نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- وفاقی وزیرداخلہ شیخ رشید احمد کا پی ڈی ایم کی کال پر ردعمل
  • بریکنگ :- یوم پاکستان پرکال دیناانتہائی غیراخلاقی اقدام ہے، شیخ رشید
  • بریکنگ :- 23مارچ کوپریڈ میں پاکستانی عوام سمیت غیرملکی سفیرشرکت کرتے ہیں،شیخ رشید
  • بریکنگ :- پریڈکی تیاری سےمتعلق اسلام آبادکوسیکیورٹی الرٹ پر رکھا جاتا ہے،شیخ رشید
  • بریکنگ :- پریڈکی تیاری کیلئےراستے چندروزقبل بندکردیئےجاتے ہیں،شیخ رشید
  • بریکنگ :- ایسےوقت پرمارچ کی کال ملک دوستی نہیں، وزیرداخلہ شیخ رشید
  • بریکنگ :- مناسب ہوگا پی ڈی ایم مارچ کی کال اپریل میں لے جائے، شیخ رشید
Coronavirus Updates
"DVP" (space) message & send to 7575

بھارت کیوں چوک رہا ہے ؟

افغانستان پر آج کل روس ‘چین اور پاکستان کا مورچہ بن رہا ہے ۔کوئی تعجب نہیں کہ ایران بھی اس میں شامل ہوجائے لیکن اس میں حیرانی کی بات یہ ہے کہ اس مورچے میں نہ افغانستان ہے نہ بھارت ۔امریکہ بھی اس کے باہر ہی ہے ۔تین ملک اندر اور تین ملک باہر!یہ کون سامورچہ ہے ؟یہ مورچہ بن رہا ہے ‘افغانستان کے طالبان کو اپنانے کے لیے ۔افغان طالبان کا صفایا کرنے کے لیے کس کس ملک نے کتنا کتنا زور لگایا ‘یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے لیکن وہ ابھی بھی دندنا رہے ہیں ۔وہ کبھی کابل میں دھماکہ کرتے ہیں تو کبھی قندھار میں !وہ کبھی پورے ضلع پر قابض ہوجاتے یں تو کبھی کسی شہر پر !پہلے مانا جاتا تھا کہ طالبان انہیں علاقوں میں اثر دار ہیں جن میں زیادہ تر پٹھان لوگ رہتے ہیں یعنی جنوب اور مشرق کے علاقے لیکن اب تو طالبان کی پکڑ ہرات اور قندوز جیسے شہروں میں بھی ہو گئی ہے ۔ان شہروں میں اکثر تاجک ‘ازبک اور دیگر اقوام اکثریت میں ہوتی ہیں ۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ طالبان کا اثر اب سارے افغانستان میں ہو رہا ہے ۔یہ اس لیے اور بھی فکرکا سبب ہے کہ افغانستان سے بیرونی افواج وداع ہوچکی ہیں ۔صرف 9500 امریکی فوجی ابھی وہاں بچے ہیں ۔افغان فوج میں کتنے فوجی طالبان حمایتی ہیں۔کچھ پتا نہیں۔ایسے میں سبھی ملکوں کو مل کر مسئلہ طالبان کا حل کرنا چاہیے لیکن پاکستان کی سیاسی چال کامیاب ہوتے دِکھ رہی ہے ۔وہ چاہتا ہے کہ افغان سرکار میں طالبان بھی شامل ہو جائیں اور بعد میں اس کے اشاروں پر کام بھی کریں ۔روس چاہتا ہے کہ داعش کے چھاپا ماروں کے ساتھ طالبان ہاتھ نہ ملائیں اور چین اس معاملے میں ان دونوں ملکوں کا ساتھ دے رہا ہے ۔افغانستان کے صدر اشرف غنی اور وزیراعظم ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ میں پہلے دن سے ہی تلواریں کھنچی رہی ہیں ۔وہ ایک دوسرے سے تال میل نہیں بٹھا پارہے تو وہ طالبان سے کیسے بٹھائیں گے ۔ایسے میںبھارت الگ تھلگ پڑرہا ہے ۔یہ ٹھیک نہیں ہے ۔بھارت کو طالبان سے بھی سیدھا رابطہ کرنا چاہیے ۔سبھی طالبان بھارت کے خلاف نہیں ہیں ۔طالبان کے سربراہوں اور لیڈروں سے میرا رابطہ رہا ہے ۔ہمارے جہاز کو جب ہائی جیک کیا گیا تھا ‘اس وقت قندھار میں انہوں نے ہماری مدد کی تھی ۔اگر بھارت اس موقع پر چوک گیا اور یہ نیا مورچہ کامیاب ہو گیا تو لمبے وقت تک بھارتی خارجہ پالیسی کو پچھتانا پڑے گا ۔
سیوا( خدمت )کے نام پر میوا 
ملک میں تقریباً 33 ہزار سماج کی خدمت کرنے والے این جی اوز ہیں‘جو بیرونی ممالک کے خرچ پر پل رہی ہیں۔ان میں سے بیس ہزار این جی اوز کا حقہ پانی سرکارنے بند کردیا ہے ۔ایسا کیوں کیا ہے ‘ یہ اسے تفصیل سے بتانا چاہیے ۔ظاہر ہیں کہ ان اداروں کے حساب کتاب میں گڑ بڑی پائی گئی ہے لیکن یہ تو معمولی سبب ہے ۔اگر ان کی چندا بندی کا سبب یہی ہے تو وہ اپنے کھاتے جلد درست کر لیں گے ۔تو کیا سرکار پھر سے انہیں غیر ممالک سے ڈونیشن لینے کی اجازت دے دے گی ؟حساب کی گڑ بڑی تو ٹھیک ہونی ہی چاہیے لیکن اس سے بھی زیادہ ضروری سوال یہ ہے کہ ان بھارتی اداروں کو بیرونی ممالک سے یہ کروڑوں اربوں ملتا کیوں ہے؟اس روپیہ سے کس کا مطلب پورا ہوتا ہے؟بھارت کا یا ان پیسہ دینے والے ملکوں کا ؟اگر وہ پیسہ خالص انسان ذات کی بہتری کے لیے آتاہے تو اسے آنے سے روکنا ٹھیک نہیں ہے لیکن انسانی خدمت اپنے آپ میں ایسا بے گناہ پردہ ہے ‘جس کی آڑ میں زبردست غلط کام ہوتے ہیں ‘ملک سے غداری پنپتی ہے ‘بھارت کو توڑنے کی سازش ہوتی ہے ۔ناگالینڈ اور پوروانچل میںآنے والا مغربی پیسہ آخر کس کام میں لایا گیا تھا ۔اسے سکولوں ‘یتیم خانوں اور ہسپتالوں کے نام بھیجا جاتا تھا لیکن عیسائی مذہب تبلیغ کی آڑ میں ملک کو توڑنے کی سازش کی جاتی تھی ۔ابھی کئی تنظیموں کو مذہب اور خدمت کے نام پر ملنے والا روپیہ فرقہ واریت اور دہشت گردی پھیلانے کے کام میں آتا ہے ۔غیر ملکی سرکاروں کا یہ پیسہ ان کے اپنے فرضی این جی اوز کے نام سے بھیجا جاتا ہے ۔یہ بھارتی تنظیمیں ان ملکوں کی خارجہ پالیسی کے مشکل اور باریک اہداف کو پورا کرنے کاکام کرتے ہیں ۔جو تنظیمیں غیر ملکی پیسہ لیتی ہیں ‘ان کے سربراہ جس ٹھاٹھ باٹ سے رہتے ہیں ‘وہ کسی بھی سماجی کارکن کے لیے شرم کی بات ہے ۔یہ این جی اوز کتنی خدمت کرتے ہیں اور کتنا میوا اڑاتے ہیں ‘اس کا بھی پتا کیا جانا چاہیے ۔ان این جی اورز پر سرکار کی کڑی نگرانی ہونی چاہیے ۔ان کے اصلی اور پوشیدہ مقاصد کی باریکی سے چھان بین کے لیے سرکار کواپنے خفیہ اداروں کو متحرک کر دینا چاہیے ۔ان تنظیموں کو جن سیاسی پارٹیوں اور لیڈروں کا آشیرواد حاصل ہے ‘ان کے خلاف بھی سخت کارروائی کی ضرورت ہے ۔
کیسے بنے عالمی اتحاد اور عالمی پارلیمنٹ 
آج کل میں پونا میں ہو ں۔یہاں عالمی سرکار ‘عالمی ایوان‘ اور عالمی آئین بنانے پر ایک بین الاقوامی کانفرنس ہو رہی ہے۔ اس میں کئی ممالک کے دانشور ‘سماجی خدمت گار اور ماہر آئے ہوئے ہیں ۔یہ کانفرنس پونا کے مشہور عالم ڈاکٹر وشوناتھ کراڑ کے ایم آئی ٹی کالج میں چل رہا ہے ۔ اس کانفرنس میں امریکہ اور بھارت کے ایسے ترجمانوں کی تقاریر بھی ہوئیں ‘جو اس خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لیے گزشتہ چالیس پچاس برس سے کام کر رہے ہیں ۔میں نے اپنی تقریر میں سبھی عالموں سے پوچھا کہ کیا دنیا کی سرکار کا خیال صرف لیگ آف نیشنز (1914 ئ)یا اقوام متحدہ (1946 ئ)کے ساتھ ہی پیدا ہوا ہے ؟ یہ خیال ‘دنیا ایک ( وسودیو کٹنبھم )خاندان کی شکل میں بھارت میں ہزاروں برسوں سے زندہ ہے لیکن کیا وجہ ہے کہ اس کی جانب دنیا ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھی ہے ؟لیگ آف نیشنس اور یونائٹیڈ نیشن بھی صرف باتوں کی دوکانیں بن کر رہ گئی ہیں ۔میں نے عالمی اتحاد کے تصور کو عمل میںلانے کے لیے کئی مشورے دیے ۔میں نے عالمی سرکار کے دیدار ‘‘اس کے راستے کی مشکلاتیںاور اس کے آنے والی صورت پر بولنے کی بجائے اس پر زیادہ دھیان مرکوز کیا کہ اس کے اتحاد اور پروگرام کو کیسے مضبوط بنایا جائے ۔ میرے مشورے کچھ اس طرح تھے ۔
پہلا‘سلامتی کونسل کے ممبر ملکوں کے لیڈروں سے سیدھا رابطہ کیا جائے ۔دوسرا‘ اقوام متحدہ کے لگ بھگ دو سوممبروں میں سے چنے ہوئے تیس ‘35 ممبر ملکوں کے اقتداری اور اپوزیشن لیڈروں ‘دانشور اور سماجی خدمت گزاروں سے مل کر ان سے حمایت لی جائے ۔تیسرا‘عالمی اتحاد کے خواب کو مکمل کرنے کے لیے سارک ‘ آسیان ‘آنجوس اور او اے یو وغیرہ علاقائی اتحادوں کو مضبوط بنایا جائے ۔چوتھا ‘خاص ملکوں میں عالمی اتحاد کے تصور کو پھیلا نے کے لیے ملکی اتحاد کھڑے کیے جائیں ۔پانچواں ‘لاکھوں کروڑوں لوگوں کو مطمئن کیا جائے کہ وہ خود کو دنیا کا باشندہ بھی مانیں۔ چھٹا‘ہربرس دوسو ملکوں کے ہزار وں لیڈروں کے اور بعد میں بڑے بڑے اجلا س بلائے جائیں ۔ساتواں ‘بھارت میں ایک مرکزی دفتر قائم کیا جائے ۔آٹھواں ‘کم ازکم دس کروڑ کا دھن اس اتحاد میں رکھا جائے ۔نواں ‘ایک تحقیقی ادارا بنایا جائے ‘جس میں عالمی سرکار ‘عالمی پارلیمنٹ اور عالمی آئین ‘دنیاایک خاندان مضمون پر منحصر مکمل ادب اکٹھا کیا جائے ۔اور نیا ادب تیار کیا جائے ۔دسواں ‘اس مدعہ پر امریکہ کے پروفیسر گلین مارٹن نے ایک کتاب محنت کے ساتھ تیار کی ہے اس کے ساتھ ساتھ اس بنیادی نکتہ پر ایک مختصر کتاب تیار کی جائے اور اسے دنیا کی درجنوں زبانوں میں چھپوایا جائے ۔یہ تحریک اگر زور پکڑ لے تو اکیسویں صدی میں عالمی ا تحاد جیسا کوئی نہ کوئی ادارہ کھڑا ہوسکتا ہے ۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں