نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- پیپلزپارٹی کے مشکل وقت میں جیل کاٹی،آصف زرداری
  • بریکنگ :- پنجاب میں الیکشن مشکل نہیں ہماری کمزوریاں سامنےآتی ہیں، آصف زرداری
  • بریکنگ :- پیپلزپارٹی نےاین اے 133میں بہت اچھارزلٹ دیا،آصف زرداری
  • بریکنگ :- لاہور:مجھے 50ہزارووٹوں کی امیدتھی،آصف زرداری
  • بریکنگ :- ٹرن آؤٹ بڑھالیتےتو 50ہزارووٹ لےسکتےتھے،آصف زرداری
  • بریکنگ :- دنیاپاکستان کوتوڑناچاہتی ہےلیکن ہم پاکستان بچانےکیلئےلڑیں گے،زرداری
  • بریکنگ :- ہم کامیابی کی طرف جارہےتھےلیکن آراوالیکشن کرادیئےگئے،آصف زرداری
  • بریکنگ :- آراوالیکشن کراکےہم سےانتخابات چھینےگئے،آصف زرداری
  • بریکنگ :- اب بھی میرےدماغ میں ایسی سوچ ہےجوملک کوکامیاب بناسکتی ہے،زرداری
Coronavirus Updates
"DVP" (space) message & send to 7575

بھارتی لیڈروں کی کھال گینڈے سے بھی موٹی

ستر سال کی آزادی نے بھارت میں سربراہی کا رول ہی بدل دیا ہے۔ ہمارے لیڈر لوگوں نے اپنے آپ کو قاعدے سے ہی آزاد کر دیا ہے۔ بد عنوانی کے کسی سنجیدہ معاملے میں پھنسنے کے بعد اگر عدالت انہیں بری کر دیتی ہے تو وہ جشن مناتے ہیں۔ انہیں اس بات کے لیے ذرا بھی شرم نہیں آتی کہ وہ رنگے ہاتھ پکڑے گئے تھے۔ سارے ملک کے چینلوں اور اخباروں میں ان کی بدعنوانی کی کہانیاں جم کر مشہور ہوئی تھیں۔ اگر وہ حقیقت میں ایماندار تھے تو انہوں نے ایسے اخباروں‘ چینلوں‘ اپوزیشن لیڈروں پر مقدمہ چلانے والے لوگوں‘ وکلاء اور ججوںکو معاف کیوں کر دیا؟ انہوں سزا دینے کی مانگ کیوں نہیں کی؟ مان لیں کہ وہ اتنے قابل نہیں ہیں کہ وہ انہیں سزا دے سکیں لیکن کم ازکم وہ اتنا تو کر سکتے تھے کہ جھوٹے الزام لگانے والوں اور غلط فیصلہ دینے والے ججوں کے خلاف تاحیات ہڑتال پر بیٹھ جاتے؟ لیکن کیا اپنے ملک میں ایسا کوئی لیڈر ہوا؟
اصلی بات تو یہ ہے کہ آج ملک میں زیادہ تر لیڈر وہی ہیں‘ جن کی کھال گینڈے سے موٹی ہے۔ لالو پرشاد اپنی برابری نیلسن منڈیلا اور مارٹن لوتھر کنگ سے کر رہے ہیں۔ پہلے بھی وہ سال بھر جیل کاٹ چکے ہیں۔ اب پتا نہیں‘ کتنے دن انہیں پھر جیل کاٹنا پڑے۔ پہلے کی طرح شاید انہیں ضمانت مل جائے اور اعلیٰ عدالتیں انہیں ویسے ہی بری کر دیں جیسے اے راجا‘ کنی موجھی اور اشوک چوہان کو کر دیا ہے۔ ان کے خلاف جمع کرائے گئے ثبوتوں کو اعلیٰ عدالت کے سامنے اتنا دھندلا کر دیا جائے کہ ان کی جیت پر بھی جشن منایا جائے۔ آج ملک میں لیڈر گیری ایسی تجارت بن گئی ہے کہ جس میں رشوت، ٹھگی و چوری‘ اس کے حصے بن گئے ہیں۔ اسی لیے جو لیڈر پکڑے نہیں گئے ہیں‘ وہ بھی پکڑے گئے یا چھوٹے ہوئے لیڈروں سے پرہیز نہیں کرتے‘ کیونکہ انہیں پتا ہے کہ وہ بھی اسی بیل گاڑی پر سوار ہیں۔ جہاں تک عوام کا سوال ہے‘ اس کا رویہ بھی ایک دم ڈھیلا ڈھالا ہے۔ ورنہ گزشتہ ودھان سبھا چنائوں میں لالو کی پارٹی کو سب سے زیادہ نشستیں کیسے ملیں؟ یہ ہمارے عام عوام کی ہی مہربانی ہے کہ ہمارے لیڈروں کی کھال گینڈے سے بھی زیادہ موٹی ہو گئی ہے۔
پاک افغان:چین کی پٹخنی؟
چین نے بھارت کو پہلے روہنگیا کے معاملے میں مات دے دی۔ وہ برما و بنگلہ دیش کے بیچ بیٹھا رہا۔ اب وہ بھارت کو پاک افغان معاملے میں پٹخنی مارنے کی تیاری کر رہا ہے۔ بڑی خبر یہ ہے کہ بیجنگ میں افغانستان‘ پاکستان اور چین کے وزرائے خارجہ ملے اور انہوں نے ایک مشترکہ بیان جاری کر دیا۔ ہماری سرکار سے کوئی پوچھے کہ بتائیے یہ دونوں کس کے زیادہ پڑوسی ہیں؟ بھارت کے یا چین کے؟ یہ دونوں ملک سارک کے ممبر بھی ہیں لیکن ان میں کون صلح کروا رہا ہے؟ بھارت نہیں‘چین ! چین کیوں کروا رہا ہے؟ کیونکہ اس نے اپنی 57 بلین ڈالر کے منصوبے شاہراہ ریشم کو کامیاب کروانا ہے۔ پاکستان تو اس کا متحرک حصہ دار ہے لیکن افغانستان اس سے دور رہتا ہے تو چین کو کافی نقصان برداشت کرنا پڑے گا۔ دوسرا‘ بھارت کے چابہار کی کاٹ کیسے ہو گی؟ چین چاہتا ہے کہ افغانستان اگر چابہار بندرگاہ کو استعمال کر کے بھارت سے تعلقات بڑھائے تو وہ گوادر کی بندرگاہ بھی استعمال کرے تاکہ اس کی چین اور پاکستان سے دوستی بھی بڑھے۔ اس کے علاوہ اگر دہشت گردی ختم ہو تو چین کے سنکیانگ میں پھیل رہی یغور دہشت گردی پر بھی ضابطہ طے کرنے میں مدد ملے گی۔ دوسرے الفاظ میں انہوں نے گیدڑ بھبکیاں دینے والے ٹرمپ اور بھارت کے لیے جنوب ایشیا میں ایک طاقتور للکار کھڑی کر دی ہے۔ اس کا ایک غائبانہ مطلب یہ بھی ہے کہ جنوبی ایشیا کے 'بڑے بھائی جان‘ بھارت کی جگہ اب چین لے رہا ہے۔ اگر افغانستان شاہراہ ریشم اپنے یہاں سے گزرنے دیتا ہے تو وہ کشمیر پر پاکستان کا حق قبول کر رہا ہے۔ اس پہیلی کو بھارت اور افغانستان کیسے سلجھائیں گے‘ وہ ہی جانیں۔ ویسے میری رائے یہ ہے کہ پاکستان اور افغانستان میں محبت قائم ہونا اتنا آسان نہیں ہے۔ اس میں کئی اندرونی پنچ ہیں‘ جن کی سمجھ چینیوں کو نہیں ہے۔ لیکن چینیوں کو اپنے کام کی سمجھ سب سے زیادہ ہے۔ اگر چین کی طاقت جنوب ایشیا میں بڑھے گی تو کس کی کم ہو گی‘ یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔
دونوں کی داداگیری نرم پڑی
پارلیمنٹ کا یہ سیشن ایک دنگل بن کر رہ جاتا‘ اگر کل کانگریس اور بھاجپا کے لیڈروں کو عقل نہیں آتی۔ راج سبھا میں کانگریس کی طاقت زیادہ ہے‘ اس لیے تو گزشتہ دس بارہ دن وہاں کام ٹھپ ہی رہا۔ لوک سبھا میں تو کچھ نہ کچھ ہنگامہ روز ہی ہوتا ہے۔ اس ہنگامے کا سبب سرکار کی کوئی عوام کے خلاف کارروائی نہیں تھی بلکہ کانگریس کی یہ مانگ تھی کہ وزیراعظم نریندر مودی معافی مانگیں‘ کیونکہ گجرات چنائو کے دوران انہوں نے سابق وزیراعظم منموہن سنگھ‘ سابق نائب صدر‘ سابق چیف آف آرمی پر بے حد گندے الزام لگائے۔ انہوں نے ان پر یہ الزام بھی لگایا کہ یہ لوگ پاکستان کے اشارے پر مودی کو گجرات میں ہرانے کی سازش کر رہے تھے۔ مودی سے معافی منگوانے کی بجائے بھاجپا نے کانگریس پر تیز حملہ کیا اور کہا کہ اس کے ممبروں نے بھارت کے وزیراعظم کے لیے جیسے گندے لفظوں کا استعمال کیا اس کے لیے وہ معافی مانگے۔ جن دنوں یہ لفظی جنگ چل رہی تھی‘ میں نے لکھا تھا کہ بھارت کی سیاست اپنی نچلی ترین سطح کو چھو رہی ہے۔ دونوں معافی منگوانے پر اَڑے رہے لیکن بات چیت کے ذریعے دونوں نے حل نکال لیا۔ طرفین نے بڑی مضبوطی اور مہذب ہونے کا تعارف دیا۔ دونوں کی دادا گیری نرم پڑی۔ دونوں طرف کے لیڈروں نے واضح الفاظ میں افسوس ظاہر کیا کہ ان کے بیانات سے ایک دوسرے کو تکلیف ہوئی۔ دونوں پارٹیوں کے لیڈروں نے ایک دوسرے کا احترام ظاہر کیا۔ اتنی صحت مند پارلیمنٹ کی رسم قائم ہوئی لیکن دوسری طرف کانگریس کے صدر راہول جی نے ٹویٹ کر دیا کہ 'ہمارے وزیراعظم کچھ کہتے ہیں اور کرتے کچھ ہیں۔ جو کہتے ہیں وہ کرتے نہیں‘۔ اسی طرح ایک بھاجپائی وزیر ہیگڑے نے کہہ دیا کہ بھاجپا سرکار آئین سے 'سیکولر‘ لفظ ہٹائے گی۔ اب یہ ایک نئی بحث کھڑی ہو گئی ہے۔ اس طرح کے مدعے بالکل بیکار ہیں۔ ملک کی سیاسی پارٹیوں کو اس وقت اپنا دھیان ملک میں بنیادی تبدیلی پر لگانا چاہیے نہ کہ باہمی دنگلوں پر۔ اگلے ڈیڑھ برس بھی گزشتہ ساڑھے تین برس کی طرح خالی نکل گئے تو عوام پوزیشن اور اپوزیشن‘ دونوں کو سزا دے گی ۔

ستر سال کی آزادی نے بھارت میں سربراہی کا رول ہی بدل دیا ہے۔ ہمارے لیڈر لوگوں نے اپنے آپ کو قاعدے سے ہی آزاد کر دیا ہے۔ بد عنوانی کے کسی سنجیدہ معاملے میں پھنسنے کے بعد اگر عدالت انہیں بری کر دیتی ہے تو وہ جشن مناتے ہیں۔ انہیں اس بات کے لیے ذرا بھی شرم نہیں آتی کہ وہ رنگے ہاتھ پکڑے گئے تھے۔ سارے ملک کے چینلوں اور اخباروں میں ان کی بدعنوانی کی کہانیاں جم کر مشہور ہوئی تھیں۔ اگر وہ حقیقت میں ایماندار تھے تو انہوں نے ایسے اخباروں‘ چینلوں‘ اپوزیشن لیڈروں پر مقدمہ چلانے والے لوگوں‘ وکلاء اور ججوںکو معاف کیوں کر دیا؟ انہوں سزا دینے کی مانگ کیوں نہیں کی؟ مان لیں کہ وہ اتنے قابل نہیں ہیں کہ وہ انہیں سزا دے سکیں لیکن کم ازکم وہ اتنا تو کر سکتے تھے کہ جھوٹے الزام لگانے والوں اور غلط فیصلہ دینے والے ججوں کے خلاف تاحیات ہڑتال پر بیٹھ جاتے؟ لیکن کیا اپنے ملک میں ایسا کوئی لیڈر ہوا؟

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں