نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- گورنر سندھ عمران اسماعیل نےسندھ بلدیاتی ترمیمی بل منظورنہیں کیا
  • بریکنگ :- کراچی:گورنر سندھ نے بلدیاتی ترمیمی بل اعتراضات کے ساتھ واپس کر دیا
Coronavirus Updates
"DVP" (space) message & send to 7575

بھارت روس سمجھوتہ:دال میں کالا

روسی صدر پیوٹن کے ساتھ ایس 400 اینٹی میزائل ڈیفنس سسٹم کی خریداری کا سمجھوتہ ہوا۔ ٹراینک نام کے اس میزائل شکن نظام کے پانچ سکواڈرن چالیس ہزار کروڑروپے میں آئیں گے‘ لیکن تعجب ہے کہ ساٹھ ہزار کروڑ کے رافیل جہازوں کی طرح اس بھارت روس سودے پر کوئی ہلا نہیں ہو رہا ہے۔ اس دال میں کچھ بھی کالا نہیں دکھائی پڑ رہا ہے ۔اس سودے میں کوئی دلال نہیں ہے ۔چین نے بھی یہ میزائل شکن نظام روس سے خرید رکھا ہے ۔روس سے اس خریداری پر امریکہ نے چین پر اکانومی پابندیاں لگا دی ہیں کیونکہ روس پر امریکی پابندیوں کے تحت روس سے دفاعی آلات خریدنے والا ملک بھی امریکی پابندیوں کی زد میں آتا ہے۔لیکن ایسا لگتا ہے کہ بھارت پر امریکہ یہ پابندیاں نہیں لگائے گا ‘کیونکہ یہ میزائل چینی میزائلوں کاجوا ب ہیں۔ آج کل چین امریکہ تعلقات جتنی کشیدگی میں چل رہے ہیں‘ انہیں دیکھتے ہوئے امریکہ اس سودے کی ان دیکھی کرنا پسند کرے گا۔ ہتھیاروں کے اتنے خرچیلے سودے تب کیے جا رہے ہیں جب چین کے ساتھ پینگیں بڑھانے میں ہماری سرکار نے کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔اس سودے کا ایک اہمیت والا پہلو یہ ہے کہ بھارت اپنی پرانی گٹھ بندی کی پٹڑی پر پھر سے لوٹ رہا ہے۔ امریکہ سے گہرے تعلقات کا مطلب روس سے دوری بنائے رکھنا نہیں ہے۔ اتنے بڑے سودے کے بعد اگر دہشتگردوں کے خلاف روس نے بھارت کے سُر میں سُر ملایا تو یہ کوئی حیرانی کی بات نہیں ہے ۔امریکہ کی طرح روس یا چین کو اس دہشتگرد ی کی کوئی پروا نہیں ہے ‘جو بھارت کے خلاف ہے۔ وہ صرف اس دہشتگردی پر خفا ہیں ‘جو ان کے اپنے خلاف ہے۔ روس آج کل پاکستان سے گہرے تعلقات بنا رہا ہے‘ تاکہ وہ افغانستان ‘ شام اورعراق میں چل رہی دہشتگردی کا مقابلہ کر سکے۔ اسی لیے روس کی دہشتگردی کے خلاف پالیسی کو جمع زبانی خرچ سمجھ کر چھوڑ دینا چاہیے ۔بھارت اور روس کے درمیان جو دیگر آٹھ مدعوں پر سمجھوتے ہوئے ہیں ‘اگر وہ کارگر ہوئے تو کوئی تعجب نہیں کہ ہندی روسی بھائی بھائی کا پرانا دور پھر نیا ہو جائے ۔یہ تسلی کی بات ہے کہ ابھی تک امریکہ نے اس میزائل سودے کے خلاف کوئی بیان جاری نہیں کیاہے ۔توقع ہے ‘بھارت آنے والے ایرانی تیل کے بارے میں بھی امریکی سرکار کا رویہ یہی رہے گا ۔
ایوانی چنائو کا ریہرسل 
پانچ صوبوں میں چنائو کا اعلان اگلے برس ہونے والے پارلیمنٹ چنائو کا پہلا ریہرسل مانا جا رہا ہے۔ کچھ حد تک یہ درست بھی ہے۔ ایم پی‘ راجستھان اور چھتیس گڑھ میں بھاجپا کی حکومت ہے اور یہ میزورم یا سکم کی طرح چھوٹے موٹے صوبے نہیںہیں۔ جو دوسرے دو صوبے ہیں تلنگانہ اور میزورم ‘ان میں بھاجپا جیتے یا نہ جیتے ‘کوئی خاص فرق نہیں پڑتا ‘کیونکہ وہاں دوسری پارٹیوں کی حکومت ہے۔ ان پانچ صوبوں میں اگر کانگریس کی سیٹیں بڑھ گئیں یا اس کی جیت ہو گئی تو یہ سیاسی بھونچال کی طرح سمجھا جائے گا۔ مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ میں بھاجپا لگاتار پندرہ برسوں سے اقتدار میں ہے اور ان دونوں صوبوں میں کانگریس کے پاس کوئی مضبوط لیڈر شپ نہیں ہے ۔اس کے علاہ بسپا اور سپا اگر کانگریس سے الگ ہو کر لڑیں گی اور مقامی پارٹیوں سے اتحاد کر کے لڑیں گی تو یقینا اپوزیشن کے ووٹ کاٹیں گی اور بھاجپا کے لیے بہتر ثابت ہوں گی ۔جہاں تک راجستھا ن کا سوال ہے ‘وہاں کانگریس کی حالت باقی صوبوں سے بہتر ہے‘ لیکن وہاں بھی کانگریس میں باہمی کھینچا تانی کا بول بالا ہے ۔یہ ٹھیک ہے کہ راجستھان کے عوام ہر بار نئی پارٹی کی سرکار لانے کے عادی ہو چکے ہیں لیکن اس بار بھاجپا کی مرکزی لیڈرشپ نے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا ہے ۔راجستھانی عوام کو پٹانے کے لیے کن کن کاموں کی بوچھار نہیں کی جا رہی ہے؟ ان تینوں ہندی صوبوں نے اس معاملے میں جے للتا کے تامل ناڈو کو پیچھے چھوڑ دیا ہے ۔اس سچائی کی بنیاد پر مانا جا سکتا ہے کہ ان تینوں صوبوں میں بھاجپا کو شکست دینا آسان نہیں ہے۔ لیکن دھیان دینے لائق ایک بات یہ ہے کہ کیا ان تینوں صوبوں کے عوام اپنی صوبائی سرکاروں کے کام کاج کی بنیاد پر ہی کام کریں گی ؟ہوتا تو یہی ہے لیکن گزشتہ چار برسوں میں بھاجپا کی مرکزی لیڈرشپ صوبائی لیڈرشپ پر اس قدر حاوی ہو گئی ہے کہ عام ووٹر کا دھیان ووٹ ڈالتے وقت شاید مرکزی لیڈر پر ہی رہے ۔یہ ممکن ہے کہ اس کے دماغ پر وفاقی سرکار کا کہنا اور کرنا حاوی ہو جائے ۔اگر ایسا ہوا تو ان تینوں صوبوں میں بھاجپا کی قوت کافی کم ہو سکتی ہے۔ قوت کا یہ کم ہونا ہی 2019 ء کے چنائو نتائج کی پیش گوئی ہوگی ۔
مورچہ دوبارہ کھول دیا 
وشو ہندو پریشد نے رام مندر کامورچہ دوبارہ کھول دیا ہے ۔مجھے حیرت ہے کہ وہ گزشتہ چار برس خاموش کیوں بیٹھی رہی ؟میرے نزدیک ایودھیا میں رام مندر مذہبی مسئلہ ہے ہی نہیں۔ یہ مسئلہ ہے ملکی اور غیر ملکی کا !یہ بات میں اپنے بڑے بھائی برابر اشوک سنگھل جی سے بھی سدا کیا کرتا تھا ۔غیر ملکی حملہ آور جب کسی ملک پر حملہ کرتے ہیں تو اس کے لوگوں کو کمزور کرنے کے لیے وہ کم ازکم تین کا م ضرور کرتے ہیں ۔ایک‘ ان کی عبات گاہوں کو تباہ کرنا ۔دوسرا ‘ان کی عورتوں کو اپنی ہوس کا شکار بناتا اور تیسرا ‘اس کی ملکیتوں اور جائیدادوں کو لوٹنا۔ غیر ملکی حملہ آوروں نے صرف بھارت میں ہی نہیں‘ازبکستان اور افغانستان میں بھی کئی عبادت گاہیں تباہ کیں۔ وہ ہر طرح کی عبادت گاہیں تھیں۔چاہے وہ حملہ آوروں ہی کے مذہب کی عبادت گاہیں تھیں‘ مسمار کر دی گئیں۔ وہ اس لئے تباہ کی گئیں کہ وہ دشمنوں کی عبادت گاہیں تھیں اور حملہ آور ہر حالت میں اور ہر قیمت پر دشمن پر غلبہ پانا چاہتے تھے۔ یہ سب میں تاریخ کے حوالوں سے بیان کر رہا ہوں۔ اس حوالے سے مزید جاننا چاہیں تو آپ پٹھانوں کے عظیم شاعر خوشحال خان خٹک کی شاعری پڑھیں ۔سہارنپور کے مشہور اردو شاعر حضرت عبدالقدوس گنگوہی کا کلام دیکھیں ۔انہوں نے لکھا ہے کہ مغل حملہ آوروں نے جتنے مندر گرائے ‘ان سے زیادہ مساجدگرائیں۔ اورنگ زیب نے بیجا پور کی بڑی مسجد گرائی تھی ‘کیونکہ اسے بیجا پور کے مسلم حکمران کو ختم کرنا تھا۔ ہو سکتا ہے کہ ایودھیا والا معاملہ بھی ایسا ہی ہو۔ یہ بڑے شرم کی بات ہے کہ یہ معاملہ برسوں سے بھارت کی عدالت میں لٹکا ہوا ہے۔ ہماری سرکاریں اور لیڈر نکمے ثابت ہو رہے ہیں۔ 1992ء میں میں نے پہل کی تھی۔ یہ معاملہ حل ہونے کو تھا لیکن 6 دسمبر کو مسجد کو شہید کر دیا گیا۔ اب ایسی ایک ایسی تجویز فی الفور لانی چاہیے ‘ جس سے یہ مسئلہ مستقل طور پر حل ہو جائے۔ ہم جب یہ کہتے ہیں کہ یہ سمے مذاہب کے اندر ہم آہنگی کا تقاضا کرتا ہے تو اس کی خاص وجہ یہ ہے کہ بھاجپا کے دور میںمسلمانوں اور دوسرے مذاہب کے ماننے والوں میں بے چینی میں اضافہ ہوا ہے۔ گائے کی رکھشا کے نام پر اور' لوجہاد‘ کے نام پر مسلم نوجوانوں پر حملوں اور ہجوم کی طرف سے مار پیٹ بلکہ انہیں موت کے گھاٹ اتار دینے کے واقعات اس دوران کچھ کم نہیں ہوئے۔ دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کے ساتھ بھی اسی قسم کا رویہ رہا ہے۔ یہ حالات ظاہر کر رہے ہیں کہ بھارتی سماج کی سطح پر ہندوؤں میں فاش ازم کے جرثومے کافی زیادہ پھیل چکے ہیں۔ نسلی اور مذہبی بنیادوں پر فسادات‘ اپنے ہی بھائی بندوں کو قبول نہ کرنا ‘ ان کے حقوق پر ڈاکے ڈالنا‘ ان کے محب وطن ہونے پر شک کرنا‘ عام ہو چکا ہے۔ یہاں ہندو انتہا پسندی بڑھ رہی ہے۔ اگر سوسائٹی میں یہ رویے تبدیل نہ ہوئے تو ہم سب پچھتائیں گے۔ اس لیے بابری مسجد ‘ رام جنم بھومی سے سوسائٹی کے لوگوں کو قریب لانے میںمدد لی جا سکتی ہے۔ 

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں