نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- اسلام آباد:کامیاب جوان اسپورٹس ڈرائیوکی اختتامی تقریب
  • بریکنگ :- وفاقی وزیراطلاعات ونشریات فواد چودھری کا تقریب سے خطاب
  • بریکنگ :- پاکستان میں شدت پسندی کونوجوان آگے بڑھ کرمستردکریں ،فواد چودھری
  • بریکنگ :- کھیلوں کی سرگرمیوں سےنوجوانوں میں تعمیری جذبہ پیداہوتاہے،فواد چودھری
  • بریکنگ :- امیدہےانشااللہ پاکستان اولمپکس میں میڈل جیتےگا،فوادچودھری
  • بریکنگ :- نوجوان تعلیم کےساتھ کھیلوں میں نام روشن کریں،فوادچودھری
Coronavirus Updates
"DVP" (space) message & send to 7575

یہ تحفے خوب لیکن…

اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے اپنا چناوی منشور جاری کیا‘ جو تحفوں کی لسٹ جیسا لگ رہا تھا۔ سماج کے ہر طبقے کے لیے کوئی نہ کوئی تحفہ! دوبارہ وزیر اعلیٰ بننے کے لیے تحفوں کی یہ برسات کافی ہے۔ کروڑوں لوگ ان تحفوں کے لیے رال ٹپکائے رہتے ہیں۔ بھلا وہ اکھلیش کو ووٹ نہیں دیں گے تو کس کو دیں گے؟ مفت سمارٹ فونوں کے حصول کے لیے ابھی سے ڈیڑھ کروڑ نوجوانوں نے اپنے نام لکھوا دیے ہیں۔ ایک کروڑ بزرگوں کو ایک ہزار روپے ماہوار پنشن ملے گی۔ غریب خواتین کو پریشر ککر مفت ملیں گے۔ نہایت ہی غریب‘ مسکین اور بے سہارا لوگوں کو گیہوں اور چاول مفت ملیں گے۔ مزدوروں اور کسانوں کے لیے کلیان کوش قائم کیے جائیں گے۔ بوڑھوں کے لیے اولڈ ہوم بنائے جائیں گے۔ خواتین مسافروں کو بس کرایہ نصف دینا پڑے گا۔ کام کاج پر جانے والی خواتین کے لیے ہوسٹل بنائے جائیں گے اور اقلیتوں کے لیے خصوصی سہولیات کا اہتمام کیا جائے گا۔ اسی طرح کی کئی سہولیات کا اعلان دوسری کئی پارٹیاں بھی کریں گی‘ لیکن اتر پردیش کے عوام کا اکھلیش پر زیادہ بھروسہ اس لیے ہو گا کہ اس نے (اکھلیش) جو وعدے پانچ سال پہلے اپنی انتخابی مہم کے دوران کیے تھے‘ ان میں سے زیادہ تر پورے کر دیے گئے تھے۔ اس کے علاوہ یہ حقیقت بھی اتر پردیش کے عوام کی نظر میں ہے کہ وہ (اکھلیش) وزیر اعلیٰ کی کرسی پر بیٹھ کر یہ سارے وعدے کر رہا ہے‘ جبکہ دیگر پارٹیوں کے پاس وزیر اعلیٰ کے ٹھوس امیدوار ہی نہیں ہیں‘ جنہیں وہ لوگوں کے سامنے پیش کر سکیں اور کہہ سکیں کہ یہ تمہاری خدمت کریں گے۔
لیکن یہ وعدے کیا کافی ہیں؟ چنائو جیتنے کے لیے تو کافی ہیں‘ لیکن یہ راحت کی سیاست ہے۔ یہ الفاظ ڈاکٹر لوہیا کے ہیں۔ راحت دیے بنا سیاست چل ہی نہیں سکتی‘ لیکن بدلائو کی سیاست کے بنا سیاست کوری تجارت بن کر رہ جاتی ہے۔ کچھ نہ کچھ بدلائو تو آنا ہی چاہیے۔ میرا سوال یہ ہے کہ پانچوں صوبوں کے ان انتخابات میں یہ پارٹیاں کون سے ایسے وعدے کر رہی ہیں جن سے ملک میں بنیادی تبدیلی کی امید بندھ رہی ہے؟ کیا لوگوں کو صحت‘ تعلیم‘ روزگار وغیرہ کی سہولیات دینے کے لئے ہماری پارٹیوں کے پاس ایسی تجاویز ہیں‘ جن سے لوگوں کو وقتی نہیں بلکہ دائمی فائدہ ہو اور وہ تادیر ان سے مستفید ہوتے رہیں؟ میرا سوال یہ بھی ہے کہ شراب بندی کے بارے میں سبھی پارٹیاں خاموش کیوں ہیں؟ انگریزی کی بالادستی کو ختم کرنے کے بارے میں ہمارے لیڈر کیوں ہکلا رہے ہوتے ہیں؟ وہ اس 
حوالے سے یقین کے ساتھ بات کیوں نہیں کرتے؟ ہکلائے بغیر۔ وہ ایسے منشور کا اعلان کیوں نہیں کرتے کہ ہر سرکاری ملازم‘ ہر فوجی اور ہر عدالتی افسر کے بچے لازمی طور پر سرکاری سکولوں میں ہی پڑھیں گے اور اپنا علاج بھی سرکاری ہسپتالوں میں ہی کروائیں؟ سماج وادی پارٹی سے ہم امید کرتے ہیں کہ وہ سماج کا اصلی اور بنیادی نقشہ پیش کرے گی اور دوبارہ اقتدار میں آنے پر اسے نافذ کرے گی۔
سکولی لوٹ پاٹ کے خلاف 
بھارتی سپریم کورٹ نے تعلیم کے نام پر چل رہی لوٹ پاٹ پر روک لگا دی ہے۔ اس نے اپنے تاریخی فیصلے میں دلی کے نجی سکولوں کو حکم صادر کیا ہے کہ وہ دلی سرکار کی اجازت کے بنا اپنی فیس نہ بڑھائیں۔ دلی کے سیکڑوں غیر سرکاری سکولوں کو سرکاروں نے سکول بنانے کے لیے مفت زمین دے دی ہے‘ یہ سوچ کر کہ یہ تعلیمی ادارے ملک کی خدمت کرتے ہیں‘ لیکن آج کل تعلیم اور صحت‘ خدمت کم اور تجارت زیادہ بن گئی ہے۔ بھاری فیسیں وصول کی جاتی ہیں۔ تجارت بھی ایسی کہ جس میں کھلی لوٹ پاٹ ہوتی ہے۔ چھوٹے چھوٹے بچوں کی پڑھائی کا خرچ ہزاروں روپے مہینہ ہوتا ہے۔ ان سکولوں میں پڑھنے والے بچوں کے والدین کو یا تو اپنا پیٹ کاٹنا پڑتا ہے یا بدعنوانی کے طریقے اپنا کر فیس کے پیسے جٹانے پڑتے ہیں۔ کچھ ہی لوگ ہیں جو اپنے بچوں کی پڑھائی پر موٹا پیسہ خرچ کر پاتے ہیں۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ ان فینسی سکولوں میں غریبوں‘ کسانوں‘ محروموں‘ اقلیتوں کے بچے پڑھنے کا خواب بھی نہیں دیکھ سکتے۔ ان کے لئے ایسے سکولوں کی فیسیں ادا کرنا ہی ممکن نہیں ہوتا۔ ایسے زیادہ تر سکول انگریزی تعلیم کے ہوتے ہیں۔ اس ذریعے سے ہی بڑی بڑی نوکریاں ہتھیائی جاتی ہیں۔ اسی لیے لوگ ان سکولوں کی لوٹ پاٹ برداشت کرتے رہتے ہیں لیکن اپنے بچوں کو انہی میں تعلیم دلوانا مناسب سمجھتے ہیں۔ ان میں سے کئی سکول ایسے بھی ہوتے ہیں جو بچوں کے صرف داخلہ کے لیے پچاس پچاس لاکھ روپیہ کی رشوت بھی کھاتے ہیں۔ ان سکولوں کے کھاتوں میں ہر سال کروڑوں کا منافع بھی ہوتا ہے۔ کھاتہ کے باہر نقد تو اور بھی زیادہ رہتا ہے۔ پھر ہر برس کے اپنے فیس دس فیصد بڑھا دیتے ہیں‘ جبکہ ان سکولوں میں کام کرنے والے اساتذہ اور ملازمین کی تنخواہ نہایت محدود ہوتی ہے۔ علاوہ ازیں ان کو ان کی مکمل سیلری بھی نہیں دی جاتی ہے۔ اب دلی سرکار کو ان سکولوں پر کڑی نگرانی رکھنا ہو گی۔ ایسے سکولوں کے رشوت خور مالکوں کی گرفتاری کروا کر ان کو سر عام کوڑے لگوانے چاہئیں۔ دلی سرکار کو ایسا نگرانی کمیشن بنانا چاہیے‘ جو ان سکولوں کے فیس کے روپوں کے سخت نگرانی کرتا رہے۔ یہ اندازہ لگاتا رہے کہ کون سا سکول کتنا کما رہا ہے اور اس کی اوپر کی آمدنی کتنی ہے۔ سپریم کورٹ کو چاہیے کہ اپنے اس فیصلے کو صرف دلی کے سکولوں تک محدود نہ رکھے بلکہ ملک کے سبھی سکولوں پر اس کا نفاذ کرے تاکہ جہاں جہاں بھی لوٹ مار ہو رہی ہے‘ اس کا راستہ روکا جا سکے۔ اگر سرکار چاہتی ہے کہ نجی سکولوں کی لوٹ پاٹ بند ہو تو اسے سرکاری سکولوں کا لیول بہتر بنانا چاہیے۔ اس کا سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ سبھی ارکان پارلیمنٹ‘ ایم ایل ایز‘ فوجی افسروں اور سرکاری ملازمیں کے لیے یہ ضروری قرار دیا جائے کہ وہ اپنے بچوں کو سرکاری سکولوں میں ہی پڑھائیں۔ اگر ایسا ہو جائے تو راتوں رات ملک میں تعلیم کا سٹینڈرڈ بہتر ہو جائے گا اور لٹریسی ریٹ بھی۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں