نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی کوسعودی ہم منصب کاٹیلی فون
  • بریکنگ :- دوطرفہ تعلقات،مختلف شعبوں میں تعاون،باہمی دلچسپی کےامورپرتبادلہ خیال
  • بریکنگ :- وزیراعظم عمران خان کےدورہ سعودی عرب کےاثرات پربھی تبادلہ خیال
  • بریکنگ :- دونوں وزرائےخارجہ کاقیادت کےمشترکہ فیصلوں پرعملدرآمدیقینی بنانےپراتفاق
  • بریکنگ :- شاہ محمودقریشی نےسعودی سالمیت سےمتعلق پاکستان کی حمایت کایقین دلایا
Coronavirus Updates
"ABA" (space) message & send to 7575

اسلاموفوبیا ۔۔۔۔۔(1)

''ایک آدمی کپڑے اُتار تو سکتا ہے‘ لیکن مزید کپڑے نہیں پہن سکتا‘‘۔
اس ایک جملے نے وہ ساری تاریخ بیان کردی جس کے نتیجے میں آج تک ہزاروں لاکھوں مسلمان عورتیں‘ بچے اور مرد رزقِ خاک ہوئے۔ سوشل میڈیا کا ریکارڈ بتاتا ہے کہ 27 نومبر 2019ء کے دن اس جملے والے خطاب کو جتنے لوگوں نے سنا اور آج تک فالو کیا وہ ابلاغیات کی جدید تاریخ کا ریکارڈ ہے۔
اسلاموفوبیا کو ہم اگر جدید تاریخ سے دیکھنا شروع کریں تو مسلمانوں کے خلاف نفرت کی لہر 9/11 کے بعد جس تیزی سے بڑھی اتنی خطرناک رفتار سے کبھی کوئی اور انسانی المیہ پیدا نہیں ہوا۔ اس کی بنیادی وجہ صرف ایک ہی ہے اور وہ یہ کہ بعض مغربی رہنمائوں نے اسلام کو دہشت گردی کے مساوی ظاہر کیا۔ اس مکروہ مقصد کو حاصل کرنے کے لیے ایک نئی سیاسی اصطلاح بھی ایجاد کی گئی‘ جسے Radical Islamic Terrorismکا نام دیا گیا۔
ابھی 6 جون کو کینیڈا کے صوبے انتاریو کے شہر لندن میں بعض عاقبت نااندیش مغربی سیاسی لیڈروں کے پیدا کردہ اسلاموفوبیا کا پروان چڑھایا ہوا ایناکونڈا منہ کھولے دندناتا ہوا مین شاہراہ پر آ گیا جہاں لاہور سے تعلق رکھنے والی ایک مسلم پاکستانی فیملی فٹ پاتھ پر پیدل چلتی جا رہی تھی۔ اس خوبصورت اور پُرامن گھرانے میں نو سال کا بچہ فائز سلمان‘ اس کی 44 سالہ والدہ مدیحہ سلمان‘ 46 سالہ والد فزیوتھراپسٹ سلمان افضل‘ نویں جماعت میں پڑھنے والی بہن 15سالہ یمنیٰ سلمان اور ان کی 74 سالہ ضعیف دادی (جن کا نام نہیں بتایا گیا) شامل تھے۔ مسلمانوں کے خلاف نفرت کا سبق پڑھانے والے معاشرے میں Nathaniel Veltman نام کا ایک عفریت 20 سال تک کنڈلی مارے پھنکارتا رہا‘ پھر ایک بڑا ٹرک اس کے ہتھے چڑھا تو وہ چار معصوم بے گناہوں کی جان لے گیا۔ دہشت گردی کی اس بے رحمانہ واردات میں مرنے والوں کا قصور صرف اتنا سا تھا کہ وہ مسلمانوں والے باوقار انداز اور لباس میں ہوا خوری کے لیے سڑک پر آئے تھے۔
9/11 کے واقعات کے بعد اسلاموفوبیا کی اصطلاح اور تہذیبوں کے تصادم کا تصور نئے سرے سے سامنے آیا جس کے بعد مسلمانوں کے خلاف دنیا بھر میں حملوں کی شرح اور رفتار بڑی تیزی سے بڑھتی چلی گئی۔ اس آگ پر مغربی میڈیا اور مغرب کے متعصب گورے سیاست دانوں نے مسلسل تیل ڈال کر اس کے شعلے بلند کروائے۔ اس کا نتیجہ کیا ہے؟ نہتے اور اکیلے مسلمانوں پر حملے‘ مسلمانوں کے خلاف منظم فسادات‘ نفرت اور مذہبی منافرت پر مبنی احتجاجی مظاہرے‘ مسلمان عورتوں کا دوپٹہ‘ برقعہ اور حجاب کھینچنا‘ مذہبی اقدار کی توہین‘ مسلمان لڑکیوں پر آوازے کسنا‘ مسلمانوں کی پراپرٹی میں گھس کر توڑ پھوڑ کرنا‘ منظم گروہ کی صورت میں حملہ کرنا‘ مسلمانوں کی عبادت گاہوں میں قتلِ عام اور آگ لگانا اور بم کی دھمکی جیسے واقعات اسلاموفوبیا کے واضح ثبوت ہیں۔
اسلاموفوبیا کے حوالے سے سب سے بڑا المیہ مغرب میں Intellectual Dishonesty کی صورت میں اس وقت سامنے آیا جب مختلف ریاستوں کے منیجرز‘ لیڈرز اور مین سٹریم میڈیا نے اسلاموفوبیا کے وجود سے ہی انکار کردیا۔ کھلی حقیقت سے ایسے انکار کو self denial کہا جاتا ہے جس کا سب سے بڑا نتیجہ یہ نکلا کہ اسلاموفوبیا کے مجرموں کو ریاستی اداروں‘ پالیسیوں اور میڈیا کا کوَر یا پناہ ملتی چلی گئی۔ گزشتہ چند سالوں میں اسلاموفوبیا کے لگ بھگ 255 بڑے حملے ریکارڈ کئے جا چکے ہیں‘ کچھ رپورٹ شدہ تفصیل اس طرح سے ہے:
البانیا: ایک واقعہ۔ آسٹریلیا: 12واقعات۔ آسٹریا: ایک۔ بلجیم: دو۔ بوسنیا ہرزیگووینا میں مسلمانوں کے اجتماعی قتل کے واقعات میں 20 ہزار سے زیادہ کلمہ گو شہری تہ تیغ کردیے گئے۔ اسی طرح سے برازیل میں ایک واقعہ‘ بلغاریہ میں دو‘ کینیڈا میں 18 واقعات‘ چاڈ میں ایک‘ سینٹرل افریقن ریپبلک میں دو‘ ڈنمارک میں آٹھ‘ جرمنی میں 16‘ یونان میں تین جبکہ اسرائیل میں اسلاموفوبیا کے اَن گنت واقعات میں ہزاروں شہری جن میں بچے‘ عورتیں‘ جوان اور بزرگ کی کوئی تفریق نہیں رکھی جاتی‘ صہیونی اسلاموفوبک وار کے نشانے پر ہیں۔ اٹلی میں تین مالی میں ایک‘ میانمار میں 110 سے زیادہ جن کا اکثر شکار روہنگیا مسلمان بنتے آئے ہیں‘ نیدرلینڈز میں چار‘ نیوزی لینڈ میں ایک‘ ناروے میں پانچ‘ فلپائن میں منڈانائو مسلم علاقوں پر فوجی حملوں کی علاوہ دوسرے شہروں میں پانچ واقعات‘ پولینڈ میں دو‘ رومانیہ میں ایک‘ سری لنکا میں 10‘ سپین میں سات اسلاموفوبک تشدد کے واقعات رپورٹ ہوئے جبکہ سوئٹزرلینڈ میں ایک‘ سویڈن میں آٹھ‘ یوکرائن میں دو اسلاموفوبیا کی وارداتیں رپورٹ شدہ ہیں۔ مغرب کے دو بڑے ملکوں برطانیہ اور امریکہ میں بالترتیب 30 اور 48 رپورٹ شدہ واقعات سامنے آئے ہیں۔
یہ زمین پر رونما ہونے والے رپورٹ شدہ واقعات کی ہلکی سی تفصیل ہے۔ Hate Crime اور اسلاموفوبیا سے متعلق جرائم پر نظر رکھنے والے ماہرین کا خیال ہے کہ بہت بڑی تعداد میں انفرادی اور شدید تشدد‘ قتل اور آگ لگائے جانے ایسی وارداتیں مسلمان رپورٹ ہی نہیں کرتے یا پھر ایسی رپورٹس کو پولیس کارپٹ کے نیچے دبا کر نمٹا دیتی ہے۔
اسلاموفوبیا کی اس خوفناک لہر نے فضاؤں‘ ہوائوں اور آسمانوں کو بھی نہیں بخشا؛ چنانچہ 9/11 کے بعد ''Flying while Muslim‘‘ کا ایکسپریشن بڑا مشہور ہوا جن میں سے چند واقعات بڑھتے ہوئے اسلاموفوبیا کی شدت کو سمجھنے کے لیے دیکھ لینا ضروری ہیں۔
پہلی واردات: 16اگست 2006ء کے دن مالاگا (سپین ) سے مانچسٹر (یوکے) جانے والی پرواز میں سوار برطانوی مسافروں نے دو ایشیائی مسافروں کو طیارے سے اُتارنے کیلئے شور مچا دیا۔ سپین کے صوبے مالاگا (جس میں مشہور زمانہ جبل الطارق بھی واقع ہے) میں سول ایوی ایشن گارڈز کے ترجمان نے یہ بیان جاری کیا کہ ان افراد پر شک ان کے ظاہری حلیے کی وجہ سے کیا گیا۔ اس کے علاوہ دونوں مسافر ایک غیرملکی زبان جسے عربی سمجھا گیا میں بات کررہے تھے۔ پائلٹ نے ان مسافروں کو جہاز سے نکالے جانے تک جہاز اُڑانے سے انکار کردیا۔ مالاگا کے سکیورٹی اداروں نے ہوائی جہاز کا سکیورٹی سوئپ کیا جس میں کسی قسم کا کوئی دھماکہ خیز مواد یا دہشتگردی کی نوعیت کا کوئی سامان نہیں ملا۔ مونارک ایئرلائنز نے ان دونوں مسافروں کو (جو اردو بول رہے تھے) ہوٹل کے کمرے میں ٹھہرایا‘ مفت کھانا دیا اور ایک دوسری فلائٹ سے واپس بھیجا۔ مسافروں نے میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے کہاکہ ہمارے مسلمان ہونے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہم خودکش بمبار ہیں۔ مسلمانوں کی عالمی تنظیموں نے اس واقعے کا الزام ان لوگوں پر لگایا جو ''وار آن ٹیرر‘‘ کے نام پر اسلاموفوبیا کے واقعات کو بڑھاوا دینے کے ذمہ دار ہیں۔
دوسرا واقعہ: ایک عام برطانوی نژاد مسلمان شہری کے ساتھ پیش آیا جسے یو ایس جانے والی ایک فلائٹ سے زبردستی اتار دیا گیا۔ برطانیہ میں پیدا ہونے والے اس شخص کے پاسپورٹ پر اس کا مذہب اسلام لکھا ہوا تھا‘ لہٰذا اسے فلائٹ سے ڈی بورڈ کرنے کے لیے یہ گرائونڈ کافی سمجھی گئی حالانکہ دنیا کے کسی ملک کے امیگریشن قوانین میں نسلی تعصب کے بارے میں کوئی جواز موجود نہیں ہے‘ سوائے اسرائیل کے۔
اسلاموفوبیا کا طوفانِ بدتمیزی جاری ہے لیکن ایک آواز مغرب سے بھی ایسی اُٹھی‘ جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ (جاری)

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں