فرما کی لڑائی: جس کا فیصلہ بلیوں نے کیا!

 فرما کی لڑائی: جس کا فیصلہ بلیوں نے کیا!

اسپیشل فیچر

تحریر : جوشا جے مارک


قدیم مصر میں زندگی کی تمام صورتوں کا احترام کیا جاتا تھا۔ ان کے نزدیک زندگی دیوتاؤں کی عطا ہے اور اس کی تعظیم کا اطلاق بنی نوع انسان کے ساتھ تمام جانداروں پر ہوتا ہے۔ اگرچہ مصری کبھی کبھار گوشت کھاتے تھے اور شاہی خاندان کے لوگ شکار بھی کرتے تھے، لیکن مصری بنیادی طور پر سبزی یا مچھلی خور تھے، اور اس سے ان کے تمام زندہ اجسام کو مقدس خیال کرنے کی عکاسی ہوتی ہے۔ جب کبھی جانوروں کا گوشت کھایا جاتا تو قربانی دینے پر ان کا شکریہ ادا کیا جاتا۔ پالتو جانور زیادہ مقدس تھے، نیز جنگلی حیات کی عزت کی جاتی تھی۔ مصریوں میں ان کی قدر کا اظہار ثقافت سے مذہب تک، ہر جگہ ہوتا ہے البتہ اس کی واضح مثال 525 قبل مسیح کی فرما کی لڑائی (Battle of Pelusium) ہے۔ یہ فرعون پسامیٹیک سوم (Psametik III) اور فارس کے بادشاہ کمبوجیہ دوم کے درمیان فیصلہ کن معرکہ تھا جس کے نتیجے میں پہلی بار فارس نے مصر تسخیر کیا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ حکمت عملی چاہے جو بھی اختیار کی جاتی، جنگ فارسیوں ہی نے جیتنی تھی، کیونکہ نوجوان فرعون پسامیٹیک سوم کی نسبت کمبوجیہ دوم (Cambyses II) جنگوں کا کہیں زیادہ تجربہ رکھتا تھا۔ البتہ اس کی جیت بحیثیت سالارِ جنگ کارکردگی سے زیادہ مصری ثقافت کے علم کے سبب ہوئی۔ کمبوجیہ دوم نے انتہائی غیرمعمولی حکمتِ عملی سے لڑائی کو جیتا: اس نے پکڑے گئے جانوروں بالخصوص بلیوں کو استعمال کیا۔ باسٹیٹ اور اس کی بلیاںبلیاں مصر میں مقبول پالتو جانور تھیں اور ان کا دیوی باسٹیٹ (جسے باسٹ بھی کہا جاتا ہے) سے قریبی رشتہ سمجھا جاتا تھا۔ مصری فنون میں یہ عورت کے جسم اور بلی کے سر کی صورت نظر آتی ہے یا پھر شاہانہ انداز میں بیٹھی ہوئی۔ یہ گھر، گھریلو زندگی، عورتوں کے رازوں، بلیوں، بارآوری اور بچوں کی پیدائش کی دیوی تھی۔ مصریوں کے عقیدے کے مطابق باسٹیٹ (Bastet) گھربار کو بدروحوں اور بیماریوں سے بچاتی تھی، خصوصاً وہ بیماریاں جو عورتوں اور بچوں کو ہوتی تھی۔ نیز مرنے کے بعد کی زندگی میں اس کا اہم کردار سمجھا جاتا تھا۔ دوسرے سلسلۂ شاہی (لگ بھگ 2890-2670 قبل مسیح) کے بعد سے مصری مردوں اور عورتوں میں وہ انتہائی مقبول تھی اور کم از کم پانچویں صدی قبل مسیح سے اس کی پرستش کا مرکز شہر تل بسطہ تھا۔ اولاً اس کی نمائندگی شیر کے سر والی عورت کے طور پر کی گئی اور اس کا قریبی رشتہ انتقام پرور دیوی سیکمٹ سے جوڑا جاتا تھا، لیکن وقت کے ساتھ دونوں کی راہیں جدا ہو گئیں اور باسٹیٹ کو اس کا ایک قریبی ساتھی سا تصور کیا جانے لگا جبکہ سیکمٹ آسمانی قہر کی قوت خیال کی جاتی رہی۔ تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ باسٹیٹ ضرورت پڑنے پر انصاف یا غلط، صحیح نہیں کر سکتی تھی۔ ماہرِ مصریات گیرالڈین پِنچ لکھتے ہیں: ’’تحاریرِ ہرم‘‘(مصری کی قدیم ترین مذہبی تحریریں)کے بعد پرورش کرنے والی ماں اور خوفناک انتقال لینے والی کی حیثیت سے باسٹیٹ کے دو روپ تھے۔ ’’تابوتی تحاریر‘‘ (کافن ٹیکسٹس)، ’’کتاب الموت‘‘ (بُک آف دی ڈیتھ) اور طبی منتروں میں اس کے عفریتی پہلو نمایاں ہیں۔ ’’باسٹیٹ کے لیے قتال کرنے والے‘‘ انسانیت پر طاعون اور دیگر تباہیاں مسلط کرتے تھے۔‘‘بعض دیگر کاموں کے علاوہ بلیوں کو ضرر پہنچانے سے دیویوں کی گستاخی ہوتی تھی۔ قدیم مصر میں بلیوں کی قدرومنزلت اتنی تھی کہ انہیں مارنے کی سزا موت تھی۔ ہیروڈوٹس کے مطابق جلتی ہوئی عمارت میں اگر مصری پھنس جائیں تو بلیوں کو پہلے اور خود کو بعد میں بچائیں یا آگ سے نکالیں گے۔ ہیروڈوٹس مزید کہتا ہے اظہارِ غم کی خاطر ’’جس گھر میں بلی قدرتی موت مر جاتی اس گھر کے تمام افراد اپنی بھنویں مونڈ لیتے۔‘‘ انسانوں کی طرح بلیاں زیورات کے ساتھ حنوط کی جاتیں۔ کہا جاتا ہے کہ بلیاں باسٹیٹ پر اسی طرح قربان کی جاتی تھیں جس طرح (دیوتا) انوبس پر کتے۔ تاہم اس دعوے سے اختلاف کیا جاتا ہے۔ یہ ممکن ہے کہ تل بسطہ میں ملنے والی حنوط شدہ بلیاں قدرتی موت مری ہوںاور انہیں مقدس مقام پر دفن کرنے کے لیے لایا گیا ہو۔ یہ روایت ابیدوس میں انسانوں اور جانوروں کو اکٹھے دفن کرنے سے شروع ہوئی تاکہ وہ انوبس کے قریب رہیں۔ مصریوں میں جانوروں کا احترام بلیوں اور کتوں تک محدود نہیں تھا۔ بہت سے حنوط شدہ پالتو جانور ملے ہیں جن میں غزال، لنگور، پرندے اور یہاں تک کہ مچھلیاں شامل ہیں۔ دیویوں سے منسلک ہونے کی وجہ سے بعض جانور، جیسا کہ بلی اور کتا، خاص اہمیت رکھتے تھے اور مصری ثقافت کی یہی جانکاری تھی جس نے کمبوجیہ دوم کو فرما میں فتح سے ہم کنار کیا، گرچہ اس کا حریف جوان تھا یا مصری ’’شہنشاہتِ نو‘‘ (نیو کنگڈم) کے بعد بطور عالمی طاقت انحطاط پذیر تھے۔ مصر کا تیسرا عبوری دورمصر میں شہنشاہتِ نو کا دور (لگ بھگ 1570- 1069 قبل مسیح) تہذیب کے ہر میدان میں خوشحالی اور ترقی کا دور تھا۔ یہ سلطنت مصر کا وہ دور تھا جس میں اس کی سرحدیں وسیع ہوئیں اور خزانے کو بھرا گیا۔ اس دور کے معروف ترین حکمرانوں احمس اول، حٹشپسوٹ، ٹحوٹمس سوم، امنحوٹپ سوم، اخناٹون، نفرٹیٹی، ٹوٹن خامون، حور محب، سیٹی اول، رمسیس اعظم، نفرٹاری اور رمسیس سوم تمام کا تعلق شہنشاہتِ نو کی اشرافیہ سے تھا۔ البتہ اس دور میں دولت کی فراوانی اور کامیابی برقرار نہ رہی اور 1069 قبل مسیح تک سلطنت بکھرنے لگے اور اس عہد میں داخل ہو گئی جسے ماہرین ’’مصر کا تیسرا عبوری دور‘‘ (1069-525 قبل مسیح) کہتے ہیں۔ اس دور کی خصوصیات مضبوط مرکزی حکومت کی غیرموجودگی، خانہ جنگی اور سماجی عدم استحکام ہیں لیکن یہ اتنا تاریک اور بھیانک دور نہیں تھا جتنا شروعاتی ماہرینِ مصریات نے دعویٰ کیا تھا۔ بہرحال ملک شہنشاہتِ نو جتنا مضبوط یا عسکری قوت ہرگز نہیں تھا۔ 22 ویں سلسلۂ شاہی کے اواخر میں خانہ جنگی نے مصر کو تقسیم کر دیا تھا اور 23ویں تک ملک شاہی کے دعوے داروں میں تقسیم ہو گیا تھا جن کی خودساختہ حکومتیں ہیراکلیوپولس، ٹانس، ہیرموپولس، میمفیس اور سایس تک تھیں۔ اس تقسیم کی وجہ سے ملک کا متحدہ دفاع ناممکن تھا اور اس نے جنوب سے نباطی مداخلت کی راہ ہموار کی۔ اس کے بعد 24 ویں اور 25 ویں سلسلۂ شاہی کو نباطی حاکمیت میں متحدہ کردیا گیا اور یہ کامیاب رہا، لیکن ملک اتنا طاقت ور نہیں تھا کہ پہلے آسرحادون کے تحت 671/670 قبل مسیح میں اور پھر آشوربانیپال کے تحت 666 قبل مسیح میں آشوریوں کے حملوں کا مقابلہ کر سکے۔ اگرچہ آشوریوں کو نکال دیا گیا لیکن مصریوں کے پاس اتنے وسائل نہیں تھے کہ وہ فارسیوں کے آگے ٹھہر سکیں۔ کموجیہ دوم اور اماسیس 26ویں سلسلۂ شاہی کے فرعون اماسیس (جسے احموس دوم بھی کہا جاتا ہے، 570-526 قبل مسیح) اپنے دور کے عظیم ترین حاکموں میں شمار ہوتاہے اور اس نے مصر کی سابقہ عظمت اور عسکری وقار کو کچھ بحال کیا۔ وہ مصری تاریخ کے آخری مؤثر حکمرانوں میں سے ہے، البتہ ہیروڈوٹس پر اعتبار کیا جائے تو فارس کی مداخلت پر منتج ہونے والے مسئلے کی ابتدا اسی نے کی۔ ہیروڈوٹس کے مطابق کموجیہ دوم نے اماسیس کی طرف سے بے عزتی کیے جانے کے بعد مصر پر حملہ کیا۔ کمبوجیہ دوم نے اماسیس کو لکھا کہ وہ اپنی ایک بیٹی کی شادی اس سے کر دے لیکن اماسیس ایسا نہیں کرنا چاہتا تھا، اس نے اپنے پیشرو اپریس کی بیٹی کو بھیج دیا۔ اس فیصلے پر اس جواں عورت کی تذلیل ہوئی کیونکہ روایت یہ تھی کہ مصری عورتوں کو غیرملکی بادشاہوں کو نہیں دیا جاتا تھا۔ جب وہ کمبوجیہ دوم کے دربار میں پہنچی تو اس نے اپنی اصل شناخت ظاہر کر دی۔ کمبوجیہ دوم نے اماسیس پر ’’جعلی بیوی‘‘ بھیجنے کا الزام لگایا اور جنگ کے لیے فوج جمع کرنا شروع کر دی۔ چاہے یہ کہانی سچی ہو یا نہ ہو، بہرحال فارسیوں نے مصر پر حملہ کر دیا۔ آشوری قابل ازیں ساتویں صدی قبل مسیح کے اواخر میں یہ ملک فتح کر چکے تھے اور مصری فوج بلادالرافدین (میسوپوٹمیا) کے بہتر ہتھیاروں اور حکمتِ عملی سے قطعاً مقابلہ نہ کر پائی تھی۔ فارسی اپنی سلطنت کو وسعت دے رہے تھے اور انہیں مصر پر سابقہ فتح اور شہنشاہتِ نو کی طرح دفاع کرنے میں مصریوں کی نااہلیت کا پتا ہو گا، پس انہوں نے بلاجھجک مداخلت شروع کر دی۔ جنگ کی تیاری اگر ہیروڈوٹس کی بات کو درست مان لیا جائے تو بے عزتی اور جنگ کے درمیان اماسیس کا انتقال ہو گیا اور وہ اپنا ملک پسامیٹیک سوم (جسے پسامیٹیکس بھی کہا جاتا ہے) کے ہاتھوں میں دے گیا۔ یہ جوان زیادہ تر اپنے والدین کی عظیم کامیابیوں کے سائے میں رہا تھا اور دشمن قوت سے نمٹنے کے لیے بمشکل تیار تھا۔ جب فارسیوں کی تیاری کی خبر اس تک پہنچی تو اس نے اپنے تئیں دفاع اور جنگ کے لیے پوری کوشش اور تیاری کی۔ وہ اتحادی یونانیوں کے معاونین پر انحصار کر رہا تھا جو اسے بے یارومددگار چھوڑ گئے۔ وہ ہالیکارناسوس کے فانس (اس کے والد کا مشیر) کی عسکری مشاورت سے محروم ہو گیا تھا کیونکہ وہ فارسیوں کی طرف چلا گیا تھا۔ لہٰذا اس بحران سے پسامیٹیک سوم نے خود ہی نمٹنا تھا۔ پسامیٹیک سوم نے دریائے نیل کے دہانے کے نزدیک فرما کے مقام پر قلعہ بندی کر لی اور فارس کے حملے کا انتظار کرنے لگا۔ اسی کے ساتھ محاصرہ ہونے کی صورت میں اپنے دارالحکومت میمفیس کے جمے رہنے کی تیاری کرتا رہا۔ فرما کا قلعہ مضبوط تھا اور یہاں سامانِ ضرورت کا ذخیرہ موجود تھا۔ صرف چھ ماہ قبل ہی حاکم بننے والے اس نوجوان فرعون کو یقین ہوگا کہ وہ حملہ آوروں کو پسپا کر دے گا۔ لیکن پسامیٹیک سوم کو کمبوجیہ دوم کی چالاکی کا اندازہ نہیں تھا۔ جنگ اور اس کے بعددوسری صدی عیسوی کے لکھاری پولیاینوس نے ’’عسکری حکمت عملیاں‘‘ میں کمبوجیہ دوم کی سوچ بیان کی ہے۔ اسے اس نے جنگی مہمات میں مارکوس اوریلیوس اور ویروس کی معاونت کے خیال سے لکھا تھا۔ پولیاینوس وضاحت کرتا ہے کہ مصری کس طرح کامیابی سے فارسیوں کے قدموں کو روک رہے تھے جب کمبوجیہ دوم نے اچانک تدبیر بدل دی۔ شاہ فارس اہل مصر کے بلیوں کے لیے احترام سے واقف تھا اور اس کے سپاہیوں کی ڈھالوں پر باسٹیٹ کی تصاویر بنی ہوئی تھیں، علاوہ ازیں ’’اگلی صف سے پیچھے اس نے کتوں، بھیڑوں، بلیوں ، لق لق اور مصریوں کو جو بھی جانور عزیز تھے، ان کی قطار باندھی ہوئی تھی‘‘ (پولیاینوس VII.9)۔ پسامیٹیک سوم کے تحت مصریوں نے اپنی محبوب دیویوں کو دشمن کی ڈھالوں پر دیکھ کر اور اس خوف سے کہ لڑائی سے دشمن کے پیچھے موجود جانوروں کو نقصان پہنچے گا، اپنے مقام چھوڑ دیے اور میدان میں جنگ ہار گئے۔ بہت ساروں کا میدان میں قتل عام ہوا اور ہیروڈوٹس بتاتا ہے کہ اس نے کئی برس بعد تک ان کی ہڈیاں ریت میں دیکھیں، یہاں تک کہ اس نے فارسی اور مصری ڈھانچے پر بھی تبصرے کیے ہیں۔ جو مصری بچ گئے وہ جان بچانے کے لیے میمفیس فرار ہو گئے ۔ فارس کی فوج ان کے پیچھے تھی۔ محاصرے کے بعد نسبتاً تھوڑے وقت میں میمفیس پر قبضہ ہو گیا۔ پسامیٹیک سوم کو قید کر لیا گیا اور کمبوجیہ دوم نے اس سے خاصا اچھا سلوک کیا۔ پھر اس نے سرکشی کی کوشش کی اور مار دیا گیا۔ فارس کا کمبوجیہ دومسو مصر کی خودمختاری کا خاتمہ ہو گیا اور اسے فارس میں ضم کر دیا گیا۔ بعدازاں یہ کچھ مزید ہاتھوں میں رہنے کے بعد روم کا صوبہ بن گیا۔ کہا جاتا ہے کہ جنگ کے بعد کمبوجیہ دوم نے شکست خوردہ مصریوں کے چہروں پر حقارت سے بلیاں پھینکیں کہ انہوں نے عام سے جانوروں کے لیے اپنی آزادی اور تحفظ کا سودا کر دیا۔ تاہم یہ بیان کرنا ضروری ہے کہ کمبوجیہ دوم کی جو تصویر ہیروڈوٹس نے پیش کی ہے اس سے اختلاف بھی کیا جاتا ہے۔ فارسیوں کو ناپسند کرنے والے یونانی لکھاری کمبوجیہ دوم کو عام طور پر ظالم اور لاپروا بادشاہ بنا کر پیش کرتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ کمبوجیہ دوم نے مقدس بیل آپیس کو مار دیا تھا اور اس کی بے سری لاش کو گلی میں پھینک دیا تھا۔ اس نے پورے مصر میں مذہبی رسومات و روایات پر پابندی لگا دی تھی۔ کمبوجیہ دوم کو نقش نگاری اور فنون میں مصری ثقافت و مذہب کی تحسین کرتے دکھایا گیا ہے، اور اس کے کاموں میں میمفیس کی تعمیرِ نو اور فارس کا صوبائی دارالحکومت بنائے رکھنا شامل ہیں۔ ان کی بنیاد پر بعض مصنفین اس دعوے کی نفی کرتے ہیں۔ یہ حقیقت کہ اس نے ان کی اقدار کو جنگ میں انہیں کے خلاف استعمال کیا اس کے کمال کو ظاہر کرتے ہیں؛ وہ جانتا تھا کہ مصریوں کا ردعمل کیا ہوگا ، انہوں نے ویسا ہی کیا کیونکہ وہ کچھ اور کر نہیں سکتے ہیں۔ انہوں نے سوچا کہ عقیدے کو چھوڑنے سے بہتر ہے ہتھیار ڈال دیے جائیں۔ فرما کی لڑائی کے بعد فارسیوں نے 27 ویں اور 31 ویں سلسلۂ شاہی میں مصر پر حکومت کی اور 28 ویں سے 30 ویں تک جب انہیں نکالا دیا گیا تب بھی وہ مستقل خطرہ بنے رہے۔ فارس کی جیت کے بعد مصری مختصر عرصے کے لیے خودمختار قوم رہے۔ سکندرِاعظم 331 قبل مسیح میں اپنی فوجوں کے ساتھ آیا اور اس سرزمین کو فتح کر لیا۔ 30 قبل مسیح میںجب تک روم نے اسے اپنے اندر ضم نہیں کیا یہ یونانی بادشاہوں کے زیرنگیں رہی۔ پولیانیوس بتاتا ہے کہ کمبوجیہ دوم کی چالاکی سے کس طرح مصر کی فتح کی راہ ہموار ہوئی۔ وہ مزید کہتا ہے کہ جنگ میں کبھی اپنی طاقت اور اپنی دیویوں پر اعتبار نہیں کرنا چاہیے بلکہ کسی بھی ہنگامی صورت حال کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ اگرچہ یہ اچھی نصیحت لگتی ہے لیکن مصریوں کی جانب سے کسی بھی قیمت پر سمجھوتا نہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی ثقافت کی تعریف اس قدر کیوں ہوتی ہے اور ان کی تہذیب اتنی پُراثر کیوں ہے۔ (ترجمہ: رضوان عطا)

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
’’DUO BELL‘‘

’’DUO BELL‘‘

نوائز کینسلنگ سسٹمز بے بس،حادثات سے رکھے محفوظجدید ٹیکنالوجی جہاں انسانی زندگی کو سہولت فراہم کر رہی ہے، وہیں بعض اوقات یہ نئی مشکلات کو بھی جنم دیتی ہے۔ خاص طور پر نوائز کینسلنگ ہیڈ فونز کے بڑھتے ہوئے استعمال نے شہری سڑکوں پر ایک نیا حفاظتی چیلنج پیدا کر دیا ہے، جہاں لوگ اردگرد کی آوازوں سے کٹ جاتے ہیں۔ اسی مسئلے کے حل کے طور پر سکوڈا آٹو (Skoda Auto) نے ایک انوکھا تصور پیش کیا ہے، جس کے تحت ''DuoBell‘‘ نامی جدید سائیکل بیل تیار کی گئی ہے۔ یہ بیل ایسی مخصوص آواز پیدا کرتی ہے جو نہ صرف عام شور میں نمایاں رہتی ہے بلکہ جدید نوائز کینسلنگ سسٹمز کو بھی بائی پاس کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔اگر تاریخ پر نظر دوڑائیں تو بائیسکل کی گھنٹی سب سے پہلے 1877ء میں ایجاد کی گئی تھی۔ اب تقریباً 150 سال بعد اس سادہ آلے کو دوبارہ نئے انداز میں تیار کیا گیا ہے۔ سائیکل سواروں کی حفاظت بہتر بنانے کیلئے سکوڈا (Škoda) نے ایک نئی قسم کی بائیسکل بیل ''DuoBell‘‘ تیار کی ہے۔ یہ بیل ایک منفرد آواز پیدا کرتی ہے جو مؤثر طور پر ہیڈ فونز میں موجود ایکٹیو نوائز کینسلنگ سسٹمز کو بھی بائی پاس کر سکتی ہے۔ابتدائی ٹرائلز میں معلوم ہوا کہ ''اے این سی ہیڈفونز‘‘ پہنے پیدل چلنے والے افراد کو بیل کی آواز سن کر ردعمل دینے میں اوسطاً پانچ سیکنڈ اور تقریباً 22 میٹر سے زیادہ فاصلے پر خطرہ محسوس ہوا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بائیسکل کی گھنٹیاں پچھلے 100 سال میں تقریباً نہیں بدلیں، لیکن ان کے اردگرد کی دنیا بدل گئی ہے۔ ''سکوڈا ڈیو بیل‘‘ پہلی ایسی گھنٹی ہے جو نوائز کینسلنگ ہیڈفونز کو مؤثر طور پر کاٹ سکتی ہے۔ یہ ایک ذہین اینالاگ حل ہے جو ان ہیڈفونز کے اندر موجود اے آئی الگورتھمز کو بھی شکست دیتا ہے۔ یہ ایک چھوٹی سی تبدیلی ہے جو شہر کی سڑکوں کو زیادہ محفوظ بنا سکتی ہے۔سکوڈا نے ڈیو بیل بنانے کی تحریک اس وقت حاصل کی جب اسے لندن میں سائیکل اور پیدل چلنے والوں کے درمیان تصادم میں اضافہ نظر آیا۔ لندن ٹرانسپورٹ کے مطابق 2025ء میں کم از کم 335 پیدل چلنے والے افراد سائیکلوں سے ہونے والے تصادم میں زخمی ہوئے، جن میں سے دو افراد جان کی بازی ہار گئے۔ اس مسئلے کی ایک بڑی وجہ نوائز کینسلنگ ہیڈفونز کا بڑھتا ہوا استعمال ہے، جو اردگرد کے ماحول اور قریب آنے والی سائیکلوں کے بارے میں آگاہی کم کر دیتے ہیں۔ اس مسئلے کو سمجھنے اور اس کا حل تلاش کرنے کیلئے کار ساز کمپنی نے یونیورسٹی آف سیلفورڈ کے ماہرین صوتیات کے ساتھ اشتراک کیا۔ شعبہ صوتیات کے سربراہ ڈاکٹر ول بیلے (Will Bailey) کے مطابق ایکٹیو نوائز کینسلنگ وسیع قسم کی آوازوں کو روکنے میں بہت مؤثر ہے۔ یہ آواز کو ڈیٹیکٹ کر کے اس کے مخالف سگنل کو واپس بھیجتا ہے تاکہ اسے منسوخ کیا جا سکے۔ لیکن کچھ ایسے پوائنٹس ہوتے ہیں جہاں یہ کم مؤثر ہو جاتا ہے، اسی لیے ہم نے ان کمزور مقامات کو تلاش کرنے کا فیصلہ کیا۔محققین نے صوتی تجربات کیے اور ایک تنگ ''سیفٹی گیپ‘‘ کی نشاندہی کی جو 750 سے 780 ہرٹز (Hz) کے درمیان ہے، اور یہ فریکوئنسی مستقل طورپر ایکٹیو نوائز کینسلنگ سسٹمز فلٹرز کو بائی پاس کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ڈاکٹر بیلے کے مطابق ہم نے چھ مختلف معروف ہیڈفونز پر سینکڑوں سگنلز ٹیسٹ کیے، اور ہمیں 750Hz پر ایک خاص سگنل ملا۔ ہم اسے ''سیفٹی گیپ‘‘ کہتے ہیں۔ اس خلا کو دریافت کرنے کے بعد ٹیم نے اس بیل کو اسی فریکوئنسی کے گرد ڈیزائن کیا۔تاہم ابتدا میں یہ کام کافی مشکل ثابت ہوا۔سکوڈا کے ہیڈ آف ہارڈویئر ڈیولپمنٹ ہیو بوائز نے کہا کہ مسئلہ یہ تھا کہ اتنی کم فریکوئنسی پیدا کرنے کیلئے گھنٹی کو بہت بڑا ہونا پڑتا، جو سائیکل کیلئے مناسب نہیں تھا۔ اس مسئلے پر قابو پانے کیلئے ٹیم نے دھات کی موٹائی کم کی، اس میں باریک اور درست کٹس شامل کیے، اور گھنٹی کو بالکل 750Hz پر ٹیون کیا۔ '' ایکٹیو نوائز کینسلنگ سسٹمز‘‘ کیخلاف اثر کو مزید بڑھانے کیلئے سکوڈا نے ایک دوسری فریکوئنسی 780Hz بھی شامل کی، اسی وجہ سے اس کا نام ''DuoBell‘‘ رکھا گیا۔ اگرچہ یہ سننے میں پیچیدہ ٹیکنالوجی لگتی ہے، لیکن حیرت انگیز طور پر ایسا نہیں ہے۔سکوڈا کے ہیڈ آف ڈیزائن اولیور سٹیفنی نے کہا کہ ہماری گھنٹی 100 فیصد مکینیکل ہے۔ یہ ایک سادہ اینالاگ حل ہے جو ایک ڈیجیٹل مسئلے کا حل پیش کرتا ہے۔ اس کی جانچ کیلئے سکوڈا نے سب سے پہلے ایک ورچوئل ریئلٹی منظر استعمال کیا، جس میں ایک سائیکل سوار کو اے این سی ہیڈ فونز پہنے ہوئے ایک غیر متوجہ پیدل چلنے والے شخص کے قریب آتے ہوئے دکھایا گیا۔ حیران کن طور پر ''DuoBell‘‘ کی آواز عام گھنٹی کے مقابلے میں 22 میٹر پہلے سنائی دی اور پانچ سیکنڈ پہلے اس کا ادراک ہو گیا۔

 اندلس:مسلمانوں کی عظیم الشان سلطنت

اندلس:مسلمانوں کی عظیم الشان سلطنت

مسلمان جو آج زوال پذیر ہیں، اپنی بساط میں پہلے کبھی نہ تھے۔ ان کا ماضی نہایت ہی خوشحال ، باوقار رہا ہے۔اندلس کی سرزمین کبھی اسلامی تہذیب و تمدن کا ایسا درخشاں مرکز تھی جہاں علم، فن، ادب اور سائنس اپنے عروج پر تھے۔ اندلس میں مسلمانوں نے نہ صرف ایک مضبوط اور منظم ریاست قائم کی بلکہ ایک ایسی مثالی معاشرت بھی تشکیل دی جس میں رواداری، انصاف اور علمی ترقی کو بنیادی حیثیت حاصل تھی۔ اندلس کی یہ عظیم الشان سلطنت آج بھی اپنی علمی، ثقافتی اور تہذیبی وراثت کے باعث تاریخ میں ایک سنہری باب کی حیثیت رکھتی ہے۔اندلس مسلمانوں کی عظیم الشان سلطنت تاریخِ اسلام کا وہ درخشاں باب ہے جس نے نہ صرف یورپ بلکہ پوری دنیا کی تہذیبی و علمی سمت متعین کی۔ اندلس کی سرزمین پر مسلمانوں نے آٹھویں صدی میں قدم رکھا تو یہاں ایک نئی روشنی نے جنم لیا، جس نے جہالت کی تاریکیوں کو علم و حکمت کے نور سے بدل دیا۔ 711ء میں طارق بن زیاد کی قیادت میں مسلمانوں نے جزیرہ نما آئبیریا میں داخل ہو کر ایک ایسی سلطنت کی بنیاد رکھی جو صدیوں تک علمی، ثقافتی اور سیاسی ترقی کی علامت بنی رہی۔اندلس کی ترقی کا راز صرف اس کی فوجی طاقت میں نہیں بلکہ اس کے عادلانہ نظامِ حکومت اور علم دوستی میں پوشیدہ تھا۔ مسلمانوں نے یہاں ایک ایسا معاشرہ قائم کیا جہاں مختلف مذاہب اور ثقافتوں کے لوگ امن و سکون کے ساتھ رہتے تھے۔ Cordoba، جو اس دور میں دارالحکومت تھا، دنیا کے عظیم ترین شہروں میں شمار ہوتا تھا۔ یہاں کی گلیاں روشن، بازار منظم اور تعلیمی ادارے اپنی مثال آپ تھے۔ قرطبہ کی عظیم الشان لائبریریوں میں لاکھوں کتابیں موجود تھیں، جبکہ اس وقت یورپ کے دیگر علاقوں میں علم و دانش کا شدید فقدان تھا۔اندلس میں تعلیم کو غیر معمولی اہمیت حاصل تھی۔ مدارس، جامعات اور تحقیقی مراکز میں فلسفہ، طب، ریاضی، فلکیات اور دیگر علوم کی تدریس کی جاتی تھی۔ ابن رشد، ابن سینا اور الزہراوی جیسے عظیم مفکرین اور سائنسدانوں نے نہ صرف اسلامی دنیا بلکہ یورپ کی فکری بنیادوں کو بھی متاثر کیا۔ خاص طور پر ابن رشد کی فلسفیانہ تحریروں نے یورپ میں نشاط ثانیہ کی راہ ہموار کی، جب کہ الزہراوی کو جدید سرجری کا بانی تسلیم کیا جاتا ہے۔اندلس کی ثقافت بھی اپنی مثال آپ تھی۔ یہاں فنِ تعمیر، موسیقی، ادب اور خطاطی نے بے مثال ترقی کی۔ الحمبرا(Alhambra) کا شاندار محل آج بھی مسلمانوں کی فن تعمیر میں مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے خوبصورت نقش و نگار، باغات اور آبی نظام اس دور کی اعلیٰ انجینئرنگ کا مظہر ہیں۔ اسی طرح مساجد، حمام اور باغات نے شہری زندگی کو خوبصورتی اور سہولت سے ہمکنار کیا۔معاشی اعتبار سے بھی اندلس ایک خوشحال ریاست تھی۔ زراعت، صنعت اور تجارت کو فروغ دیا گیا۔ مسلمانوں نے نہری نظام کو بہتر بنایا اور نئی فصلیں متعارف کروائیں، جس سے زرعی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا۔ کپڑا سازی، دھات کاری اور دیگر صنعتیں ترقی کر گئیں، جبکہ اندلس یورپ اور افریقہ کے درمیان ایک اہم تجارتی مرکز بن گیا۔تاہم، ہر عروج کو زوال بھی آتا ہے۔ اندلس کی عظیم سلطنت بھی داخلی اختلافات، سیاسی انتشار اور بیرونی حملوں کا شکار ہو گئی۔ عیسائی ریاستوں کی جانب سے جاری ''ریکونکویستا‘‘ (Reconquista) کی مہم نے مسلمانوں کی طاقت کو بتدریج کمزور کیا۔ بالآخر 1492ء میں غرناطہ کے سقوط کے ساتھ اندلس میں مسلمانوں کی حکمرانی کا خاتمہ ہو گیا۔ یہ واقعہ نہ صرف مسلمانوں بلکہ پوری دنیا کیلئے ایک اہم موڑ ثابت ہوا۔اندلس کا زوال اگرچہ ایک المیہ تھا، لیکن اس کی علمی و تہذیبی میراث آج بھی زندہ ہے۔ یورپ کی نشاۃ ثانیہ اور جدید سائنس کی ترقی میں اندلس کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ وہاں کے تراجم، سائنسی تحقیقات اور تعلیمی نظام نے مغربی دنیا کو نئی راہیں دکھائیں۔آج کے دور میں جب ہم اندلس کی تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ترقی کا راز علم، رواداری اور انصاف میں پوشیدہ ہے۔ اندلس نے یہ ثابت کیا کہ جب مختلف ثقافتیں اور مذاہب ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگی سے رہتے ہیں تو ایک عظیم اور پائیدار تہذیب جنم لیتی ہے۔ یہی وہ پیغام ہے جو اندلس کی عظیم الشان سلطنت آج بھی ہمیں دیتی ہے، اور یہی وہ ورثہ ہے جسے سمجھنا اور اپنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

مرحوم کی یاد میں !

مرحوم کی یاد میں !

ایک دن مرزا صاحب اور میں برآمدے میں ساتھ ساتھ کرسیاں ڈالے چپ چاپ بیٹھے تھے۔ جب دوستی بہت پرانی ہوجائے تو گفتگو کی چنداں ضرورت باقی نہیں رہتی اور دوست ایک دوسرے کی خاموشی سے بھی لطف اندوز ہوسکتے ہیں۔ یہی حالت ہماری تھی۔ ہم دونوں اپنے اپنے خیالوں میں غرق تھے۔ مرزا صاحب تو خدا جانے کیا سوچ رہے تھے لیکن میں زمانے کی ناسازگاری پر غور کر رہا تھا۔دور سڑک پر تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد ایک موٹرکار گزر جاتی تھی۔ میری طبیعت کچھ ایسی واقع ہوئی ہے کہ میں جب کبھی کسی موٹرکار کو دیکھوں، مجھے زمانے کی ناسازگاری کا خیال ضرور ستانے لگتا ہے اور میں کوئی ایسی ترکیب سوچنے لگتا ہوں جس سے دنیا کی تمام دولت سب انسانوں میں برابر برابر تقسیم کی جا سکے۔ اگر میں سڑک پر پیدل جا رہا ہوں اور کوئی موٹر اس ادا سے گزر جائے کہ گردوغبار میرے پھیپھڑوں، میرے دماغ، میرے معدے اور میری تلی تک پہنچ جائے تو اس دن میں گھر آ کر علم کیمیا کی وہ کتاب نکال لیتا ہوں جو میں نے ایف اے میں پڑھی تھی اور اس غرض سے اس کا مطالعہ کرنے لگتا ہوں کہ شاید بم بنانے کا کوئی نسخہ ہاتھ آجائے۔میں مرزا صاحب سے مخاطب ہو کر بولا:مرزا! ہم میں اور حیوانوں میں کیا فرق ہے؟۔مرزا صاحب بولے: بھئی، کچھ ہوگا ہی نا آخر۔میں نے کہا: میں بتاؤں تمہیں؟،کہنے لگے، بولو۔میں نے کہا ''کوئی فرق نہیں۔ ایک بات میں، میں اور وہ بالکل برابر ہیں کہ وہ بھی پیدل چلتے ہیں میں بھی پیدل چلتا ہوں۔مرزا صاحب میری اس تقریر کے دوران کچھ اس بے پروائی سے سگریٹ پیتے رہے کہ دوستوں کی بیوفائی پر رونے کو دل چاہتا تھا۔ میں نے ازحد حقارت اور نفرت کے ساتھ منہ ان کی طرف سے پھیر لیا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ مرزا کو میری باتوں پر یقین ہی نہیں آتا۔میں نے اپنے دانت پچی کر لیے اور کرسی کے بازو پر سے جھک کر مرزا کے قریب پہنچ گیا۔ مرزا نے بھی سر میری طرف موڑا۔ میں مسکرادیا لیکن میرے تبسم میں زہر ملا ہوا تھا۔جب مرزا سننے کیلئے بالکل تیار ہوگیا تو میں نے چبا چبا کر کہا، مرزا میں ایک موٹرکار خریدنے لگا ہوں۔مرزا بولے،کیا کہا تم نے، کیا خریدنے لگے ہو؟۔میں نے کہا،سنا نہیں تم نے؟ میں ایک موٹرکار خریدنے لگا ہوں۔موٹرکار ایک ایسی گاڑی ہے جس کو بعض لوگ موٹر کہتے ہیں، بعض لوگ کار کہتے ہیں لیکن چونکہ تم ذراکند ذہن ہو اس لئے میں نے دونوں لفظ استعمال کردیئے۔ تاکہ تمہیں سمجھنے میں کوئی دقت پیش نہ آئے۔مرزا بولے، ہوں۔ اب کے مرزا نہیں میں بے پروائی سے سگریٹ پینے لگا۔ بھویں میں نے اوپر کو چڑھا لیں۔ پھرسگریٹ والا ہاتھ منہ تک اس انداز سے لاتا اور ہٹاتاتھا کہ بڑے بڑے ایکٹر اس پر رشک کریں۔تھوڑی دیر کے بعد مرزا بولے، ہوں۔میں نے سو چا اثر ہو رہا ہے۔ مرزا صاحب پر رعب پڑ رہا ہے۔ میں چاہتا تھامرزا کچھ بولے،تاکہ مجھے معلوم ہو کہاں تک مرعوب ہوا ہے لیکن مرزا نے پھر کہا،ہوں۔میں نے کہا،مرزا جہاں تک مجھے معلوم ہے تم نے اسکول اور کالج اور گھر پر دو تین زبانیں سیکھی ہیں اور اس کے علاوہ تمہیں کئی ایسے الفاظ بھی آتے ہیں جو کسی اسکول یا کالج یا شریف گھرانے میں نہیں بولے جاتے۔ پھر بھی اس وقت تمہارا کلام ''ہوں‘‘ سے آگے نہیں بڑھتا۔ مرزا اس وقت تمہاری جو ذہنی کیفیت ہے، اس کو عربی زبان میں حسد کہتے ہیں۔مرزا صاحب کہنے لگے،نہیں یہ بات تو نہیں۔ میں تو صرف خریدنے کے لفظ پر غور کر رہا تھا۔ تم نے کہا میں ایک موٹرکار خریدنے لگا ہوں تو میاں صاحبزادے! خریدنا تو ایک ایسا فعل ہے کہ اس کیلئے روپے وغیرہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ روپے کا بندوبست کیسے کرو گے؟یہ نکتہ مجھے بھی نہ سوجھا تھا لیکن میں نے ہمت نہ ہاری۔ میں نے کہا، میں اپنی کئی قیمتی اشیا بیچ سکتا ہوں۔مرزا بولے،کون کون سی مثلاً؟میں نے کہا،ایک تو میں سگریٹ کیس بیچ ڈالوں گا۔ مرزا کہنے لگے،چلو دس آنے تو یہ ہوگئے، باقی ڈھائی تین ہزار کا انتظام بھی اسی طرح ہوجائے تو سب کام ٹھیک ہو جائے گا۔اس کے بعد ضروری یہی معلوم ہوا کہ گفتگو کا سلسلہ کچھ دیر کیلئے روک دیا جائے چنانچہ میں مرزا سے بیزار ہو کر خاموش ہو رہا۔ مرزا بولے،میں تمہیں ایک ترکیب بتاؤں ایک بائیسکل لے لو۔میں نے کہا، وہ روپے کا مسئلہ تو پھر بھی جوں کا توں رہا۔کہنے لگے، مفت۔میں نے حیران ہو کر پوچھا، مفت؟ وہ کیسے؟کہنے لگے، مفت ہی سمجھو۔ آخر دوست سے قیمت لینا بھی کہاں کی شرافت ہے۔ایسے موقع پر جو ہنسی میں ہنستا ہوں اس میں معصوم بچے کی مسرت، جوانی کی خوش دلی، ابلتے ہوئے فواروں کی موسیقی اور بلبلوں کا نغمہ سب ایک دوسرے کے ساتھ ملے ہوتے ہیں۔ چنانچہ میں یہ ہنسی ہنسااور اس طرح ہنسا کہ کھلی ہوئی باچھیں پھر گھنٹوں تک اپنی اصلی جگہ پر واپس نہ آئیں۔ جب مجھے یقین ہوگیا کہ یک لخت کوئی خوشخبری سننے سے دل کی حرکت بند ہوجانے کا جو خطرہ ہوتا ہے اس سے محفوظ ہوں، تو میں نے پوچھا، ہے کس کی؟مرزا بولے،میرے پاس ایک بائیسکل پڑی ہے تم لے لو۔میں نے کہا، پھر کہنا پھر کہنا!۔کہنے لگے، ''بھئی! ایک بائیسکل میرے پاس ہے۔ جب میری ہے تو تمہاری ہے۔ تم لے لو۔یقین مانیے مجھ پر گھڑوں پانی پڑ گیا۔ شرم کے مارے میں پسینا پسینا ہوگیا۔ چودھویں صدی میں ایسی بے غرضی اور ایثار بھلا کہاں دیکھنے میں آتا ہے؟ میں نے کرسی سرکا کر مرزا کے پاس کرلی۔ سمجھ میں نہ آیا کہ اپنی ندامت اور ممنونیت کا اظہار کن الفاظ میں کروں؟میں نے کہا،مرزا صاحب سب سے پہلے تو میں اس گستاخی اور درشتی اور بے ادبی کیلئے معافی مانگتا ہوں، جو ابھی ابھی میں نے تمہارے ساتھ گفتگو میں روا رکھی، دوسرے میں آج تمہارے سامنے ایک اعتراف کرنا چاہتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ تم میری صاف گوئی کی داد دو گے اور مجھے اپنی رحم دلی کے صدقے معاف کردوگے۔ میں ہمیشہ تم کو ازحد کمینہ، ممسک، خودغرض اور عیار انسان سمجھتارہا ہوں۔ دیکھو ناراض مت ہو۔ انسان سے غلطی ہوہی جاتی ہے لیکن آج تم نے اپنی شرافت اور دوست پروری کا ثبوت دیا ہے اور مجھ پر ثابت کردیا ہے کہ میں کتنا قابل نفرت، تنگ خیال اور حقیر شخص ہوں۔ مجھے معاف کردو۔

حکایت سعدیؒ:عقلمند شہزادہ

حکایت سعدیؒ:عقلمند شہزادہ

کہتے ہیں، ایک شہزادہ اپنے باپ کے مرنے کے بعد تخت حکومت پر بیٹھا تو اس نے حاجت مندوں کی امداد کیلئے اپنے خزانے کے دروازے کھلوا دیے۔ جو شخص بھی سوالی بن کر آتا، شہزادہ اس کی ضرورت کے مطابق اس کی امداد کرتا۔ نئے بادشاہ کا یہ رویہ دیکھا تو ایک روز وزیر نے مناسب موقع دیکھ کر خیر خواہی جتا نے کے انداز میں کہا کہ '' حضور والا پہلے بادشاہوں نے یہ خزانہ بہت توجہ اور دانشمندی سے جمع کیا ہے۔ اسے یوں لٹا دینا مناسب نہیں۔ بادشاہ کو کسی وقت بھی خطرات سے غافل نہیں ہونا چاہیے۔ کیا کہا جاسکتا ہے کہ آئندہ کیا واقعات پیش آئیں۔ اگر حضور والا اپنا سارا خزانہ بھی تقسیم کر دیں تو رعایا کے حصے میں ایک ایک جو کے برابر آئے گا لیکن اگر حضور رعایا کے لوگوں سے ایک ایک جو کے برابر سونا لیں تو حضور کا خزانہ بھر جائے گا‘‘۔ بظاہر یہ بات بہت خیرخواہی کی تھی۔ لیکن شہزادے کو بالکل پسند نہ آئی۔ اس نے کہا ''خدا نے مجھے اپنے فضل سے ایک بڑی سلطنت کا وارث بنا یا ہے۔ میرا یہ کام نہیں کہ مال جمع کرنے کی دھن میں لگ جاؤں، بادشاہ کا فرض رعایا کو خوشحال بنانا ہے۔ خزانے پر سانپ بن کر بیٹھنا نہیں ہے۔ قارون خزانوں کے باوجودہلاک ہوا۔نوشیرواں ہے زندہ و جاوید عدل سےڈبّے میں ہے گر بند تو بے فیض ہے عودخوشبو اڑے جب آتش سوزاں میں جلائیںملتی ہے بزرگی تو فقط جو دوسخا سےدانہ ہو اگر کاشت تو کھلیان سجائیںوضاحت:اس حکایت میں حضرت سعدیؒ نے یہ نکتہ بیان کیا ہے کہ سلطنت اور اقتدار کو دوام خزانوں سے نہیں بلکہ لوگوں کو خوشحال بنانے سے ملتا ہے۔ یہ سراسر سطحی سوچ ہے کہ زیادہ مال دار لوگ زیادہ عزت پاتے ہیں اور مال کی قوت سے ان کا اقتدار مستحکم ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سخاوت اور عدل و انصاف کے باعث دلوں میں جو محبت پیدا ہوتی ہے وہ اقدار اور عزت کو دوام بخشتی ہے۔

آج تم یاد بے حساب آئے!سید سبط حسن  دانشور، ادیب، صحافی، مؤرخ (1986-1912ء)

آج تم یاد بے حساب آئے!سید سبط حسن دانشور، ادیب، صحافی، مؤرخ (1986-1912ء)

٭...31 جولائی1912ء کو اعظم گڑھ بھارت میں پیدا ہوئے۔٭...ایک زمیندار گھرانے سے تعلق کی بنا پر اعلیٰ اداروں میں تعلیم حاصل کی ، علی گڑھ یو نیور سٹی سے تاریخ میں گریجویشن کیا،نیو یارک کی کولمبیا یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔٭...سید سجاد ظہیر کی قیادت میں اردو کی ترقی پسند تحریک کا آغاز کیا جو دیکھتے ہی دیکھتے اردو کی سب سے مقبول اور ہمہ گیر تحریک بن گئی۔٭...اپنی عملی زندگی کا آغاز صحافت سے کیا اور وہ ''پیام‘‘، ''نیاادب‘‘ اور ''نیشنل ہیرالڈ‘‘ جیسے رسالوں اور اخبار سے وابستہ رہے۔ ٭...قیام پاکستان کے بعد وہ لاہور میں اقامت پذیر ہوئے جہاں انہوں نے 1957ء میں ہفت روزہ ''لیل و نہار‘‘ جاری کیا۔ ٭...1965ء میں کراچی منتقل ہوگئے، جہاں اپنا زیادہ تر وقت تصنیف و تالیف میں بسر کیا۔ ٭...1975ء میں انہوں نے کراچی سے ''پاکستانی ادب‘‘ کے نام سے ایک ادبی جریدہ بھی جاری کیا۔٭...اگست1985ء میں لندن میں، مارچ 1986ء میں کراچی میں اور اپریل 1986ء میں لکھنو میں ترقی پسند تحریک کی گولڈن جوبلی منائی گئی تو سید سبط حسن نے ان تینوں تقریبات میں فعال کردار ادا کیا۔ ٭...وہ بھارت میں منعقد ہونے والی تقریب میں شرکت کیلئے گئے ہوئے تھے کہ 20 اپریل 1986ء کو دہلی میں ان کا انتقال ہو گیا۔ وہ کراچی میں سخی حسن کے قبرستان میں آسودہ خاک ہیں۔تصانیفما ضی کے مزار، موسی سے ما رکس تک، نوید فکر، پاکستان میں تہذیب کا ارتقاء، شہر نگاراں، انقلاب ایران، افکار تازہ، ادب اور روشن خیالی، سخن در سخن، مغنی آتش نفس، آزادی کی نظمیں، بھگت سنگھ اور اس کے ساتھی،The Battle of ideas in pakistan

آج کا دن

آج کا دن

فرانس کا اعلان جنگ1792ء میں فرانس نے ہنگری اور بوہیمیا کے بادشاہ کیخلاف جنگ کا اعلان کیا، جو دراصل انقلاب فرانس کا آغاز تھا۔ یہ اعلان اس وقت کیا گیا جب فرانس میں نئی حکومت اپنے نظریات کو یورپ میں پھیلانا چاہتی تھی۔ اس جنگ کا مقصد بادشاہتوں کیخلاف جدوجہد اور انقلابی اصولوں کا دفاع تھا۔ اس کے نتیجے میں یورپ میں خونریز لڑائیوں کا سلسلہ شروع ہوا، جس نے پورے براعظم کی سیاسی صورتحال کو بدل کر رکھ دیا۔سانحہ بھوجا ایئر لائن20 اپریل 2012ء کو افسوسناک فضائی حادثہ ''سانحہ بھوجا ایئر لائن‘‘ پیش آیا۔ اس حادثے میں بھوجا ایئر کی پرواز بی4-213 اسلام آباد کے قریب گر کر تباہ ہو گئی۔ اسے ملکی تاریخ کا دوسرا بڑا فضائی حادثہ قرار دیا گیا، جس میں 129افراد ہلاک ہوئے۔طیارہ خراب موسم، آندھی اور گرج چمک کے دوران لینڈنگ کی کوشش کر رہا تھا جب یہ اسلام آباد کے قریب زمین سے ٹکرا گیا اور آگ بھڑک اٹھی۔خلائی گاڑی کی چاند پر لینڈنگ1972 میں اپالو16کے تحت خلائی گاڑی نے چاند کی سطح پر کامیاب لینڈنگ کی۔ اس تاریخی مشن کی قیادت جان ینگ کر رہے تھے۔ ناسا کے اس پروگرام کا مقصد چاند کی سطح کا مزید تفصیلی مطالعہ کرنا تھا۔ اس دوران خلا بازوں نے چاند پر مختلف سائنسی تجربات کیے، پتھروں کے نمونے جمع کیے اور قمری ماحول کے بارے میں قیمتی معلومات حاصل کیں، جس سے خلائی تحقیق میں نمایاں پیش رفت ہوئی۔''لڈ لو‘‘ قتل عاملڈلو قتل عام کولوراڈو کول فیلڈ جنگ کے دوران اینٹی اسٹرائیکر ملیشیا کے ذریعہ کیا گیا۔ کولوراڈو نیشنل گارڈ کے سپاہیوں اور کولوراڈو فیول اینڈ آئرن کمپنی کے گارڈز نے 20 اپریل 1914ء کو کولوراڈو میں تقریباً 1200 سے زائد ہڑتال پر بیٹھے کوئلے کی کان میں کام کرنے والے مزدوروں اور ان کے خاندانوں کی ایک خیمہ کالونی پر حملہ کر دیا۔ تقریباً 21 افرادمارے گئے۔ کولوراڈو کمپنی کے مالک جان ڈی راکفیلر جونیئر پر اس قتل عام کو منظم کرنے کا الزام لگایا گیا ۔سیپٹنسولر جمہوریہ1800ء میں آج کے دن سیپٹنسولر جمہوریہ کا قیام عمل میں آیا۔ یہ اس وقت ہوا جب روس اور عثمانی سلطنت کے بحری بیڑے نے ان جزائر پر قبضہ کر لیا اور فرانسیسی جمہوریہ کی دو سالہ حکمرانی ختم کر دی گئی۔ اگرچہ جزیرے کے باشندوں نے امید کی تھی کہ انہیں مکمل آزادی حاصل ہو جائے گی لیکن نئی ریاست کو صرف خود مختاری دی گئی اور ساتھ ہی اسے عثمانی سر پرستی میں بھی دے دیا گیا۔ 1807ء میں اسے فرانسیسی سلطنت کے حوالے کر دیا گیا تھا۔ جانسن اسپیس سینٹر پر فائرنگجانسن اسپیس سینٹر میں فائرنگ کا واقعہ20 اپریل 2007ء میں پیش آیا۔ یہ واقعہ ہوسٹن ٹیکساس میں موجود امریکہ کے خلائی تحقیقاتی ادارے کے جانسن کی عمارت میں پیش آیا۔ایک ملازم ولیم فلپس نے اپنے ساتھی کو گولی مار کردوسرے کو تیں گھنٹے سے زائد یرغمال بنائے رکھا۔اس کے بعدولیم نے خودکشی کر لی۔ پولیس کی جانب سے کی گئی تحقیقات میں سامنے آیا کہ ولیم کی خراب کارکردگی کی وجہ سے ادارہ اس سے خوش نہیں تھا اور اسے نوکری سے نکالے جانے کا ڈر تھا۔