نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- گورنر سندھ عمران اسماعیل نےسندھ بلدیاتی ترمیمی بل منظورنہیں کیا
  • بریکنگ :- کراچی:گورنر سندھ نے بلدیاتی ترمیمی بل اعتراضات کے ساتھ واپس کر دیا
  • بریکنگ :- دیہی علاقہ میٹروپولیٹن کارپوریشن کا حصہ نہیں ہوسکتا،گورنر سندھ کا اعتراض
  • بریکنگ :- ترمیمی بل کانوٹیفکیشن آئین کے خلاف ہے،گورنر سندھ کا اعتراض
  • بریکنگ :- ڈی ایم سی کے خاتمےسےکوآرڈی نیشن کے مسائل پیداہوں گے،اعتراض
  • بریکنگ :- ترمیم سےمیونسپل کارپوریشن پراپرٹی ٹیکس سےمحروم ہو جائےگی،اعتراض
  • بریکنگ :- خفیہ ووٹنگ سےلوکل باڈی سطح پر ہارس ٹریڈنگ کا خدشہ ہے،اعتراض
Coronavirus Updates
"DVP" (space) message & send to 7575

پاک بھارت افغان مثلث؟

پاکستان کے اکثر وفاقی وزراء‘ لیڈروں‘ سرکاری افسروں‘ فوجیوں اور صحافیوں سے میری روز ملاقات ہوتی ہے‘ان سے میں ایک سوال ضرور پوچھتا ہوں:افغانستان سے چھ مہینے بعد جب امریکہ کی واپسی ہو گی تو کیا ہوگا؟کوئی ویرانی پیدا ہوگی یا نہیں؟ اگرویرانی پیدا ہوئی تو وہاں لاقانونیت پھیلے گی یا نہیں؟ اگر لاقانونیت پھیلے گی تو کس کو زیادہ نقصان ہو گا؟بھارت کو یا پاکستان کو؟ان دونوں ملکوں کو مل کر اس کی فکر کرنی چاہئے یا نہیں؟
زیادہ تر لوگ میرے سوال سن کر پریشان سے ہو جاتے ہیں۔یاتو وہ اتنی دور کی باتیں سوچنے کے عادی نہیں ہوتے یا ان کے پاس ان سوالات کے معقول جواب نہیںہوتے۔لیکن جو لوگ بین الاقوامی سیاست اور پالیسی بنانے سے سیدھے جڑے ہوئے ہیں‘وہ ان سوالوں پر گہرے جواب دیتے ہیں۔زیادہ تر لوگوں کی رائے تھی کہ افغانستان میں بغاوت اور انارکی ضرور پھیلے گی۔ اس کے کئی سبب وہ بیان کرتے ہیں‘ پہلا‘ افغان فوج اور پولیس‘جن کی تعداد ساڑھے تین لاکھ ہے‘اس لائق نہیں کہ وہ پورے ملک پرکنٹرول رکھ سکیں۔ ان کی تربیت‘ ان کے ہتھیار‘ ان کی تنخواہ اور دیگر سہولتیں کافی کمزور اور ناکافی ہیں۔ اس کے علاوہ افغان فوج میں بھگوڑے پن کی شکایتیں اکثر آتی رہتی ہیں۔ دوسرا‘ افغان فوج کو نسلی عصبیت کی بیماری لگی ہوئی ہے۔ پٹھان‘ تاجک‘ ازبک‘ ہزارا‘ ترکمان اور کرغیز لوگ فوجی کارروائی کرتے وقت اپنے کمانڈر کے احکام سے زیادہ اپنی ذات کے لوگوں کا خیال رکھتے ہیںیعنی افغان فوج کی ابھی تک حقیقی ریاستی شکل نہیں بن پائی۔ تیسرا‘ صدارتی چناؤ کے نتائج کا تنازع اب نسل پرستی کی دراڑ کو زیادہ بڑھائے گا۔اگر عبداللہ عبداللہ شکست کھا گئے تو افغانستان کے غیر پٹھان عوام میںکافی بے چینی پھیلے گی۔ طالبان کا خطرہ تو ہے ہی‘اگر نسلی بنیادوں پر خانہ جنگی چھڑ گئی توافغانستان سے لاکھوں مہاجرین ایک بار پھر پاکستان کا رخ کریں گے۔ چوتھا‘ پاکستان میں جاری فوجی آپریشن کی وجہ سے اب سارے دہشت گرد بھاگ کر افغانستان کو اپنے لئے محفوظ مقام بنا لیں گے۔افغانستان کی پہاڑیاں ان کی چھاپہ مارجنگ میں خاصی مددگار ثابت ہوتی ہیں۔
اگر طالبان آدھے افغانستان یعنی پاکستان سے ملحق پٹھان علاقوں پر بھی قبضہ کر لیتے ہیں تو وہ پاکستان کا ناک میں دم کر دیں گے ۔یا تو پاکستان کو ان سے ہاتھ ملانا ہوگا‘ جیسا کہ کچھ سال پہلے کیا گیا تھا یا ان کے حملے برداشت کرتے رہنا ہوگا۔ظاہر ہے کہ وہ اپنا دبدبہ بنانے کیلئے پاکستان سے امداد لیں گے لیکن مضبوط ہونے کے بعد وہی پاکستان کا سب سے بڑا سر درد بن جائیں گے۔وہ پاکستان کے فوجی اخراجات بڑھوا کر اقتصادیات کو چوپٹ کر دیں گے‘ بد امنی پھیلائیں گے‘ وزیراعظم نواز شریف کی سرکا رکا جینا حرام کر دیں گے۔افغانستان دوبارہ دہشت گردی کی بین الاقوامی ریاست بن جائے گی ۔اس سے بھارت بھی بہت متاثر ہوگا۔پاکستان کی فوج ان دہشت گردوں کو اپنے ملک میں نہیں روک پائے گی تو وہ انہیں بھارت کے خلاف کیسے اور کیوں کر روکے گی؟ پاک بھارت تعلقات کی مٹھاس کو کافور ہوتے دیر نہیں لگے گی۔اس اندیشہ کو دیکھتے ہوئے کیا یہ ضروری نہیں کہ بھارت ‘پاکستان اور افغانستان کے سربراہ متحد ہو کر اور ایک مثلث تشکیل دے کر فوراً پلاننگ کریں۔ 
............
پچھلے دس بارہ دن پاکستان میں کافی ہنگامہ ہوتا رہا لیکن اس کے ساتھ ساتھ میری بات چیت کئی وفاقی وزراء‘ارکان پارلیمنٹ‘ 
پارٹی سربراہان‘ سفیروں اور فوجی جرنیلوں سے ہوتی رہی۔ صحافیوں سے تو لگاتار بات چیت ہوتی رہتی ہے۔ دو تین اداروں میں میری تقریر بھی ہوئی‘جہاں بین الاقوامی سیاست کی کئی جانی مانی ہستیاںموجود تھیں۔ وہاں نریندر بھائی مودی کے بارے میں سب سے زیادہ سوال مجھ سے پوچھے گئے ۔ایسا لگتا ہے کہ پاکستان کے لوگوں کا مودی پر ابھی یقین جما نہیں۔ وہ شش و پنج میں ہیں۔وہ سمجھ نہیں پارہے ہیں کہ مودی کی پاکستان کے بارے میں پالیسی کیاہوگی۔میاں نواز شریف کا بھارت جانااور مطمئن ہوکر واپس لوٹنا تو ٹھیک ہے لیکن آگے کیا ہوگا؟ کیا وزیراعظم نواز شریف اور نریندر مودی قدم سے قدم ملاکر آگے بڑھ سکیں گے؟کچھ بڑے لیڈروں کی رائے تھی کہ مودی کو اگلے دو تین مہینے میں ہی پاکستان کا نیک خواہشات کے ساتھ دورہ کرنا چاہئے۔ وزیراعظم میاں نواز شریف کے دورۂ بھارت سے جو نئی امیدیں پیدا ہوئی ہیں‘ انہیں کمزور نہیں ہونے دینا چاہئے۔ دونوں ملکوں کے خارجہ سیکرٹری اور تجارتی سیکرٹری فوراً ملیں تو بات کچھ آگے بڑھے۔میرا مشورہ تھاکہ دونوں ملکوں کے فوجی سربراہ اور خفیہ ایجنسیوں کے اعلیٰ افسر بھی کیوں نہ ملیں؟ ان کے 
بیچ 'ہاٹ لائن‘قائم کیوں نہ ہو؟دونوں ملکوں کے بڑے تاجروں اور صنعتکاروں میں بھی سیدھا رابطہ کیوں نہ ہو؟ویزا اور سفری سہولیات آسان کیوں نہ ہو جائیں؟ میں نے سب سے پوچھا کہ امریکی واپسی کے وقت بھارت اور پاکستان باہمی تعاون کیوں نہ کریں؟دونوں ملک ایک دوسرے کی اندرونی سیاست میں مداخلت نہ کریں‘ لیکن باہمی امن و سلامتی اور اقتصادیات کو مضبوط بنانے کیلئے متحد کوششیں کیوں نہ کریں؟کچھ ماہرین کی رائے تھی کہ بھارت کو افغانستان سے بالکل نکل جانا چاہئے‘ کیونکہ وہاں تو طالبان کی حکومت آنے والی ہے۔ قندھار اور جلال آباد کے بھارتی سفارتخانے بند ہو جانے چاہئیں کیونکہ وہیں سے پاکستان کے اندرونی معاملات میں بھارت 'مداخلت‘ کرتا ہے۔ان دانشوروں نے اس تاریخی سچائی پر توجہ نہیں دی کہ جب بھی کابل میں مضبوط پٹھان سرکار آتی ہے تو وہ ڈیورنڈ لائن کو ختم کرنے کی بات کرتی ہے اور پاکستان کے پشاور پر اپنا حق جتاتی ہے۔اگر طالبان آگئے تو وہ بھی یہی کیوں نہیں کریں گے؟ اور پھر آج کل پاکستان کی فوج اور سرکار تو طالبان کے پیچھے ہاتھ دھوکر پڑے ہیں۔ وزیرستان سے پانچ لاکھ سے زائد لوگ نقل مکانی کر چکے ہیں۔ جب فوج‘ طالبان اور دہشت گردوں سے آمنے سامنے لڑے گی‘ تو کیا پھر بھی ان (طالبان) میں اتنی ہمت بچے گی کہ وہ کابل پر قبضہ کر سکیں؟ 
(ڈاکٹر وید پرتاپ ویدک بھارت کی کونسل برائے خارجہ پالیسی کے چیئرمین ہیں) 

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں