر کی علامات کے بارے میں جانتے ہیں، پھر سنجیدگی سے اپنا محاسبہ کرنے کی کوشش کرتے ہیںمگریاد رہے تکبر کی معلومات حاصل کرنے کا مقصد اپنی اصلاح ہو، نہ کہ دوسرے مسلمانوں کے عیوب جاننے کی جستجو۔ خبردار! اپنی ناقص معلومات کی بنا پرکسی بھی مسلمان پر خواہ مخواہ متکبر ہونے کا حکم صادر نہ فرمائیے۔ یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ ان علامات کومحض ایک مرتبہ پڑھنا اور سرسری طور پر اپنا جائز ہ لے لینا ہی کافی نہیں کیوں کہ نفس وشیطان کبھی نہیں چاہیں گے کہ ہم ان علامات کو اپنے اندر تلاش کرکے تکبر کا علاج کرنے میں کامیاب ہوجائیں ، لہٰذا علامات ِ تکبر کو بار بار پڑھ کرخوب اچھی طرح ذہن نشین کر لیجئے‘ پھر اپنا مسلسل محاسبہ جاری رکھئے تو انشاء اللہ کامیابی کی راہ ہموار ہوجائے گی۔ عجمیوں کا کھڑے ہونے کا طریقہ قبیح و مذموم ہے، اس طرح کھڑے ہونے کی ممانعت ہے۔وہ یہ ہے کہ اُمراء بیٹھے ہوئے ہوتے ہیں اور کچھ لوگ بوجہ تعظیم ان کے قریب کھڑے رہتے ہیں۔ دوسری صورت عدم جواز کی وہ ہے کہ وہ خود پسند کرتا ہو کہ میرے لیے لوگ کھڑے ہوا کریں اور کوئی کھڑا نہ ہو تو بُرا مانے جیسا کہ پاکستان اور ہندوستان وغیرہ میں اب بھی بہت جگہ رواج ہے کہ امیروں، رئیسوں، زمینداروں کے لئے ان کی رعایا کھڑی ہوتی ہے، نہ کھڑی ہو تو زدوکوب تک نوبت آجاتی ہے۔تاہم اگر کوئی کسی کی بزرگی یا علم وفضل یا کسی اور وجہ سے احتراماً یا تواضع کے طور پر کسی کے لئے کھڑا ہوتا ہے تو یہ ناجائز نہیں۔تکبر ایسا مہلک مرض ہے کہ اپنے ساتھ دیگر کئی برائیوں کو لاتا ہے اور کئی اچھائیوں سے آدمی کو محروم کردیتا ہے۔ متکبر شخص جوکچھ اپنے لئے پسند کرتا ہے، اپنے مسلمان بھائی کے لئے پسند نہیں کرسکتا، ایساشخص عاجزی پر بھی قادر نہیں ہوتا جو تقویٰ وپرہیزگاری کی جڑ ہے، کینہ بھی نہیں چھوڑ سکتا۔ اپنی عزت بچانے کے لئے جھوٹ بولتا ہے، اس جھوٹی عزت کی وجہ سے غصہ نہیں چھوڑ سکتا، حسد سے نہیں بچ سکتا، کسی کی خیرخواہی نہیں کرسکتا۔ دوسروں کی نصیحت قبول کرنے سے محروم رہتا ہے، لوگوں کی غیبت میں مبتلا ہوجاتا ہے‘ الغرض متکبر آدمی اپنا بھرم قائم رکھنے کے لئے ہربرائی کرنے پرمجبور اور ہر اچھے کام کو کرنے سے عاجز ہوجاتا ہے ۔ اپنے دل سے تکبر کی گندگی کوصاف کرنے کے لئے تواضع و عاجزی کو اختیار کرنا بے حد مفید ہے ۔چنانچہ حضرت سیدنا حسن رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: تواضع یہ ہے کہ جب تم اپنے گھرسے نکلو تو جس مسلمان سے بھی ملو اسے خودسے افضل جانو۔حضرت سیدنا امام حسن بصریؒاس قدر منکسرالمزاج تھے کہ ہر فرد کو اپنے سے بہتر تصور کرتے۔ اس کا سبب یہ ہوا کہ ایک دن دریائے دجلہ پر کسی حبشی کوعورت کے ساتھ اس طرح دیکھا کہ شراب کی بوتل اس کے سامنے تھی۔ اس وقت آپؒ کو یہ گمان ہوا کہ کیا یہ بھی مجھ سے بہتر ہو سکتا ہے؟ کیوں کہ یہ تو شرابی ہے۔ اسی دورا ن ایک کشتی سامنے آئی جس میں سات افراد سوارتھے اور وہ یکایک ڈوبنے لگی۔ یہ دیکھ کر حبشی پانی میں کود گیا اور چھ افراد کو ایک ایک کر کے نکالا۔ پھر آپؒ سے عرض کیا: آپؒ صرف ایک ہی کی جان بچا لیں۔ میں تو یہ امتحان لے رہا تھا کہ آپؒ کی چشم باطن کھلی ہوئی ہے یا نہیں! اور یہ خاتون جو میرے ساتھ بیٹھی ہیں، میری والدہ ہیں اور اس بوتل میں سادہ پانی ہے۔ یہ سنتے ہی حضرت حسن بصری ؒ نے ندامت سے حبشی سے کہا کہ جس طرح تو نے چھ افرادکی جان بچائی‘ اسی طرح تکبر سے میری جان بھی بچادے۔ اس نے دعا کی کہ اللہ تعالی آپؒ کو نور بصیرت عطا فرمائے یعنی کبرونخوت کو دور کر دے ۔چنانچہ ایسا ہی ہوا اور اس کے بعد آپؒ نے اپنے آپؒ کو کبھی بہتر تصور نہیں کیا۔٭…٭…٭

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
ورلڈ ہیپاٹائٹس ڈے

ورلڈ ہیپاٹائٹس ڈے

محتاط رہیں،محفوظ رہیںہر سال 28 جولائی کو دنیا بھر میں ہیپاٹائٹس ڈے منایا جاتا ہے جس کا مقصد عوام میں ہیپاٹائٹس کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا، بروقت تشخیص، مؤثر علاج اور احتیاطی تدابیر کو فروغ دینا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق دنیا بھر میں 30 کروڑ 40 لاکھ افراد ہیپاٹائٹس بی یا سی کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں، جبکہ 2022ء میں تقریباً 13 لاکھ افراد اس بیماری کے باعث جان کی بازی ہار گئے۔ یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ ہیپاٹائٹس صرف ایک طبی مسئلہ نہیں بلکہ صحت کے ایک خوفناک بحران کی صورت اختیار کر چکاہے۔پاکستان کے لیے یہ دن خصوصی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ ہمارا ملک دنیا میں ہیپاٹائٹس سی کے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق پاکستان میں ہیپاٹائٹس بی اور سی سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد تقریباً ایک کروڑ 38 لاکھ ہے جبکہ ان میں سے صرف 25 سے 30 فیصد افراد ہی اپنی بیماری سے آگاہ ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ لاکھوں افراد انجانے میں بیماری کو دوسروں تک منتقل بھی کر رہے ہیں اور خود بھی علاج سے محروم ہیں۔ہیپاٹائٹس ، تشویشناک پھیلاؤ ہیپاٹائٹس بی اور سی کے پھیلنے کی کئی بنیادی وجوہات ہیں جن میں غیر محفوظ طبی طریقہ کار سب سے نمایاں ہے۔ ماہرین کے مطابق غیر ضروری انجکشن لگانے کا رجحان، استعمال شدہ سرنجوں کا دوبارہ استعمال، غیر معیاری کلینکس، دانتوں کے علاج میں جراثیموں سے پاک کئے بغیر آلات کا استعمال اور حجام کی دکانوں پر ایک ہی بلیڈ کا بار بار استعمال اس بیماری کے پھیلاؤ کے بڑے اسباب ہیں۔ عالمی ادارہ صحت بھی انہی عوامل کو پاکستان میں ہیپاٹائٹس کے پھیلاؤ کی بنیادی وجوہات قرار دیتا ہے۔حالیہ طبی مطالعات سے معلوم ہوا ہے کہ عمر کے ساتھ ہیپاٹائٹس کی شرح میں اضافہ ہوتا ہے جبکہ ایسے افراد جن کے خاندان میں جگر کی بیماری کی تاریخ موجود ہو یا جو بار بار حجام سے شیو کرواتے ہوں ان میں خطرہ نسبتاً زیادہ ہوتا ہے۔ ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ قومی سطح پر سکریننگ‘ احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل درآمد اور بروقت علاج ہی اس جان لیوا مرض سے بچاؤکا مؤثر ذریعہ ہے۔خاموش بیماری مہلک نتائجہیپاٹائٹس کو اکثر خاموش قاتل کہا جاتا ہے کیونکہ اس کی ابتدائی علامات بہت کم یا بالکل ظاہر نہیں ہوتیں۔ بہت سے مریض برسوں تک معمول کی زندگی گزارتے رہتے ہیں لیکن اس دوران وائرس مسلسل جگر کو نقصان پہنچاتا رہتا ہے۔ جب علامات ظاہر ہوتی ہیں تو اکثر بیماری خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکی ہوتی ہے۔عام علامات میں مسلسل تھکن، کمزوری، بھوک میں کمی، متلی، بخار، پیٹ کے دائیں حصے میں درد، جلد اور آنکھوں کا پیلاپن، پیشاب کی گہری رنگت اور وزن میں غیر معمولی کمی شامل ہے۔ اگر بروقت تشخیص اور علاج نہ کیا جائے تو ہیپاٹائٹس جگر کے سکڑنے (سروسس) جگر کے سرطان اور جگر کے مکمل ناکارہ ہونے کا سبب بن سکتا ہے۔خوش آئند بات یہ ہے کہ ہیپاٹائٹس بی سے بچاؤ کے لیے مؤثر ویکسین دستیاب ہے جبکہ ہیپاٹائٹس سی کا جدید ادویات کے ذریعے کامیاب علاج بھی ممکن ہے بشرطیکہ بیماری کی بروقت تشخیص ہو جائے۔احتیاط ہی مؤثر دفاعہیپاٹائٹس سے بچاؤ کے لیے چند بنیادی احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔سب سے پہلے انجکشن صرف ضرورت کے وقت اور نئی، سیل بند سرنج سے لگوائیں۔ خون لینے دینے کا عمل ہمیشہ مستند بلڈ بینک سے کروائیں اور اس کی مکمل سکریننگ یقینی بنائیں۔ دانتوں کا علاج صرف ایسے کلینکس سے کروائیں جہاں جراثیم سے پاک آلات استعمال کیے جاتے ہوں۔ حجام کی دکان پر ہر مرتبہ نیا بلیڈ استعمال کرنے پر اصرار کریں۔ ریزر، نیل کٹر، ٹوتھ برش اور دیگر ذاتی استعمال کی اشیاکسی کے ساتھ مشترک استعمال نہ کریں۔ کان یا ناک چھدوانے کی صورت میں صرف جراثیم سے پاک آلات استعمال کیے جائیں۔اس کے علاوہ ہیپاٹائٹس بی کی ویکسین ہر بچے اور خطرے سے دوچار بالغ افراد کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ جن افراد کو شک ہو کہ وہ متاثرہ خون یا غیر محفوظ طبی آلات کے ذریعے وائرس کے رابطے میں آئے ہیں انہیں فوری طور پر ہیپاٹائٹس بی اور سی کا ٹیسٹ کروانا چاہیے تاکہ بیماری کی بروقت تشخیص اور علاج ممکن ہو سکے۔قومی سطح پر مشترکہ جدوجہد کی ضرورتہیپاٹائٹس کا خاتمہ صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ پوری قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ غیر معیاری کلینکس اور غیر تربیت یافتہ طبی عملے کے خلاف مؤثر کارروائی کرے، محفوظ خون کی فراہمی کو یقینی بنائے، عوامی آگاہی مہمات کو وسعت دے اور مفت سکریننگ اور علاج کی سہولیات میں اضافہ کرے۔عالمی ادار صحت نے 2030ء تک ہیپاٹائٹس کو صحتِ عامہ کے بڑے خطرے کے طور پر ختم کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اگر ہم قومی سطح پر بروقت اور ضروری اقدامات کریں، عوام احتیاطی اصولوں پر عمل کریں اور ہر مشتبہ فرد اپنا ٹیسٹ کروائے تو اس خاموش قاتل کے پھیلاؤ کو نمایاں حد تک روکا جا سکتا ہے۔عالمی یومِ ہیپاٹائٹس ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ آگاہی، احتیاط، بروقت تشخیص اور مؤثر علاج ہی اس مہلک بیماری کے خلاف ہماری سب سے بڑی طاقت ہیں۔ ایک صحت مند پاکستان کی تعمیر اسی وقت ممکن ہے جب ہر شہری اپنی اور دوسروں کی صحت کے تحفظ کو اپنی قومی ذمہ داری سمجھے۔

ملکی وے

ملکی وے

کہکشاں کا براعظموں کی تشکیل میں کردار؟جرمنی اور جاپان کے سائنسدانوں نے ایک نئی تحقیق میں حیران کن امکان پیش کیا ہے کہ ہماری کہکشاں 'ملکی وے‘ نے اربوں سال پہلے زمین پر براعظموں کی تشکیل میں بالواسطہ کردار ادا کیا ہو گا ۔ اگرچہ یہ نظریہ ابھی ابتدائی تحقیقی مرحلے میں ہے تاہم اس نے ماہرینِ فلکیات اور ارضیات کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔ اگر مستقبل کی تحقیقات اس مفروضے کی تائید کرتی ہیں تو زمین کی ابتدائی تاریخ کے بارے میں ہماری موجودہ سمجھ میں ایک اہم تبدیلی آ سکتی ہے۔زمین سورج کے گرد گردش کرتی ہے جبکہ سورج اپنے تمام سیاروں سمیت ملکی وے کے مرکز کے گرد مسلسل سفر کر رہا ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق ہمارا نظامِ شمسی تقریباً ہر 15 سے 20 کروڑ سال بعد ملکی وے کے ان حصوں سے گزرتا ہے جہاں ستاروں کی تعداد زیادہ اور کششِ ثقل نسبتاً طاقتور ہوتی ہے۔محققین کا کہنا ہے کہ ایسے علاقوں سے گزرتے ہوئے ملکی وے کی اضافی کششِ ثقل نظامِ شمسی کے انتہائی بیرونی حصے میں موجود اوورٹ کلاؤڈ کو متاثر کر سکتی ہے۔ اوورٹ کلاؤڈ برفیلے اجسام اور دمدار ستاروں کا ایک وسیع ذخیرہ ہے جو سورج سے انتہائی فاصلے پر موجود ہے۔جب اس خطے میں کششِ ثقل کا توازن بگڑتا ہے تو بعض دمدار ستارے اپنے اصل مدار سے ہٹ کر اندرونی نظامِ شمسی کی جانب سفر شروع کر دیتے ہیں۔ ان میں سے کچھ کا رخ زمین کی طرف بھی ہو سکتا ہے۔دمدار ستاروں کا تصادم اور براعظموں کی تشکیلزمین کی ابتدائی تاریخ میں بڑے شہابی پتھروں اور دمدار ستاروں کا ٹکراؤ عام تھا اورجرمنی کی جولیس میکسیملین یونیورسٹی کے محقق تھامس سیگرٹ اور جاپان کی کیوٹو یونیورسٹی کے ہیروکی یونیڈا کی تحقیق کے مطابق ممکن ہے کہ انہی میں سے کچھ بڑے تصادم ملکی وے کی کششِ ثقل کے نتیجے میں رونما ہوئے ہوں۔سائنسدانوں کا خیال ہے کہ جب ایسے اجرام زمین سے ٹکراتے تھے تو ان سے پیدا ہونے والی بے پناہ حرارت اور دباؤ زمین کی بیرونی پرت میں بڑی تبدیلیاں لاتے تھے۔ اس عمل سے ایسی چٹانیں وجود میں آئیں جو بعد میں براعظمی پرت کی بنیاد بنیں۔ یہی پرت لاکھوں ، کروڑوں برسوں کے ارتقائی عمل سے گزر کر آج کے براعظموں کی شکل اختیار کرتی گئی۔اس تحقیق کا مقصد یہ نہیں کہ زمین کے اندرونی ارضیاتی عوامل جیسے ٹیکٹونکس پلیٹ یا آتش فشانی سرگرمی کی اہمیت کو کم کیا جائے بلکہ یہ تجویز پیش کی جا رہی ہے کہ ان عوامل کے ساتھ ساتھ ملکی وے کا بالواسطہ اثر بھی براعظموں کی تشکیل میں شامل رہا ہو سکتا ہے۔قدیم زرکون کرسٹل نے کیا راز کھولا؟اس نظریے کو جانچنے کے لیے محققین نے زمین کی قدیم ترین چٹانوں میں موجود زرکون نامی معدنی کرسٹل کا تفصیلی مطالعہ کیا۔ زرکون کو ارضیات میں غیر معمولی اہمیت حاصل ہے کیونکہ یہ اربوں سال پرانی معلومات کو محفوظ رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔سائنسدانوں نے ان کرسٹلز کی عمر اور کیمیائی خصوصیات کا موازنہ ایسے فلکیاتی ماڈلز سے کیا ہے جن میں نظامِ شمسی کے ملکی وے میں سفر کو ظاہر کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق بعض ادوار میں بڑے دمدار ستاروں کے ممکنہ تصادم اور ابتدائی براعظمی چٹانوں کی تشکیل کے درمیان ایک دلچسپ مماثلت پائی گئی۔اگرچہ یہ شواہد اس نظریے کو تقویت دیتے ہیں لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ اربوں سال پرانے فلکیاتی اور ارضیاتی واقعات کو مکمل یقین کے ساتھ ثابت کرنا آسان نہیں اس لیے مزید تحقیق کی ضرورت باقی ہے۔ دلچسپ مفروضہیہ تحقیق کرنے والے جرمن سائنسدان تھامس سیگرٹ اور جاپان کے ہیروکی یونیڈا خود اس بات پر زور دیتے ہیں کہ یہ ابھی ایک سائنسی مفروضہ ہے، ممکن ہے مستقبل میں مزید شواہد اس نظریے کی تائید کریں، اس میں ترمیم کریں یا اسے مسترد کر دیں۔ یہی سائنسی تحقیق کا بنیادی اصول ہے کہ ہر نئی تجویز کو بار بار جانچا جاتا ہے۔تاہم اگر آنے والے برسوں میں یہ نظریہ درست ثابت ہو جاتا ہے تو یہ دریافت ہماری زمین کی تاریخ کو سمجھنے کے انداز کو بدل سکتی ہے۔ اس سے یہ تصور مزید مضبوط ہوگا کہ زمین کی تشکیل صرف اس کے اندرونی عوامل کا نتیجہ نہیں تھی بلکہ اربوں کلومیٹر دور موجود ملکی وے میں ہونے والے فلکیاتی عمل بھی بالواسطہ طور پر ہماری دنیا کی تشکیل پر اثر انداز ہوئے۔ملکی وے اور زمین کے براعظموں کے درمیان ممکنہ تعلق پر ہونے والی یہ تحقیق سائنس کی ان دلچسپ کوششوں میں سے ایک ہے جو کائنات اور ہماری زمین کے درمیان پوشیدہ روابط کو سمجھنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اگرچہ اس مفروضے کو ابھی مزید شواہد درکار ہیں، لیکن اس نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ شاید ہماری زمین کی تاریخ کا تعلق صرف زمین تک محدود نہیں، بلکہ پوری کائنات سے جڑا ہوا ہے۔ آنے والے برسوں کی تحقیق ہی یہ فیصلہ کرے گی کہ آیا واقعی ملکی وے نے زمین کے براعظموں کی تشکیل میں کوئی کردار ادا کیا تھا یا نہیں۔

آج کا دن

آج کا دن

پیرو کی آزادی28 جولائی 1821 کو جنوبی امریکہ کے ملک پیرو نے ہسپانوی سلطنت سے اپنی آزادی کا اعلان کیا۔ اس تاریخی اعلان کی قیادت جنرل خوسے دے سان مارٹن نے لیما میں کی۔ اگرچہ آزادی کی جدوجہد کئی برس پہلے شروع ہو چکی تھی لیکن 28 جولائی کو پہلی مرتبہ پیرو کو آزاد ریاست قرار دیا گیا۔ پیرو کی آزادی صرف ایک ملک کی کامیابی نہیں تھی بلکہ پورے لاطینی امریکہ میں نوآبادیاتی نظام کے خاتمے کی تحریک کا اہم حصہ تھی۔ اس کے نتیجے میں ہسپانوی اقتدار بتدریج جنوبی امریکہ سے ختم ہونے لگا اور متعدد نئی آزاد ریاستیں وجود میں آئیں۔ 28 جولائی پیرو میں یومِ آزادی کے طور پر منایا جاتا ہے۔ پہلی جنگِ عظیم کا آغاز28 جولائی 1914ء کو آسٹریا۔ہنگری نے سربیا کے خلاف جنگ کا اعلان کیا جسے پہلی جنگِ عظیم کا باقاعدہ آغاز سمجھا جاتا ہے۔ اس سے ایک ماہ قبل 28 جون 1914ء کو آسٹریا کے ولی عہد آرچ ڈیوک فرانز فرڈینینڈ کو بوسنیا کے شہر سرائیوو میں قتل کر دیا گیا تھا۔ اس قتل کے بعد آسٹریا۔ہنگری نے سربیا کو سخت شرائط پر مشتمل الٹی میٹم دیا۔ اگرچہ سربیا نے بیشتر شرائط قبول کر لیں لیکن تمام مطالبات نہ ماننے پر آسٹریا۔ہنگری نے 28 جولائی کو جنگ چھیڑ دی۔ جلد ہی یورپ کے مختلف ممالک اس تنازع میں شامل ہو گئے۔ جرمنی آسٹریا۔ہنگری کے ساتھ جبکہ روس، فرانس اور بعد میں برطانیہ سربیا کے حامی بن گئے۔ یہ علاقائی تنازع چند ہی دنوں میں عالمی جنگ میں تبدیل ہو گیا۔ ناسا کا قیام 28 جولائی 1958ء کو امریکی کانگریس نے نیشنل ایروناٹکس اینڈ سپیس ایکٹ منظور کیا جس کے تحت بعد میں ناساکا قیام عمل میں آیا۔ یہ اقدام سوویت یونین کی جانب سے 1957ء میں سپوتنک سیٹلائٹ کی کامیاب لانچ کے بعد کیا گیا۔ اس قانون کے ذریعے مختلف سرکاری اداروں کی خلائی تحقیق کو ایک مرکزی ادارے کے تحت منظم کیا گیا۔ ناسا نے یکم اکتوبر 1958 ء سے باضابطہ کام شروع کیا۔ آنے والے برسوں میں ناسا نے مرکری، جیمینائی اور اپولو پروگرام شروع کیے جن کی بدولت 1969 میں انسان پہلی مرتبہ چاند پر پہنچا۔ بعد ازاں خلائی شٹل پروگرام، ہبل خلائی دوربین، مریخ پر بھیجے گئے متعدد مشنز، جیمز ویب اسپیس ٹیلی سکوپ اور بین الاقوامی خلائی اسٹیشن جیسے منصوبوں میں بھی ناسا نے کلیدی کردار ادا کیا۔ ایمسٹرڈیم اولمپکس 28 جولائی 1928 کو نیدرلینڈز کے شہر ایمسٹرڈیم میں نویں جدید اولمپک کھیلوں کا افتتاح ہوا۔ یہ اولمپکس کئی حوالوں سے تاریخی اہمیت رکھتے ہیں۔ پہلی مرتبہ خواتین کو ایتھلیٹکس اور جمناسٹکس کے کئی مقابلوں میں باقاعدہ شرکت کا موقع ملا۔ اسی اولمپکس میں پہلی مرتبہ افتتاحی تقریب کے دوران اولمپک مشعل روشن رکھنے کی روایت بھی اختیار کی گئی۔ ایمسٹرڈیم اولمپکس نے یہ ثابت کیا کہ کھیل مختلف قوموں کو ایک پلیٹ فارم پر لا کر امن، دوستی اور باہمی احترام کو فروغ دے سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ 1928 کے اولمپکس جدید اولمپک تاریخ کا ایک اہم سنگ میل تصور کیے جاتے ہیں۔ آئرش مسلح جدوجہدکا خاتمہ28 جولائی 2005ء کو آئرش ریپبلکن آرمی (IRA) نے تقریباً تین دہائیوں پر محیط اپنی مسلح جدوجہد ختم کرنے اور صرف پرامن و جمہوری ذرائع اختیار کرنے کا اعلان کیا۔ شمالی آئرلینڈ میں کئی برس تک جاری رہنے والے تشدد، بم دھماکوں اور مسلح کارروائیوں نے ہزاروں افراد کی جانیں لیں۔ 1998 کے گڈ فرائیڈے معاہدے کے بعد امن عمل کا آغاز ہو چکا تھا لیکن 2005ء کا یہ اعلان اس عمل میں ایک انتہائی اہم پیش رفت ثابت ہوا۔ تنظیم نے اپنے ارکان کو ہدایت دی کہ وہ ہتھیاروں کے استعمال سے مکمل اجتناب کریں اور تمام سیاسی مقاصد صرف جمہوری طریقوں سے حاصل کیے جائیں۔ بعد ازاں بین الاقوامی مبصرین نے IRA کے ہتھیار ناکارہ بنانے کے عمل کی تصدیق بھی کی۔

ٹیکنالوجی کی دوڑ میں ماحول اور صحت داؤ پر

ٹیکنالوجی کی دوڑ میں ماحول اور صحت داؤ پر

ایلون مسک کے ڈیٹا سینٹر پر آلودگی پھیلانے کے الزاماتمصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی نے جہاں دنیا بھر میں ڈیٹا سینٹرز کی اہمیت میں بے پناہ اضافہ کیا ہے، وہیں ان کے ماحولیاتی اور صحت سے متعلق اثرات بھی توجہ کا مرکز بنتے جا رہے ہیں۔ حالیہ دنوں ایلون مسک کی کمپنی سے منسوب ایک ڈیٹا سینٹر کے خلاف دائر مقدمے نے اس بحث کو مزید شدت دے دی ہے، جس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر چلائے جانے والے اس مرکز سے سرطان سے منسلک مضر کیمیکل قریبی امریکی رہائشی علاقوں میں خارج کیے جا رہے ہیں۔ اگرچہ ان الزامات کی عدالتی سطح پر جانچ ابھی جاری ہے اور ان پر حتمی فیصلہ نہیں آیا، تاہم یہ معاملہ جدید ٹیکنالوجی، صنعتی ترقی، ماحولیاتی تحفظ اور عوامی صحت کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی اہمیت کو ایک بار پھر اجاگر کرتا ہے۔ایک نئے وفاقی مقدمے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایلون مسک کی کمپنی ''ایکس اے آئی‘‘ (xAI) کے وسیع ڈیٹا سینٹر کے اردگرد واقع رہائشی علاقوں میں سرطان سے منسلک کیمیکل خارج کیے جا رہے ہیں۔ نیشنل ایسوسی ایشن فار دی ایڈوانسمنٹ آف کلرڈ پیپل (NAACP) نے اپنے بیان میں الزام عائد کیا ہے کہ ایکس اے آئی مسیسیپی کے علاقے ساؤتھ ہیون میں فضائی آلودگی کیلئے درکار اجازت نامے کے بغیر 27 گیس ٹربائنز چلا رہی ہے، جس کے ذریعے اپنے کولوسس 2ڈیٹا سینٹر کیلئے ایک بجلی گھر قائم کر لیا گیا ہے۔ یہی ڈیٹا سینٹر کمپنی کے چیٹ بوٹ 'گروک‘ کو طاقت فراہم کرتا ہے۔مقدمے میں کہا گیا ہے کہ ان ٹربائنز سے یا تو دھواں اور آلودگی پیدا کرنے والے مضر مواد خارج ہوئے یا ان کے اخراج کا امکان موجود تھا۔ ان میں سموگ پیدا کرنے والے آلودہ ذرات، انتہائی باریک معلق ذرات (فائن پارٹیکیولیٹ میٹر) اور فارملڈیہائیڈ شامل ہیں، جو سرطان پیدا کرنے والا ایک معروف کیمیکل ہے۔ درخواست گزاروں کے مطابق یہ آلودہ مادے سانس کی نالی میں سوزش پیدا کر سکتے ہیں، پھیپھڑوں اور خون کی گردش تک گہرائی میں پہنچ سکتے ہیں جبکہ دمہ، دل کی بیماریوں اور سرطان کے خطرات میں بھی اضافہ کر سکتے ہیں۔مقدمے میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ان مبینہ خلاف ورزیوں کے باعث زیادہ تر سیاہ فام آبادی پر مشتمل وہ علاقے مزید مضر آلودگی کا شکار ہوئے، جہاں پہلے ہی سانس کی بیماریوں کی شرح نسبتاً زیادہ ہے۔ یہ قانونی تنازع ایکس اے آئی کی تیزی سے ہونے والی توسیع کے گرد گھومتا ہے۔ کمپنی نے اپنے چیٹ بوٹ گروک کی تربیت کیلئے دنیا کا سب سے بڑا مصنوعی ذہانت پر مبنی سپر کمپیوٹر تعمیر کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔مقدمے کے مطابق قومی بجلی کے نظام سے مطلوبہ مقدار میں بجلی حاصل نہ ہونے کے باعث کمپنی نے مبینہ طور پر ضروری اجازت نامے کے بغیر گیس سے چلنے والا ایک بجلی گھر تعمیر کیا تاکہ اس ڈیٹا سینٹر کو مسلسل بجلی فراہم کی جا سکے۔ اب این اے اے سی پی (NAACP) نے وفاقی عدالت سے درخواست کی ہے کہ ان گیس ٹربائنز کے آپریشن کو فوری طور پر روکا جائے، کمپنی پر مالی جرمانے عائد کیے جائیں اور ایکس اے آئی کو آلودگی پر قابو پانے کے مؤثر انتظامات نصب کرنے کا پابند بنایا جائے۔ایلون مسک کی کمپنی ایکس اے آئی نے مسیسیپی کے علاقے ساؤتھ ہیون میں میکروہارڈرنامی ڈیٹا سینٹر کی تعمیر پر 20 ارب ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کی ہے، جسے مسیسیپی کے گورنر ٹیٹ ریوز کی مکمل حمایت حاصل ہے۔یہ کمپنی کا تیسرا ڈیٹا سینٹر ہوگا۔ ایکس اے آئی کے چیف فنانشل آفیسر انتھونی آرمسٹرانگ کے مطابق، ان ڈیٹا سینٹرز کا مجموعہ دو گیگا واٹ کمپیوٹنگ صلاحیت کے ساتھ دنیا کا سب سے بڑا سپر کمپیوٹر بنائے گا۔این اے اے سی پی نے ارتھ جسٹس اور سدرن انوائرمنٹل لا سینٹر کی نمائندگی میں رواں سال اپریل میں ایکس اے آئی اور اس کی ذیلی کمپنی ایم زیڈ ایکس ٹیک کیخلاف مقدمہ دائر کیا تھا۔ گزشتہ ماہ ایکس اے آئی نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ یہ مقدمہ خارج کر دیا جائے۔

موسمیاتی بحران، پاکستان کیلئے بڑا معاشی چیلنج

موسمیاتی بحران، پاکستان کیلئے بڑا معاشی چیلنج

قدرتی آفات سے مؤثر تحفظ کیلئے بروقت  منصوبہ بندی، زرعی تحفظ اور عالمی تعاون وقت کی اہم ضرورتپاکستان اس وقت دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے سب سے زیادہ منفی اثرات کا سامنا کر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی ادارے بارہا خبردار کر چکے ہیں کہ اگر موسمیاتی تبدیلی کی رفتار اسی طرح برقرار رہی تو پاکستان کو مستقبل میں مزید شدید سیلاب، خشک سالی، پانی کی قلت، گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے، شدید گرمی کی لہروں اور زرعی پیداوار میں نمایاں کمی جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔ تشویشناک امر یہ ہے کہ عالمی حدت میں پاکستان کا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے، مگر اس کے باوجود موسمیاتی آفات کا بوجھ سب سے زیادہ انہی ممالک پر پڑ رہا ہے جو ترقی پذیر ہیں۔2022ء کے تباہ کن سیلاب نے دنیا کو یہ حقیقت دکھا دی تھی کہ موسمیاتی تبدیلی صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ ایک معاشی، سماجی اور انسانی بحران بھی ہے۔ لاکھوں ایکڑ زرعی زمین زیر آب آگئی، ہزاروں کلومیٹر سڑکیں اور پل تباہ ہوئے، لاکھوں افراد بے گھر ہوئے اور ملکی معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔ اس سانحے نے واضح کر دیا کہ پاکستان کے پاس آفات سے نمٹنے کیلئے مضبوط مالیاتی تحفظ کا نظام موجود نہیں۔بدقسمتی سے پاکستان میں قدرتی آفات کے بعد زیادہ تر انحصار ہنگامی امداد، بین الاقوامی مالی معاونت اور عطیات پر کیا جاتا ہے۔ یہ امداد اگرچہ متاثرین کیلئے اہم ہوتی ہے، لیکن اکثر دیر سے پہنچتی ہے، جبکہ متاثرہ خاندانوں کو فوری مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر آفت کے بعد بحالی کا عمل طویل اور دشوار ثابت ہوتا ہے۔دنیا کے کئی ممالک نے اس مسئلے کا حل پہلے ہی تلاش کر لیا ہے۔ افریقہ، ایشیاء اور بحرالکاہل کے متعدد ممالک نے ایسے مالیاتی نظام متعارف کرائے ہیں جن کے ذریعے قدرتی آفات کی صورت میں فوری مالی وسائل دستیاب ہو جاتے ہیں۔ ان ممالک نے زرعی بیمہ، قومی ہنگامی فنڈز، پیشگی مالی معاونت، موسمی خطرات سے متعلق بیمہ اور علاقائی تعاون کے ذریعے اپنی معیشت کو زیادہ محفوظ بنایا ہے۔ ان اقدامات کی بدولت آفت آنے کے بعد بحالی کا عمل تیز ہوتا ہے اور معاشی نقصان نسبتاً کم رہتا ہے۔پاکستان کیلئے بھی یہی راستہ اختیار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ سب سے پہلے ایک جامع قومی موسمیاتی مالیاتی پالیسی مرتب کی جانی چاہیے جس میں وفاق اور صوبوں کے درمیان واضح ذمہ داریاں طے ہوں۔ اس پالیسی کے تحت ایک مستقل قومی موسمیاتی تحفظ فنڈ قائم کیا جائے تاکہ قدرتی آفات کی صورت میں فوری مالی وسائل دستیاب ہوں اور متاثرہ علاقوں کی بحالی میں تاخیر نہ ہو۔زرعی شعبہ پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، مگر یہی شعبہ موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے۔ شدید بارشیں، خشک سالی، ژالہ باری اور درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافہ کسانوں کی محنت کو چند گھنٹوں میں ضائع کر دیتا ہے۔ اس صورتحال میں ضروری ہے کہ حکومت چھوٹے اور متوسط درجے کے کسانوں کیلئے آسان، سستی اور قابلِ رسائی زرعی بیمہ اسکیمیں متعارف کرائے تاکہ فصل تباہ ہونے کی صورت میں انہیں فوری مالی سہارا مل سکے۔ اس سے نہ صرف کسانوں کا معاشی تحفظ ممکن ہوگا بلکہ ملکی غذائی سلامتی بھی مضبوط ہوگی۔اس کے ساتھ بینکاری اور مالیاتی اداروں کو بھی موسمیاتی خطرات کو اپنی منصوبہ بندی کا حصہ بنانا ہوگا۔ ایسے قرضے اور مالیاتی سہولیات متعارف کرائی جائیں جو پانی کی بچت، جدید آبپاشی، شمسی توانائی، بارش کے پانی کو محفوظ بنانے، ماحول دوست صنعتوں اور موسمیاتی موافق زراعت کی حوصلہ افزائی کریں۔ اس سے ماحول کا تحفظ بھی ہوگا اور معیشت زیادہ مضبوط بنیادوں پر استوار ہوگی۔ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ بروقت وارننگ سسٹم آفات سے ہونے والے نقصانات میں نمایاں کمی لا سکتے ہیں۔ جدید موسمیاتی پیش گوئی، سیلاب کی بروقت اطلاع، گلیشیئرز کی نگرانی، مقامی سطح پر آگاہی اور موثر انخلاء کے منصوبے ہزاروں جانیں بچانے کے ساتھ اربوں روپے کے معاشی نقصانات سے بھی محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ترقی یافتہ ممالک آفات کے بعد تعمیر نو کے بجائے آفات سے پہلے تیاری پر زیادہ سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔بین الاقوامی برادری کی بھی اس حوالے سے اہم ذمہ داری ہے۔ ترقی یافتہ ممالک نے صنعتی ترقی کے دوران سب سے زیادہ کاربن فضا میں خارج کی، جبکہ پاکستان جیسے ممالک اس کے نتائج بھگت رہے ہیں۔ اس لیے عالمی موسمیاتی فنڈز تک پاکستان کی آسان رسائی، جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی، کم سود مالی معاونت اور موسمیاتی موافقت کے منصوبوں میں سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔ پاکستان کو اندرونی سطح پر بھی کئی بنیادی اصلاحات کرنا ہوں گی۔ جنگلات کے رقبے میں اضافہ، آبی ذخائر کی تعمیر، زیر زمین پانی کے بے دریغ استعمال پر قابو، شہری منصوبہ بندی میں موسمیاتی خطرات کو شامل کرنا، ندی نالوں پر غیر قانونی تعمیرات کا خاتمہ، قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں کی توسیع اور ماحولیاتی قوانین پر سختی سے عمل درآمد وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر ان شعبوں میں مربوط حکمت عملی اختیار کی جائے تو مستقبل کے خطرات میں کمی لائی جا سکتی ہے۔یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ موسمیاتی تبدیلی اب مستقبل کا خدشہ نہیں بلکہ پاکستان کیلئے ایک موجودہ قومی چیلنج بن چکی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت، نجی شعبہ، مالیاتی ادارے، زرعی ماہرین اور بین الاقوامی شراکت دار مشترکہ طور پر ایسا نظام تشکیل دیں جو آفات آنے سے پہلے ہی ملک کو مالی اور انتظامی طور پر تیار کر دے۔اگر آج موسمیاتی تحفظ، مالیاتی منصوبہ بندی، جدید ٹیکنالوجی، ماحول دوست ترقی اور قدرتی وسائل کے موثر انتظام میں سرمایہ کاری کی گئی تو پاکستان نہ صرف آنے والی موسمیاتی آفات کے نقصانات کو کم کر سکے گا بلکہ پائیدار ترقی، غذائی تحفظ اور معاشی استحکام کی جانب بھی مضبوط قدم بڑھا سکے گا۔

موستار کا پل

موستار کا پل

تاریخ، تہذیب اور امن کی لازوال علامتموستار کا پل محض پتھروں سے تعمیر کیا گیا ایک قدیم شاہکار نہیں بلکہ تہذیبوں، ثقافتوں اور انسانوں کو جوڑنے والی ایک زندہ علامت ہے۔ بوسنیا و ہرزیگووینا کے تاریخی شہر موستار میں دریائے نیریتوا پر قائم یہ پل صدیوں تک مشرق اور مغرب، مختلف قومیتوں اور مذاہب کے درمیان باہمی ہم آہنگی اور بقائے باہمی کی علامت رہا۔ 16ویں صدی میں سلطنت عثمانیہ کے دور میں تعمیر ہونے والا یہ منفرد پل اپنے دلکش طرزتعمیر اور تاریخی اہمیت کے باعث عالمی شہرت رکھتا ہے۔ اگرچہ 1993ء میں بوسنیائی جنگ کے دوران یہ پل تباہ کر دیا گیا، مگر بعد ازاں بین الاقوامی تعاون سے اس کی ازسرِنو تعمیر نے یہ ثابت کر دیا کہ نفرت اور جنگ کے مقابلے میں امن، محبت اور اتحاد کی قوت کہیں زیادہ مضبوط ہوتی ہے۔ موستار کا مطلب ہے پرانا پل، روسی زبان میں موست بمعنی پل اور سٹار یا سٹاری پرانا۔ یعنی موستار کا شہر اس کے درمیان بہنے والے دریائے نریتوا کے اوپر بنے ہوئے پرانے پل کی وجہ سے مشہور ہے۔ یہ ترکش معمار خیر الدین کی نگرانی میں بنایا گیا تھا۔ دریائے نریتواپر اس پل کی تعمیر کا آغاز 1557 ء میں ہوا اور 1566 ء میں مکمل ہوا۔ پل اس لیے بھی شہرت کا حامل ہے کہ یہ ایک محراب کی شکل میں بنایا گیا ہے۔ اس کی تعمیر میں پتھر اور چونا استعمال کیا گیا تھا۔ یہ پل ساڑھے چار سو سال سے بھی زیادہ پرانا ہے۔ یہ پل پورے علاقے میں اپنی نوعیت کا واحد پل ہے، جو اپنی محرابی ساخت کی وجہ سے تاریخی شہرت رکھتا ہے۔ اس کی لمبائی 95 فٹ، چوڑائی 13 فٹ اور اونچائی 79 فٹ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ پل کی تکمیل کے وقت اس کے افتتاح سے قبل سلطنت عثمانیہ کے سلطان نے قسم کھائی تھی کہ پل کے نیچے عارضی ستون ہٹانے کے بعد پل اگر نیچے گر گیا تو معمار خیرالدین کو قتل کر دیا جائے گا۔کہا جاتا ہے کہ معمار خیرالدین کو اپنے آپ پر اور اپنی کاریگری پر بھروسہ تو تھا لیکن سلطان کا خوف اس کے ذہن پر غالب آ گیا۔ جس دن پل کے نیچے سے عارضی ستون ہٹائے جانے تھے، اس دن معمار خیرالدین نے اپنی قبر بھی تیار کروانا شروع کر دی، لیکن تاریخ گواہ ہے کہ وہ پل آج بھی قابل استعمال چلا آ رہا ہے۔ بقول محترمہ ساجدہ سلاجک صاحبہ گزشتہ جنگ میں اس موستار پل کو تباہ کرنے میں سربوں اور کروٹوں کو ڈیڑھ سال کا عرصہ لگا۔ پہلے سرب زور آزمائی کرتے رہے، پھر کروٹ گولہ باری کرتے رہے پھر کہیں جا کردہ اس پل کے کچھ حصے کو نقصان پہنچانے میں کامیاب ہو سکے۔ جنگ کے خاتمے کے بعد اس پل کو دوبارہ بنانے کا منصوبہ بنایا گیا۔ اس میں ورلڈ بینک ''یونیسکو‘‘ اورآغا خاں ٹرسٹ نے خاص طور پر مددکی۔ اس کے علاوہ اٹلی، ہالینڈ،ترکی، کروشیا اور بوسنیا کی حکومت نے خاص تعاون کیا۔ پھر کہیں 2004 ء میں اس تاریخی پل کو پیدل چلنے والوں کیلئے کھولا گیا۔ تقریباً 80 فٹ کی بلندی سے پیشہ ور غوطہ خور دریائے نریتوا میں ایک خاص سٹائل میں غوطہ لگا کر حاضرین سے داد وصول کرتے ہیں۔ جبکہ دریا کا پانی بہت ٹھنڈا ہوتا ہے۔ آج موستار کا پل نہ صرف ایک سیاحتی مرکز ہے بلکہ یہ انسانیت کیلئے اس حقیقت کی یاد دہانی بھی ہے کہ دلوں اور معاشروں کو جوڑنے والے پل ہمیشہ دیواروں سے زیادہ دیرپا ثابت ہوتے ہیں۔