نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- کراچی:دعامنگی کیس کےملزم کےفرارہونےکاواقعہ
  • بریکنگ :- اےایس آئی محمدخالدکی مدعیت میں واقعہ کامقدمہ درج
  • بریکنگ :- کراچی:پولیس نےگرفتاراہلکاروں کاابتدائی بیان ریکارڈکرلیا
  • بریکنگ :- ملزم نےطارق روڈسےشاپنگ کرنےکاکہاتوشاپنگ مال لےگئے،بیان
  • بریکنگ :- کراچی:ملزم شاپنگ مال میں جھانسہ دےکرفرارہوگیا،بیان
Coronavirus Updates
"ABA" (space) message & send to 7575

مسلم بیانیے کی جیت… (1)

اسلاموفوبیا کو پوسٹ 9/11 جذباتی ماحول کا Knee Jerk ری ایکشن قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اس کے پیچھے ایک پوری تاریخ ہے‘ بلکہ فلاسفی بھی۔ اسلاموفوبیا کے مختلف فیز ریاستِ مدینہ کے قیام اور استحکام سے ہی شروع ہو گئے تھے۔ اس کا دوسرا بڑا فیز ستمبر کے مہینے میں 636 عیسوی کو شروع ہوا جب محسن انسانیت حضرت محمدﷺ کے بے مثل اصحاب کی ٹیم میں سے ایک اہم جرنیل حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کی کمانڈ میں ریاست مدینہ کی فوج نے قادسیہ کے مقام پر (یہ میدان جنگ موجودہ ملک عراق میں واقع ہے) 16 ستمبر سے 19ستمبر تک اسلامی تاریخ کی پہلی عظیم جنگ لڑی۔ اسی جنگ کے نتیجے میں 19ستمبر 636 عیسوی کے روز نبیٔ آخرالزماں حضرت محمدﷺ کی پیشگوئی کا معجزہ سامنے آیا۔
اُس زمانے کی پرشین ایمپائر یورپ اور مغرب کے اَن گنت علاقوں پر قبضہ کرچکی تھی۔ ایرانی کمان دار آرٹ آف وار کے ماہر سمجھے جاتے تھے‘ جبکہ خلافتِ راشدہ جزیرہ عرب کی نوآموز فوجی طاقت کے طور پر ابھر رہی تھی۔ جنگ قادسیہ خلیفہ راشد ثانی سیدنا عمر فاروقؓ کے دور میں لڑی گئی‘ جس میں ریاستِ مدینہ کے عساکر کی سپہ سالاری حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کے حصے میں آئی۔
جنگ قادسیہ نے ایشیا کی تاریخ بدل کر رکھ دی۔ ساتھ ساتھ جنگوں میں فوجی برتری کے تصور کو بھی پامال کرکے رکھ دیا۔ اُس زمانے میں ایران کی فوج میں دنیا کی مختلف اقوام سے تعلق رکھنے والے جنگجو اور کمانڈر شامل تھے‘ جن کا سپہ سالار ایران کا رستم فرخ زاد خود تھا۔ ایران کا یہ لیڈر بے جگری سے لڑنے والا پہلوان بھی مانا جاتا تھا۔ رستم کی قیادت میں جنگ قادسیہ لڑنے کے لیے پرشین ایمپائر کے جو نامور کمانڈر بھیجے گئے اُن میں بہمن‘ جادویہ‘ ہرمزان‘ جالینوس‘ شہریار‘ ابن کنارا‘ پہروز خسرو‘ مہران رازی‘ کنارا‘ پیرویہ‘ نخیرگان‘ جواں شیر‘ موشیغ ثالث‘ مامی کونیان اور گریگور نووی راک جیسے لڑاکے سپاہ گری کے ماہر شامل تھے۔
خلیجِ عرب سے اُبھرتی ہوئی اسلامی طاقت اور خلیج فارس کی ہزار سالہ تاریخ رکھنے والی ساسانی ایمپائر کی فوجوں میں طاقت‘ مال‘ اسباب‘ حرب‘ گھوڑوں‘ ہاتھیوں اور ہتھیاروں کی تعداد میں بہت بڑا عدم توازن فارسی فوج کے حق میں جاتا تھا مگر قادسیہ کے میدان میں مسلم فوج اُس مہارت اور ایسی بے جگری سے لڑی کہ اُس زمانے کے ماہرین حرب و ضرب کے سارے اندازے خاک میں ملا کر رکھ دیئے۔
تب فارس یعنی ملکِ ایران آتش پرست تھا۔ ظاہر ہے برتری کی بہت طویل تاریخ رکھنے کی وجہ سے اسلاموفوبیا کا شکار بھی۔ اس جنگ کی تفصیلات جدید و قدیم تاریخ کے صفحات میں محفوظ ہیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ وار آف قادسیہ کے حوالے سے بہت سی اینی میٹڈ اور ڈاکومنٹری فلمیں بھی بنائی گئی ہیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ جنگ قادسیہ سے پہلے ایران کی فوج کے ساتھ ریاست مدینہ کے محافظوں کی مختلف جھڑپیں ہوتی رہیں جن میں بار بار ایرانی فوج کو ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اُس دور کے مورخین نے ان چھوٹی لڑائیوں کو فارس کی مسلم فتوحات کے نام سے ریکارڈ کیا ہے۔ اس پس منظر میں جنگ قادسیہ کے برپا ہونے سے پہلے اُس دور کی جرگہ نما سفارت کاری بھی ہوئی۔ اسلامی لشکر کی طرف سے مغیرہ بن شعبہ مذاکرات کرکے واپس لوٹے تو رستم فرخ زاد نے جنگ کو واحد آپشن قرار دے کر اپنے پونے دو لاکھ سے زیادہ فوجیوں کو لڑائی کا فرمان سنا دیا‘ جن کا مقابلہ کرنے کے لیے مسلمان فوج کی تعداد کل 30 اور 40 ہزار کے قریب جنگجوئوں پر مشتمل تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ کچھ مسلم لشکر دوسرے محاذوں سے واپس بلا کر جنگ قادسیہ میں شرکت کیلئے بھجوائے گئے تھے۔
مذاکرات کے وقت دونوں لشکروں کے درمیان ایک نہر حائل تھی جسے کراس کر کے رستم فرخ زاد نے جنگی ہاتھیوں اور آہنی زرہ پوش گھڑ سواروں کو سب سے آگے کر دیا۔ خود رستم لشکروں کے قلب میں فدائی دستوں کے درمیان شاہی خیمے میں سونے اور ہیرے جواہرات سے سجے تخت پر جا بیٹھا۔ قادسیہ کی جنگ ایک طرح سے انسانی حقوق پر مبنی بیانیے کی جنگ بھی تھی۔ ایرانی شہنشاہت اور اس وقت کے دوسرے حکمرانوں کے مقابلے میں خلیفہ دوم حضرت فاروق اعظمؓ کا طرزِ زندگی حیران کردینے والی سادگی اور عجز سے مزین تھا۔ اس سلسلے کا جنگ قادسیہ کے تناظر میں اہم ترین تاریخی واقعہ یوں ہوا کہ قادسیہ کا لشکر روانہ کرنے کے بعد خلیفہ راشد حضرت عمر فاروقؓ کا حال یہ تھا کہ وہ روزانہ صبح اُٹھ کر مدینے سے باہر تشریف لے جاتے تاکہ جنگ کے احوال کا پتہ چلایا جا سکے۔ ایک دن معمول کے مطابق سیدنا عمر فاروقؓ مدینے کی حدود سے باہر نکل گئے جہاں انہیں دور سے ایک اونٹ سوار تیز رفتاری سے مدینے کی طرف آتا ہوا نظر آیا۔ اُس وقت حضرت عمر فاروقؓ اکیلے اور پیدل چل رہے تھے۔ جونہی اُن کی نظر شتر سوار پر پڑی آپؓ اُس کی طرف دوڑ پڑے۔ اونٹ سوار کے قریب پہنچنے پر اُس سے پوچھا کہ کہاں سے آرہے ہو؟ اونٹ سوار نے بتایا کہ سیدھا قادسیہ کے میدانِ جنگ سے آیا ہوں۔ سیدنا عمرؓ نے جنگ کا احوال پوچھا تو اونٹ سوار بولا: میں خوشخبری لے کر آرہا ہوں۔ اللہ تعالیٰ کی ذاتِ با برکات نے مسلم افواج کو فارس کے خلاف عظیم کامیابی اور فتح عطا فرما دی ہے۔
قادسیہ کی تین روزہ جنگ میں تین وجوہات کی بنا پر‘ یکطرفہ نظر آنے والی اس جنگ کا پانسہ پلٹ گیا۔
پہلی وجہ: لشکرِ اسلام کے کمانڈر اِن چیف حضرت سعد بن ابی وقاصؓ بیماری کی وجہ سے گھوڑے پر سوار نہیں ہو سکتے تھے۔ مدینے کی فوج کے قیام کے قریب ایک کونے میں ایک اُجڑی ہوئی مگر پختہ پرانی عمارت کھڑی مل گئی‘ حضرت سعد بن ابی وقاصؓ اس عمارت کی چھت پر نشست گاہ بنا کر بیٹھ گئے اور یہیں پہ جنگی حکمتِ عملی تیار کی۔ ایرانی فوج اپنے ماضی اور شاہی کروفر پر زیادہ انحصار کر رہی تھی۔
دوسری وجہ: حضرت سعد بن ابی وقاصؓ نے لشکر گاہ میں موجود مختلف قبائل اور فوجیوں میں جذبہ جہاد و حرب کی تبلیغ کرنے کے لیے عمرو بن معدؓ‘عاصم بن عمروؓ ربعی اور عامرؓ سے مسلسل گشت لگانے کو کہا اور اس کے ساتھ ساتھ قرآن کی قرأت کرنے والے قاری حضرات سے تمام لشکر گاہ میں ذوقِ جہاد کو عروج پر پہنچا دیا۔
تیسری وجہ: عرب کے شاعروں نے اُن کے اجداد کی سپہ گری پر مبنی رجز خوانی جاری رکھی۔
اسی ماحول میں قادسیہ کے میدان میں جنگ کے پہلے دن کا سورج طلوع ہو گیا۔ دونوں مسلح فوجیں ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہوئیں تو سب سے پہلے ایران کے شاہی خاندان کا ایک شہزادہ‘ جس کا نام ہرمر تھا‘ سر پر سونے کا تاج سجائے میدان میں نکل آیا۔ (جاری)

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں