نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں 3سال کی بلندترین سطح پرپہنچ گئیں
  • بریکنگ :- عالمی مارکیٹ میں خام تیل 85 ڈالرفی بیرل پرفروخت ہونےلگا
  • بریکنگ :- برینٹ کروڈ 84.70ڈالر،ڈبلیوٹی آئی 82.11 ڈالرفی بیرل پرفروخت ہورہاہے
  • بریکنگ :- تیل کی کھپت میں اضافہ اورسپلائی میں کمی کےباعث قیمتیں بڑھ گئیں،ماہرین اقتصادیات
Coronavirus Updates

جمہوریت اور مستقبل

پاکستان میں اہلِ رائے کی غالب اکثریت کو یقین ہے کہ جمہوریت ہی پاکستان کے تمام مسائل کا حل ہے کیونکہ جمہوری نظام سیاسی، معاشی اور سماجی مسائل کے حل کے لئے ایک مناسب خاکہ پیش کرتا ہے۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد جب جمہوری نظام کو فروغ ملا تو دُنیا کے کئی ممالک نے اس نظام کی بدولت ترقی اور کامیابی کی منازل طے کیں۔ اِس طرح جمہوریت ایک ایسے نظام کے طور پر سامنے آئی جس کی وجہ سے ریاست میں رہنے والے لوگوں کے حقوق کا تحفظ یقینی ہوا لیکن جس طرح کی جمہوریت کے تجربات سے ہم گزرے ہیں یا گزر رہے ہیں اُس سے نہ صرف اِس رائے کی نفی ہوتی ہے بلکہ یوں لگتا ہے کہ ہمارا سیاسی، معاشی اور سماجی ڈھانچہ تیزی سے تنزلی کی طرف جا رہا ہے اور رائج جمہوریت اِ س طرح تیزی سے زوال پذیر ڈھانچے کو بچانے میں کوئی کردار ادا نہیں کر پا رہی۔ جس طرح کا طرزِ جمہوریت یہاں دکھائی دیتا ہے اُس سے روشن مستقبل کی اُمید وابستہ نہیں کی جا سکتی۔ ایک رائے یہ بھی ہے کہ ہماری جمہوریت کا جمہوریت کی اساس سے کوئی تعلق نہیں ہے کیونکہ پاکستان میں قانون کی بالادستی، انصاف کی فراہمی اور لوگوں کے بنیادی حقوق کے حوالے سے سوال اُٹھتے رہتے ہیں حالانکہ جمہوری روایات میں اس کی نوبت نہیں آتی۔ اَس کے ثمرات اِس لئے بھی حاصل نہ ہو سکے کہ صیح معنوں میں جمہور یت کو پنپنے نہیں دیا گیا۔
ایسا لگتا ہے کہ پاکستان میں جمہوریت ایک زینہ ہے جو سرمایہ دار اور جاگیردار صرف طاقت اور اقتدار کے حصول کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ جن ملکوں میں جمہوریت پھلی‘ پھولی اور اُس کے ثمرات عام لوگوں تک پہنچے وہاں جمہوریت اقدار پر کھڑی ہوئی اور روایتوں کے بل پر مضبوط ہوئی جبکہ ہمارے مروجہ نظام کا جمہوری اقدار یا روایات سے کوئی واسطہ دکھائی نہیں دیتا۔ اگر تاریخ سے گواہی لی جائے تو مارشل لا ادوار اور جمہوریت‘ دونوں ہی موجودہ حالات کا موجب دکھائی دیتے ہیں لیکن زیادہ اہم بات یہ ہے کہ کیا ہم ماضی سے سبق سیکھتے ہوئے مستقبل میں کچھ ایسا کرنے کو تیار ہیں کہ جس سے جمہوری نظام مضبوط ہو سکے۔
ہم جمہوریت یا جمہوری نظام سے کیا اُمید رکھتے ہیں؟ جمہوریت دُنیا کے بہت سے ممالک میں بطور نظام رائج ہے اور جمہوری نظام کی کامیابی کی مثالیں بھی موجود ہیں۔ دُنیا میں جمہوریت کی کامیابی کو آزادانہ اور منصفانہ انتخابات، میڈیا، تعلیم، عدلیہ، سیاسی جماعتوں اور مذہبی رواداری جیسے عناصر سے تعبیر کیا جاتا ہے اور یہی عوامل جمہوریت کی نمو میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ آزادی کے موقع پر بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح نے بھی ایک جمہوری پاکستان کا خاکہ پیش کیا تھا اور اُن کی خواہش تھی کہ ملک کی بنیادیں جمہوری نظام پر اُستوار ہوں۔ معرضِ وجود میں آنے کے بعد پاکستان نے جمہوری طرزِ حکومت کو رائج کرنے کی سعی کی لیکن بہت سے عوامل کی وجہ سے وہ جمہوری کلچر پھل پھول نہ سکا جس کی توقع کی جا رہی تھی۔
جمہوریت کیا ہے؟ مغرب کے جمہوری تجربات کی روشنی میں اگر جمہوریت کی تعریف کریں تو جمہوریت ایک ملک میں رہنے والے کسی بھی فرد کی رائے کا نام ہے۔ جمہوریت کسی ریاست میں بسنے والی اکثریت کی رائے ہے لیکن اقلیت اپنے حقوق کی ضمانت کے ساتھ ایسی ہی اہمیت رکھتی ہے جو اکثریت کو حاصل ہو۔ جمہوریت مکمل آزادی ہے لیکن اخلاقی اصولوں اور ضابطوں کی پابند بھی ہے۔ جمہوریت مساوات اور انصاف جیسی روایتوں کا نام ہے۔ جمہوریت رواداری جیسی اقدار کا نام ہے۔ جمہوریت ایک منصفانہ نظام وضع کرتی ہے جو کسی ریاست میں بسنے والے لوگوں کی ذات، مذہب، رنگ اور نسل کی تمیز کیے بغیر اُن کی فلاح کا کام کرتی ہے۔ جمہوریت میں ایک خودکار احتساب کا نظام پنہاں ہوتا ہے۔ ایک شخص جو خود کو لوگوں کی راہ نمائی کا اہل تصور کرتا ہے وہ خو د کو انتخابات کے لئے پیش کرتا ہے۔ لوگ اُس کو قائدانہ صلاحیتوں کی بنیاد پر منتخب کرتے ہیں اور وہ اپنی کارکردگی کے حوالے سے عوام کے سامنے جواب دہ ہوتا ہے۔ جمہوریت قانون کی بالا دستی کا نظام ہے جس میں ریاست میں رہنے والے تمام شہری یکساں حقوق کے حامل ہوتے ہیں اور وہ بلاتفریق قانون کے سامنے جواب دہ بھی ہوتے ہیں۔
اگر کوئی پاکستان میں موجود نام نہاد جمہوریت کو مغربی جمہوریت کے پیمانے پر پرکھے گا تو بلاشبہ یہاں کی جمہوریت جمہوری اصولوں سے متصادم نظر آئے گی۔ ایسا تاثر ملے گا کہ یہاں جمہوریت کے نام پر جدوجہد صرف طاقت اور اقتدار کی جدوجہد ہے جہاں اہلیت اور کردار کے بجائے دولت اور اثر و رسوخ زیادہ اہمیت کے حامل سمجھے جاتے ہیں۔ جہاں قیادت خاندان کی صرف ایک نسل سے دوسری نسل کو منتقل ہوتی ہے اور موروثی سیاست کو تقویت ملتی ہے۔ قومی مفاد پر ذاتی مفاد کو ترجیح اِس سارے بگاڑ کی وجہ بنتی ہے۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ برسوں سے رائج فرسودہ نظام کیسے ایک جامع اور جمہوری نظام میں تبدیل ہو سکے گا اور پاکستان کے سیاسی ڈھانچے میں کیسے مثبت تبدیلی آئے گی۔
جمہوریت کے لئے تین اہم سٹیک ہولڈرز عوام، سیاسی جماعتیں اور ادارے ہیں اور اِن سٹیک ہولڈرز کو سب سے پہلے اپنے اندرموجود مسائل اور خامیوں کا عمیق جائزہ لینا ہوگا اور اپنے درست کردار کا تعین کرنا ہوگا۔ عوام سب سے اہم سٹیک ہولڈرز ہیں کیونکہ انتخابا ت جمہوریت کا اہم عنصر ہیں اور لوگوں کے لئے یہ انتہائی ضروری ہے کہ وہ اہل اور دیانت دار افراد کو منتخب کریں اور اِس کے لئے ضروری ہے کہ لوگوں کے اندر اِس حد تک سیاسی شعور بیدار ہو کہ وہ اپنے ووٹ کے ذریعے ایسے لوگوں کو لا سکیں جو اہم عہدوں پہ فائز ہو کر بہتر فیصلے کر سکیں اور اِسی شعور کے نتیجے میں آنے والے وقت میں کارکردگی کی بنیاد پر اُن کا ووٹ کے ذریعے احتساب کر سکیں۔
سیاسی جماعتیں دوسرا بڑا سٹیک ہولڈر ہیں۔ یہ بات قدرے افسوسناک ہے کہ سوائے ایک آدھ سیاسی جماعت کے‘ کسی بھی سیاسی جماعت کا ڈھانچہ جمہوری نہیں ہے۔ سیاسی جماعتوں میں بھی ایک اندرونی احتسابی نظام ہونا چاہیے جو اعلیٰ اور درمیانے درجے کی قیادت کو جوابدہ بنا سکے۔ سیاسی جماعتوں میں اصلاح کا اپنا میکانزم ہونا چاہیے جو اُس کے نظم میں بہتری لا سکے۔ سیاسی جماعتوں میں درجہ بدرجہ سیاسی تربیت کا انتظام ہو تاکہ حکومتی اُمور کو چلانے کیلئے ایک اہل ٹیم تشکیل دی جا سکے۔ جمہوریت کی ترقی کیلئے ملک کے اہم ادارے بھی سٹیک ہولڈرز ہیں۔ ادارے مضبوط ہوں گے تو جمہوریت مضبوط ہو گی۔ اِ س لئے یہ بہت ضروری ہے کہ ادارے اپنے اندر اُن تمام اصلاحات کو یقینی بنائیں جو کاکردگی کو بہتر بنانے کے حوالے سے ضروری ہیں۔ بلاشبہ اداروں میں میرٹ کا فروغ اداروں کی مضبوطی اور بہترین کارکردگی کا ضامن ہوگا۔
بلاشبہ یہ اہم سوال ہے کہ پاکستان میں جمہوریت کا مستقبل کیا ہے؟ جمہوریت کا مستقبل بلاشبہ روشن ہے لیکن اُس کیلئے بہت سے عملی اقدامات جنگی بنیادوں پر کرنا درکار ہیں۔ جمہوریت کو مضبوط کرنے کیلئے سب کو مل کر جدوجہد کرنا ہوگی اور اُس جدوجہد سے پہلے بیان کردہ سٹیک ہولڈرز کے مابین ایک اعلیٰ سطحی مکالمہ بھی انتہائی ضروری ہے۔ مکالمے کی بدولت ایسے آئیڈیاز سامنے آ سکتے ہیں جو مسائل کے دیرپا حل کی طرف پیش رفت کرنے میں مدد گار ثابت ہوں۔ اگر تمام سٹیک ہولڈرز کو اِس بات کا ادراک ہے کہ جمہوریت کے نمو میں ہی قوم کا مستقبل ہے تو سب کو مل کر اِس میں در آنے والی قباحتوں کو دور کرنے میں اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ یہی وقت ہے کہ سب اپنی ذات اور قبیلے کے خول سے باہر نکلیں اور اپنے آنے والی نسلوں کے روشن مستقبل کے لئے کام کریں۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں