نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- وزیراطلاعات فوادچودھری کا مولانا فضل الرحمان کی پریس کانفرنس پر ردعمل
  • بریکنگ :- مولانافضل الرحمان نے 23مارچ کومارچ کرنےکاعندیہ دیاہے،فوادچودھری
  • بریکنگ :- پی ڈی ایم والےپہلےبھی تاریخیں دےکربدلتےرہےہیں،فوادچودھری
  • بریکنگ :- مولاناکئی بارتاریخیں بدل چکےہیں اس باربھی ایساہی ہوگا،فوادچودھری
  • بریکنگ :- مولاناکی کوشش دوبارہ سسٹم میں داخل ہونےکیلئےہے،فوادچودھری
  • بریکنگ :- مولاناسسٹم کاحصہ نہیں اس لیےچاہتےہیں سسٹم ختم ہو،فواد چودھری
  • بریکنگ :- مولانادائیں،بائیں دیکھیں،آپ کےساتھ کوئی نہیں،فوادچودھری
  • بریکنگ :- اسلام آباد:23مارچ بھی آجائے گا،سب دیکھ لیں گے،فوادچودھری
Coronavirus Updates
"DVP" (space) message & send to 7575

عمران خان کو بھارت کا دعوت نامہ

بھارت سرکار نے ایس سی او(شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن) کی سالانہ اجلاس کے لیے پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کو مدعو کیا ہے۔ یہ اجلاس اس برس کے آخر میں ہو گا اور اس میں اس تنظیم کے ممبر ملک شرکت کریں گے۔ ان میں روس اور چین کے ساتھ ازبکستان‘ قازقستان‘ تاجکستان اور کرغستان بھی ممبر ہیں۔ بھارت نے وزیر اعظم عمران خان صاحب کو دعوت نامہ تو بھیجا ہے لیکن پتا نہیں کہ عمران آئیں گے یا نہیں۔ جیسے حالات آج کل ہیں‘ اگر ویسے ہی اگلے دس گیارہ ماہ تک بنے رہے تو جناب عمران خان کا بھارت آنا ناممکن ہو گا۔ یوں بھی اتنے ماہ پہلے دعوت نامہ بھیجنے اور اس کا پرچار کرنے کی اہمیت کیا ہے؟ یہ ضروری نہیں کہ پاکستان اس پر فوراً کوئی کارروائی کرے یا کوئی رد عمل ظاہر کرے لیکن میں سوچتا ہوں کہ پاکستان اس پر ہاں کرے تو کوئی برائی نہیں ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اس پر ہاں کرنے کے پاکستانی رخ کا بھارت میں خیر مقدم ہو اور دونوں ملکوں کے بیچ جلد ہی بات چیت کا کوئی سلسلہ شروع ہو جائے۔ پاکستان کی اکانومی آج کل پٹڑی پر نہیں ہے۔ بھارت کا بھی یہی حال ہے۔ ایسے میں دونوں ملکوں کی مڈبھیڑ تو دور کی بات‘ دونوں ملکوں کو اس طرح کی باتوں سے بھی دور رہنا چاہیے۔ بہتر تو یہ ہے کہ دونوں ملکوں کے لیڈر جلد ہی آپس میں ملاقات کریں۔ سارے جنوبی ایشیا کا ایک بڑا اتحاد کھڑا کرنے کی شروعات کریں۔ اگر پاکستان اور بھارت میں آسان بات چیت کا سلسلہ شروع ہو جائے تو ہمارا یہ علاقہ کچھ ہی برسوں میں دنیا کے سب سے خوشحال علاقوں میں گنا جانے لگے گا۔
جے این یو: پارٹیوں کے مہرے نہ بنیں! 
جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں طلبا کے بیچ جو مار پیٹ ہوئی‘ ان کا گلہ کون نہیں کر رہا ہے۔ کیا کانگریس‘ کیا کمیونسٹ‘ کیا عآپ پارٹی اور کیا بھاجپا‘ سبھی پارٹیاں شکایت کر رہی ہیں۔ ٹی وی چینلوں پر جب میں نے وہ شرمناک منظر دیکھا تو کچھ پارٹیوں کے خاص لیڈروں کو میں نے فون کیے۔ ان کا زور اس بات پر زیادہ تھا کہ ہمارے شاگردوں (طالب علموں) پر ان کے شاگردوں نے حملہ کیا۔ پہلے انہوں کیا‘ ہمارے والوں نے بعد میں کیا۔ لیکن ٹی وی چینلوں پر سارا منظر دیکھنے کے بعد یہ تو واضح ہو جاتا ہے کہ حملے کی پہل کس نے کی۔ یہ اور بھی شرم کی بات ہے کہ حملہ آور لڑکوں نے اپنے منہ ڈھک رکھے تھے۔ یہ ان کے بزدل ہونے کا ثبوت ہے۔ ظاہر ہے کہ طلبا یونین کے جلسے میں فیس بڑھانے کے خلاف تحریک پیدا کرنے والے طالب علموں کو مارا‘ پیٹا اور زخمی کیا گیا۔ نہتے لوگوں پر ڈنڈوں اور سریوں سے حملہ کیا گیا۔ درجنوں نوجوان ہسپتال پہنچ گئے۔ ان کمیونسٹ طلبا نے کوئی چوڑیاں تو پہن نہیں رکھی تھیں۔ انہوں نے بھی جوابی حملے کیے۔ ظاہر ہے کہ یہ حملہ کمیونسٹ اور بھاجپا کے شاگردوں نے ہی کیا ہو گا۔ ان میں سے ایک بھی مجرم نہیں پکڑا گیا۔ یہ اپنے آپ میں ایک اندازے کی تصدیق کرتا ہے۔ یہ اتنا بے وقوفانہ اور گندا کام ہوا ہے کہ نریندر مودی اور امیت شاہ جیسے لوگ اس کی اجازت نہیں دے سکتے۔ بنا ثبوت اس کے لیے انہیں گنہگار ٹھہرانا ٹھیک نہیں ہے‘ لیکن اس سازش کے سبب ملک کے وطن پرست طبقوں کو نیچا دیکھنا پڑ رہا ہے۔ میں خود جے این یو کے پی ایچ ڈی کے طلبا کی پہلی فہرست کا شاگرد رہا ہوں۔ جن لوگوں نے بھی یہ سازش کی ہے‘ انہیں سخت سے سخت سزا دی جانی چاہیے۔ اس کے علاوہ میں سرکار اور اس کی اپوزیشن کے سامنے ایک نئی پیشکش رکھ رہا ہوں۔ ملک کے سبھی یونیورسٹیوں میں ایسی سٹوڈنٹ یونینز پر بین کیوں نہیں لگایا جاتا‘ جن کا تعلق کسی بھی پارٹی سے ہو۔ میں آج سے 63 برس پہلے گرفتار ہوا تھا اور میرے ساتھ جن سنگھ‘ کانگریس‘ سماج وادی اور کمیونسٹ طالب علم بھی گرفتار ہوتے رہے اور ان میں سے کچھ بعد میںصوبائی اور وفاقی وزیر بھی بنے‘ لیکن سب کی آج الگ الگ پارٹیاں ہوتے ہوئے بھی ان میں وہی پرانا پیار اور بات چیت آج تک بنی ہوئی ہے‘ جو اس طالب علمی کے زمانے میں تھی۔ ایسا اس لیے ہوا ہے کہ ان دنوں ہم لوگ بنا پارٹی طلبا یونین چلایا کرتے تھے یا یوں کہیں کہ سبھی پارٹیوں کی طلبا یونین چلاتے تھے۔ سٹوڈنٹ لیڈر کے مہرے نہیں ہوتے تھے۔ یہی سچی اور صحت مند جمہوریت ہوتی ہے۔ 
صحیح کام غلط ڈھنگ سے 
کشمیر کے کچھ لیڈروں کو ان کے اپنے بنگلوں میں رکھا جا رہا ہے۔ انٹرنیٹ کے سہولت کچھ دیگر اضلاع میں بڑھائی جا رہی ہے۔ یہ اچھی بات ہے۔ میں نے پہلے لکھا تھا کہ اب کشمیر پر سے سبھی پابندیاں ہٹانے کا درست وقت ہے اور سب سے ضروری یہ ہے کہ کشمیری لیڈروں سے بات چیت کا سلسلہ شروع کیا جائے۔ میری بات کو سرکار نے سمجھا تو صحیح لیکن جیسا کہ وہ اکثر کرتی ہے‘ وہ صحیح کام کو غلط ڈھنگ سے کرنے لگتی ہے۔ لیڈروں کی بجائے عام عوام سے یہ وزرا لوگ بات چیت کیسے قائم کریں گے؟ ان کے جلسوں اور ملاقاتوں میں کتنے عام لوگ آئیں گے؟ ان وزرا میں کتنے ایسے ہیں‘ جن کے پاس دلیل دینے‘ حقیقت پیش کرنے‘ تقریر کرنے اور سمجھنے سمجھانے کی قابلیت ہے؟ مان لیں کسی طرح تھوڑے بہت لوگ جٹا بھی لیے گئے تو جب کشمیری لیڈر ان سے مخاطب ہوں گے‘ تو وہ ایک ہی جھٹکے میں پونچھا لگا دیں گے۔ میں نے کہا تھا کہ غیر بھاجپائی اور غیر سرکاری لوگوں کا کشمیری لیڈروں سے رابطہ اور بات چیت کروائی جائے۔ میری رائے تو یہ ہے کہ ملک کے اپوزیشن لیڈروں کو بھی کشمیر بھیجا جائے۔ ہمارے وزرا کے مقابلے ان کی بات کشمیری عوام زیادہ دھیان سے سنیں گے۔ ہمارے وزیر خارجہ جے شنکر بیرونی لیڈروں کو بھارت کی بات بہت ہی اچھے طریقے سے بتاتے ہیں لیکن یہ خدمات خارجہ پالیسی کے کچھ ماہرین سے لی جائے تو ان کی منظوری کافی بہتر ہو گی۔ ایسے ہی لوگوں کو چین اور ملائیشیا جیسے ملکوں میں بھیجا جا سکتا ہے۔ پاکستان سے بھی اسی طرح تعلقات جوڑا جائے تو غلط نہیں ہو گا۔
ایران: بھارت کا کردار؟
ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کو ڈونلڈ ٹرمپ کتنا ہی ضروری اور صحیح ٹھہرائیں لیکن یہ کام ایک بنا اعلان کے جنگ کی طرح ہی ہے۔ سلیمانی ایران کے صرف بڑے فوجی افسر ہی نہیں تھے‘ وہ سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے بعد ایران میں سب سے ہر دلعزیز تھے۔ پورے مغربی ایشیا میں‘ خاص طور سے عراق‘شام‘ یمن اور لبنان میں‘ ایران کے اثر کو بڑھانے میں سلیمانی کا بڑا تعاون اور کردار رہا ہے۔ ان کے قتل پر ٹرمپ نے بہت ہی زیادہ خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ اس فوجی نے لاکھوں لوگوں کو موت کے گھاٹ اتارا‘ اس کا بدلہ انہیں لینا ہی تھا۔ ان کا قتل اس لیے کیا گیا کہ وہ بغداد میں تھے اور بتایا گیا کہ انہیں کے اکسانے پر بغداد کے امریکی سفیر کو گھیر لیا گیا تھا‘ جیسا کہ تہران میں ساتویں دہائی میں گھیرا گیا تھا۔ اس سے پہلے 27 دسمبر کو ایک راکٹ حملہ میں ایک امریکی ٹھیکیدار کی موت ہو گئی تھی۔ اس کے لیے ایران کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا۔ ان سب اسباب کے باوجود اس امریکی کارروائی کو عالمی قانون کی نظر میں ٹھیک نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ ٹرمپ کو چنائو جیتنا ہے۔ یہ کام انہیں امریکیوں کی نظر میں عظیم لیڈر بنا دے گا لیکن چین‘ روس اور فرانس جیسے سلامتی کونسل کے ممبر ملکوں نے گہرے افسوس کا اظہار کیا ہے۔ امریکی ڈیموکریٹک بھی تنقید کر رہے ہیں۔ ایران کا مزاج جیسا ہے‘ اس کی بنیاد پر مانا جا سکتا ہے کہ وہ اس کا بدلہ لیے بنا نہیں رہے گا۔ کوئی حیرانی نہیں کہ مغربی ایشیا چھوٹی موٹی جنگ کی زد میں آ جائے۔ اس حادثے سے بھارت کی ٹینشن بڑھ گئی ہے‘ کیونکہ امریکہ اور ایران‘ دونوں سے بھارت کے تعلقات اچھے ہیں۔ ایران کے چاہ بہار بندرگاہ پر بھارت کا کافی پیسہ لگا ہے۔ پتا نہیں‘ اس کا اب کیا ہو گا؟ بھارت کی لڑکھڑاتی اکانومی پر اس کا کافی برا اثر پڑے گا۔ بھارت کے لگ بھگ اسی لاکھ لوگ خلیج کے ملکوں میں متحرک ہیں۔ وہ بڑے پیمانے پر بیرونی کرنسی بھیجتے ہیں۔ اگر وہاں جنگ چھڑ گئی تو بھارت کی مصیبت کئی گنا بڑھ جائے گی۔ اس وقت بھارت کی کنارہ کشی تعجب خیز ہے۔ امریکہ اور ایران‘ دونوں کا دوست ہونے کے سبب اس کا کردار اس موقع پر بہت تخلیقی ہو سکتا ہے۔

 

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں