نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- کامن ویلتھ چیمپئن شپ اورورلڈچیمپئن شپ کیلئےپاکستان ٹیم کااعلان
  • بریکنگ :- کامن ویلتھ چیمپئن شپ 7 سے 17 دسمبرتک تاشقندمیں منعقدہورہی ہے
Coronavirus Updates
"DVP" (space) message & send to 7575

ٍٍلیڈر تو لیڈر اب جج بھی!

لیڈر تو لیڈر ‘اب جج بھی پیچھے کیوں رہیں ؟سرکاری مال ہے۔ لوٹ سکے تو لوٹ ۔نریندر مودی نے بیرونی دوروں پر دوبرس میں قریب ایک ارب روپے خرچ کر دیے تو ہماری سپریم کورٹ کے جج کروڑ آدھا کروڑ بھی خرچ نہ کریں کیا؟چیف جسٹس ٹی ایس ٹھاکر نے گزشتہ تین برس میں 36 لاکھ 36 ہزار روپے ہوائی ٹکٹوں پر خر چ کیے اور جسٹس اے کے سیکری نے 37 لاکھ51 ہزاررو پے خرچ کیے ۔کئی دیگر جج بھی اسی طرح کم زیادہ خرچ کرتے رہے ہیں ۔لیڈروں کی بات تو سمجھ میں آتی ہے ۔ان کے بیرونی دورے ملکی فائدے کے لیے کیے جاتے ہیں لیکن افسروں اور ججوں کو پتا ہوتا ہے کہ ان دوروں میں اصلی کام کتنا ہوتا ہے ‘پھر بھی ہماری پارلیمنٹ کے دونوں سدنوں (لوک سبھا، راجیہ سبھا)کو ان بیرونی دوروں پر کڑی نگرانی رکھنی چاہیے لیڈر لوگ سرکاری مال پر مزے لوٹتے ہیں تو افسر اور جج بھی کیوں نہ لوٹیں؟ ان سے کوئی پوچھے کہ کہیں آپ کی تقریر ہے تو وہاں آپ کی زوجہ کا کیا کام ہے ؟وہ وہاں کیا کرے گی ؟ آپ بیوی کو ساتھ لے جاتے ہیں تو سرکار کا خرچ دوگنا ہوجاتا ہے ۔جب بیوی ساتھ ہوتی ہے تو آپ اپنے حساب کتاب پر سیدھی اڑان نہیں بھرتے۔ ٹکٹ اس طرح بنواتے ہیں کہ سوئٹرزلینڈ بھی بیچ میں آجائے۔ سنگاپور ‘پیرس ‘لندن بھی آجائے ۔یعنی میٹنگ ایک دن کی اور دورہ آٹھ دن کا ۔کوئی پو چھنے والا نہیں ہے ۔بھتہ روزانہ ‘ہوٹل اور ٹیکسی کا خرچ سرکار کے ذمہ !یہ سلسلہ برسوں برس سے چلا آرہا ہے ۔مودی کے ڈر کے مارے وزیر اور اراکین پارلیمنٹ تو ذرا 
چوکنے ہیں لیکن جج تو خودمختارہیں ۔ان کے پاس اپناخزانہ ہے اس کا مطلب یہ نہیں کہ بیرونی دوروں پر پابندی ہو ۔کئی بار وہ ضروری بھی ہوتی ہیں لیکن ہم لیڈر اور ججوں سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ'مالِ مفت دلِ بے رحم ‘کے قول کو سچ ثابت نہ کریں ۔آج ملک میں ججوں کی عزت لیڈروں سے کہیں زیادہ ہے ۔وہ جتنی سادگی اختیار کریں گے ‘عوام پر اتنا ہی اچھا اثر پڑے گا ۔وہ چاہیں تو جہاز کے بزنس کلاس میں سفر کی بجائے اکانومی میں چلیں ۔فائیو سٹار ہوٹل کی بجائے سمپل ہوٹلوں میں ٹھہریں اور مرسڈیز اور بی ایم ڈبلیو کی بجائے سستی ٹیکسیاں لیں تو وہ کافی پیسہ بچا سکتے ہیں ۔ 
مودی نے بکھیرے موتی
بھاجپا کے صوبائی اجلاس کو خطاب کرتے ہوئے نریندر مودی نے بالکل ٹھیک کہا کہ صرف نعرے بازی سے کام نہیں چلے گا۔جب تک ہم عوام کو ٹھوس کام کر کے نہیں دکھائیں گے ‘وہ مطمئن نہیں ہوںگے۔انہوں نے اپنے سبھی کارکنان سے سات اچھے کاموں کو کرنے کو کہا ہے ۔یہ ہیں خدمت ‘پیار ‘توازن ‘صبر‘ میل‘مثبت‘احساس اور بحث وبات چیت !یہ خاصیتیں اگر ہر کارکن کے انگ بن جائیں تو آپ مان لیجئے کہ وہ لیڈر نہیں فرشتے بن جائیں گے ۔مودی ذریعے کہی گئی یہ باتیں ایسی لگتی ہیں ‘جیسے کسی قدیم گروکل کے پروگرام میںکوئی صوفی عارف اپنے طالب علموں کو نصیحت دے رہا ہو۔یہ سات صفتیں اتنی اعلیٰ ہیں کہ ان کے سامنے یونان کے مفکر افلاطون کی تصنیف''ریپبلک‘‘ میں بیان 'مفکر بادشاہ‘کی خاصیتیںبھی پھیکی پڑ جائیں ۔
یہاں اصلی سوال یہ ہے کہ جب مودی یہ موتی بکھیر رہے تھے تو کارکن کیا سوچ رہے ہوں گے ؟وہ سوچ رہے ہوں گے کہ ہم کس کے منہ سے کیا سن رہے ہیں ؟ہم گروکل کے طالب علم ہیں یاسیاسی کارکن ؟ہمیں آچاریہ کوٹلیہ یا بھرت ہری سے انداز سیاست سیکھنی چاہیے یا یاگیہ ولکیہ کی ہدایات سننی چاہئیں ۔ بھرت ہری کہتے ہیں‘ سیاست کیا ہے؟وارانگنا ہے ‘طوائف ہے ‘جھوٹی سچی ‘میٹھی سخت‘ رحم دل ‘قصاب ‘پل پل میں بدلنے والی ہے۔ آپ خود کوٹلیہ اور بھرت ہری کے پٹوُ شاگرد ہیں اور تقریر جھاڑ رہے ہیں ‘یاگیہ ولکیہ کی!ان ہوائی خطابوں کی جگہ اگر ان بھاجپا لیڈروں کو ٹھوس پروگراموں کی ہدایات دی جاتی تو وہ اگلے ایک برس میں کچھ کر کے دکھاتے ۔آج بھی سنگھ اور بھاجپا کے پاس سخت محنت کش کارکنوں کی بڑی فوج ہے لیکن اس کی جگہ نوکر شاہی کے دم پر ساری نوٹنکی چل رہی ہے ۔دو برس تو لگ بھگ خالی نکل گئے ۔آپ آنکڑوں کے غبارے اچھا ل کر اوباما جیسوں کو چاہے بھرماتے رہیں ‘یہاں تو ملک کے کسان ‘تاجر ‘مزدور ذرا بھی راحت محسوس نہیں کر رہے ہیں ۔ملک تو کانگریس سے فری اپنے آپ ہو رہا ہے لیکن صوبوں میں درجنوں کانگرس جمی بیٹھی ہیں۔انہیں ہٹانے کے لیے تقاریر کی جھاڑوکافی نہیں ہیں۔ اگریہ برس بھی خالی نکل گیا تو صوبائی چناوو ں میں وہی حال ہو سکتا ہے ‘جو بہار میں ہواہے۔بھاجپا اگر آسام کے فریب میں پھنس گئی تو اگلے برس اس کی کیفیت مشکل ہو سکتی ہے ۔
گلبرگ حادثے کا فیصلہ 
احمدآباد کی گلبرگ سوسائٹی میں ہوئے حادثے کا فیصلہ آگیا ہے۔اس کے آنے میں چودہ برس لگ گئے ۔کئی ملزم مر گئے ‘کئی لاپتا ہو گئے ۔یہ بھی کیا انصاف ہے ؟اگر دس پندرہ برس اور لگ جاتے تو مقدمہ لڑنے والے ‘جج اور وکلاء میں سے آدھے لوگ مرجاتے۔ خیر ‘جو فیصلہ آیا ‘وہ کیا آیا گلبرگ سوسائٹی کے 69 لوگوں کو زندہ جلا کر مار دیا گیا تھا ۔ان 69مقتولوں کے لیے کتنے لوگوں کو سزا ہوئی‘ صرف چوبیس لوگوں کو !کیا صرف چوبیس لوگ 69لوگوں کو پکڑ کر زندہ جلا سکتے ہیں؟کیا جلنے والے آدمی اپنی جان بچانے کی ذرا بھی کوشش نہیں کرے گا ؟کیا ایک آدمی کو پکڑ کر زندہ جلانے کے لیے چار پانچ لوگوں کی ضرورت نہیں ہوگی ؟اس حساب سے کم ازکم 350 قاتلوں کو پکڑا جانا چاہیے تھا ۔لیکن تاعمر قید ملی صرف گیارہ لوگوں کو ‘دس برس کی ایک کو اور سات برس کی بارہ کو۔کسی کو بھی سزائے موت نہیں ملی اس سارے معاملے کی جانچ سپریم کورٹ کی خاص بینچ نے کی تھی اور مقدمہ زیادہ وقت تک تب چلا‘ جب وفاق پر کانگریس کی گورنمنٹ تھی ۔
اس فیصلے کو کیا کہا جائے صحیح یاغلط؟جج کاکہنا ہے کہ گلبرگ سوسائٹی پر جمع ہونے والی بھیڑ پہلے سے خون کا ارادہ کر کے جمع نہیں ہوئی تھی۔وہاں رہنے والے کانگریسی پارلیمنٹ ممبر احسان جعفری نے بھیڑ پر گولیاں چلائیں ۔بس‘بھیڑ بھڑک گئی اور اس نے بدلا لیا سب کام اچانک ہوا جعفری کی بیوی کہتی ہے کہ جعفری بہت ڈھونڈتے رہے انہیں گھر میں بندوق ہی نہیں ملی لیکن عدالت کو کئی ثبوت ملے ہیں ۔عدالت کا کہنا ہے کہ اس نے مجرموں کو پھانسی کی سزا اس لیے نہیں دی کہ ایک تو وہ عادتاً قاتل نہیں ہیں ۔ضمانت پر رہنے کے دوران ان کی کوئی شکایت نہیں آئی ۔وشو ہندو پریشد اور بھاجپا کے مقامی کارکنان کو سزا ضرور ملی ہے ۔لیکن تعجب ہے کہ اس وقت کی گجرات سرکار کے کسی لیڈر یا بڑے افسر کو سزا نہیں ہوئی ہے ‘جیسے نرودا پاٹیا حادثے میں ہوئی ہے ۔جن وزراء اور افسروں کی ذمہ داری ہوتی ہے ‘ امن اور انتظام بنائے رکھنے کی‘سب سے پہلے تو انہیں سزاملنی چاہیے۔جعفری کی زوجہ اس سزا سے مطمئن نہیں ہے ۔وہ معاملے کو اونچی عدالتوں میں لے جانا چاہتی ہیں انہیں حق ہے لیکن ان کے فیصلے آنے تک زندہ کون رہے گا ؟ 

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں