نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- آئندہ انتخابات میں آئی ووٹنگ اورای وی ایم کےاستعمال کامعاملہ
  • بریکنگ :- وفاقی وزیرشبلی فرازکی چیف الیکشن کمشنرسےملاقات
  • بریکنگ :- ملاقات میں الیکشن کمیشن کےممبرسندھ اوربلوچستان بھی شریک
  • بریکنگ :- انتخابی ترمیمی بل 2021 پرعملدرآمدسےمتعلق تبادلہ خیال
  • بریکنگ :- ای وی ایم اورسمندرپارپاکستانیوں کوووٹنگ کےحق پربات چیت،ذرائع
  • بریکنگ :- شبلی فرازکی پائلٹ ٹیسٹنگ کےلیےای وی ایم کی فراہمی کی یقین دہانی
  • بریکنگ :- وزیراعظم کی الیکشن کمیشن کوبھرپورمعاونت کی ہدایت،ملاقات میں گفتگو
  • بریکنگ :- وزیراعظم کاکہناہےانتخابات میں جدت کاراستہ اختیارکیاجائے،شبلی فراز
  • بریکنگ :- الیکشن کمیشن ای وی ایم کی خصوصیات بارےفیصلہ کرے،وفاقی وزیرشبلی فراز
  • بریکنگ :- رواں ماہ الیکشن کمیشن کی 3 کمیٹیاں رپورٹس جمع کرائیں گی،الیکشن کمیشن
  • بریکنگ :- حکومت اورالیکشن کمیشن میں کوآرڈینیشن مزیدبہتربنانےکیلئےرابطوں پراتفاق
Coronavirus Updates
"DVP" (space) message & send to 7575

سربجیت کو یوں مرنے نہ دیں

سربجیت سنگھ اگر ہندوستانی جاسوس ہوتا یا دہشت گرد ہوتا تو کیا ہماری حکومت کو معلوم نہ ہوتا؟ حکومت کو سربجیت کے بارے میں سب کچھ معلوم تھا۔ معلوم ہی نہیں تھا، اسے پختہ یقین تھا کہ وہ جاسوس نہیں تھا اور لاہور میںہوئے بم دھماکوں سے اس کا کچھ لینادینا نہ تھا۔ یہ حقیقت سربجیت کے قتل کے بعد جاری ہونے والے وزیراعظم اور خارجہ سیکرٹری کے بیانات سے بھی ثابت ہوتی ہے۔ تو پھر کیا وجہ ہے کہ سربجیت کی رہائی اور حفاظت کے تئیں ہماری حکومت نے اتنا ڈھلمل رویہ اپنا رکھا تھا؟ شناخت کی گڑبڑی کے سبب اصلی مجرم منجیت سنگھ رہا ہوگیا اور اس کی جگہ سربجیت پھنس گیا۔ اس نے 22سال کوٹ لکھپت کی جیل میں کاٹ دیے اور اب اس کا سنگین قتل بھی ہوگیا۔ اس کے لیے آخر کسے ذمہ دار ٹھہرایا جائے؟ پہلی ذمہ داری پاکستانی حکومت کی ہے۔ سربجیت کے پاکستانی وکیل اویس احمد شیخ کا کہنا ہے کہ اسے مکمل یقین ہے‘ سربجیت بالکل بے قصور ہے۔ اس کا کیس وہ اسی لیے لڑرہے تھے کہ اسے انصاف ملے۔ وہ پیسے یا شہرت کے لیے نہیں لڑرہے تھے۔ شیخ کو بہت ظلم بھی سہنے پڑے، لیکن انہوں نے سربجیت کی آخری سانس تک اس کا ساتھ دیا۔ پاکستانی حکومت بھی سربجیت کے تئیں ہمدردی کا مظاہرہ کرنا چاہتی تھی، لیکن رائے عامہ کے دباؤ کے آگے اسے جھکناپڑا۔ صدرآصف زرداری نے رہائی کے لیے رحم کی درخواست کو ٹال دیا۔ لیکن اپریل2008ء میں ہونے والی پھانسی بھی ٹل گئی۔ گزشتہ سال اپریل میں جب آصف علی زرداری اجمیر شریف دورہ پر آئے ، اس وقت اگر ہمارے وزیراعظم ان سے درخواست کرتے تو سربجیت رہا ہوسکتا تھا۔ زرداری صاحب کو سمجھایا جاسکتا تھا کہ ہماری حکومت پاکستانی شہری ڈاکٹر خلیل چشتی کو معاف کررہی ہے۔ چشتی قتل کے مجرم تھے۔ اُن کے بدلے سربجیت کو چھوڑنے پر پاکستانی عوام کا ردعمل اتنا اشتعال انگیز نہ ہوتا۔ لیکن ہماری حکومت نے وہ موقع کھودیا۔ صدر زرداری نے چشتی کی رہائی کی درخواست کی لیکن منموہن سنگھ چوک گئے۔ اگر سربجیت کوئی مشہورڈاکٹر یا ڈپلومیٹ یا کسی لیڈر کے بیٹے ہوتے تو اس کی رہائی کی پہل وزیراعظم شاید خود کرتے، لیکن ہندوستان اور پاکستان کا کردار اس معاملہ میں ایک جیسا ہی ہے۔ اگر کوئی آدمی معمولی ہے تو بے قصور ہونے پر بھی وہ پھنسا لیا جاتا ہے اور اگر وہ ’سفیدپوش‘ ہے تو قصوروار ہونے پر بھی وہ بچ نکلتا ہے۔ کیا ہم اٹلی کی حکومت سے کچھ سیکھیں گے، جس نے اپنے دو معمولی سپاہیوں کے لیے اپنی حکومت کو ہی خطرے میں ڈال دیا تھا؟ پاکستان کی حکومت نے سربجیت کا قتل کروایا ہو، ایسا ثبوت تو نہیں ہے، لیکن ذمہ داری تو اس کے سر ہی آئے گی۔ جس قیدی نے اتنی لمبی جیل کاٹ لی ہو، جو غیرملکی ہو اور اتنا مشہور ہو، اس کی حفاظت کا جیسا بیکارانتظام جیل میں تھا، اسی کا نتیجہ ہے کہ جیل میں اس کا قتل ہوگیا۔ جیلیں قتل روکنے کے لیے بنی ہیں اور ان میں ہی کسی کا قتل ہوجائے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ حکومت کیا کررہی ہے؟ بغیرجیل اہلکاروں کی جانکاری یا ملی بھگت کے اتنا سنگین جرم جیل کے اندر کیسے ہوسکتا ہے؟ نگران وزیراعلیٰ نجم سیٹھی جانچ کروا رہے ہیں اور قاتلوں پر مقدمہ بھی دائر ہوگیا ہے، لیکن اس سانحہ سے پاکستان کا کیا امیج بنتا ہے؟ ہندوستان میں اجمل قصاب بھی جیل میں تھا۔ اس کی حفاظت پر کروڑوں روپے خرچ کیے گئے اور اسے مکمل عدالتی سہولتیں بھی دی گئیں۔ بین الاقوامی قانون کا احترام ہوا، لیکن پاکستان میں کیا ہوا؟ اس کا اندرونی قانون بھی ٹوٹا اور اس کا بین الاقوامی امیج بھی خراب ہوا۔ اگر سربجیت کے زخمی ہوتے ہی پاکستان اسے ہوائی ایمبولنس سے ہندوستان بھجوا دیتا اور ہندوستان کے ساتھ مکمل سفارتی تعاون کرتا تو ہندوستان کے عوام کے زخموں پر کچھ مرہم لگتا، لیکن لگتا ہے کہ حکومت ہند کو بھی جتنا زور لگانا چاہیے تھا اس نے نہیں لگایا۔ یہ ٹھیک ہے کہ ہندوستان لے جانے پر بھی شاید سربجیت بچ نہ پاتا لیکن اس سے دونوں حکومتوں کی عزت تو بچ جاتی۔ اب مرنے کے بعد بھارتی پنجاب کی حکومت نے اسے سرکاری اعزاز سے نوازا اور حکومت ہند نے لاش لانے کے لیے جہاز دیا تو سربجیت کے جیتے جی بھی کچھ ٹھوس کرنا چاہیے تھا یا نہیں؟ سربجیت کی بہن دلبیر کور کا غصہ دونوں حکومتوں کے تئیں ہے اور جائز ہے۔ لیکن ہندوستان اور پاکستان کی جیلوں میں ایک نہیں، سیکڑوں سربجیت سنگھ پھنسے ہوئے ہیں۔ بے قصور مچھوارے، سرحدوں پر بسے ہوئے کسان اور مزدور اور کئی چھوٹے موٹے مجرم دونوں ممالک کی جیلوں میں برسوں سے سڑ رہے ہیں۔ ان کا کوئی والی وارث نہیں ہے۔ ان کا کوئی وکیل نہیں ہے۔ وہ کسی عدالتی فیصلے کے بغیر ہی جیل کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ پاکستان کی جیلوں سے رہا ہوئے کچھ ہندوستانی قیدیوں کی بات پر یقین کریں تو رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ ان کے ساتھ جانوروں سے بھی برا سلوک کیا جاتا ہے۔ آخر ان کی خیرخبر کون لے گا؟ کیا صرف انصار برنی جیسے لوگ ہی بچے ہیں، اس نیک کام کے لیے؟ سربجیت کی بہن نے اس کی رہائی کے لیے 25کروڑ روپے مانگنے کا الزام برنی پر لگایا ہے۔ اس الزام پر دفعتاً یقین نہیں آتا، لیکن برنی جیسے مددگار اور رحم دل دوست پر دلبیر کور ایسا وقار کو نقصان پہنچانے والا الزام کیوں لگائیں گی؟ سربجیت معاملہ کے بعد اب دونوں ممالک کو اپنی اپنی جیلوں میں ایک دوسرے کے قیدیوں کے خصوصی تحفظ کا انتظام کرنا ہوگا۔ یہ تو فوری کارروائی ہوئی لیکن بنیادی کام تب ہوگا، جبکہ دونوں ممالک کا کوئی مشترکہ عدالتی کمیشن فوراً قائم کیا جائے، جو ایک دوسرے کے قیدیوں کو جلدازجلد انصاف دلانے کی کوشش کرے۔ ابھی صورتحال یہ ہے کہ قیدیوں کے بارے میں ان کے اہل خانہ کو ہی پتہ نہیں چلتا کہ وہ کہاں ہیں۔ کیوں نہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے قیدیوں کی تفصیلات ویب سائٹوں پر فوراً ڈالنے کاانتظام کریں؟ سربجیت کا قتل اور ایک ہندوستانی سپاہی کا سر کاٹ دینا، ان دونوں واقعات کا ہندوستان کے عوام کے ذہن پر گہرا اثر ہوا ہے۔ ہندوستان کے پالیسی سازوں کو پتہ ہے کہ پاکستان کے لیڈر انتہاپسند عناصر کے سامنے بے بس ہوجاتے ہیں، لیکن عام آدمی یہ مانتا ہے کہ یہ سب کچھ پاکستانی سرکار کے اشارے پر ہوتا ہے۔ یہ داغدار شبیہ تبھی صاف ہوسکتی ہے، جب پاکستان کی طاقتور اور آزاد عدالتیں ان خطرناک مجرموں کو فوراً سخت سزا دیں اور اس کی تشہیر دونوں ممالک میں اچھی طرح کی جائے۔ ہندوستان اور پاکستان ایک دوسرے سے بہت لڑلیے۔ دونوں کو ایک دوسرے سے شکایتیں بھی بہت ہیں، لیکن جیسا کہ پاکستان کی تمام اہم پارٹیوں نے اپنے منشور میں دوطرفہ تعلقات کو بہتر بنانے کا اعلان کیا ہے، وہ اس گاڑی کو پٹری سے نہ اترنے دیں۔ (ڈاکٹر ویدپرتاپ ویدک دِلّی میں مقیم معروف بھارتی صحافی ہیں۔ اس مضمون میں انہوں نے جن خیالات کا اظہار کیا ہے‘ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں)

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں