نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- آئندہ 2 ہفتےمیں وزیراعظم کراچی کادورہ کریں گے،اسدعمر
  • بریکنگ :- وزیراعظم عمران خان گرین لائن کاافتتاح کریں گے،اسدعمر
  • بریکنگ :- کراچی کادیرینہ مطالبہ مردم شماری رہاہے،اسدعمر
  • بریکنگ :- دسمبر2022 میں مردم شماری مکمل کردی جائےگی،اسدعمر
  • بریکنگ :- وفاق کی معاونت سےکراچی کی ترقی کاسفرشروع ہوچکاہے،اسدعمر
  • بریکنگ :- سندھ حکومت نےمقامی حکومتوں سےاختیارات چھین لیےہیں،اسدعمر
  • بریکنگ :- سندھ حکومت کےنئےنظام کومستردکرتےہیں،اسدعمر
  • بریکنگ :- سندھ حکومت نےجعلی مقامی حکومت کااعلان کیا،اسدعمر
  • بریکنگ :- سندھ کےعوام کےساتھ ظلم برداشت نہیں کیاجائےگا،اسدعمر
  • بریکنگ :- کراچی ترقی کرےگا تو پاکستان ترقی کرےگا،اسدعمر
  • بریکنگ :- وزیراعظم نےفیصلہ کیاہر 5 سال بعدمردم شماری کرائی جائےگی،اسدعمر
Coronavirus Updates
"DVP" (space) message & send to 7575

پاکستان سے بات بند کرنے کی تُک کیا ہے؟

ہندپاک سرحد پر مارے گئے ہمارے پانچ جوانوں کو لے کر حکومت نشانہ پر ہے۔ لوگ اب یہ سوچنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ حکومت کا کوئی سربراہ ہے بھی یا نہیں؟ کہیں یہ بغیر پائلٹ کا جہاز تو نہیں ہے؟ وزیردفاع اے کے انتھونی نے جو پلٹیاں کھائی ہیں، وہ اس لیے نہیں کہ وہ دفاعی پالیسی یا خارجہ پالیسی کے معاملے میں اناڑی ہیں۔ انہوں نے پلٹی اس لیے کھائی کہ پارلیمنٹ اور پورا ملک حکومت پر اُبل پڑا تھا۔ اگر اس حکومت کا سربراہ کوئی لیڈر ہوتا تو انتھونی اپنے پہلے بیان پر ڈٹے رہتے اور وہ پارلیمنٹ اور ملک کو بھڑکنے ہی نہیں دیتے، لیکن ملک کی بدقسمتی ہے کہ یہ حکومت بابوؤں کی حکومت بن گئی ہے۔ لیڈر بڑے بابو ہیں اور نوکرشاہی کے چھوٹے بابو! بابوؤں میں ہمت کہاں؟ ذرا سی پھٹکار لگی نہیں کہ وہ دم دبا کر بیٹھ جاتے ہیں۔ اس معاملے میں بھی یہی ہوا ہے۔ انتھونی نے پہلے دن جو کہا، اصلیت وہی ہے۔ 21 بہار رجمنٹ نے پونچھ کے پولیس تھانہ میں 6 اگست کو جو رپورٹ درج کروائی ہے(ایف آئی آرنمبر:113/2013)، اس میں واضح طور پر لکھا ہے کہ دہشت گردوں نے ہماری سرحد میں گھس کر ہمارے جوانوں کو مارا ہے۔ بیچارہ وزیر دفاع کیا کرتا؟ اس حقیقت کو جوں کا توں پارلیمنٹ کے سامنے رکھ دیا، لیکن اسے شاید اندازہ نہیں تھا کہ ایک دن پہلے سے ٹی وی چینلوں نے ہنگامہ کھڑا کر رکھا تھا۔ انہیں تو کچھ چاہیے۔ اخبار بھی پیچھے کیسے رہتے؟ انہیں پڑھ کر ممبران پارلیمنٹ کو بھی یہی لگا کہ پاکستان داداگیری پر اتر آیا ہے۔ میاں نواز شریف کہتے کچھ ہیں اور کرتے کچھ ہیں۔ پاکستان کو سبق سکھانا ضروری ہے۔ اسی لیے انہوں نے مطالبہ کیا کہ پہلے تو ستمبر میں ہونے والے دونوں وزرائے اعظم کے مذاکرات کو منسوخ کیا جائے اور دوسرا پاکستان کے کچھ فوجیوں کو مار کر بدلہ لیا جائے۔ اس دوران دہلی میں جگہ جگہ پاکستان مخالف مظاہرے بھی ہوئے۔ دو طرفہ تعلقات میں زہرسا گھل گیا۔ حکومت کی گھگھی بندھ گئی۔ وہ یہ کہنے کی پوزیشن میں بھی نہیں رہی کہ ستمبر میں مذاکرات ہوں گے یا نہیں ہوں گے۔ اس نے اپنی فوج کے چیف کو سرحد پر بھیجا اور وزیر دفاع اس سے مشورہ کرکے سر کے بل کھڑے ہوگئے۔ اب وزیر دفاع نے کہا ہے کہ پانچ جوانوں کا قتل پاکستانی فوج کی ایک خاص ٹکڑی نے کیا ہے۔ ان کے اس بیان سے بی جے پی مطمئن ہوگئی ہے، لیکن ذرا بی جے پی یہ سوچے کہ اس نے بلاوجہ طوفان کھڑا کرکے کیا اٹل جی کی ہی پالیسی کو کچا نہیں چبا ڈالا؟ 2003ء میں اٹل حکومت نے ہی جنگ بندی کو پکا کیا تھا اور اس پالیسی کی وجہ سے تصادم کے واقعات تقریباً صفر ہوتے جارہے تھے۔ بی جے پی مخالف پارٹی ہے، اس وجہ سے حکومت کو مشکل میں ڈالنا اس کا کام ہے، لیکن اسے یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ یہ لفظی جنگ کا جنون بڑی جنگ کی شکل بھی اختیار کر سکتا ہے۔ پانچ جوانوں کے قتل کا مقامی معاملہ مکمل جنگ کروانے کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ پہلی عالمی جنگ آخر کیسے شروع ہوئی؟ 1914ء میں سرویے وا میں اسٹرو ہنگیرین شہزادہ فرانز فرڈی نینڈ کے قتل نے سارے یورپ کو جنگ کی بھٹی میں جھونک دیا تھا اور پھر ہند- پاک دونوں ہی پڑوسی ہیں اور ایٹمی توانائی والے بھی ہیں۔ اب جیسے انتھونی نے کہہ دیا کہ پاکستانی فوج قصوروار ہے تو بتائیے اب بی جے پی یا سماج وادی جیسی مخالف پارٹیوں کا کیا کہنا ہے؟ ایک سرکے بدلے 100سر کاٹ لائیے یا پانچ کے بدلے پچاس تو لائیے۔ کیا ایسا کرنا ٹھیک ہوگا؟ خاص طور سے اس وقت جبکہ پاکستانی وزیراعظم میاں نواز شریف نے ’افسوس‘کا اظہار کیا ہے اور کنٹرول لائن کے آر پار مقامی فوجی نظام کو بہتر بنانے کی وکالت کی ہے۔ ابھی ہماری حکومت کو ٹھیک سے یہ معلوم ہی نہیں ہے کہ ہمارے جوانوں کو کس نے مارا ہے اور ہم انتہا پسندانہ قدم اٹھانے کا مطالبہ کرنے لگے ہیں۔ اگر انہیں دہشت گردوں نے مارا ہے تو پہلا سوال تو یہی ہے کہ ہماری فوج کس کام کی ہے؟ دہشت گرد اگر عام اور نہتے شہریوں کو مار دیں تو وہ تو سمجھ میں آتا ہے، لیکن سرحدپر تعینات ہتھیاروں سے لیس اور محتاط فوجیوں کا دہشت گردوں کے ہاتھ مارا جانا تو کسی بھی حکومت کے لیے شرم کی بات ہونی چاہیے۔ دوسری بات، ہمیں یہ ذہن میں رکھنا چاہیے کہ دہشت گردی سے جتنے ہم پریشان ہیں، اس سے کئی گنا زیادہ پاکستانی پریشان ہیں۔ میاں نواز کے دوراقتدار میں ایک دن بھی ایسا نہیں گزرا جب پاکستان میں کہیں نہ کہیں دہشت گردوں نے حملہ نہ کیا ہو۔ ایسے میں میاں نواز کی حکومت اور ہندوستان کی حکومت کو مل کر دہشت گرد دشمن کا مقابلہ کرنا چاہیے یا آپس میں لڑمرنا چاہیے؟ دشمن کا دشمن دوست، کیا چانکیہ کے اس اصول کو ہم بھول گئے؟ بھولے تو نہیں ہیں، لیکن اسے نافذ کرنے کے لیے ملک میں اندرا گاندھی یا اٹل بہار ی واجپئی کی طرح کوئی بڑا لیڈر تو ہو۔ حکومت کو بڑے بابو اور چھوٹے بابو مل کر چلا رہے ہیں اور ان کلرکوں کو مخالف رہنما کٹھ پتلیوں کی طرح نچا رہے ہیں۔ ملک ٹھگا سا اس تماشے کو دیکھ رہا ہے۔ ہم یہ نہ بھولیں کہ اسامہ بن لادن کا قتل، اکبر بگتی کی موت، لال مسجد سانحہ، کراچی کے بحری اڈے پر حملہ اور امریکی ڈرون حملوں نے پاکستانی حکومت اور فوج کو مشکلات میں ڈال رکھا ہے۔ اس کے علاوہ نومبر تک جنرل کیانی کی جگہ نیا فوجی سربراہ آنے والا ہے۔ پاکستان کی اقتصادی حالت بھی انتہائی عجیب ہے۔ ایسی حالت میں پاکستان ہندوستان کو ’آ بیل سینگ مار‘کیوں کہے گا؟ اگر ہندوستان میں آدھی ادھوری خبروں کی بنیاد پر جنگ کا ماحول بنتا رہا تو میاں نواز کی ہندوستان پالیسی بالکل ناکام ہوجائے گی۔ ہندوستان کے خارجہ پالیسی سازوں کو سوچنا چاہیے کہ وہ کس کے ہاتھ مضبوط کر رہے ہیں؟ نواز شریف کے یا دہشت گردوں کے؟ اس کا مطلب یہ بالکل نہیں ہے کہ ہم اپنے جوانوں کے قتل کے معاملات میں خاموشی اختیار کر لیں۔ ہم بولیں اور زور سے بولیں، لیکن ان کی بھی سنیں، یعنی بات کریں اور باتوں سے معاملات سلجھائیں۔ جب ان مقامی معاملات کے لیے بات بند کرنا ٹھیک نہیں تو ستمبر میں ہونے والی بڑی بات کو بند کرنے کی کیا تُک ہے؟ (ڈاکٹر ویدپرتاپ ویدک دِلّی میں مقیم معروف بھارتی صحافی ہیں۔ اس مضمون میں انہوں نے جن خیالات کا اظہار کیا ہے ‘ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں)

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں